• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحابہ کرام اور تعظیمِ رسول

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
303
ری ایکشن اسکور
82
پوائنٹ
53
صحابہ کرام اور تعظیمِ رسول

جب ہم کہتے ہیں میں نوکر صحابہ دا تو اس کا مطلب ہوتا ہے صحابہ کرام رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نوکر ہیں اور میں رسول پاک کے نوکروں کا نوکر ہوں، اب شیعہ رافضی چونکہ نہ خود رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم و توقیر کرتے ہیں اور نہ ہی رسول پاک کی تعظیم و توقیر کرنے والو کی تعظیم کرتے ہیں۔

یہ رافضی عجیب ہی نسل ہے ماننے پر آئیں تو صدیوں سے غائب کو مان لیں اور نہ ماننے میں آئیں تو نبی پاک کے قدموں میں بیٹھنے والو کے منکر ہو جاتے ہیں۔ صحابہ کرام رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کیسی تعظیم و توقیر کرتے تھے یہ آپ کو دکھا رہا ہوں۔

یہ شیعہ کے معتبر عالم ملا باقر مجلسی مرتد کی کتاب بحار الأنوار کا سکین ہے :

FB_IMG_1667839152818.jpg


ملا باقر مجلسی نے قاضی کے حوالے سے اسامہ بن شریک کے واسطے سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا :
"میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے صحابہ آپ کے ارد گرد ایسے جمع تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہوں"
یعنی ادب و تعظیم رسول کے باعث رسول پاک کے سامنے صحابہ کرام بنا حرکت کیے بیٹھے ہوتے تھے

آگے ملا باقر مجلسی لکھتا ہے
"عروہ بن مسعود کو جب قریش کے لوگو نے حدیبیہ کے سال محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بھیجا تو انہوں نے صحابہ کرام کو محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ جب رسول پاک وضو کرتے تھے تو آپ کے وضو کے پانی پر وہ لپکتے اور ٹوٹ پڑتے تھے، اور آپ کے لعاب دہن کو اپنے ہاتھوں کے زریعہ لیتے اور اپنے چہرے اور جسم پر اس کو ملتے، رسول پاک کا کوئی ایک بال بھی زمین پر نہیں گرنے پاتا تھا اس کو گرنے سے پہلے ہی صحابہ کرام(ہوا میں ہی) پکڑ لیتے تھے،
اور جب رسول پاک ان کو کوئی حکم دیتے تو اس کی تعمیل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور جب رسول پاک گفتگو فرماتے تو ان پر خاموشی چھا جاتی، اور رسول پاک کی تعظیم کی وجہ سے آپ سے آنکھیں ملا کر بات نہیں کرتے تھے،
جب عروہ بن مسعود قریش کے پاس واپس آئے تو ان سے کہا :
اے قریش کے لوگو! میں کسری کے دربار میں گیا ہوں، قیصر کے دربار میں بھی گیا ہوں اور نجاشی کے دربار میں بھی گیا ہوں،
خدا کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کو اس کے اصحاب کے درمیان اس طرح نہیں دیکھا ہے جس طرح محمد کو اس کے صحابہ کے درمیان دیکھا ہے "

آگے ملا باقر مجلسی لکھتا ہے
" حضرت انس سے روایت ہے کہ میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس حال میں دیکھا جب کہ حلاق آپ کے بال کاٹ رہا تھا، تمام صحابہ کرام رسول پاک کے چاروں طرف تھے،
آپ کا ہر بال کسی شخص کے ہاتھ پر ہی گرتا تھا"
رسول پاک کے بال مبارک سے یاد آیا، کہتے ہیں سیدنا معاویہ کے پاس بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بال مبارک تھے جو انہوں نے اپنی قبر میں رکھنے کی وصیت کی تھی،

آگے ملا باقر مجلسی لکھتا ہے
" حضرت مغیرہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے
صحابہ کرام رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دروازہ ناخنوں کے زریعہ کھٹکھٹاتے تھے"
یہ ادب کی انتہاء ہے

آگے ملا باقر مجلسی لکھتا ہے
"حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں
.میں رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کسی چیز کے بارے دریافت کرنا چاہتا تھا تو آپ کے رعب کی وجہ سے کئی سال تک اس کو ٹالتا رہتا تھا
پھر فرماتے ہیں
نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا احترام اور آپ کی تعظیم و توقیر ویسے ہی ضروری ہے جیسے کہ آپ کی حیات میں ضروری تھی
آپ کا ذکر آنے کے وقت آپ کی احادیث اور سنن کے تذکرہ کے وقت، آپ کی سیرت سنتے وقت، اور آپ کی آل و خاندان کے ساتھ معاملہ کرنے کے وقت، اسی طرح آپ کے اہل بیت اور آپ کے صحابہ کی تعظیم بھی ضروری ہے "

یہ ہیں وہ ہستیاں جن کا رافضی شیعہ منکر اور گستاخ ہے یہ رسول پاک کی تعظیم و توقیر ان کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد بھی کرنے والے ہیں ،جبکہ کالا چور شیعہ کہتا ہے وفات رسول کے بعد بدل گئے تھے، یہ نبی پاک کی آل و خاندان نبی پاک کے اہل بیت اور نبی پاک کے صحابہ کی تعظیم و توقیر کرنے والے ہیں، یہ سارا کچھ کسی اہل سنت کے عالم نے نہیں لکھا بلکہ ایک شیعہ رافضی عالم ہے، یہ تمام روایات اہل سنت کی کتب میں بھی موجود ہیں لیکن ہم شیعہ کتب سے ان پر حجت قائم کرتے ہیں۔
 
Top