• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ ڈاکٹر اسرار صاحب کی نظر میں

aqeel

مشہور رکن
شمولیت
فروری 06، 2013
پیغامات
299
ری ایکشن اسکور
315
پوائنٹ
119


یہ اقتباس ڈاکٹر صاحب کی کتاب’’مروجہ تصوف یا سلوک محمدی ‘‘ سے لیا گیا ہے ،کاش جس تصوف کو ڈاکٹر صاحب صیح سمجھتے تھے، (میرے خیال وہ شاہ ولی اللہؒ علیہ سے بہت متاثر تھے ،جیسا کہ مذکور کتاب سے ظاہر ہے) خود بھی حاصل کرتے ،اسی کو اپنی جماعت میں رائج کر جاتے ،مگر حقیقت یہ ہے عملی تصوف کے بغیر تصوف کو جاننا مشکل ہے۔مگر تصوف کا علم صرف کتابیں پڑھنے حاصل نہیں ہوتا،بلکہ اسکے لئے اور بھی شرائط ہیں۔
اس اقتباس سے صوفیا کی عظمت اور مرتبہ منکرین تصوف پر حجت ہے۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل علم ،منکرین تصوف اور داعی تصوف اسلامی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
پاکستان کے بھی اکثر علماء ان کے عجیب و غریب نظریات سے خائف رہے -خاص کر مہدی رحمللہ کی آمد سے متعلق ان کے نظریات بھی عجیب قسم کے تھے - غالبا ١٩٩٨ میں فرمایا تھا کہ مہدی پیدا ہو چکے ہیں اور ٢٠٠٢ میں ان کا ظہور ہونے والا ہے -جس پر اس وقت کے اکثر علما ء نے ان کے دماغی توازن خراب ہونے کا فتویٰ بھی دے دیا تھا .الله ان پر رحم کرے لیکن مجموعی طو ر پر وہ صحیح اسلامی نظریات کے حامل نہیں تھے -بلکہ حقیقت میں جیسا فیض اللہ صاحب نے فرمایا کہ وہ برصغیر کے اسلام سے متاثر تھے -(واللہ عالم )
 

aqeel

مشہور رکن
شمولیت
فروری 06، 2013
پیغامات
299
ری ایکشن اسکور
315
پوائنٹ
119
ڈاکٹر اسرار برصغیر کے اسلام سے متاثر تھا اصل عربی خالص اسلام سے دور تھا
چلو داکٹر صاحب تو اصلی اسلام سے دور تھے ذرایہ بتا دے سید نذیر حسین دہلویؒ بھی اصلی اسلام سے دور تھے؟
’’حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ کی زندگی کا ایک اہم پہلو‘‘ کا اچھی طرح جائزہ لے کر بتا دے،کیونکہ
کیونکہ ابن عربی کی حمایت سے داکٹر صاحب دین سے خارج؟
جب کہ میاں صاحبؒ بھی ابن عربی کے حمایتی ہیں۔دیکھتے آپ کا فتوی کیا کہتا ہے؟
 

مدثر الیاس

مبتدی
شمولیت
مئی 06، 2013
پیغامات
10
ری ایکشن اسکور
21
پوائنٹ
3
میرے بھائی.
لوگوں کی ایک تو بہت بری عادت ہے کہ اپنے کم علم کو ہی دنیا کا سارا علم سمجھ لیا کرتے ہیں. احادیث کی روشنی میں کبھی اسرائیل کا دوبارہ بننا تو دیکھئے گا. وہ کیسے دو ہزار سال بعد واپس ا گئے ہیں اور مسلمان اپنی سب سے پستی کی حالت میں پہنچ چکے ہیں.
میں ڈاکٹر صاحب کو اتنا نہیں سنا لیکن جہاں تک بات ہے مہدی، دجال اور یاجوج ماجوج وغیرہ تو وہ تو بس ہوا کہ ہوا. کچھ ماہ پہلے ہمارے مسجد کے امام جو کہ جماعت دعوه میں لمبا عرصہ جہاد کر چکے ہیں، انہوں نے بھی یہی بات کی کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یاجوج ماجوج آ چکے ہیں اور امام مہدی آ رہے. یہ سب جھوٹ کہتے ہیں. میں نے خطبہ کے بعد انسے پوچھا. کیا آپ جانتے ہیں کہ یہودی ٢٠٠٠ سال بعد فلسطین میں واپس آ گے ہیں اور اب تقریبن دنیا پر حکومت کر رہے ہیں. انہوں نے کہا جی جانتا ہوں. پھر میں نے پوچھا کہ سورت انبیاء آیت ٩٥-٩٦ میں ایک بستی کا ذکر ہو رہا. جس کا مطلب کچھ یوں ہے...
اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر لازم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے ۔یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے (١)۔

