ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 799
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
شام کی صورتحال
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
شام میں صورتحال یہ ہے کہ امریکہ مکمل طور پر شامی حکومت سے راضی ہے اور اس کو یہ یقین ہے کہ شام کو دوبارہ دولہ کے ہاتھ میں جانے یا دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکنے کےلئے الشرع سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے اور اس بات پر نہ صرف خود امریکی انٹیلیجنس کی رپورٹس ہیں بلکہ قطر سعودی اور ترکی بھی اس کی ضمانت دینے کو تیار ہیں۔
لکن نیتن یاہو اس بات پر مطمئن نہیں ہے ، 7 اکتوبر کو حماس نے یہود کے ساتھ جو کیا وہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا گویا یہود پر ایک چھوٹی قیامت گذر گئی کسی کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہوگیا کتنے حملہ اور ہیں کس نے حملہ کر دیا اور کیا چل رہا ہے بس ایک ایسی افراتفری ہیدا ہوئی کہ ان کے کلیجے منہ کو آگئے، اس سب کے بعد اب یہودی ریاست کوئی معمولی سا سوراخ بھی بند کئے بغیر نہیں چھوڑے گی جہاں سے مستقبل میں کھبی بھی خطرہ درپیش ہوسکتا ہو، یہودی ریاست کی پالیسی اب یہ ہے کہ اگر ایک شخص 90 فیصد اچھا اور 10 فیصد بھی برا ہے تو اس کو اس کے 90 فیصد اچھائی سمیت دفن کر دو تاکہ 10 فیصد کا خطرہ ٹل جائے، اور دوسری وجہ یہ کہ یہودی ریاست نے جس طرح غزہ میں حماس اور جہاد اسلامی، لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مقاومة الإسلامية کو کچلا ہے اور یمن میں انصار اللہ اور شام و ایران میں پاسداران انقلاب کو ضربیں لگائی ہیں اس کے بعد اس کا مورال بہت بلند ہے اور وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا اسی بات کو نیتن یاہو بار بار " 7 محاذوں پر جنگ اور فتح " کے نام سے دہراتا رہتا ہے۔
اسی لئے یہودی ریاست امریکہ کی بار بار ضمانت اور الشرع کی بار بار چاپلوسی کے باوجود مطمئین نہیں ہے اور وہ شام پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے اور شرع کی جانب سے کسی ایک غلطی کا انتظار کر رہا ہے کہ یہاں شرع نے غلطی کی وہی اس کا قصہ تمام کر دے گا۔
نیتن یاہو کا یہ جارحانہ رویہ امریکیوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کئے ہوئے ہے کیونکہ ان کو لگتا ہے اگر الشرع حکومت کو غیر مستحکم کیا گیا تو شام میں ایسی کوئی متبادل قوت نہیں ہے جو دولہ کو دوبارہ سر اٹھانے سے روک سکے اگرچہ فرات کے اس پار کرد ملیشیا دولہ کے خلاف ایک موثر اور کامیاب قوت کے طور پر مستحکم ہے لیکن امریکہ کو اصل تشویش فرات کے اس پار کے سنی عرب قبائل کے علاقوں سے ہے اور یہاں شرع کے بعد دولہ کو روکنے کےلئے کوئی متبادل موجود نہیں، اور ساتھ ساتھ ایک اور بات یہ بھی ہے کہ دولہ کے خلاف مسلسل 17 سالہ جنگ کے بعد امریکیوں کو احساس ہوگیا ہے کہ دنیا کی کوئی ریگولر فوج دولہ کے مقابلے میں ہرگز اس قدر کامیاب نہیں ہوسکتی جتنی ان کی مخالف جہادی تنظیمیں اور ملیشیات کامیاب ہوسکتی ہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں
پہلی وجہ یہ کہ تنخواہ پر لڑنے اور نظرئے پر لڑنے میں بہت فرق ہوتا ہے یہ تنظیمیں دولہ کو خوارج قرار دے کر اپنے جنگجووں کو جوش و جذبے سے اس کے خلاف اتارتی ہے جب کہ عام ریگولر تنخواہ دار فوج میں یہ جذبہ پیدا کرنا ممکن نہیں۔
دوسری بات یہ کہ فوج ایک خاص ڈسپلن کی پابند ہوتی ہے وہ ایک خاص دائرے کے اندر رہ کر کام کرتی ہے ان پر قوانین کا اطلاق ہوتا ہے وہ ایک خاص حد سے اگے نہیں بڑھ سکتی لیکن تنظیمیں اور ملیشیات اس سب سے آزاد ہوتے ہیں ان کو کسی قانون یا ڈسپلن کے اصولوں کے آگے جوابدہ نہیں ہونا ہوتا اس لئے وہ دولہ کو زیادہ بے رحمی سے کچلتے ہیں امریکہ یہ سب کچھ شمالی شام میں کردوں، عراق میں شیعہ ملیشیات اور افغانستان میں طالبان کی شکل میں دیکھ چکا ہے۔
