• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ صالح الفوزان کی نظر میں ایمان کا تقاضا: تحاکم الی الشریعہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
799
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
شیخ صالح الفوزان کی نظر میں ایمان کا تقاضا: تحاکم الی الشریعہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ

یہ بات کسی صاحبِ عقل پر پوشیدہ نہیں کہ ایمان اور اطاعت صرف اسی وقت معتبر ہے جب بندہ اپنے معاملات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے تابع کرے۔ لیکن افسوس کہ آج بعض لوگ کتاب و سنت کو چھوڑ کر خود ساختہ قوانین اور باطل نظاموں کے آگے سر جھکاتے ہیں، اور پھر یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ایمان والے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے لیکن حکم دوسروں کے آگے بجا لائے۔ کیا یہ ایمان ہے یا صریح دھوکہ؟ ذیل میں شیخ صالح الفوزان کی روشن اور قطعی عبارت پیش ہے تا کہ اہلِ علم و قلم اور عوامِ مسلمہ حق کی طرف پلٹ سکیں۔

شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:

مِنْ مُقْتَضَى الإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَعِبَادَتِهِ : الخُضُوعُ لِحُكْمِهِ، وَالرِّضَا بِشَرْعِهِ، وَالرُّجُوعُ إِلَى كِتَابِهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ عِنْدَ الاخْتِلَافِ فِي الأَقْوَالِ، وَفِي العَقَائِدِ، وَفِي الخُصُومَاتِ، وَفِي الدِّمَاءِ وَالأَمْوَالِ، وَسَائِرِ الحُقُوقِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الحَكَمُ وَإِلَيْهِ الحُكْمُ ، فَيَجِبُ عَلَى الحُكَّامِ أَنْ يَحْكُمُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ، وَيَجِبُ عَلَى الرَّعِيَّةِ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ﷺ قَالَ تَعَالَى فِي حَقِّ الوُلَاةِ : ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ﴾ [النساء : ٥٨]. وَقَالَ فِي حَقِّ الرَّعِيَّةِ : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ [النساء : ٥٩] .

اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کی عبادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کے حکم کے آگے جھک جائے، اس کے شریعت پر راضی ہو، اور اختلاف کی حالت میں قرآنِ مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف رجوع کرے۔ چاہے وہ اختلاف اقوال میں ہو، عقائد میں ہو، جھگڑوں اور مقدمات میں ہو، یا خون و مال اور دیگر حقوق کے معاملات میں ہو۔ کیونکہ اللہ ہی حقیقی حَکَم ہے اور حکم اسی کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ پس حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلے کریں، اور رعایا پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاملات میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف تحاکم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے حکمرانوں کے بارے میں فرمایا: "یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔"[النساء: 58] اور رعایا کے بارے میں فرمایا: "اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والے لوگوں کی بھی، اور اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ طریقہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے سب سے اچھا ہے۔" [النساء: 59]


[عقيدة التوحيد وبيان ما يضادها أو ينقضها من الشرك الأكبر والأصغر والتعطيل والبدع وغير ذلك، ص : ١٢٠]

IMG-20250915-WA0000.jpg

IMG-20250915-WA0001.jpg

شیخ صالح الفوزان کی یہ عبارت ایمان اور عبودیت کی بنیاد کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ ایمان صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ کے حکم کے آگے سر بسجود ہو، اس کے فیصلوں کو قبول کرے، اور ہر جھگڑے، ہر اختلاف اور ہر مسئلے کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی طرف لوٹائے۔

لیکن آج کے دور کے منافق حکمرانوں اور جمہوری نظام کے پرستاروں نے ایمان کے اس اصل تقاضے کو ہی سبوتاژ کر دیا ہے۔ وہ بظاہر مسلمان ہونے کے دعوے کرتے ہیں مگر فیصلے کہاں سے لیتے ہیں؟ انگریز کے گھڑے ہوئے آئین سے، اقوامِ متحدہ کے قوانین سے، یا پارلیمنٹ کی رائے سے! یہ کھلا نفاق اور عین کفر ہے۔

