• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شام کی صورتحال

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
شام کی صورتحال

از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ


شام میں صورتحال یہ ہے کہ امریکہ مکمل طور پر شامی حکومت سے راضی ہے اور اس کو یہ یقین ہے کہ شام کو دوبارہ دولہ کے ہاتھ میں جانے یا دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنے کےلئے الشرع سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے اور اس بات پر نہ صرف خود امریکی انٹیلیجنس کی رپورٹس ہیں بلکہ قطر سعودی اور ترکی بھی اس کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔

لکن نیتن یاہو اس بات پر مطمئن نہیں ہے ، 7 اکتوبر کو حماس نے یہود کے ساتھ جو کیا وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا گویا یہود پر ایک چھوٹی قیامت گذر گئی کسی کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہوگیا کتنے حملہ اور ہیں کس نے حملہ کر دیا اور کیا چل رہا ہے بس ایک ایسی افراتفری ہیدا ہوئی کہ ان کے کلیجے منہ کو آگئے، اس سب کے بعد اب یہودی ریاست کوئی معمولی سا سوراخ بھی بند کئے بغیر نہیں چھوڑے گی جہاں سے مستقبل میں کھبی بھی خطرہ درپیش ہوسکتا ہو، یہودی ریاست کی پالیسی اب یہ ہے کہ اگر ایک شخص 90 فیصد اچھا اور 10 فیصد بھی برا ہے تو اس کو اس کے 90 فیصد اچھائی سمیت دفن کر دو تاکہ 10 فیصد کا خطرہ ٹل جائے، اور دوسری وجہ یہ کہ یہودی ریاست نے جس طرح غزہ میں حماس اور جہاد اسلامی، لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مقاومة الإسلامية کو کچلا ہے اور یمن میں انصار اللہ اور شام و ایران میں پاسداران انقلاب کو ضربیں لگائی ہیں اس کے بعد اس کا مورال بہت بلند ہے اور وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اسی بات کو نیتن یاہو بار بار " 7 محاذوں پر جنگ اور فتح " کے نام سے دہراتا رہتا ہے۔

اسی لئے یہودی ریاست امریکہ کی بار بار ضمانت اور الشرع کی بار بار چاپلوسی کے باوجود مطمئین نہیں ہے اور وہ شام پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے اور شرع کی جانب سے کسی ایک غلطی کا انتظار کر رہا ہے کہ یہاں شرع نے غلطی کی وہی اس کا قصہ تمام کر دے گا۔

نیتن یاہو کا یہ جارحانہ رویہ امریکیوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کئے ہوئے ہے کیونکہ ان کو لگتا ہے اگر الشرع حکومت کو غیر مستحکم کیا گیا تو شام میں ایسی کوئی متبادل قوت نہیں ہے جو دولہ کو دوبارہ سر اٹھانے سے روک سکے اگرچہ فرات کے اس پار کرد ملیشیا دولہ کے خلاف ایک موثر اور کامیاب قوت کے طور پر مستحکم ہے لیکن امریکہ کو اصل تشویش فرات کے اس پار کے سنی عرب قبائل کے علاقوں سے ہے اور یہاں شرع کے بعد دولہ کو روکنے کےلئے کوئی متبادل موجود نہیں، اور ساتھ ساتھ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ دولہ کے خلاف مسلسل 17 سالہ جنگ کے بعد امریکیوں کو احساس ہوگیا ہے کہ دنیا کی کوئی ریگولر فوج دولہ کے مقابلے میں ہرگز اس قدر کامیاب نہیں ہوسکتی جتنی ان کی مخالف جہادی تنظیمیں اور ملیشیات کامیاب ہوسکتی ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں

پہلی وجہ یہ کہ تنخواہ پر لڑنے اور نظرئے پر لڑنے میں بہت فرق ہوتا ہے یہ تنظیمیں دولہ کو خوارج قرار دے کر اپنے جنگجووں کو جوش و جذبے سے اس کے خلاف اتارتی ہے جب کہ عام ریگولر تنخواہ دار فوج میں یہ جذبہ پیدا کرنا ممکن نہیں۔