اسی لئے امریکہ نے افغانستان مین طالبان اور شام میں جولانی کو اقتدار دیا کیونکہ امریکہ کے نزدیک یہ دولہ کے خلاف سب سے بہتر اتحادی ہیں۔
امریکہ کے علاوہ شرع حکومت کا دوسرا سب سے بڑا حمایتی ترکی ہے، ترکی کو ایک نہیں دو مسئلے درپیش ہیں ایک طرف وہ شام میں خانہ جنگی اور دہشتگردی سے خوفزدہ ہے دوسری طرف کردوں کی مزاحمت ہے اور اصل درد سر کرد مزاحمت ہے لیکن کرد آزادی پسند شرع حکومت کے آنے کے بعد تاریخ کی کمزور ترین پوزیشن پر چلے گئے ہیں اس لئے ترکی کے اس مستقبل سر درد کا خاتمے کی امید بہت بڑھ گئی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ شرع کی سب سے زیادہ حمایت مدد اور پشت پناہی اس خطے میں اگر کسی نے کی ہے تو وہ ترکی ہے شرع کو القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرنے، عالمی جہاد سے انکار کرنے اور مقامی معتدل جنگجو بننے پر ترک انٹیلیجنس نے ہی ابھارا تھا اور ترکی نے ہی اس کو مستقبل کے روشن خیال حکمران کے طور پر تیار کیا تھا نہ صرف یہ بلکہ امریکی اور برطانوی انٹیلیجنس سے شرع کے ابتدائی رابطے اور ملاقاتیں بھی ترک انٹیلیجنس نے کرائی تھی جس کا اب انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے۔
تو گویا شرع ترکی کی سب سے موثر پراکسی ہے اور شام پر شرع کی حکومت گویا ترکی کی ہی حکومت ہے یہ بلکل ایسی صورتحال ہے جیسے طالبان کے پہلے دور حکومت میں تھی کہ بظاہر افغانستان پر ملا عمر کی حکومت تھی لیکن پردے کے پیچھے پاکستان حکومت کر رہا تھا اور اسلام اباد سے ہی تمام معاملات کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔
شرع حکومت کا امریکہ اور ترکی کے بعد تیسرا بڑا اتحادی قطر ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قطر اس وقت اخوانی اور اخوانی نما ایسے جہادی گروہوں کا سب سے بڑا سرپرست ہے جو مغرب یا امریکہ کو قابل قبول ہوں اس لئے قطر حماس امارت اسلامی (طالبان) جولانی وغیرہ سب کا سرپرست ان کے معاہدے کروانے والا اور ان کو معاونت فراہم کرنے والا ملک ہے بلکہ گویا قطر امریکہ اور جہادیوں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کراتا ہے امریکہ اور جہادیوں میں دشمنی کو دوستی میں بدلنے میں سب سے بڑا کردار قطر کا ہے، امارت اسلامی (طالبان) کو امریکیوں کے ساتھ دوحہ معاہدے کے ذریعے بھائی چارہ کرانے سے لے کر حماس اور یہودی ریاست کے مابین مذاکرات تک ہر جگہ قطر پیش پیش رہا ہے۔
شام میں بھی قطر اول روز سے سرگرم ہے اور اس نے کئی مواقع پر دولہ کا راستہ روکنے کےلئے مختلف جہادیوں میں مذاکرات بھی کرائے ہیں اور ان کی آپسی ناراضگیاں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ قطر اخوان المسلمین اور ایران کا بھی دوست ہے یہ واحد عرب ملک ہے جو بیک وقت ایران اور اسرائیل و امریکہ اور جہادی تنظیموں کا مشترکہ دوست سمجھا جاتا ہے ایک طرف اس نے امریکہ کو مشرق وسطی میں سب سے بڑا اڈہ فراہم کیا ہے تو دوسری طرف اس نے طالبان، حماس اور دیگر جماعتوں کو دفاتر بھی دے رکھے ہیں۔
تو اس لئے شرع کی حکومت قطر کےلئے ایک خوشگوار کامیابی ہے اور طالبان حکومت کے بعد یہ دوسری حکومت ہے جو قطر کے ان دوستوں نے قائم کی ہے جو امریکہ کو قابل قبول ہیں اور اس طرح قطر کی اہمیت امریکہ کی نظر میں مزید بڑھ گئی ہے، سو جہاں ایک طرف ترکی شرع حکومت کی فوجی مدد جاری رکھیں گے وہی قطر اس کی مالی مدد کی ذمہ داری اٹھائے گا اور سب کا مقصد شام جیسے خطرناک خطے کو خطرناک لوگوں کی آماجگاہ بننے سے بچانا ہے۔
قطر کے بعد شرع حکومت کا چوتھا سب سے بڑا حمایتی سعودی عرب ہے، سعوی عرب کے پاس شرع حکومت کی حمایت کی کئی وجوہات ہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ شرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے زیادہ خراج تحسین جس کو پیش کیا حتی کے چاپلوسی کی حد تک جس کی تعریفیں کی وہ کوئی اور نہیں محمد بن سلمان تھا، شرع نے نہ صرف اس سے شدید متاثر ہونے کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ شام کو ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جیسا محمد بن سلمان سعودی عرب کو بنانے کی راہ پر گامزن یے۔
