• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیخ نذیر حسین سنابلی رحمہ اللہ : کچھ یادیں کچھ باتیں

شمولیت
جنوری 17، 2018
پیغامات
24
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
36
شيخ نذير حسين سنابلی رحمه الله : کچھ یادیں کچھ باتیں

محمود حمید پاکوڑی

٢٠١١ء کی بات ہے جب میں جامعہ نذیریہ پھاٹک حبش خان، دہلی میں زیرِ تعلیم تھا ۔ کسی چھٹی میں گھر آنا ہوا تو ایک دن فضیلتہ الاستاد شمس الضحیٰ سنابلی / حفظہ اللہ کے ہمراہ اعلامی مارکیٹ کی جانب نکلا ، جہاں استاد محترم نے ایک سنجیدہ اور باوقار عالم دین سے ملاقات کرائی ، باہمی تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ شیخ کا اسم گرامی نذیر حسین بن تجمل حق سنابلی ہے اور شیخ جامعہ سلفیہ بنارس کی شاخ جامعہ مصباح العلوم السلفیہ جھوم پورہ اڈیشہ میں مدرس ہیں ؛ گرچہ اس سے پہلے بھی شیخ کا نام بعض احباب کی زبانی سن چکا تھا اور ہمارے گھر سے شیخ کے گھر کا فاصلہ بھی زیادہ نہیں تھا لیکن ملاقات کا شرف پہلی مرتبہ حاصل ہوا ؛ یقینا یہ میرے لیے ایک خوش کن اور خوش گوار لمحہ تھا ۔ شیخ کے ساتھ اس ملاقات کے بعد سے ایک طرح کی شاگردی کا رشتہ قائم ہوگیا ؛ پھر چھٹیوں کے موسم میں جب بھی ہم گھر آتے تو شیخ کے بھتیجے حافظ احمد اللہ عثمانی / سلمہ اور بعض دیگر احباب کی معیت میں کبھی گھر پر تو کبھی مارکیٹ میں شیخ سے ملاقات کرتے ، شیخ بسااوقات مزاحیہ گفتگو بھی کرتے لیکن کھل کھلا کر ہنستے نہیں تھے بلکہ زیر لب مسکراتے اور مختلف موضوعات پر اپنی قیمتی آرا پیش کرتے ۔
جب میں جامعہ سلفیہ بنارس میں زیرِ تعلیم تھا تو اڈیشہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ” جمال المصباح “ کا مطالعہ کرتا اور شیخ کی تحریر کو تلاشتا لیکن میری نگاہ سے کبھی اس میں شیخ کی کوئی تحریر نہیں گزری ؛ اس سے محسوس ہوتا کہ لکھنا اور مضمون نگاری کرنا شیخ کی طبیعت پر گراں تھا حالانکہ انھیں جمال المصباح کی صورت میں ایک وسیع مجال میسر تھا ۔
٢٠١٥ء کی بات ہے جب بعض احباب کی زبانی معلوم ہوا کہ شیخ اڈیشہ چھوڑ رہے ہیں اور اب علاقے میں تدریسی فرائض انجام دینا چاہتے ہیں ۔ واضح رہے کہ اڈیشہ میں تدریسی خدمات کا سفر اس وقت شروع ہوا تھا جب ١٩٩٨ء میں شعبہء تخصص میں داخلہ لینے کی غرض سے شیخ جامعہ سلفیہ بنارس آئے لیکن سوء قسمت کہ اس سال تخصص میں داخلہ بند تھا ، ادھر اسی سال شیخ کی والدہ کا انتقال بھی ہو گیا تھا، اس لیے معہد کے ہم سبق دکتور حشر الدین المدنی / حفظہ اللہ نے شیخ کو تدریسی خدمات انجام دینے کا مشورہ دیا اور مدرسین کی جستجو میں اڈیشہ سے بنارس آئے ہوئے جناب محمد شعیب انصاری/ رحمہ اللہ سے دکتور صاحب نے ١٧٠٠ روپے ماہانہ مشاہرہ پر معاملہ طے کیا اور شیخ سوئے اڈیشہ چل پڑے ۔ یہیں سے شیخ کی تدریسی زندگی کا آغاز ہوا اور جامعہ مصباح العلوم السلفیہ جھوم پورہ کو اٹھارہ سال تک اپنا مسکن و مرکز بنائے رکھا ۔ یہ ادارہ دراصل صوبائی جمعیت اہل حدیث اڈیشہ کی مرکزی دانش گاہ ہے اور اپنی منظم تدریسی خدمات کی بنا پر کافی مشہور ہے اور اسے جامعہ سلفیہ بنارس کی بہترین شاخوں میں سے مانا جاتا ہے ۔ اس کی مادی و معنوی ترقی میں جہاں متحرک ذمہ داران کی کاوشیں شامل ہیں وہیں شیخ جیسے مخلص مدرسین کی محنتیں بھی کم معنی نہیں رکھتیں ۔ شیخ ہر سال ضلع پاکوڑ اور اس کے مضافات سے چنندہ طلبہ کو اپنے ساتھ لے جاتے اور مناسب جماعتوں میں داخلہ دلواتے ؛ یہی وجہ تھی کہ ماہ رمضان شروع ہوتے ہی علاقے کے بہت سے سرپرست حضرات اپنے بچوں کے لیے شیخ سے رابطہ کرتے ۔ یہ یقیناً ان کا ایک بہت بڑا کارخیر اور کارنامہ ہے جو ہر عالم کے حصے میں نہیں آتا ہے ۔ شیخ طلبہ کو اپنی سخت نگرانی میں رکھتے اور اصول و قواعد کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی بھی کرتے ؛ طلبہ پر شیخ کی مضبوط اور رعب دار شخصیت کا اثر انہیں لایعنی کاموں میں مشغول ہونے سے باز رکھتا ۔ باوجود اس کے وہ تمام طلبہ کی نظر میں ایک محبوب اور معزز استاد تھے ۔ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے بسا اوقات امپائر کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے ۔ ذمہ داران اور مدرسین میں بھی شیخ قابلِ احترام گردانے جاتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جامعہ میں منعقد ہونے والی میٹنگوں میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی اور ان سے صلاح و مشورہ کے بعد ہی کوئی نیا قدم اٹھایا جاتا ۔ لیکن انہیں مشغولیات میں شیخ کا جسم کچھ حد تک کمزور ہو گیا تھا ، چیک اپ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کو شوگر کی بیماری لاحق ہو گئی ہے ؛ جس کی بنا پر ایک دو سال بعد ہی انھوں نے جامعہ چھوڑ دینے کی خواہش کا اظہار کیا اور ایک الوداعی مجلس کے انعقاد کے بعد شیخ کو باعزت رخصت کیا گیا ؛ اور انھوں نے اس باغ کو الوداع کہہ دیا جس کی مسلسل اٹھارہ سالوں تک آبیاری کی تھی ۔
١٩٩٨ء سے ٢٠١٥ء تک تقریبا اٹھارہ سالوں پر محیط اڈیشہ کا یہ سفر تدریسی و تربیتی اعتبار سے بہت کامیاب رہا لیکن اس کا ایک منفی پہلو بھی ظاہر ہوا کہ شیخ کا بالتدریج کتب بینی اور مطالعہ سے رشتہ دور ہوتا گیا اور مطالعہ کا محور چند کتابوں پر سمٹ گیا اور اس طرح سے علمی ترقی جمود کا شکار ہو گئی ۔ اڈیشہ سے گھر واپس آنے کے بعد محلہ کی وقتیہ مسجد میں امامت کی ذمہ داری قبول کی اور ایک سال تک اپنے گھر پر اور گاؤں کے ایک پرائیویٹ اسکول میں چھوٹے بچوں کو پڑھاتے رہے ۔

جب ٢٠١٦ء میں جامعہ سلفیہ بنارس سے میری فراغت ہوئی تو درس و تدریس کے لیے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں لگ گیا ؛ شیخ کو معلوم ہوا تو انھوں نے جناب محمد شعیب انصاری / رحمہ اللہ سے بات کرکے مجھے جامعہ مصباح العلوم جھوم پورہ ، اڈیشہ بھیج دیا ۔ یہاں سے میری نگاہ میں شیخ کا مقام و مرتبہ مزید بلند ہو گیا اور اب بہت حد تک شیخ کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گفتگو ہونے لگی ۔ ادھر شیخ بھی مدرسہ قمر الہدی رہس پور ، پاکوڑ میں بطور مدرس مقرر ہو گئے اور بیک وقت مدرسہ و مسجد کی ذمہ داری نبھانے لگے ۔ اسی سال ششماہی امتحان کی تعطیل میں جب گھر آیا تو شیخ سے ان کے مکان میں اپنی شادی کے تعلق سے مفصل گفتگو کی ، جس میں انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کچھ ہدایات فرمائے ۔ مئی ٢٠١٧ء میں میری شادی کے فوراً بعد شیخ کو ماہ رمضان میں سفر عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی اور گاؤں کے ایک معزز شخص جناب حاجی عبدالباری / حفظہ اللہ کے ہمراہ یہ سفر مکمل ہوا ؛ شیخ نے ہم احباب کو اپنے مکان میں بلا کر آب زمزم اور خرما سے ضیافت کی ۔ بارہا ایسا بھی ہوتا کہ جب کبھی دوست و احباب مل کر ہم لوگ کوئی پارٹی منعقد کرتے تو شیخ بھی اس میں بخوشی شرکت کرتے ۔ بسا اوقات شیخ کی مسجد میں نماز پڑھنے جاتا تو دیکھتا کہ شیخ کسی خاص نماز کے بعد درس کا اہتمام کرتے اور مصلیوں کو پند و نصائح سے نوازتے ؛ یقینا ہمارے علاقے کے لوگوں کے لیے یہ ایک نئی چیز تھی جس سے وہ پہلے نا آشنا تھے ۔ اس دوران شیخ وقتیہ مسجد کی بجائے گاؤں کی جامع مسجد میں امامت وخطابت کا فریضہ انجام دینے لگے ۔
٢٠١٩ء میں جب میں نے اڈیشہ چھوڑ کر کلیہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گمانی آنے کا ارادہ کیا تو اس بارے میں شیخ سے مشورہ طلب کیا ، شیخ نے اپنے عارضی شاگرد اور دائمی دوست فضیلتہ الشیخ عبد المعید المدنی / حفظہ اللہ کا ذکر کیا کہ وہ ہمیشہ ایسی صورتحال میں استخارہ کیا کرتے ہیں ، لہذا آپ بھی استخارہ کرلیں ۔ گویا کہ شیخ ہمارے لیے ایک استاد ، رہنما ، خیرخواہ اور مددگار کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ادھر شیخ کو لاحق شوگر کا مرض بڑھتا گیا ، طبیعت دن بدن بگڑتی گئی اور جسم کافی کمزور ہوتا گیا ۔ جس بنا پر شیخ امامت و خطابت کی ذمہ داری سے دست بردار ہوگئے ؛ اس دست برداری میں اپنے لوگوں کی کرم فرمائیاں بھی کم نہ تھیں ۔

شیخ کا علاج مالدہ میں چل رہا تھا ؛ رپورٹ کے بعد معالج نے بتایا تھا کہ شوگر کی وجہ سے کڈنی اور آنکھیں متاثر ہوئی ہیں ؛ لہذا ان کے علاج کے لیے دوسری جگہ جانے کی بات کہی ۔ آنکھوں کے علاج کے لیے نیپال جانے کی بات بھی طے پائی لیکن شیخ کی آرام طلب طبیعت اور کچھ مالی تنگی کی بنا پر علاج میں قدرے تاخیر ہوئی ۔ پھر دو مہینے بعد ہی ہندوستان میں کورونا وائرس کی شکل میں ایک عالمی وبا نے پیر پسرنا شروع کیا ، جس کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر کے طور پر حکومت ہند نے پورے ہندوستان میں تالا بندی کا حکم جاری کیا اور اچانک تیز رفتار انسانی زندگی بالکل رک سی گئی ۔ یہ شیخ کے لیے بہت ہی تکلیف دہ وقت تھا کیوں کہ ایک طرف مدرسہ مقفل ہونے کی وجہ سے تنخواہیں بند ہوگئیں تو دوسری طرف تالا بندی کی وجہ سے علاج و معالجہ کے لیے ڈاکٹروں کے پاس جانا مشکل ہوگیا ۔ ادھر شیخ نے بہت حد تک کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ؛ پھر جب حالات کچھ معمول پر آنے لگے تو انھیں مالدہ لے جایا گیا ، جہاں ڈاکٹر نے ڈائلیسس کرنے کا حکم دیا اور اس طرح ڈیڑھ مہینے تک علاج چلتا رہا ۔ شیخ پہلے ہی سے اپنے اہل وعیال کو صبر و تحمل اور توکل کی تلقین کرتے اور روزی روٹی کے لیے پریشان ہونے سے منع کرتے ۔ ان نازک حالات میں شیخ کے متعلقین، رشتہ دار، دوست و احباب اور شاگردوں نے ہر اعتبار سے تعاون کیا ۔ میں جب بھی شیخ کی بیمار پرسی کے لیے گیا تو کثیر تعداد میں عیادت کرنے والوں کو پایا ۔ اس گہما گہمی میں جن قریبی متعلقین نے شیخ کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کی دیکھ ریکھ کی ان میں شیخ کے سالے جناب انتخاب عالم سلفی کا نام قابلِ ذکر ہے ۔ طویل عرصے تک اڈیشہ میں پڑھانے کی وجہ سے اہلِ اڈیشہ میں بھی شیخ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، جس کا اندازہ مرض الموت کے وقت بھی ہوا کہ وہاں کے باشندوں نے نہ صرف مسلسل شیخ کی حالت دریافت کی بلکہ بقدر استطاعت مالی تعاون بھی کیا ۔