دوسری بات یہ کہ فوج ایک خاص ڈسپلن کی پابند ہوتی ہے وہ ایک خاص دائرے کے اندر رہ کر کام کرتی ہے ان پر قوانین کا اطلاق ہوتا ہے وہ ایک خاص حد سے اگے نہیں بڑھ سکتی لیکن تنظیمیں اور ملیشیات اس سب سے آزاد ہوتے ہیں ان کو کسی قانون یا ڈسپلن کے اصولوں کے آگے جوابدہ نہیں ہونا ہوتا اس لئے وہ دولہ کو زیادہ بے رحمی سے کچلتے ہیں امریکہ یہ سب کچھ شمالی شام میں کردوں، عراق میں شیعہ ملیشیات اور افغانستان میں طالبان کی شکل میں دیکھ چکا ہے۔

اسی لئے امریکہ نے افغانستان مین طالبان اور شام میں جولانی کو اقتدار دیا کیونکہ امریکہ کے نزدیک یہ دولہ کے خلاف سب سے بہتر اتحادی ہیں۔

امریکہ کے علاوہ شرع حکومت کا دوسرا سب سے بڑا حمایتی ترکی ہے، ترکی کو ایک نہیں دو مسئلے درپیش ہیں ایک طرف وہ شام میں خانہ جنگی اور دہشتگردی سے خوفزدہ ہے دوسری طرف کردوں کی مزاحمت ہے اور اصل درد سر کرد مزاحمت ہے لیکن کرد آزادی پسند شرع حکومت کے آنے کے بعد تاریخ کی کمزور ترین پوزیشن پر چلے گئے ہیں اس لئے ترکی کے اس مستقبل سر درد کا خاتمے کی امید بہت بڑھ گئی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ شرع کی سب سے زیادہ حمایت مدد اور پشت پناہی اس خطے میں اگر کسی نے کی ہے تو وہ ترکی ہے شرع کو القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرنے، عالمی جہاد سے انکار کرنے اور مقامی معتدل جنگجو بننے پر ترک انٹیلیجنس نے ہی ابھارا تھا اور ترکی نے ہی اس کو مستقبل کے روشن خیال حکمران کے طور پر تیار کیا تھا نہ صرف یہ بلکہ امریکی اور برطانوی انٹیلیجنس سے شرع کے ابتدائی رابطے اور ملاقاتیں بھی ترک انٹیلیجنس نے کرائی تھی جس کا اب انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے۔

تو گویا شرع ترکی کی سب سے موثر پراکسی ہے اور شام پر شرع کی حکومت گویا ترکی کی ہی حکومت ہے یہ بلکل ایسی صورتحال ہے جیسے طالبان کے پہلے دور حکومت میں تھی کہ بظاہر افغانستان پر ملا عمر کی حکومت تھی لیکن پردے کے پیچھے پاکستان حکومت کر رہا تھا اور اسلام اباد سے ہی تمام معاملات کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔

شرع حکومت کا امریکہ اور ترکی کے بعد تیسرا بڑا اتحادی قطر ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قطر اس وقت اخوانی اور اخوانی نما ایسے جہادی گروہوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے جو مغرب یا امریکہ کو قابل قبول ہوں اس لئے قطر حماس امارت اسلامی (طالبان) جولانی وغیرہ سب کا سرپرست ان کے معاہدے کروانے والا اور ان کو معاونت فراہم کرنے والا ملک ہے بلکہ گویا قطر امریکہ اور جہادیوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کراتا ہے امریکہ اور جہادیوں میں دشمنی کو دوستی میں بدلنے میں سب سے بڑا کردار قطر کا ہے، امارت اسلامی (طالبان) کو امریکیوں کے ساتھ دوحہ معاہدے کے ذریعے بھائی چارہ کرانے سے لے کر حماس اور یہودی ریاست کے مابین مذاکرات تک ہر جگہ قطر پیش پیش رہا ہے۔

