• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شرک کا معنی اور شرک کی قباحت

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
249
ری ایکشن اسکور
58
پوائنٹ
41
شرک کا معنی اور شرک کی قباحت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللّٰہ تعالٰی کی توحید ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات میں اللّٰہ تعالٰی کے علاوہ کسی اور کو شریک کرنا شرک اکبر ہے۔

شرک کی تعریف :

شرک سے مراد یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ اللہ تعالی کی توحید ربوبیت (خالق، مالک، رازق اور متصرف الامور ہونے) میں، توحید الوہیت (عبادت، اطاعت اور حاکمیت) میں اور اس کے اسماء وصفات میں کوئی اور بھی شریک ہے۔

اس طرح اس کے قادر ومختار، عالم الغیب، حی القیوم، لازوال اور بے مثال ہونے میں اس کے ساتھ کوئی اور بھی شامل ہے اور دعا و ندا، نزر نیاز، استغاثہ و وسیلہ، محبت و خوف اور توکل کسی اور سے بھی جائز ہے۔

علامہ سعری نے توحید اور شرک کی جامع تعریف یوں کی ہے:

شرک یہ ہے کہ بندہ عبادت کا کوئی حصہ یا عبادت کی کوئی قسم غیراللہ کیلئے انجام دے چنانچہ ہر عقیدہ یا قول یا عمل جس کے بارے میں یہ ثابت ہو کہ شارع نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسے اللہ وحدہ کیلئے انجام دینا توحید، ایمان اور اخلاص ہے اور اسے غیراللہ کیلئے انجام دینا کفر و شرک ہے۔

[القول السدید فی مقاصد التوحید]

شرک کی قباحت :


بیشک شرک سب سے بدترین گناہ اور سب سے بڑی گمراہی ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

ومن یشرک باللّٰہ فقد افتری اثما عظیما [النساء: ۳۸]

اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا۔

نیز ارشاد باری تعالٰی ہے :

وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا [النساء: ١١٦]

اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ بہت دور گمراہی میں جا پڑا۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں شرک کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا :

وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ
[الحج: ۳۱]

اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا، وہ آسمان سے گر پڑا پھر پرندے اس کو اچک لیں یا آندھی اس کو کہیں دور پھینک دے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

لَّا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَّخْذُولًا [بنی اسرائیل: ۲۲]

اللہ کے ساتھ کسی اور کو الٰہ نہ ٹھرا ورنہ بدحال اور بے کس ہوکر بیٹھ رہے گا۔


اللہ تعالی نے شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

ان الشرک لظلم عظیم [لقمان: ۱۳]
بیشک شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ [الانعام: ۸۲]

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ایمان کے ساتھ ظلم نہیں ملایا یہی لوگ امن اور ہدایت والے ہیں۔


اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام متفکر ہوئے اس وجہ سے کہ کون ہے جو ایمان کے بعد کچھ نہ کچھ ظلم کا مرتکب نہ ہو انہوں نے اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس ظلم سے مراد شرک ہے۔

اللہ تعالی نے شرک کرنے والے پر ہمیشہ کیلئے اپنی جنت کو حرام کر دیا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم بنا دیا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

انه من یشرک باللّٰہ فقد حرم اللّٰہ علیہ الجنۃ وماواہ النار وما للظلمین من انصار [المائدہ: ٧٦]

بیشک جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللّٰہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔

نیز ارشاد باری تعالٰی ہے :

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَتُلْقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَّدْحُورًا [بنی اسرائیل: ۳۹]

اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ نہ ٹھراؤ ورنہ جہنم میں ڈالے جاؤگے ملامت زدہ دھتکارے ہوئے۔


شرک اس قدر بدترین گناہ کہ اللہ تعالی شرک کرنے والے کو کبھی معاف نہ فرمائے گا اگر وہ شرک کی حالت میں مر گیا تو اس کی کبھی بخشش نہ ہوگی۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

ان اللّٰہ لا یغفر ان یشرک به ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء [النساء: ٤٨]

بیشک اللہ اپنے ساتھ شرک کرنے والے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

شرک کی دو اقسام ہیں شرک اکبر اور شرک اصغر۔ شرک اکبر کو اللہ تعالی کبھی معاف نہ فرمائے گا سوائے اس کے کہ توبہ کرلی جائے [شرح المنازل]


توحید ہی اللہ تعالی کا بندوں پر حق ہے جسے اللہ تعالی نے اختیار کرنے اور شرک سے بچنے پر بندوں سے ان کی بخشش، مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے۔

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے آپ کے خچر پر سوار تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالی کا بندوں پر حق کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر کیا ہے؟میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھرائیں۔ اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر یہ ہے کہ اگر وہ مشرک نہ ہوں تو ان کو عزاب جہنم سے بچالے۔ سیدنا معاذ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں لوگوں کو اس کی خوش خبری سنادوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایسا ہرگز نہ کرنا کیوں کہ پھر وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ رہیں گے۔

[صحیح بخاری، ٢٨٥٦]

ایک حدیث قدسی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :


يا ابن آدم، إنك لو أتيتنى بقراب الأرض خطايا، ثم لقيتني لا تشرك به شيئاً، لأتيتك بقرابها مغفرة‏

اے آدم کے بیٹے اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے اور پھر تو مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو نے میرے ساتھ کچھ بھی شریک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس زمین ( کی وسعتوں) بھر بخشش لے آؤں گا۔

[ترمزی: ٣٥٤٥]

حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :

من مات لایشرک باللّٰہ شیئاً دخل الجنۃ ومن مات یشرک باللّٰہ شیئا دخل النار

جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شریک نہ کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

[صحیح مسلم: ۹۳]
 
Top