• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شاہ ولی اللہ کا تقلید کو رد کرنا

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
[یہ تحریر شاہ ولی اللہ (d. 1762) کی کتاب "حجۃ اللہ البالغہ" کے ایک باب کا ترجمہ ہے جسے آسان اور عام فہم انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔]
یہ جان لیجیے کہ چوتھی صدی ہجری سے پہلے لوگ کسی خاص مکتب فکر کی تقلید کرنے پر متفق نہ تھے۔ قوت القلوب میں ابو طالب مکی کہتے ہیں، "یہ کتابیں، مجموعے سب نئی چیز ہیں۔ لوگوں کی آراء کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنا، لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے نقطہ نظر کے مطابق فتوی دینا، اپنے امام کی رائے کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، ہر چیز میں اسی کی رائے کو بیان کرنا اور اسی کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنا (اور دوسرے نقطہ نظر کو سمجھنے سے اجتناب کرنا) پہلی اور دوسری صدی میں لوگوں کا رواج نہ تھا۔"
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
تفہیمات جلد2صفحہ 288میں رقم طرازہیں کہ
علمائے محدثین کی پیروی کرناجوحدیث اورفقہ پرپرملکہ ہیں۔کتاب وسنت کی کسوٹی پرمسائل فقہ کورکھنااورمخالف کوترک کرناامت کے لیے کوئی دوسراچارہ گرنہیں ہے۔
شاہ صاحب تقلیدکی دیوارکوگرانے کے حق میں تھے بلکہ تقلیدسے زیادہ جواسمیں ضرورت سے زیادہ پیروی آگئی تھی اسپرمضطرب تھے لہذہ اسی کتاب کی جلداول میں اپنے انہی خیالات کوالفاظ کاجامہ پہناتے لکھتے ہیں کہ
تقلیدکے قائل فقہ دان کے سامنے جب صحیح حدیث پہنچتی ہے توصرف پیروی اسے روک دیتی ہے۔جوکہ ایک غلط طرزعمل ہے۔
امام صاحب کے بقول امام ابوحنیفہ اورامام شافعی کے طریقت کویکجاکردیاجائے اورانکی کتابوں کوکتاب وسنت سے پرکھاجائے اورمطابقت کواختیارکیاجائے اورغیرکوچھوڑدیاجائے۔(التفہیمات جلد2)
شاہ صاحب کی یہ خواہش تھی امت کے درمیان فقہی اختلافات کاجامدحل نکل آئے اورتقلیدمیں جوانتہاہ پسندی آگئی تھی اسپروہ مخالف تھے انہوں نے اس ضمن میں اپنی کتب الانصاف اورعقدالجیدمیں اس پرسیرحاصل بحث کی ہے۔شاہ صاحب کے نزدیک کتاب وسنت پرتقلیدکوفوقیت جاہلیت ہے،اسکے برعکس کتاب وسنت کووہ راستہ عین نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے ہیں اوراس چیزکے ردپرکہ صرف تقلیدآڑھے آجاتی ہے احادیث صحیحہ سے پہلوتہی کودرست نہیں سمجھتے ہیں۔
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں
"وقد صح اجماع الصاحبة کلھم اولھم عن آخرھم و اجماع التابعین اولھم عن آخرھم و اجماع تبع التابعین اولھم عن آخرھم علی الامتناع والمنع من ان یقصد احد الی قول انسان منھم او ممن قبلھم فیاخذہ کلھ" (عقدالجید لشاہ ولی اللہ محدث دھلوی رح ص:۴۱)
تمام صحابہ کرام، تمام تابعین اور تبع تابعین کا اس بات پر اجماع ثابت ہو چکا ہے کہ انہوں نےنہ صرف اپنے آپ کو تقلید سے محفوظ رکھا بلکہ اس کو شجر ممنوعہ قرآر دیا ہے کوئی ایسا شخص جس کا تعلق قرون ثلاثہ سے ہو صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین میں سے کسی نے بھی اس کی ہر بات کو تسلیم نہیں کیا ہے
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
شاہ ولی اللہ نے مسلمانوں کے مختلف علمی اور فقہی طبقوں کے افکار میں مطابقت کے پہلو نمایاں کرکے ان کے درمیان صلح وآشتی پیداکرنے کی کوشش کی اور اختلافی مسائل میں الجھے رہنے کی بجائے انہیں متفق علیہ مسائل کی طرف مائل کیا۔ تطبیق ان کا خاص فن ہے۔ مثلاً حنفی ، شافعی ،مالکی اور اہل حدیث کے درمیان یاصوفیائے کرام اور غیر صوفی علمائے عظام کے درمیان یاعقائدمیں معتزلہ،اشاعرہ،ماتریدیہ اور اہل حدیث کے درمیان، یافلسفہ و شریعت کے مابین قرب کی فضا پیداکی۔ غرض انہوں نے فقہی اختلافات میں نقطہ عدل و تطابق قائم کیا اور انتہاپسند فقہاء کے الجھے ہوئے طریق کے مقابلے میں معتدل ،صاف اور عملی طریق کو ترجیح دی۔ فرقہ وارانہ نزاعات میں غلو و تعصب کومٹانے کی کوشش کی اور یونانی فلسفہ کے بجائے ایمانی فلسفہ(دانش ایمان) کو رواج دیا۔ملاحظہ ہو۔(بحث نمبر۲،حجۃ اللہ البالفہ،الخیرالکثیروغیرہ)
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
'' دار العلوم دیوبند کے ایک نامور فاضل اور مجاہد جلیل مولانا عبید اللہ سندھی صاحب نے مسلک دار العلوم کا ایک مرتبہ تجزیہ کرتےہوئے یہ بھی فرمایا کہ دار العلوم کا اساسی مقصد حنفیت کی تائید ہے ۔ ےب تکلف عرض ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے درس سے یہ اہم مضمون اپنی مطلوبہ واقعیت کے ساتھ منصوص نہ ہو سکا تھا ۔ شاہ صاحب علیہ الرحمۃ حنفی نقطہ نظر سے ہم آہنگی کے باوجود کیونکہ خود اجتہاد کا دعوی رکھتے تھے اس لیے حنفیت کوحضرت شاہ صاحب کی غزارت علمی سےممکن و متوقع فائدہ نہیں پہنچ سکا ( دار العلوم دیوبند نمبر ص 314 فروری ، مارچ 1976 ء )
 
Top