مالدہ کے بعد رانچی اور رامپور ہاٹ میں بھی کچھ دنوں تک علاج جاری رہا لیکن رامپور ہاٹ کی دوائی کھانے کے بعد سینے میں درد ہونے لگا ، پیٹ اپھر گیا اور سانس لینے میں تکلیف ہونے لگی ۔ پھر رامپور ہاٹ جاتے ہوئے راستے ہی میں ١٩ ستمبر ٢٠٢٠ء بروز سنیچر صبح ساڑھے سات بجے محض چوالیس سال کی عمر میں شیخ نے دنیاوی زندگی کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ بعد نمازِ ظہر نمازِ جنازہ پڑھی گئی جس میں اہلِ قریہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علما و طلبہ نے شرکت کی اور اس طرح رضائے الہی سے ایک ملنسار ، خوش مزاج اور بااخلاق نوجوان عالم دین کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔
شیخ کی پیدائش صوبہ جھارکھنڈ کے ضلع پاکوڑ میں واقع مشہور و معروف قریہ اعلامی میں ٥ مئی ١٩٧٦ء کو ہوئی ۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شیخ نے جامعہ سلفیہ جھیکر ہاٹی ( بیل ڈانگہ ) میں داخلہ لیا جہاں میرے والد محترم مولانا حمید الحق حقانی/حفظہ اللہ اور مولانا عبد الماجد ( پلاس بونا ) وغیرہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ پھر وہاں سے مدرسہ قمر الہدی بنیاگرام مرشد آباد چلے گئے اور دو سال تک تعلیم حاصل کی ، یہاں شیخ کے اساتذہ میں سے مولانا نور الاسلام ( صاحب نگر ) مولانا مزمل حسین ( سیتارام پور) اور مولانا اکبر علی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔ بعدہ اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر شیخ نے دہلی کا سفر کیا ، جہاں معہد التعلیم الاسلامی جوگابائی میں داخلہ لیا اور یہاں پر تین سال تک مولانا الیاس سلفی، مولانا امر اللہ سنابلی، مولانا عزیز مدنی، مولانا حسن ، مولانا مشتاق کریمی، مولانا شفیق، مولانا عبد المجید مدنی، مولانا الطاف الرحمن مدنی اور ماسٹر ثروت وغیرہ اساتذہ سے استفادہ کیا ۔ پھر وہیں جامعہ اسلامیہ سنابل میں بھی چھ سال تک خوشہ چینی کی اور ١٩٩٧ء کے ماہ دسمبر میں سند فضیلت حاصل کی ؛ یہاں شیخ کے مشہور اساتذہ دکتور مفضل بن مصلح الدین ، مولانا نور الحسن مدنی ، مولانا سعود، مولانا مطیع اللہ، مولانا فروخ، ڈاکٹر ابو المکارم ازہری، مولانا عبد المجید مدنی، مولانا عبد العزیز مدنی ، مولانا وسیم ریاضی اور ماسٹر ابو ذر وغیرہ ہیں ۔
شیخ اپنے چھ بھائی اور ایک بہن میں اپنے والد کی تیسری اولاد تھے ، والد کا انتقال جوانی میں ہو چکا تھا اس لیے بھائیوں میں سے صرف شیخ ہی نے تعلیم حاصل کی تھی ۔ فراغت کے چوتھے سال ٢٠٠١ء میں گاؤں کے ایک معزز گھرانے میں شادی ہوئی اور یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ نے شیخ کو چار بیٹے اور پانچ بیٹیوں سے نوازا ۔
اب شیخ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی طلبہ دوستی اور سادہ مزاجی کی حسین یادیں اب بھی تابندہ ہیں ۔ بس پروردگار سے دعا ہے کہ وہ شیخ کی بشری لغزشوں کو معاف فرمائے ، دینی خدمات کو قبول فرمائے ، فردوس بریں میں جگہ عطا فرمائے اور مسلم سماج کو شیخ کی اولاد کی کفالت کرنے کی توفیق دے ؛ آمین یا أرحم الراحمین !
 
Top