• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ البا نی کی کتاب ”الضعیفہ” میں مو جود صحیح روا یا ت کا تحقیقی جا ئزہ-صحیحین کا مطا لعہ

وجاہت

رکن
شمولیت
مئی 03، 2016
پیغامات
421
ری ایکشن اسکور
43
پوائنٹ
45
آج ہی ایک بلاگ نظر سے گزرا -جس پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی کے طلباء اور پروفیسر حضرا ت اپنے اپنے تحقیقی مقالے رکھتے ہیں - جن پر وہ کام کر رہے ہوتے ہیں -

جس کو


سب سے پہلے میں یہاں ١٨ صفحوں کی ایک ریسرچ یہاں پیش کر رہا ہوں تا کہ اس ریسرچ سے طلباء فائدہ اٹھا سکیں اور علماء بھی اپنی راۓ دے سکیں-


شیخ البا نی کی کتاب ”الضعیفہ” میں مو جود صحیح روا یا ت کا تحقیقی جا ئزہ-صحیحین کا مطا لعہ


1.jpg
2.jpg
3.jpg
4.jpg
5.jpg
6.jpg
7.jpg
8.jpg
9.jpg
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
علماء کرام کی تحقیقات کو اس نظر سے دیکھنا اچھی بات ہے ، تاکہ ان کی خوبیاں نمایاں ہوں ، اور کوتاہیاں بھی واضح ہوجائیں ، تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں ۔
میں نے اس تحریر کو دیکھا ہے ، اس کا شدید اختصار ہے ، بلکہ بعض جگہ پر عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا ہے ، جس طرح کے حدیث ضعیف کے بیان کے متعلق ، مدلس کی روایت ، ابن حبان کی توثیق وغیرہ سے متعلق شیخ کی آراء ۔
ان سب باتوں کو تفصیلا ذکر کرنا چاہیے ، شیخ کے تمام اقوال کو جمع کرکے پھر فیصلہ کرنا چاہیے ۔ تاکہ ایک مفید اور وزنی بحث ہو ۔
تحقیق حدیث میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے منہج پر عربی زبان میں کافی کام ہو چکا ہے ۔ اردو میں لکھنے والے ان مقالہ جات اور کتب سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,567
پوائنٹ
384
علماء کرام کی تحقیقات کو اس نظر سے دیکھنا اچھی بات ہے ، تاکہ ان کی خوبیاں نمایاں ہوں ، اور کوتاہیاں بھی واضح ہوجائیں ، تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں ۔
میں نے اس تحریر کو دیکھا ہے ، اس کا شدید اختصار ہے ، بلکہ بعض جگہ پر عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا ہے ، جس طرح کے حدیث ضعیف کے بیان کے متعلق ، مدلس کی روایت ، ابن حبان کی توثیق وغیرہ سے متعلق شیخ کی آراء ۔
ان سب باتوں کو تفصیلا ذکر کرنا چاہیے ، شیخ کے تمام اقوال کو جمع کرکے پھر فیصلہ کرنا چاہیے ۔ تاکہ ایک مفید اور وزنی بحث ہو ۔
تحقیق حدیث میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے منہج پر عربی زبان میں کافی کام ہو چکا ہے ۔ اردو میں لکھنے والے ان مقالہ جات اور کتب سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔
خضر بھائی شاید آپ نے مضمون پورا نہیں پڑھا۔ شروع میں پھول جھاڑے گئے ہیں اور آخر میں کانٹے بچھائے گئے ہیں۔ صحیح احادیث میں شک ڈالنے کا نیا طریقہ۔
جس نے بھی یہ تحقیق لکھی ہے لگتا ہے اسے خود علم حدیث کا کچھ نہیں پتہ اور غلط فہمی پر مبنی باتیں لکھ کر پوری عمارت کھڑی کر دی ہے۔ ایسے لوگ Keyboard Muhaddith کہلاتے ہیں۔
 
Last edited:

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,531
پوائنٹ
304
خضر بھائی شاید آپ نے مضمون پورا نہیں پڑھا۔ شروع میں پھول جھاڑے گئے ہیں اور آخر میں کانٹے بچھائے گئے ہیں۔ صحیح احادیث میں شک ڈالنے کا نیا طریقہ۔
جس نے بھی یہ تحقیق لکھی ہے لگتا ہے اسے خود علم حدیث کا کچھ نہیں پتہ اور غلط فہمی پر مبنی باتیں لکھ کر پوری عمارت کھڑی کر دی ہے۔ ایسے لوگ Keyboard Muhaddith کہلاتے ہیں۔
میرا خیال میں البانی سے متعلق تحریر سے انکار حدیث یا شک حدیث کا احتمال ہرگز پیدا نہیں ہوتا ہے -

