• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیعہ روافض کے بارے میں حکم شرعی ان کے کفر کا بیان

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
157
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
شیعہ روافض کے بارے میں حکم شرعی ان کے کفر کا بیان

بسم الله الرحمٰن الرحیم

779 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْمَرُّوذِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مَنْ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَائِشَةَ؟ قَالَ: مَا أُرَآهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَالَ مَالِكٌ: " الَّذِي يَشْتِمُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَهُ سَهْمٌ، أَوْ قَالَ: نَصِيبٌ فِي الْإِسْلَامِ "

’’ہم کو خبر دی حضرت ابو بکر المروزی رحمہ اللہ نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا حضرت عبد اللہ سے اس شخص کے متعلق جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بُرا کہے تو آپ نے فرمایا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ حضرت ابو بکر المروزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت عبد اللہ سے کہ وہ فرماتے ہیں کہ فرمایا حضرت مالک رحمہ اللہ نے کہ جو شخص بُرا کہے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تو ان کا کوئی حصہ نہیں یا فرمایا ان کا کوئی حصہ نہیں اسلام میں ‘‘۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج:۳، ص:٤٩٣ واسنادہ صحیح۔]

780 - وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: …… مَنْ شَتَمَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ…………قَدْ مَرَقَ عَنِ الدِّينِ

’’عبد الملک بن عبد الحمید فرماتے ہیں میں نے سنا ابو عبد اللہ سے وہ فرما رہے تھے کہ…………جس نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دی …………تحقیق وہ دین سے نکل گیا ‘‘۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج:۳، ص:٤٩٣ واسنادہ صحیح۔]

781 - أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثنا أَبُو طَالِبٍ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: الرَّجُلُ يَشْتِمُ عُثْمَانَ؟ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ رَجُلًا تَكَلَّمَ فِيهِ، فَقَالَ: هَذِهِ زَنْدَقَةٌ "

’’ابو طالب نے ابو عبد اللہ سے پوچھا کہ ایک آدمی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتا ہے پھر مجھے بتایا ایک آدمی کے بارے میں، جو ان کے بارے میں نازیبا کلمات بولتا ہے تو فرمایا یہی زندیقیت ہے‘‘۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج:۳، ص:٤٩٣ واسنادہ صحیح۔]

783 - أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ سُئِلَ، وَأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ عَنْ جَارٍ لَنَا رَافِضِيٍّ يُسَلِّمُ عَلَيَّ، أَرُدُّ عَلَيْهِ؟ قَالَ: لَا "

’’علی بن عبد الصمد فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ہمارے پڑوس میں رافضی ہے جو مجھ کو سلام کرتا ہے تو کیا میں اس کو جواب دو؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : نہیں!‘‘

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج:۳، ص:٤٩٣ واسنادہ صحیح۔]

784 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ لَهُ جَارٌ رَافِضِيُّ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «لَا، وَإِذَا سَلَّمَ عَلَيْهِ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ»

’’ابو عبد اللہ سے پوچھا گیا کہ اس کے پڑوس میں رافضی ہے جو اس کو سلام کرتا ہے (تو کیا اس کو میں جواب دوں) فرمایا: نہیں! جب وہ سلام کرے تم اس کو جواب نہ دو‘‘۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج:۳، ص:٤٩٤ واسنادہ صحیح۔]

785 - كَتَبَ إِلَيَّ يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَاحِبِ بِدْعَةٍ، يُسَلِّمُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: «إِذَا كَانَ جَهْمِيًّا، أَوْ قَدَرِيًّا، أَوْ رَافِضِيًّا دَاعِيَةً، فَلَا يُصَلِّي عَلَيْهِ، وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ»

’’حسن بن علی الحسن نے سوال کیا ابو عبد اللہ سے صاحب بدعت کے بارے میں کہ وہ ان کو سلام کرتا ہے تو انہوں نے فرمایا: جب جھمی یا قدریہ یا رافضی بلائے تو اس پر نہ نماز جنازہ پڑھو اور نہ اس پر سلام کرو‘‘۔

[السنة لأبي بكر بن الخلال، ج:۳، ص:۴۹۴ واسنادہ صحیح۔]

’’قال البخاری : وَقَالَ وَكِيعٌ: الرَّافِضَةُ شَرٌّ مِنِ الْقَدَرِيَّةِ"

’’امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں (ان کے استاد) امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا کہ روافض قدریہ سے بدتر ہیں ‘‘۔