شام میں بھی قطر اول روز سے سرگرم ہے اور اس نے کئی مواقع پر دولہ کا راستہ روکنے کےلئے مختلف جہادیوں میں مذاکرات بھی کرائے ہیں اور ان کی آپسی ناراضگیاں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ قطر اخوان المسلمین اور ایران کا بھی دوست ہے یہ واحد عرب ملک ہے جو بیک وقت ایران اور اسرائیل و امریکہ اور جہادی تنظیموں کا مشترکہ دوست سمجھا جاتا ہے ایک طرف اس نے امریکہ کو مشرق وسطی میں سب سے بڑا اڈہ فراہم کیا ہے تو دوسری طرف اس نے طالبان، حماس اور دیگر جماعتوں کو دفاتر بھی دے رکھے ہیں۔

تو اس لئے شرع کی حکومت قطر کےلئے ایک خوشگوار کامیابی ہے اور طالبان حکومت کے بعد یہ دوسری حکومت ہے جو قطر کے ان دوستوں نے قائم کی ہے جو امریکہ کو قابل قبول ہیں اور اس طرح قطر کی اہمیت امریکہ کی نظر میں مزید بڑھ گئی ہے، سو جہاں ایک طرف ترکی شرع حکومت کی فوجی مدد جاری رکھیں گے وہی قطر اس کی مالی مدد کی ذمہ داری اٹھائے گا اور سب کا مقصد شام جیسے خطرناک خطے کو خطرناک لوگوں کی آماجگاہ بننے سے بچانا ہے۔

قطر کے بعد شرع حکومت کا چوتھا سب سے بڑا حمایتی سعودی عرب ہے، سعوی عرب کے پاس شرع حکومت کی حمایت کی کئی وجوہات ہیں۔

سب سے پہلے یہ کہ شرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے زیادہ خراج تحسین جس کو پیش کیا حتی کے چاپلوسی کی حد تک جس کی تعریفیں کی وہ کوئی اور نہیں محمد بن سلمان تھا، شرع نے نہ صرف اس سے شدید متاثر ہونے کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ شام کو ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جیسا محمد بن سلمان سعودی عرب کو بنانے کی راہ پر گامزن یے۔

شرع کے ان بیانات کا واضح مطلب یہ تھا کہ میں بھی باقی عرب ممالک کی طرح سعودی بالادستی کو قبول کرتا ہوں اور پرنس محمد بن سلمان مجھے بھی اپنی سرپرستی میں ایک مطیع اور پارٹنر کے طور پر قبول کر لے، جس کو سعودی عرب نے خوش امدید کہا اور شرع کو حمایت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔

دوسری وجہ ابراہیمی معاہدہ ہے، حالات ایسے بن رہے ہیں کہ سعودی عرب کو جلد ہی اس معاہدے کا حصہ بن کر یہودی ریاست کو تسلیم کرنا ہی ہوگا اور وہ امریکی اصرار کے آگے زیادہ مزاحمت نہیں کر سکے گا، لیکن سعودی عرب کو یہ بڑا قدم اٹھانے کےلئے دو چیزوں کا انتظار ہے ایک ہہ کہ فلسطین کے حالات کچھ پرامن اور پر سکون ہوجائے تاکہ اس کو لعنت ملامت زیادہ نہ ہو اور دوسرا یہ کہ اس کو اس فیصلے میں ہاتھ گندے کرنے کےلئے دیگر اسلامی پارٹنر درکار ہیں تاکہ سب مل کر لعنت ملامت کو تقسیم کر سکیں اور اکیلے سعوی عرب پر اس کا بوجھ نہ پڑے سو وہ امارات کے بعد شام اور دیگر سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کروانے کی کوشش کرے گا اور پھر خود بھی اس میں کود پڑے گا۔

