• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحابہ کرام کی غلطی بیان کرنا سلف کا منہج نہیں

شمولیت
مارچ 11، 2016
پیغامات
87
ری ایکشن اسکور
17
پوائنٹ
58
ایک سوال کافی اہم ۔۔۔

اگر صحابہ کی غلطی بیان کرنا غلط ہے تو محدیثین نے کیوں انکی کے خلاف روایت بیان کی؟؟؟

اس طرح کے سوال علی مرزا کے مقلد کرتے اس کا جواب چاہیے
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
مشاجرات صحابہ
تحریر :شیخ
غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ
مشاجرات صحابہ، یعنی صحابہ کرام کے باہمی اختلافات، زبانی چپکلشوں، جھگڑوں اور لڑائیوں کے بارے میں موجودہ دور کے اصلی اہل سنت (اہل حدیث ) کا وہی موقف ہے، جو خیرالقرون اور بعد کے اہل سنت کا تھا۔ سلف صالحین کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ تھا کہ مشاجراتِ صحابہ میں زبان بند رکھی جائے اور سب کے حق میں دُعائے مغفرت کی جائے، جیسا کہ :
◈ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ (1115-1206ھ) فرماتے ہیں :
وأجمع أهل السنة على السكوت عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم، ولا يقال فيهم إلا الحسنٰي، فمن تكلم فى معاوية أو غيره من الصحابة، فقد خرج عن الإجماع
’’ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ان کے بارے میں صرف اچھی بات کہی جائے گی۔ لہٰذا جس شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کے بارے میں زبان کھولی، وہ اجماعِ اہل سنت کا مخالف ہے۔“ [مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم، ص : 317، طبعة وزارة الشئون الإسلامية، السعودية ]

◈ اس سے پہلے شیخ الاسلام، تقی الدین، ابوالعباس، احمد بن عبدالحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرما گئے ہیں :
كان من مذاهب أهل السنة الإمساك عما شجر بين الصحابة، فإنه قد ثبتت فضائلهم، ووجبت موالاتهم ومحبتهم، وما وقع منه ما يكون لهم فيه عذر يخفٰي على الإنسان، ومنه ما تاب صاحبه منه، ومنه ما يكون مغفورا، فالخوض فيما شجر يوقع فى نفوس كثير من الناس بغضا وذما، ويكون هو فى ذٰلك مخطئا، بل عاصيا، فيضر نفسه، ومن خاض معه فى ذٰلك، كما جرٰي لأكثر من تكلم فى ذٰلك، فإنهم تكلموا بكلام لا يحبه الله ولا رسوله، إما من ذم من لا يستحق الذم، وإما من مدح أمور لا تستحق المدح، ولهٰذا كان الإمساك طريقة أفاضل السلف
’’ اہل سنت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ صحابہ کرام میں جو بھی اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں اپنی زبان بند کی جائے، کیونکہ (قرآن و سنت میں ) صحابہ کرام کے فضائل ثابت ہیں اور ان سے محبت ومودّت فرض ہے۔ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں سے بعض ایسے تھے کہ ان میں صحابہ کرام کا کوئی ایسا عذر تھا، جو عام انسان کو معلوم نہیں ہو سکا، بعض ایسے تھے جن سے انہوں نے توبہ کر لی تھی اور بعض ایسے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی معافی دے دی۔ مشاجرات صحابہ میں غور کرنے سے اکثر لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں بغض و عداوت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے وہ خطاکار، بلکہ گنہگار ہو جاتے ہیں۔ یوں وہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس بارے میں اپنی زبان کھولی ہے، اکثر کا یہی حال ہوا ہے۔ انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں تھیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کی مذمت کی، جو مذمت کے مستحق نہیں تھے یا ایسے امور کی تعریف کی، جو قابل تعریف نہ تھے۔ اسی لیے مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنا ہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔“ [منهاج السنة النبوية فى نقض كلام الشيعة القدرية : 448/1، 449، طبعة جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية ]
↰ یہ تھا مشاجرات صحابہ میں اہل سنت، یعنی اہل حدیث کا عقیدہ۔ اس عقیدے کے برعکس بعض لوگ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں اور ان کی بنا پر بعض صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرام پر تنقیداور ان کی تنقیص بدعت و ضلالت ہے۔ اس بارے میں :
◈ سنی امام، علامہ، ابوالمظفر، منصور بن محمد، سمعانی رحمہ اللہ (426- 489ھ ) فرماتے ہیں :
التعرض إلٰي جانب الصحابة علامة علٰي خذلان فاعله، بل هو بدعة وضلالة
’’ صحابہ پر طعن کرنا کسی کے رسوا ہونے کی علامت ہے، بلکہ یہ بدعت اور گمراہی ہے۔“ [فتح الباري لابن حجر : 365/4]
↰ مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں زبان بند رکھنے کا عقیدہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے دلائل شرعیہ سے ثابت ہے۔ آئیے اس بارے میں دلائل ملاحظہ فرمائیں :
قرآنِ کریم اور مشاجرات صحابہ
اس بات میں کسی سنی مسلمان کو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ صحابہ کرام کے آپس کے اختلاف اجتہادی تھے، کسی بدنیتی پر مبنی ہرگز نہیں تھے۔ اجتہاد میں اگر کوئی انسان غلطی بھی کر لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اجر عنایت ہوتا ہے۔ جبکہ قرآنِ کریم کے مطابق صحابہ کرام سے جو غیر اجتہادی غلطیاں ہوئیں، ان کو بھی معاف فرما دیا گیا ہے۔ غزوۂ احد میں جن صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، ان کے بارے میں :
✿ فرمانِ الٰہی ہے :
وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ [3-آل عمران:155]
’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔“
✿ نیز صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا :
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ [3-آل عمران:152]
’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔“
↰ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی غیر اجتہادی غلطیاں اور ان کے صریح گناہ بھی معاف فرما دئیے ہیں۔ لہٰذا مشاجراتِ صحابہ جو یقیناً ایک فریق کی اجتہادی غلطی پر مبنی تھے، وہ قرآن کی رُو سے بالاولیٰ معاف ہو گئے ہیں۔ اب ان اختلافات کو بنیاد بنا کر کسی بھی صحابی کے بارے میں زبان کھولنا اپنی عاقبت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