اب یہ کونسی بستی ہے؟ وہ چپ رہے.... پھر میں نے کہا کہ کیا آپ نے صحیح بخاری پڑھی ہے کہ وہ یاجوج ماجوج کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ صحیح بخاری میں تین سے چار بار حدیث موجود ہیں کہ یاجوج ماجوج کی دیوار میں سوراخ شرو ہو گیا ہے اور عربوں کے لئے یہ عظیم خطرہ ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے نہیں پڑھی. اب جس بندے نے حدیث کی سب سے اونچی کتاب نہیں پڑھی وہ دوسروں پی انگلیاں اٹھاتا ہے کہ دوسرے کا موقف ٹھیک نہیں... میں حدیث لکھتا ہوں بخاری شریف سے...

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 604 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 9 متفق علیہ 7
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ بن زبیر زینب بنت ابوسلمہ حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے روایت کرتی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کے پاس گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ لا الہ الا اللہ عرب کی خرابی ہو اس شر سے جو قریب آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنا کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اس کے برابر یاجوج ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے حضرت زینب نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس وقت جبکہ فسق وفجور کی زیادتی ہو جائے گی

آپ کیا جانوں کہ کس طرح عرب کو ختم کرنے کی سازشیں ہو رہیں. آپ تو مکہ میں کلاک ٹاور کو دیکھ کے اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے لیکن نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا. جب تم دیکھو کہ مکہ کی عمارتیں پہاڑوں تک اونچی ہو رہی ہیں تو سمجھ لینا کے قیامت کی گھڑی آ چکی...

الله بہتر جانتا ہے لیکن میرے کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنی کم علمی کی وجہ سے دوسروں کے علم کو نشانہ نہیں بناتے...
السلام علیکم
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
اصل سوال یہ نہیں کہ امام مہدی، دجال، نزولِ مسیح اور یاجوج ماجوج کی آمد اب قریب ہے یا دور!!

اگر یہی سوال ہے تو اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ ان کی آمد بہت بہت قریب ہے۔ بلکہ ان سب سے آگے بڑھ کر یہ جس چیز کی نشانی ہیں (یعنی قیامت) وہ چیز بذات خود بہت قریب ہے۔ ﴿ وما يدريك لعل الساعة تكون قريبا ﴾

سوال یہ ہے کہ کیا ان کیلئے کوئی بالضّبط مدت مقرر کی جا سکتی ہے؟؟؟

مثلاً کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیامت سن 2050ء میں آجائے گی؟؟؟

یا

دجال کا ظہور دس سال کے دوران ہوجائے گا؟؟؟ وغیرہ وغیرہ

ظاہر سی بات ہے کہ بالضّبط ماہ وسال کے ساتھ اس کا اندازہ کرنا یا مثلاً یہ کہنا امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں، علم غیب ہے، اس قسم کی باتوں کی تائید کوئی بھی نہیں کرے گا۔

اور اس بارے میں ڈاکٹر صاحب کے موقف کی مخالفت کرنا ان کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

واللہ اعلم!
 
Top