تیسری وجہ وہی جو امریکہ اور ترکی و قطر کے پاس ہے یعنی شام کو خطرناک لوگوں کا اڈہ بننے سے بچانا۔

شام میں خانہ جنگی اور دولہ کے غلبے کے بعد جن ممالک کو سب سے سخت خطرہ درپیش ہوا ان میں سعودیہ سرفہرست تھا ایک طرف دولہ اپنے حامیوں کو اس بات پر ابھار رہا تھا کہ فساد کی جڑ سعودیہ ہے اس لئے اس پر سب سے پہلے حملہ کرو، بغدادی نے سعودیہ کو "سانپ کا سر " قرار دے کر سعودی نوجوانوں کو کہا تھا کہ اس سانپ کا سر کچل دو۔ دوسری طرف سعودیہ کو یہ خطرہ درپیش تھا کہ جس طرح دولہ شیعہ اور ایران کے خلاف برسرپیکار ہے اس سے اس کو سنی سلفی حمایت کا حجم مسلسل بڑھتا جائے گا جو بالآخر سخت گیر سعودی سلفیوں کو متاثر کر کے کسی بھی اقدام پر ابھار سکتا ہے۔

یہ بات یاد رہے کہ سعودیہ کو ہمیشہ اصل خطرہ بیرونی نہیں اندرونی ہے، وہ ایران سے دولہ سے یا کسی اور سے زیادہ خود اپنے عوام سے خوفزدہ رہتا ہے کہ کہیں ان میں مذہبی جذبات نہ بھڑکیں اور میری حالت بھی لیبیا، یمن اور شام جیسی نہ ہوجائے اسی لئے وہ سعودی عوام کو نہ صرف دنیاوی عیش و عشرت اور سہولیات میں مگن رکھنا چاہتا ہے بلکہ ان کو ہر بیرونی آواز اور مذہبی دعوت سے بھی بچانا چاہتا ہے اور اسی مقصد کی وجہ سے وہ خود اپنے وفادار علماء پر بھی کڑی نگرانی رکھتا ہے جیسے ہی کسی کے منہ سے ایک بھی خطرناک لفظ نکلے فوری طور پر اس کو قید میں پھینک دیتا ہے اور سعودیہ اس پالیسی پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتا۔

چوتھی وجہ شام کو ایران کے ہاتھ سے نکالنا ہے، سعودیہ اور ایران مشرق وسطی کے روایتی حریف ہیں وہ بظاہر جتنا بھی دوستی اور اچھے تعلقات کا دکھاوا کریں اندرونی طور پر ایک دوسرے سے خطرہ محسوس کرتے ہیں اس لئے سعودیہ ایرانی اثر و رسوخ کو ہر صورت ایک حد میں رکھنا چاہتا ہے اس لئے شام کا ایرانی اثر سے نکلنا اس کےلئے ایک بڑا بونس ہے اور ایران نہ صرف ایک اہم سٹریٹجک پوزیسن سے محروم ہوا ہے بلکہ اس کا اثر عراق پر بھی پڑے گا جہاں سعودیہ ایک عرصے سے ایرانی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔

اس لئے ان وجوہات کی بنیاد پر سعودیہ کی نظر میں شرع حکومت نہ صرف جدید سیکولر مشرق وسطی کی تعمیر میں سعودیہ کا ایک مددگار بازو ثابت ہوسکتا ہے بلکہ شام کی جانب سے درپیش خطرات کو بھی مستقل ختم کر سکتا ہے اور ایرانی اثر کے آگے بھی ایک مضبوط دیوار بن سکتا ہے۔
 

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
اگرچہ شرع نے امریکی حمایت سے حکومت تو قائم کر لی ہے لکن ابھی بہت سارے چیلنجز درپیش ہیں ممالک کی صورتحال کے بعد اب شام کے اندرونی صورتحال کو دیکھیں تو اس وقت شام کے نصف پر مختلف مذہبی اقلیتیں یا نسلی ملیشیات قابض ہیں جن میں کرد دروز اور نصیری نمایاں ہیں۔