شیخ صالح الفوزان صاف فرما رہے ہیں کہ "فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الحَكَمُ وَإِلَيْهِ الحُكْمُ" اللہ ہی حکم دینے والا ہے اور اسی کی طرف حکم لوٹایا جاتا ہے۔ تو جو شخص اللہ کے بجائے آئینِ انسانی کو حکم مانے، یا شریعت کے بجائے جمہوریت کو فیصلوں کا منبع بنائے، وہ دراصل اللہ کے حکم کو چھوڑ کر غیر اللہ کے حکم کی طرف جھک گیا، اور یہ عین اس آیت کا مصداق ہے:
﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ﴾ [المائدۃ: 50]
یعنی "کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ اور یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کس کا ہو سکتا ہے؟"

شیخ صالح الفوزان کا واضح حکم ہے کہ "فَيَجِبُ عَلَى الحُكَّامِ أَنْ يَحْكُمُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ" حکمرانوں پر واجب ہے کہ وہ صرف اور صرف اللہ کے نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔ لہٰذا جو حکمران شرعی حدود کو معطل کر دے، سود کو روا رکھے، زنا اور بے حیائی کو آزادی کا نام دے، اور قرآن و سنت کے بجائے لادینی قانون نافذ کرے، وہ اللہ کا نافرمان نہیں بلکہ براہِ راست اس کے کلام کے مناقض ہے۔ ایسے حکمران محض "گناہگار" نہیں بلکہ نصوصِ شرعیہ کے مطابق طاغوت ہیں۔

اسی طرح رعایا کے لیے بھی شیخ صالح الفوزان کی عبارت ایک فیصلہ کن اعلان ہے۔ "وَيَجِبُ عَلَى الرَّعِيَّةِ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَسُنَّةِ رَسُولِهِ ﷺ" رعایا پر واجب ہے کہ وہ اپنے معاملات کو کتاب و سنت کی طرف لوٹائیں۔ لہٰذا جو عوام آج عدالتوں میں جا کر کافروں کے قوانین کے تحت فیصلے لیتے ہیں، وہ اللہ اور رسول کے بجائے طاغوت کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ ان کے ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، جب تک وہ اپنے نزاعات کو قرآن و سنت کے مطابق حل کرنے پر راضی نہ ہوں۔

پس جو حکمران کتاب و سنت کے خلاف قوانین وضع کر ان سے فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت ہے، اور جو عوام اس کے ظالمانہ اور کفری قوانین کو مانتے ہیں وہ بھی اس کفر میں اس کے ساتھی ہیں۔

شیخ صالح الفوزان کی بات واضح ہے کہ حکمران پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کرے۔ رعایا پر لازم ہے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی طرف تحاکم کریں۔ جو طاغوتی عدالتوں سے فیصلے کرواتے ہیں، یا اقوام متحدہ، آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈالتے ہیں، وہ حقیقت میں دینِ اسلام سے باہر نکل چکے ہیں۔

اے مسلمانو! یاد رکھو، ایمان کا تقاضا ہے کہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکمِ مطلق مانا جائے۔ جیسا کہ شیخ صالح الفوزان کے فرمان سے واضح ہوتا ہے "مِنْ مُقْتَضَى الإِيمَانِ بِاللَّهِ تَعَالَى وَعِبَادَتِهِ الخُضُوعُ لِحُكْمِهِ، وَالرِّضَا بِشَرْعِهِ، وَالرُّجُوعُ إِلَى كِتَابِهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ" جو اس کے خلاف حکم کو قبول کرے وہ مؤمن نہیں ہوسکتا چاہے لاکھ نمازیں پڑھے اور لاکھ روزے رکھے۔

لہٰذا آج کے حکمران جو سود کو حلال کرتے ہیں، فحاشی کو عام کرتے ہیں، اللہ کی نازل کردہ شریعت کو معطل کرتے ہیں، اور کفری قوانین نافذ کرتے ہیں یہ سب طاغوت ہیں، ان کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور کتاب و سنت کو اپنے نزاعات اور فیصلوں کا معیار بنانا ہر مسلمان پر لازم ہے، ورنہ ایمان محض دعویٰ اور کھوکھلا نعرہ رہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی اطاعت پر ثابت قدم رکھے اور باطل نظاموں سے محفوظ فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
 
Top