• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود … بین المذاہب مکالمے کا داعی

شمولیت
دسمبر 09، 2013
پیغامات
68
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
37
تحریر: جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میر

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل بن ترکی بن عبداللہ بن محمد بن سعود، خادم الحرمین الشریفین 91 برس کی عمر گزار کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ یکم اگست 1924ء کو پیدا ہوئے۔ اگست 2005ء کو انہوں نے اپنے رضاعی بھائی شاہ فہد کی وفات کے بعد تخت کو کامیابی سے سنبھالا۔ شاہ عبداللہ کی جگہ ان کے 79سالہ بھائی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے نئے بادشاہ بنے ہیں جنہیں دو برس قبل شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ولی عہد کا منصب عطا کیاگیاتھا۔ شاہ عبداللہ سعودی عرب کی وحد ت کا ہرقیمت پردفاع کرنے کا عزم رکھتے تھے۔ انہوں نے کسی اندرونی اور بیرونی دشمن کو سعودی عرب کی قومی سلامتی اور وحدت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دینے کا پختہ عزم کررکھاتھا۔ وہ دہشت گردی کو ایک عالمی مسئلہ سمجھتے اور کہا کرتے تھے کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خطرات سے نبردآزما رہے گا۔ انہیں مذہب، تاریخ اور عرب ثقافت کے موضوعات سے خاص دلچسپی تھی۔ انہیں جدید سعودی عرب کا داعی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں مملکت کی ترقی پر خصوصی توجہ دی اور تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور معیشت کے شعبوں میں کئی بڑے منصوبے شروع کئے۔

شاہ عبداللہ کے نمایاں کارناموں میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع کے منصوبے، 4 اقتصادی شہروں کے قیام کا منصوبہ، شاہ عبداللہ یونیورسٹی، پرنسس نورہ یونیورسٹی کا قیام اور کئی بڑے فلاحی منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے سعودی عدالتی نظام کی تاریخی تشکیل نو کی بھی منظوری دی۔ وہ سرزمین حرمین کو تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے تاریخی اور تمدنی ورثہ سمجھتے تھے۔ ان سے ہونے والی ملاقاتوں اور مختلف کانفرنسوں میں ان کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔ وہ مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کے بہت بڑے داعی تھے۔ وہ اعتدال پسند شخصیت کے مالک تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہم نے سرزمین حرمین میں مختلف نسلوں، ثقافتوں او رمذاہب کے لوگوں کو یہاں مل جل کر رہتے دیکھا ہے۔یہ سرزمین دیگر تہذیبوں کے ساتھ بھی انسانیت کی ترقی میں مددگار ثابت ہوچکی ہے۔ ان کے نزدیک اسلام اعتدال پسندی اور تحمل کا مذہب ہے۔ یہ پیغام تمام مذاہب کے ماننے والوں کے مابین تعمیری مکالمے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اپنے پیغام میں اس عزم کا بھی اظہار کرتے کہ انسانیت کے لئے ایک نیا باب کھولنے کی ضرورت ہے جو اختلاف کی جگہ اتفاق قائم کرے۔ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دنیا کو بتادیں کہ اختلافات کو تنازعات اور تصادم میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ اور یہ بھی واضح کریں کہ انسانی تاریخ میں جو سانحے ہوچکے ہیں ان کی بنیاد مذہب نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسی انتہاء پسندی کا نتیجہ تھے جس میں تمام آفاقی مذاہب اور تمام سیاسی نظریات کے ماننے والوں میں سے کچھ لوگ ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے بین المذاہب کانفرنس میں اپنی وسعت نظری اور اعلیٰ حوصلگی کا شاندار مظاہرہ کیا اور آفاقی سوچ کابہترین مظاہرہ کیا اور کہاکہ بنی نوع انسان اقدار کے انحطاط اور نظری پراگندگی کاشکار ہے اور ایک ایسے نازک دور سے گزررہی ہے جس میں تمام ترسائنسی ترقی کے باوجود جرائم میں اضافہ ہورہا ہے، دہشت گردی زوروں پر ہے، خاندان منتشر ہورہے ہیں۔ نوجوان نسل منشیات میں ڈوب کر بھٹک رہی ہے۔ امیر غریب کا استحصال کررہا ہے اور نسلی بنیادوں پر غلیظ رجحانات پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ سب اس روحانی خلاء کا نتیجہ ہے جو لوگوں میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ خدا کو بھول جاتے ہیں اور تب خدا ایسا کرتا ہے کہ وہ خود کو بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ ہمارے پاس اس صورتِ حال کا اس کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے کہ ہم سب مذاہب اور تہذیبوں کے مابین مکالمے کے ذریعے ایک متحدہ نقطہ نظر پر متفق ہوجائیں جو ہمارے درمیان مشترک ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ یعنی خدا پر پختہ ایمان، اعلیٰ اصول اور ارفع اخلاقی قدریں۔ یہ باتیں مذہب کانچوڑ ہوتی ہیں۔ انسان اس کرئہ ارض اور اس پر موجود ہرچیز کی تباہی و بربادی کی وجہ ہو۔ لیکن وہ اسے امن و آشتی کے نخلستان میں بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس میں مذاہب، فلسفیانہ نظریات اور عقائد کے ساتھ وابستگی اکٹھے رہ سکتے ہیں اور جہاں ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں اور اپنے مسائل کو تشدد کی بجائے بات چیت سے حل کرسکتے ہیں۔ اللہ کے کرم سے انسان میں نفرت کو محبت کے ذریعے، مکر اور تنگ نظری کو تحمل و بردباری کے ذریعے ختم کرنے کی صلاحیت بھی ہے جو تمام بنی نوع انسان کو اس عظمت سے لطف اندوز ہونے کے قابل بناتی ہے جو خدا نے سب انسانوں پر نازل کی ہے۔ ہم اس مکالمے کو ایمان کی کفر پر، خیر کی شر پر، انصاف کی ظلم پر، امن کی جنگوں اور تنازعات پر اور انسانی اخوت کی نسل پرستی پر فتح کی علامت بنادیں۔ مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی ان کی سوچ کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔

شاہ عبداللہ 1970ء کی دہائی میں مشرقِ وسطیٰ کے لئے امریکی پالیسی کے بڑے ناقد اور عرب ممالک کی یکجہتی کے حامی کے طورپر سامنے آئے۔ ان کا موقف تھا کہ عرب ممالک کا اتحاد ہی تیل کی دولت سے مالا مال ان ممالک کو مغرب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔ 1991ء میں کویت پر عراقی حملے کے بعد شاہ عبداللہ سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کے حق میں نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ صدام حسین سے بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی طرف گرمجوشی سے ہاتھ بڑھایا۔درست ، بروقت اور دوراندیشانہ فیصلے کئے۔ پاکستان کو امریکی دبائو میں نہیں آنا چاہئے اور سعودی عرب کے گرمجوشی سے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو اسی گرمجوشی سے تھام لے تو پاک سعودیہ سپرپاور وجود میں آسکتی ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے خلاف پائے جانے والے عناصر کی منفی سرگرمیوں کو بھی دیکھنا ہوگا جو بے بنیاد پروپیگنڈا کرکے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ ہم ہر قیمت پر حرمین شریفین کا تحفظ کریںگے کیونکہ سعودی عرب عالم اسلام کی وحدت کا مرکز ہے۔

مضمون لنک
http://www.ahlehadith.org/bain-al-mazahib-makalmey-ka-dai
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,892
پوائنٹ
436
تحریر: جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میر

1991ء میں کویت پر عراقی حملے کے بعد شاہ عبداللہ سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کے حق میں نہیں تھے اور ان کا خیال تھا کہ صدام حسین سے بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہوسکتا ہے۔

http://www.ahlehadith.org/bain-al-mazahib-makalmey-ka-dai
پھر ہوا کیا - اگر اس پر بھی کچھ بات کر لیں تو ہم سب کے علم میں فہ ہو- شکریہ
 
Top