کرد

شمالی شام میں کرد آسانی سے شرع حکومت کو قبول نہیں کریں گے اور ہمیشہ ایک کشمکش کی صورتحال رہے گی اوپر سے کردوں کی فورس ایس ڈی ایف امریکی ٹریننگ اسلحے اور مسلسل جنگی صورتحال میں تیار ہو کر ایک موثر قوت بن چکی ہے وہ آسانی سے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں ہیں، وہ آئین میں کردوں کےلئے واضح امتیازی مراعات بھی چاہتے ہیں اور فوج میں شامل ہونے کےلئے بھی یہ شرط رکھی ہے کہ ہم فوج کے اندر بھی ایس ڈی ایف یا کرد یونٹ کے نام سے اپنی تنظیمی حیثیت برقرار رکھیں گے جبکہ شرع حکومت اس پر ہرگز راضی نہیں کیونکہ یہ شرط قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کرد ہمیشہ ایک تلوار بن کر شامی حکومت کے سر پر لٹکتے رہیں گے جیسے ہی کوئی مسئلہ ہوا وہ پھر سے شامی فوج کے بجائے ایس ڈی ایف کی تنظیمی شکل میں واپس چلے جائیں گے، اس لئے شامی حکومت کا مطالبہ ہے کہ ایس ڈی ایف تنظیمی طور پر مکمل تحلیل ہوکر عام سپاہیوں کی طرف فوج کا حصہ بنیں اور ان کو مختلف یونٹس میں تقسیم کر دیا جائے گا، جبکہ کرد اس کو اپنی مکمل تباہی سمجھتے ہیں۔

اس مسئلے میں کردوں کو جھٹکا اس وقت لگا جب امریکہ نے ان سے آنکھیں پھیرتے ہوئے اپنی نئی محبوبہ شرع کا ساتھ دیا اور کردوں کو سختی سے کہا کہ ان کے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ دمشق کی طرف جاتا ہے۔

کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور یہ اس کی ایک اعلی مثال ہے کہ وہ کرد جنہوں نے دولہ کے خلاف امریکہ کے فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کیا اپنے ہزاروں انتہائی ماہر جنگجو اور سینئر قائدین کی قربانیاں دی اس امید پر کہ امریکہ ان کی اس جانثاری کے بدلے نہ صرف ان کا ہمیشہ ساتھ دے گا بلکہ ان کو آزاد کردستان دلانے میں بھی مدد کرے گا وہ امریکہ اب کردوں کو کہہ رہا ہے کہ تم کون اور میں کون بلکہ ان کے سفیر کے الفاظ تھے "ہم نے تمہاری حمایت کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا "

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کو اب ایک نئی پراکسی ( شرع) کی صورت میں میسر ہوگئی ہے اور یہ پراکسی سنی مذہبی عرب پراکسی ہے جو کہ ملحد سیکولر کرد پراکسی کے مقابلے میں شام میں زیادہ موثر ہے اور امریکہ ویسے بھی دنیا بھر میں مذہبی پراکسیز کو دیگر پراکسیز پر ترجیح دیتا ہے جس کی وجہ اس مضمون کی پچھلی قسط میں موجود ہے۔

بحرحال شرع ( شامی حکومت ) اور عبدی (کرد ملیشیا) کے مابین فوج میں انضمام کا مسئلہ نہایت پیچیدہ ہے جس پر مسلسل کئی ماہ سے امریکی ثالثی میں مزاکرات ہو رہے ہیں اور امریکہ کے علاوہ ترکی، قطر اور دیگر بھی کوشش کر چکے ہیں لیکن مسئلہ اسی طرح برقرار ہے حتی کے امریکہ کی جانب سے کردوں پر دباو اور ناراضگی بھی مسئلے کو حل نہ کر سکی۔