ناصر البانی اگرچہ دور جدید کے
مشہور محقق ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ احادیث نبوی کو پرکھنے میں ان سے اکثر مقامات پر تساہل ہوا ہے- اکثر جن روایات کو متقدمین و محدثین کے گروہ نے صحیح کہا ان کو البانی ضعیف قرار دے بیٹھے اور اکثر جن روایات کو متقدمین نے ضعیف کہا ان کو حسن یا صحیح کہہ دیا -غلو اہل بیعت میں جس طرح ابن حجر رحم الله نے اکثر روایات کو صحیح قرار دے دیا جیسے "من کنت مولا فعلی مولا' والی روایات یا جیسے خلافت کے باب میں "ملک عضوض" والی روایت یا پھر "ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی عنہ پر حواب کے کتوں کے بھونکنے" والی روایت - جن پر اکثر محدثین نے شدید جرح کی ہیں - ان کو بھی البانی نے ابن ہجر کی موافقت میں صحیح قراردے دیا- جو ان کا تساہل یا خطاء تھی-

بلکہ حديث ( من کنت مولاہ ) سے متعلق علامہ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کرنے کے بعد اس حدیث کو ضعیف کہنے والوں کا مناقشہ کیا ہے۔ خاص کر ابن تیمیہ رحم الله (جنہوں نے اس روایت کو مختلف طرق پر ضعیف قرار دیا ) ان پر البانی نے شدید تنقید کی ہے-

بہر حال بات وہی ہے جو اوپر محترم خضر حیات صاحب نے کی ہے - کہ علماء کرام کی تحقیقات کو اس نظر سے دیکھنا اچھی بات ہے ، تاکہ ان کی خوبیاں نمایاں ہوں ، اور کوتاہیاں بھی واضح ہوجائیں ، تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں-

ورنہ اہل حدیث اور احناف میں زیادہ فرق نہیں رہ جائے گا- اور احناف کے پاس بھی اس بات کا جواز موجود ہو گا کہ جب اہل حدیث ہمیں ابو حنیفہ کی تقلید پر تنقید و تنقیص کا نشانہ بناتے ہیں تو یہ خود بھی تو یہی کرتے ہیں-جس روایت کو البانی نے صحیح کہہ دیا اس کو صحیح مان لیا اور جس روایت کو ضعیف قرار دیا اس کو انہوں نے بھی ضعیف مان لیا وغیرہ -
 
Last edited:
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,648
ری ایکشن اسکور
741
پوائنٹ
290
میرا خیال میں البانی سے متعلق تحریر سے انکار حدیث یا شک حدیث کا احتمال ہرگز پیدا نہیں ہوتا ہے -

ناصر البانی اگرچہ دور جدید کے
مشہور محقق ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ احادیث نبوی کو پرکھنے میں ان سے اکثر مقامات پر تساہل ہوا ہے- اکثر جن روایات کو متقدمین و محدثین کے گروہ نے صحیح کہا ان کو البانی ضعیف قرار دے بیٹھے اور اکثر جن روایات کو متقدمین نے ضعیف کہا ان کو حسن یا صحیح کہہ دیا -غلو اہل بیعت میں جس طرح ابن حجر رحم الله نے اکثر روایات کو صحیح قرار دے دیا جیسے "من کنت مولا فعلی مولا' والی روایات یا جیسے خلافت کے باب میں "ملک عضوض" والی روایت یا پھر "ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی عنہ پر حواب کے کتوں کے بھونکنے" والی روایت - جن پر اکثر محدثین نے شدید جرح کی ہیں - ان کو بھی البانی نے ابن ہجر کی موافقت میں صحیح قراردے دیا- جو ان کا تساہل یا خطاء تھی-

بلکہ حديث ( من کنت مولاہ ) سے متعلق علامہ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کرنے کے بعد اس حدیث کو ضعیف کہنے والوں کا مناقشہ کیا ہے۔ خاص کر ابن تیمیہ رحم الله (جنہوں نے اس روایت کو مختلف طرق پر ضعیف قرار دیا ) ان پر البانی نے شدید تنقید کی ہے-

بہر حال بات وہی ہے جو اوپر محترم خضر حیات صاحب نے کی ہے - کہ علماء کرام کی تحقیقات کو اس نظر سے دیکھنا اچھی بات ہے ، تاکہ ان کی خوبیاں نمایاں ہوں ، اور کوتاہیاں بھی واضح ہوجائیں ، تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں-

ورنہ اہل حدیث اور احناف میں زیادہ فرق نہیں رہ جائے گا- اور احناف کے پاس بھی اس بات کا جواز موجود ہو گا کہ جب اہل حدیث ہمیں ابو حنیفہ کی تقلید پر تنقید و تنقیص کا نشانہ بناتے ہیں تو یہ خود بھی تو یہی کرتے ہیں-جس روایت کو البانی نے صحیح کہہ دیا اس کو صحیح مان لیا اور جس روایت کو ضعیف قرار دیا اس کو انہوں نے بھی ضعیف مان لیا وغیرہ -
اسی مراسلہ میں خضر حیات بهائی نے یہ بهی کہا:

" ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻔﺼﯿﻼ‌ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ، ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ - ﺗﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﻧﯽ ﺑﺤﺚ ﮨﻮ -ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﻨﮩﺞ ﭘﺮ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ - ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﻣﻘﺎﻟﮧ ﺟﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻔﺎﺩﮦ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ -"

میرے خیال سے خضر حیات بهائی کے مراسلہ کے فقرات ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں ۔ اگر میں ان فقرات کو الگ الگ ذکر کروں تو مجهے انکا مطلب سمجهنا دشوار هو جائیگا ۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,531
پوائنٹ
304
اسی مراسلہ میں خضر حیات بهائی نے یہ بهی کہا:

" ﺍﻥ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻔﺼﯿﻼ‌ ﺫﮐﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ، ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻗﻮﺍﻝ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﮭﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ - ﺗﺎﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻔﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﻧﯽ ﺑﺤﺚ ﮨﻮ -ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺷﯿﺦ ﺍﻟﺒﺎﻧﯽ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﻨﮩﺞ ﭘﺮ ﻋﺮﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ - ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﻣﻘﺎﻟﮧ ﺟﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺘﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻔﺎﺩﮦ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ -"

میرے خیال سے خضر حیات بهائی کے مراسلہ کے فقرات ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں ۔ اگر میں ان فقرات کو الگ الگ ذکر کروں تو مجهے انکا مطلب سمجهنا دشوار هو جائیگا ۔
جی شکریہ - میرے خیال میں بھی ایسا ہونا چاہیے-

اس زمن میں نیچے دیا گیا لنک بھی مفید ہے -

عالمِ عربی کے معروف عالم شیخ البانی - شیخ شعیب ارنوٴوط کی نظر میں

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/07-Alam arabic ke maroof Shaikh_MDU_07_July_14.htm

اقتباس -
علمی دنیا میں اختلاف کوئی اَنہونی چیز نہیں،” آدابِ اختلاف“ کی رعایت رکھتے ہوئے متانت کے ساتھ شائستہ لب و لہجے اور سنجیدہ اسلوب میں اپنی آرا کا اظہار، معتدل مزاج اہلِ علم کا امتیاز ی خاصہ رہا ہے۔ شیخ ارنوٴوط کی یہ تحریر بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، چونکہ شیخ بذات خود ایک ناموَر محقق ہیں، شیخ البانی سے ان کے خاندانی مراسم رہے ہیں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے کے مواقع انھیں حاصل رہے ہیں اور ان کی کتب و تحقیقات پربھی وہ گہری نگاہ رکھتے ہیں؛اس لیے تحریر کے مندرجات سے کلی اتفاق نہ ہونے کے باوجود ان کا یہ علمی نقدوتبصرہ، فائدے سے خالی نہ ہوگا۔اسی نقطئہ نظر کے تحت کتاب کے اس حصے کو اردو ترجمانی کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جا رہا ہے۔ (مرتب)
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,406
ری ایکشن اسکور
1,099
پوائنٹ
412
جی شکریہ - میرے خیال میں بھی ایسا ہونا چاہیے-

اس زمن میں نیچے دیا گیا لنک بھی مفید ہے -

عالمِ عربی کے معروف عالم شیخ البانی - شیخ شعیب ارنوٴوط کی نظر میں

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/07-Alam arabic ke maroof Shaikh_MDU_07_July_14.htm

اقتباس -
علمی دنیا میں اختلاف کوئی اَنہونی چیز نہیں،” آدابِ اختلاف“ کی رعایت رکھتے ہوئے متانت کے ساتھ شائستہ لب و لہجے اور سنجیدہ اسلوب میں اپنی آرا کا اظہار، معتدل مزاج اہلِ علم کا امتیاز ی خاصہ رہا ہے۔ شیخ ارنوٴوط کی یہ تحریر بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، چونکہ شیخ بذات خود ایک ناموَر محقق ہیں، شیخ البانی سے ان کے خاندانی مراسم رہے ہیں، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کام کرنے کے مواقع انھیں حاصل رہے ہیں اور ان کی کتب و تحقیقات پربھی وہ گہری نگاہ رکھتے ہیں؛اس لیے تحریر کے مندرجات سے کلی اتفاق نہ ہونے کے باوجود ان کا یہ علمی نقدوتبصرہ، فائدے سے خالی نہ ہوگا۔اسی نقطئہ نظر کے تحت کتاب کے اس حصے کو اردو ترجمانی کے قالب میں ڈھال کر پیش کیا جا رہا ہے۔ (مرتب)
غیر متفق! شیخ ارنؤوط کا تبصرہ کچھ غیر مناسب لگتا ہے. کافی پہلے پڑھا تھا. صحیح نہیں لگا
 
Top