[خلق أفعال العباد للبخاري، ص: ٣٩]

’’وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ: لَا أُصَلِّي عَلَى رَافِضِيٌّ‘‘

’’امام ابو بکر بن عیاش رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں رافضی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتا ‘‘۔

[المغني لابن قدامة، ج :٢، ص : ٤١٦]

’’وَقَالَ الْفِرْيَابِيُّ: مَنْ شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ فَهُوَ كَافِرٌ، لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ‘‘
’’امام فریابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو گالی دی تو وہ کافر ہے اس پر نماز جنازہ نہ پڑھو‘‘۔

[المغني لابن قدامة، ج:٨، ص: ٥٣٥]

شیخ حافظ عبد الجبار شاکر فک اللہ اسرہ فرماتے ہیں:

"جو شخص صحابہ کو گالیاں دیتا ہے، جو شخص صحابہ کو فیل (Fail) کہتا ہے، جو شخص صحابہ کو ناکام کہتا ہے، نیجی محفل ہو یا اعلانیہ مجلس ہو صحابہ کرام کے بارے میں بغض رکھتا ہے، دل کے اندر نفاق رکھتا ہے ایسے شخص سے یاری لگانے والا، ایسے شخص سے دوستی لگانے والا، ایسے شخص سے کاروبار جوڑنے والا اس شخص کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

[فضیلتہ الشیخ حافظ عبد الجبار شاکر حفظہ اللہ کا بیان بعنوان: "احساس کی شمع"]

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس موضوع پر بہت سیر حاصل گفتگو کی ہے جس کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے :

وَسُئِلَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ تَقِيُّ الدِّينِ: عَمَّنْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ يُؤْمِنُونَ بِاَللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَعْتَقِدُونَ أَنَّ الْإِمَامَ الْحَقَّ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصَّ عَلَى إمَامَتِهِ وَأَنَّ الصَّحَابَةَ ظَلَمُوهُ وَمَنَعُوهُ حَقَّهُ وَأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِذَلِكَ. فَهَلْ يَجِبُ قِتَالُهُمْ؟ وَيَكْفُرُونَ بِهَذَا الِاعْتِقَادِ أَمْ لَا؟

’’شیخ الاسلام تقی الدین سے سوال کیا گیا ان لوگوں سے متعلق جو یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ اللہ عزوجل، فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والوں میں سے ہیں۔ اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ امامِ حق رسول اللہ ﷺ کے بعد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی امامت پر نص بیان فرمائی تھی اور یہ کہ صحابہ نے ان پر ظلم کیا اور ان کا حق ان سے چھینا اور وہ اس کے سبب کافر ہوگئے۔ تو کیا ایسے لوگوں کے خلاف قتال واجب ہے اور کیا وہ اس اعتقاد کے سبب کافر ہیں یا نہیں؟‘‘

[مجموع الفتاوى، ج:٢٨، ص : ٤٦٨]

جواب میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ایک طویل فتویٰ دیا جس کے چند اقتباسات درجِ ذیل ہیں:

وَمَذْهَبُ الرَّافِضَةِ شَرٌّ مِنْ مَذْهَبِ الْخَوَارِجِ الْمَارِقِينَ؛ فَإِنَّ الْخَوَارِجَ غَايَتُهُمْ تَكْفِيرُ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَشِيعَتِهِمَا. وَالرَّافِضَةُ تَكْفِيرُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَجُمْهُورِ السَّابِقِينَ الْأَوَّلِينَ وَتَجْحَدُ مِنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمَ مِمَّا جَحَدَ بِهِ الْخَوَارِجُ وَفِيهِمْ مِنْ الْكَذِبِ وَالِافْتِرَاءِ وَالْغُلُوِّ وَالْإِلْحَادِ مَا لَيْسَ فِي الْخَوَارِجِ

’’اور رافضہ کا مذہب دین سے نکل جانے والے خارجیوں سے بد تر ہے۔ کیونکہ خوارج کی انتہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کی تکفیر تھی اور روافض نے حضرت ابو بکر و عمر وعثمان رضی اللہ عنہم اور تمام سابقین اولین کی تکفیر کی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے حوالے سے سے خوارج سے بڑھ کر جدال کیا، ان روافض میں جھوٹ، افتراء، غلو اور الحاد ہے جو کہ خوارج میں نہیں تھا‘‘۔

[مجموع الفتاوى، ج : ٢٨، ص : ٥٢٧]