دروز

جس طرح شمال میں کرد ملیشیا ایک مسئلے کے طور پر موجود ہے؛ جنوب میں دروز ملیشیا اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ ہے حکمت الھجری جیسے سخت گیر رہنما کی قیادت میں قائم دروز مسلح تحریک اگرچہ نہ تو کردوں جتنی افرادی قوت رکھتی ہے نہ ہی کردوں کی طرح جنگج تربیت اور اسلحے و سازوسامان سے لیس ہے لکن اس کے باوجود وہ کردوں سے کم نہیں ہیں اور اس کی وجہ ان کی پشت پر مشرق وسطی کے سب سے خطرناک ملک یعنی یہودی ریاست کی مکمل حمایت ہے،
السویدا، درعا اور دیگر اطراف میں آباد دروز کا شامی حکومت یا بدوی قبیلے سے اختلاف مذہبی مسلکی نہیں بلکہ سیاسی ہے شامی حکومت نے مذہبی معاملات میں مکمل غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی ہے اور بار بار اس کا اعادہ کیا ہے اور اس پالیسی کے تحت نہ صرف عیسائیوں اور شیعوں کو مکمل آزادی دی ہے بلکہ اپنے بدترین مخالف علویوں ( نصیریوں ) کے خلاف بھی کسی قسم کا تعصب ظاہر نہیں کیا ہے تو وہ شامی حکومت صرف دروز کو مذہب کی بنیاد پر کیوں نشانہ بنائے گی؟ اسی طرح السویدا میں موجود بدوی قبیلہ دہائیوں سے دروز کے ساتھ مکمل پر امن اور بھائی چارے کی فضا میں رہتا آیا ہے دونوں کے مابین رشتے داریاں دوستیاں اور کاروباری شراکتیں قائم ہیں اور 2018 میں دونوں نے دولہ کے خلاف مل کر السویدا کا دفاع کیا تھا، تو پھر اچانک دروز کیوں پھر گئے ہیں؟

دراصل دروز نے جنوب میں السویدا، درعا اور اطراف میں شامی خانہ جنگی کے بعد سے مستقل اپنی نیم خودمختاری اور آزادی برقرار رکھی ہوئی ہے اور وہ ایک آزاد سیٹ اپ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس میں ان کو السویدا اور اطراف میں برتری اور اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہے اور وہ اب اس کو کسی کے سامنے آسانی سے سرینڈر کرنے پر راضی نہیں ہیں، اس لئے نہ تو وہ شامی حکومت کو یہاں خود پر برتری دینے پر تیار ہیں اور نہ ہی اس کے حمایتی بدوی قبیلے کو زیادہ سراٹھانے کی اجازت دیں گے اور اسی مقصد کےلئے انہوں نے بدویوں کو بڑے پیمانے پر السویدا سے نکال دیا ہے تاکہ مستقبل میں شامی حکومت کے خلاف کسی کشیدگی میں بدوی یہاں شامی حکومت کے بازو کا کردار ادا نہ کریں اور ہمارے لئے آستین کا سانپ نہ بن سکیں اور بدویوں کو بیدخل کرنے کا فیصلہ کوئی جذباتی یا اچانک نہیں بلکہ اس کے پیچھے حکمت الھجری کا شاطر دماغ ہے اور ممکن ہے اس کو یہ ائیڈیا یہودی ریاست نے دیا ہو۔

