• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سید قطب کی تکفیر کیوں ؟

شمولیت
اگست 16، 2017
پیغامات
112
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
55
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمارے کچھ بهائی سید قطب کی تفسیر اور اس کی کتابوں کو پڑهتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سید قطب کو ایک موحد یا مجاہد سمجھیں اور اس کے نام کے ساتھ رحمہ اللہ لگائیں- اس کی کتابوں میں بہت سی باتیں صحیح ہیں انہیں قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں جو قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہو کیوں کہ اچهی بات جو قرآن و حدیث کے مطابق ہو وہ تو شیطان سے بهی لی جا سکتی ہے جیسا کہ صحیح البخاری کی حدیث سے ہمیں دلیل ملتی ہے -

فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ البَارِحَةَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، قَالَ: «مَا هِيَ»، قُلْتُ: قَالَ لِي: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الكُرْسِيِّ مِنْ أَوَّلِهَا حَتَّى تَخْتِمَ الآيَةَ: {اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥]، وَقَالَ لِي: لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلاَ يَقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ - وَكَانُوا أَحْرَصَ شَيْءٍ عَلَى الخَيْرِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ»، قَالَ: لاَ، قَالَ: «ذَاكَ شَيْطَانٌ»

صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) فرمایا: " گزشتہ رات تمھارے قیدی نے کیا کیا؟ "میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس نے مجھے کہا کہ وہ مجھے چند کلمات بتائے گاجن کے ذریعے سے اللہ مجھے نفع دے گا تو میں نے اسے چھوڑدیا۔ آپ نے پوچھا: "وہ کلمات کیا ہیں؟"میں نے عرض کیا: اس نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے بسترپر آؤتوآیت الکرسی اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ شروع سے آخر تک پڑھو۔ یہ کام کرنے سے اللہ کی طرف سے تمھارے لیے ایک نگران مقرر ہو جائے گا جو تمھاری حفاظت کرے گا اور صبح تک شیطان بھی تمھارے پاس نہیں بھٹکےگا۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کارہائے خیر کے بڑے حریص تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سنو! اس نے بات تو سچی کی ہے لیکن خود وہ جھوٹا ہے۔ اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !تم جانتے ہو کہ جس سے تم تین راتوں سے باتیں کرتے رہے ہو وہ کون ہے؟" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: میں نہیں جانتا تو آپ نے فرمایا: "وہ شیطان تھا۔ "

( صحيح البخاري كِتَابُ الوَكَالَةِ، حدیث : ٢٣١١)

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے بتائے ہوئی عمل کی تصدیق کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم شیطان کو بهی اچها جانے !

جہاں تک بات ہے سید قطب کی تو سید قطب ایک گمراہ شخص تها جو صحابہ رضی اللہ عنهم پر تعن کرنے والا، خلق قرآن اور وحدت الوجود کا کفریہ عقیدہ رکهنے والا کافر تها اس نے سورہ اخلاص کی تفسیر میں لکها ہے:

إنها أحدية الوجود.. فليس هناك حقيقة إلا حقيقته. وليس هناك وجود حقيقي إلا وجوده. وكل موجود آخر فإنما يستمد وجوده من ذلك الوجود الحقيقي، ويستمد حقيقته من تلك الحقيقة الذاتية

"اس میں وجود کی وحدت کا بیان ہے۔ اور اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں۔ اور اس کے وجود کے سوا کوئی وجود حقیقی نہیں۔ اس کے علاوہ جتنے وجود ہیں انہوں نے اسی وجود سے اپنا وجود حاصل کیا ہے"

(تفسیر في ظلال القرآن ٦/ ٤٠٠٢ )

وحدت الوجود کا معنی کیا ہے؟ اسکے متعلق شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے :

أما الاتحاد المطلق الذي هو قول أهل وحدة الوجود، الذين يزعمون أن وجود المخلوق هو عين وجود الخالق، فهذا تعطيل للصانع وجحود له، وهو جامع لكل شرك

"اتحادِ مطلق کا نظریہ وحدت الوجود کے قائلین کا ہے، انکا یہ دعوی ہے کہ مخلوق کا وجود اللہ ہی کا وجود ہے، یہ حقیقت میں (مخلوق کو) بنانے والے (اللہ تعالی) کی نفی اور اس کا انکار ہے، بلکہ یہ عقیدہ تمام شرکیات کا مجموعہ ہے"

(مجموع الفتاوی ٥٩/١٠)

لہازا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مخلوق کے وجود کو اللہ کا ہی وجود ماننا یہ عقیدہ وحدت الوجود کہلاتا ہے اور سید قطب نے یہی باطل عقیدہ بیان کیا ہے کہ "اس کے وجود کے سوا کوئی وجود حقیقی نہیں۔ اس کے علاوہ جتنے وجود ہیں انہوں نے اسی وجود سے اپنا وجود حاصل کیا ہے" یعنی ہر چیز نے اللہ کے وجود سے اپنا وجود حاصل کیا اور یہی تو وحدت الوجود ہے جو بد ترین کفر ہے اور اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں کی جا سکتی-

شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کا فرمان ہے :

"جو شخص اختیاری حالت میں کلمہ کفر پر تلفظ کرے یا اسے اپنی کتابوں میں لکهے اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دے تو وہ بلا شک و شبہ کافر ہے اور اس کی باتوں کی تاویل نا جائز ہے"

(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم، ص: ٥٩)

عقیدہ وحدت الوجود بد ترین شرک، کفر اور الحاد ہے اور وحدت الوجود کا عقیدہ رکهنے والا مشرک، کافر، ملحد، بے دین، زندیق ہے اور وحدت الوجود کا کفریہ عقیدہ رکهنے والے کافر کی تکفیر کرنا ہم پر لازم ہے-

شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کا فرمان ہے :

"اہل السنۃ و الجماعۃ کے تمام محققین علماء کرام کا یہ متفق علیہ فتویٰ ہے کہ عقیدہ وحدت الوجود اور توحید وجودی کفریہ اور شرکیہ عقیدہ ہے بلکہ یہ یہود اور نصاریٰ کے کفر سے بھی بڑھ کر کفر ہے۔"

(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحید الوجودی اور اس کا شرعی حکم، ص ٥١)

امام بقاعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے :

ولا یسع احدا ان یقول انا واقف او ساکت لااثبت ولا انفی لان ذالك یقتضی الکفر لأن الکافر من انکار ماعلم من الدین بالضرورة و من شك فی کفر مثل هذا کفر ولهذا قال ابن المقری فی مختصر الروضه من شك فی کفر الیهود والنصاری وطائفة ابن عربی فهو کافر

"کسی کے لیے بهی یہ جائز نہیں کہ (ان کی تکفیر میں) توفق یا سکوت اختیار کرے کیونکہ (ان کا عقیدہ) کفر ہی کا تقاضا کرتا ہے جو دین کی ضروریات کا انکار کرے اور جو ان جیسوں کے کفر میں شک کرتا ہے وہ خود بهی کفر کا مرتکب ہے- اسی وجہ سے ابن مقری نے کہا ہے جو شخص یہود و نصاریٰ اور ابن عربی کے گروه کے کفر میں شک کرے تو وہ خود کافر ہے"

(مصرع التصوف، ص : ٢٢٥)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں ہر اس شخص کی تکفیر کرنا ضروری ہے جو وحدت الوجود کا عقیدہ رکهتا ہو چاہے ابن عربی ہو یا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی چاہے سید قطب ہو یا پهر ڈاکٹر اسرار احمد ہر وہ شخص جو وحدت الوجود کا عقیدہ رکهے کافر ہے-​
 
Top