شرع کے ان بیانات کا واضح مطلب یہ تھا کہ میں بھی باقی عرب ممالک کی طرح سعودی بالادستی کو قبول کرتا ہوں اور پرنس محمد بن سلمان مجھے بھی اپنی سرپرستی میں ایک مطیع اور پارٹنر کے طور پر قبول کر لے، جس کو سعودی عرب نے خوش امدید کہا اور شرع کو حمایت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔
دوسری وجہ ابراہیمی معاہدہ ہے، حالات ایسے بن رہے ہیں کہ سعودی عرب کو جلد ہی اس معاہدے کا حصہ بن کر یہودی ریاست کو تسلیم کرنا ہی ہوگا اور وہ امریکی اصرار کے آگے زیادہ مزاحمت نہیں کر سکے گا، لیکن سعودی عرب کو یہ بڑا قدم اٹھانے کےلئے دو چیزوں کا انتظار ہے ایک ہہ کہ فلسطین کے حالات کچھ پرامن اور پر سکون ہوجائے تاکہ اس کو لعنت ملامت زیادہ نہ ہو اور دوسرا یہ کہ اس کو اس فیصلے میں ہاتھ گندے کرنے کےلئے دیگر اسلامی پارٹنر درکار ہیں تاکہ سب مل کر لعنت ملامت کو تقسیم کر سکیں اور اکیلے سعوی عرب پر اس کا بوجھ نہ پڑے سو وہ امارات کے بعد شام اور دیگر سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کروانے کی کوشش کرے گا اور پھر خود بھی اس میں کود پڑے گا۔
تیسری وجہ وہی جو امریکہ اور ترکی و قطر کے پاس ہے یعنی شام کو خطرناک لوگوں کا اڈہ بننے سے بچانا۔
شام میں خانہ جنگی اور دولہ کے غلبے کے بعد جن ممالک کو سب سے سخت خطرہ درپیش ہوا ان میں سعودیہ سرفہرست تھا ایک طرف دولہ اپنے حامیوں کو اس بات پر ابھار رہا تھا کہ فساد کی جڑ سعودیہ ہے اس لئے اس پر سب سے پہلے حملہ کرو، بغدادی نے سعودیہ کو "سانپ کا سر " قرار دے کر سعودی نوجوانوں کو کہا تھا کہ اس سانپ کا سر کچل دو۔ دوسری طرف سعودیہ کو یہ خطرہ درپیش تھا کہ جس طرح دولہ شیعہ اور ایران کے خلاف برسرپیکار ہے اس سے اس کو سنی سلفی حمایت کا حجم مسلسل بڑھتا جائے گا جو بالآخر سخت گیر سعودی سلفیوں کو متاثر کر کے کسی بھی اقدام پر ابھار سکتا ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ سعودیہ کو ہمیشہ اصل خطرہ بیرونی نہیں اندرونی ہے، وہ ایران سے دولہ سے یا کسی اور سے زیادہ خود اپنے عوام سے خوفزدہ رہتا ہے کہ کہیں ان میں مذہبی جذبات نہ بھڑکیں اور میری حالت بھی لیبیا، یمن اور شام جیسی نہ ہوجائے اسی لئے وہ سعودی عوام کو نہ صرف دنیاوی عیش و عشرت اور سہولیات میں مگن رکھنا چاہتا ہے بلکہ ان کو ہر بیرونی آواز اور مذہبی دعوت سے بھی بچانا چاہتا ہے اور اسی مقصد کی وجہ سے وہ خود اپنے وفادار علماء پر بھی کڑی نگرانی رکھتا ہے جیسے ہی کسی کے منہ سے ایک بھی خطرناک لفظ نکلے فوری طور پر اس کو قید میں پھینک دیتا ہے اور سعودیہ اس پالیسی پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتا۔
چوتھی وجہ شام کو ایران کے ہاتھ سے نکالنا ہے، سعودیہ اور ایران مشرق وسطی کے روایتی حریف ہیں وہ بظاہر جتنا بھی دوستی اور اچھے تعلقات کا دکھاوا کریں اندرونی طور پر ایک دوسرے سے خطرہ محسوس کرتے ہیں اس لئے سعودیہ ایرانی اثر و رسوخ کو ہر صورت ایک حد میں رکھنا چاہتا ہے اس لئے شام کا ایرانی اثر سے نکلنا اس کےلئے ایک بڑا بونس ہے اور ایران نہ صرف ایک اہم سٹریٹجک پوزیسن سے محروم ہوا ہے بلکہ اس کا اثر عراق پر بھی پڑے گا جہاں سعودیہ ایک عرصے سے ایرانی اثرات کو کسی حد تک کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا ہے۔
اس لئے ان وجوہات کی بنیاد پر سعودیہ کی نظر میں شرع حکومت نہ صرف جدید سیکولر مشرق وسطی کی تعمیر میں سعودیہ کا ایک مددگار بازو ثابت ہوسکتا ہے بلکہ شام کی جانب سے درپیش خطرات کو بھی مستقل ختم کر سکتا ہے اور ایرانی اثر کے آگے بھی ایک مضبوط دیوار بن سکتا ہے۔