• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شعر: ”کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں“ محل نظر ہے

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,401
ری ایکشن اسکور
1,091
پوائنٹ
398
شعر: ”کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں“ محل نظر ہے


سوال(105- 151): علامہ اقبال کی ایک غزل کا شعر ہے:
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
11/12/1994؁ء کو ایک محفل میں یہ غزل پڑھی گئی، جس پر کچھ عالم کہنے لگے کہ یہ مشرکانہ غزل ہے ، ایک عالم(مشرکانہ غزل کہنے والے عالم سے) کہنے لگے: آپ اسے شرک کیسے کہہ رہے ہیں جب کہ اس میں تصویر کشی بھی نہیں ہے ؟ دونوں صاحبان سلفی عالم ہیں ۔
آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ بالکل وضاحت کے ساتھ فرمائیں کہ اس غزل میں کیا بیان کیا گیا ہے، یا علامہ اقبال کیاکہنا چاہتے ہیں ؟ جب کہ ان کے بیشتر اشعار توحید سے بھرے پڑے ہیں اور کتنے شرک کی جڑ کاٹنے والے ہیں ۔

جواب: علامہ اقبال رحمه الله کا مذکورہ بالا شعر میرے نزدیک محل نظر ہے، کیونکہ بظاہر اس میں انھوں نے اللہ جلّ شانہ سے لباس مجاز میں آنے کی درخواست کی ہے، گویا انھوں نے حضرت موسیٰ کی طرح : ﴿رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ﴾ (الأعراف 143) کی درخواست کی ہے ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے فرمادیا تھا : ﴿لَنْ تَرٰىنِيْ﴾ تم میرا دیدار نہیں کر سکتے ، دنیا میں رؤیت الٰہی کے بارے میں اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ کوئی امتی اس کا اپنی آنکھ سے دیدار نہیں کرسکتا ۔
علامہ ابن ابی العز شرح العقیدہ الطحاویہ( ص٢١٣) میں فرماتے ہیں :
وَاتَّفَقَتِ الْأُمَّةُ عَلَى أَنَّهُ لَا يَرَاهُ أَحَدٌ فِي الدُّنْيَا بِعَيْنِهِ، وَلَمْ يَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ إِلَّا فِي نَبِيِّنَا ﷺ خَاصَّةً
امت کا اتفاق ہے کہ دنیا میں کوئی اپنی آنکھوں سے دیدار الٰہی نہیں کر سکتا، ہمارے نبی ﷺ کے سوا باقی لوگوں کے سلسلہ میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ۔
اورانہوں نے اگر اللہ کے سوا کسی اور کو لباس مجاز میں آنے کے لئے کہا ہوتا کہ اس کے سامنے سجدہ کریں تو یہ اور بھی غلط ہے، کیونکہ سجدہ صرف ذات باری کو زیبا ہے ، اس واسطے ایسے اشعار پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔

نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد اول، صفحہ 332۔

•••═══ ༻✿༺═══ •••

ڈاکٹر فضل الرحمن المدنی چینل.
(علمی٬ عقدی٬ تربوی٬ دعوی)


https://telegram.me/dr_fazlurrahman_almadni
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,399
پوائنٹ
562
شاعر خواہ کتنا ہی "دیندار" کیوں نہ ہو، وہ بہر حال شاعر ہی ہوتا ہے۔ اُن سے یہ توقع رکھنا کہ کہ وہ صد فیصد اسلامی شاعری فرمائیں گے، ناممکن ہے۔ اردو کے شعرا میں ایک نامور مقام رکھنے کے باوجود علامہ اقبال کی شاعری، دیگر اردو شعرا کے مقابلہ میں دین اسلام سے بہت زیادہ قریب ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ اردو لکھنے اور بولنے والے بہت سے علمائے کرام اپنی تحریروں اور تقریروں میں کلام اقبال کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعزاز شاید ہی کسی اور شاعر کے حصہ میں آئی ہو۔

اب جہاں تک اس شعر کا تعلق ہے۔ تو اگر شعرکے الفاظ کو بعینہ نثر بناکر پڑھا اور سمجھا جائے تو یقینا " یہ شعر دین اسلام کی تعلیمات کے "خلاف" نظر آتا ہے۔ لیکن اگر علامہ اقبال کے دیگر کلام کے تناظر میں ہم اُن کے اس شعر پر نقد کریں تو دو ٹوک یہ نہیں کہہ سکتے یہ مشرکانہ شعر ہے۔ اس شعر کو نثر میں یوں پڑھا جانا چاہئے کہ: اے اللہ! اگر تو کبھی میرے سامنے آجائے تو میری جبین نیاز سجدے کر کر کے نہ تھکے۔ فی الوقت تو یہ میری جبیں کے یہ ہزاروں سجدے تڑپ تڑپ کر ترے دیدار کے منتظر ہیں۔

واضح رہے کہ اللہ نے مومنوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ جب اللہ کے مومن بندے دنیوی امتحان میں کامیاب ہوکر جنت میں پہنچیں گے تو اللہ انہیں اپنے دیدار سے نوازیں گے جو مومنین کے لئے سب سے بڑا انعام ہوگا۔ اقبال ایک مجموعی طور پر مومن شاعر ہے۔ ہر شاعر اپنے محبوب (حقیقی ہو یا مجازی) کے دیدار کا شدت سے منتظر ہوتا ہے۔ اقبال بھی دیدار الٰہی کے بہت شدت سے اور بہت محبت سے منتظر ہیں۔ اور اسی انتظار و محبت کی تڑپ کی شدت میں شاعرانہ جذبات کا اظہار فرمارہے ہیں کہ اے اللہ آپ ہماری نگاہوں کے سامنے آئیں تو سہی، پھر دیکھئے گا کہ مری جبین آپ کو کتنے زیادہ سجدے کرتی ہے۔

اس شعر میں شاعر اپنی ایک کوتاہی کا بھی "بین السطور" اظہار کر رہا ہے کہ اے اللہ آپ اس وقت میری جبین کے ان گنتی کے کم کم سجدوں پر میری بندگی کو نہ تولیے۔ ایک بار میرے سامنے آکر تو دیکھئے کہ یہی جبین آپ کو کتنے ہزاروں سجدے پیش کرتی ہے۔

کچھ اسی قسم کا "عاشقانہ شعر" چچا غالب نے بھی کہا ہے۔ گو کہ وہ عمومی طور پر ایک فاسقانہ شاعر اور انسان تھے ۔ ع

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,619
ری ایکشن اسکور
738
پوائنٹ
290
پسند آئیں یہ سطور :

اردو لکھنے اور بولنے والے بہت سے علمائے کرام اپنی تحریروں اور تقریروں میں کلام اقبال کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ ایسا اعزاز شاید ہی کسی اور شاعر کے حصہ میں آیا ہو۔
اس شعر میں شاعر اپنی ایک کوتاہی کا بھی "بین السطور" اظہار کر رہا ہے کہ اے اللہ آپ اس وقت میری جبین کے ان گنتی کے کم کم سجدوں پر میری بندگی کو نہ تولیے۔ ایک بار میرے سامنے آکر تو دیکھئے کہ یہی جبین آپ کو کتنے ہزاروں سجدے پیش کرتی ہے۔
 
Top