دروز مزاحمت کی دوسری وجہ یہودی ریاست کی حمایت ہے، اگرچہ یہودی اور دروز ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں اور یہودی ریاست ان کو اپنا فطری اتحادی اور بہترین شہری ( اسرائیل میں موجود دروز ) اور بہترین پڑوسی (شامی دروز) مانتی ہے لیکن اس بار ان کی حمایت صرف اس تاریخی تعلق کی وجہ سے نہیں بلکہ یہودی ریاست چاہتی ہے کہ دروز اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھے تاکہ شام کی طرف سے اس کے لئے یہ ایک بفرزون اور حفاظتی دیوار کے طور پر موجود رہیں کیونکہ شام کے اندر جو بھی حالات ہوں اس کا اثر یہودی ریاست سے پہلے دروز تک پہنچے گا اور یہودی ریاست کا راستہ دروز کی جانب سے جنوب میں قائم آزاد زون سے ہوکر جاتا ہے اور یہ بہت اہم اور سٹریٹجک نکتہ ہے جس کی وجہ سے یہودی ریاست کسی قدم پر بھی دروز حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ دروز اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کریں گے اس لئے السویدا اور اس کے اطراف پر حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر رہے گی اور حکمت الھجری اور دروز ہی یہاں کے غیر اعلانیہ حکمران ہوں گے۔

نصیری

کرد اور دروز کے بعد تیسرا بڑا عنصر ساحل پر موجود علوی ( نصیری ) ہیں جنہوں نے اب تک نہ صرف یہ کہ شرع حکومت کو حقیقی طور پر تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ کئی بار خونریز مزاحمت سے بھی شامی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، نصیری اگرچہ اپنے طور پر شامی حکومت کو چیلنج نہیں کرسکتے کیونکہ شامی حکومت کو ان کے خلاف ان کے بدترین دشمن سنی کمیونٹی کی حمایت حاصل ہے لیکن اگر کرد اور دروز کا مسئلہ برقرار رہا تو نصیری مستقبل میں ایک بار پھر ساحل کو شامی حکومت کےلئے ایک ڈروانا خواب بنانے میں دیر نہیں لگائیں گے اور وہ موقع کے انتظار میں ہیں۔

اس صورتحال سے یہ بات واضح ہے کہ اگرچہ امریکہ اور اس کے عرب اتحادی اور ترکی کتنا ہی اس حکومت کو شہرت اور عزت دلانے کی کوشش کریں یہ اب تک حکومت نہیں بلکہ ایک ملیشیا جتنی اوقات ہی کی حامل ہے کیونکہ اس کی رٹ صرف دمشق حلب ادلب اور دیگر سنی علاقوں تک ہی محدود ہے نہ یہ ساحل پر مکمل رٹ بحال کر سکی ہے نہ یہ فرات کے اس پار کردوں سے شام کو چھڑا سکی نہ یہ السویدا اور درعا کو دروز سے حاصل کرسکی اور نہ ہی دولہ کے خوف سے صحراء میں داخل ہونے کی جرات رکھتی ہے۔

گویا وہی صورتحال ہے جو بشار کے دور حکومت میں تھی فرق صرف یہ آیا کہ جو مرکزی علاقہ بشار اور شرع کے مابین تقدیم تھا اب وہ سارا شرع کا ہوگیا ہے لیکن اطراف کی صورتحال اسی طرح برقرار ہے اور دوسرا فرق یہ ہے کہ بشار کو مغرب اور عرب کی حمایت حاصل نہیں تھی جبکہ شرع کو یہ ایک مضبوط مالی اور عسکری حمایت حاصل ہے اور اس کو یقین ہے کہ امریکی پشت پناہی ترک انٹیلیجنس کی مدد اور عرب ممالک کی دولت کی قوت ملا کر وہ نہ صرف شام کے اطراف پر رٹ بحال کر لیں گے بلکہ ان تمام مسائل کا خاتمہ کر کے وہ شام کو ایک جدید ملک بنانے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے۔

لیکن اس کے لئے اس کو بہت سخت مرحلوں سے گذرنا ہوگا اور دروز اور کرد مسئلے کو جلد از جلد حل کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ صحراء میں ایک خونخوار شیر گھات لگائے ہوئے ہے جس کے بارے میں پچھلے دنوں امریکہ نے کہا کہ " اگر ہم نے اس سے دباو ہٹایا تو ایک سال کے اندر دوبارہ شام پر قابض ہوجائے گا۔"
 
Top