فَهَذِهِ سُنَّةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ وَغَيْرُهُ قَدْ أَمَرَ بِعُقُوبَةِ الشِّيعَةِ: الْأَصْنَافُ الثَّلَاثَةُ وَأَخَفُّهُمْ الْمُفَضِّلَةُ. فَأَمَرَ هُوَ وَعُمَرُ بِجِلْدِهِمْ

’’پس یہ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کی سنت ہے کہ آپ نے شیعہ کو سزا دینے کا حکم دیا ان کی تین قسموں پر اور ان میں سے کم تر تھی، فضیلت دینے پر پس انہوں(حضرت علی) نے اور عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارنے کا حکم دیا‘‘۔

[مجموع الفتاوى، ج : ٢٨، ص : ٤٧٤]

وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ عَلِيٍّ فِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ نَحْوِ ثَمَانِينَ وَجْهًا أَنَّهُ قَالَ: خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا: أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ. وَثَبَتَ عَنْهُ أَنَّهُ حَرَّقَ غَالِيَةَ الرَّافِضَةِ الَّذِينَ اعْتَقَدُوا فِيهِ الْإِلَهِيَّةَ. وَرُوِيَ عَنْهُ بِأَسَانِيدَ جَيِّدَةٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا أَوُتَى بِأَحَدِ يَفْضُلُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إلَّا جَلَدْته حَدَّ الْمُفْتَرِي. وَعَنْهُ أَنَّهُ طَلَبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَبَأٍ لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّهُ سَبَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لِيَقْتُلَهُ فَهَرَبَ مِنْهُ

’’صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات کئی وجوہ سے تقریباً اسی طرق پر ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اس امت کے نبی ﷺ کے بعد سب سے افضل ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں‘‘۔ یہ بھی ثابت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے غالی رافضیوں کو آگ میں جلوا دیا جب انہوں نے آپ کے بارے میں الوہیت کا اعتقاد رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے ہی جید اسناد کے ساتھ مروی ہے آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جو مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے تو میں اسے بہتان کی حد لگاؤں گا (یعنی اسِّی درے)۔ آپ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ابن سباء کو طلب کیا جب آپ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ اس نے ابو بکر و عمر کو گالی دی ہے تو آپ نے اسے بلا بھیجا تاکہ اسے قتل کریں تو وہ بھاگ گیا‘‘۔

[مجموع الفتاوى، ج : ٢٨، ص : ٤٧٣، ٤٦٤]

وَأَمَّا تَكْفِيرُهُمْ وَتَخْلِيدُهُمْ: فَفِيهِ أَيْضًا لِلْعُلَمَاءِ قَوْلَانِ مَشْهُورَانِ: وَهُمَا رِوَايَتَانِ عَنْ أَحْمَد. وَالْقَوْلَانِ فِي الْخَوَارِجِ وَالْمَارِقِينَ مِنْ الحرورية وَالرَّافِضَةِ وَنَحْوِهِمْ. وَالصَّحِيحُ أَنَّ هَذِهِ الْأَقْوَالَ الَّتِي يَقُولُونَهَا الَّتِي يُعْلَمُ أَنَّهَا مُخَالِفَةٌ لَمَّا جَاءَ بِهِ الرَّسُولُ كُفْرٌ وَكَذَلِكَ أَفْعَالُهُمْ الَّتِي هِيَ مِنْ جِنْسِ أَفْعَالِ الْكُفَّارِ بِالْمُسْلِمِينَ هِيَ كُفْرٌ أَيْضًا. وَقَدْ ذَكَرْت دَلَائِلَ ذَلِكَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ

’’جہاں تک ان کے کفر اور ان کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا مسئلہ ہے! تو اس میں بھی علماء کے دو مشہور اقوال ہیں اور وہ احمد بن حنبل سے دو روایتیں ہیں اور وہ دونوں اقوال خارجیوں، اسلام سے خارج حروریۃ اور رافضہ وغیرہ کے متعلق ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ باتیں جو ان (رافضی) لوگوں کی زبانوں سے سرزد ہوتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے ساتھ کفر ہے۔ اسی طرح ان کے افعال جو مسلمانوں کے ساتھ جنسِ افعالِ کفار میں سے ہیں وہ بھی کفر ہیں، اور ہم نے اس کے دلائل بارہا مرتبہ ذکر کیے ہیں۔"

[مجموع الفتاوى، ج : ٢٨، ص : ٥٠٠]
 
Top