کسی عام مسلمان سے کوئی کبیرہ گناہ ہو جائے اور وہ اس سے توبہ کر لے، تو اس کا ذکر کر کے اس کی تنقیص کرنا یا اس کو بنیاد بنا کر دل میں اس کے لیے تنگی رکھنا بھی گناہ ہے تو وہ اجتہادی غلطی جس پر اللہ تعالیٰ نے ایک اجر عطا فرمایا ہوا ہو، اس کی بنا پر کسی صحابی رسول کے خلاف زبان کھولنا کتنی بڑی بدبختی ہو گی !
حدیث رسول اور مشاجرات صحابہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تسبوا أصحابي، لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيده، لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا، ما أدرك مد أحدهم، ولا نصيفه
’’ میرے صحابہ کی تنقیص نہ کرو، میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو کسی صحابی کے ایک مد (تقریباً دو سے اڑھائی پاؤ) یا اس کے نصف کے برابر نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم : 2540]

◈ عظیم تابعی و جلیل القدر محدث، امام حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إن عائذ بن عمرو، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، دخل علٰي عبيد الله بن زياد، فقال : أى بني، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ’إن شر الرعائ الحطمة‘، فإياك أن تكون منهم، فقال له : اجلس، فإنما أنت من نخالة أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فقال : وهل كانت لهم نخالة؟ إنما كانت النخالة بعدهم، وفي غيرهم
’’ صحابی رسول سیدنا عائذ بن عمرو، عبیداللہ بن زیاد کے پاس آئے اور فرمانے لگے : بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدترین حکمران وہ ہوتے ہیں، جو اپنی رعایا پر ظلم کرتے ہیں۔ لہٰذا (میری نصیحت ہے کہ ) تیرا شمار ایسے لوگوں میں نہ ہو۔ عبیداللہ بن زیاد کہنے لگا : بیٹھ جا، تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا گھٹیا درجے کا صحابی ہے۔ سیدنا عائذ فرمانے لگے : کیا صحابہ کرام میں سے بھی کوئی گھٹیا تھا ؟ گھٹیا لوگ تو وہ ہیں جو صحابی نہ بن سکے اور وہ جو صحابہ کرام کے بعد میں آئے۔“ [صحيح مسلم : 1830]
↰ ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ ارفع و اعلیٰ درجات پر فائز ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ بعض صحابہ کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود تمام صحابہ کرام قابل عزت و احترام ہیں اور بعد میں آنے والا کوئی شخص نیکی و تقویٰ اور علم کا بڑے سے بڑا کارنامہ سرانجام دے کر بھی کسی صحابی کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لہٰذا کسی بعد والے کو یہ حق نہیں کہ وہ صحابہ کرام کی بشری لغزشوں، جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہے، یا ان کی اجتہادی غلطیوں، جن پر اللہ تعالیٰ نے بھی مؤاخذہ نہیں فرمایا، کو بنیاد بنا کر ان کے بارے میں بدظنی کا شکار ہو یا زبان درازی کرے۔

اجماعِ امت اور مشاجرات ِ صحابہ
ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمها اللہ کی زبانی یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ ان صاحبان کا یہ دعویٰ بے دلیل نہیں، واقعی سلف صالحین کا عقیدہ یہی تھا کہ مشاجرات صحابہ میں خاموشی اختیار کی جائے اور اس بارے میں زبان کھولنا گمراہی ہے، جیسا کہ :
◈ امام ابوزرعہ، عبداللہ بن عبدالکریم، رازی (200- 264ھ) اور امام ابوحاتم، محمد بن ادریس، رازی (195- 277ھ) رحمها اللہ اہل سنت کا اجماعی عقیدہ بیان فرماتے ہیں :
أدركنا العلمائ فى جميع الـأمصار حجازا، وعراقا، ومصرا، وشاما، ويمنا، فكان من مذهبهم … والترحم علٰي جميع أصحاب محمد، صلى الله عليه وسلم، والكف عما شجر بينهم
’’ ہم نے حجاز و عراق، مصر و شام اور یمن تمام علاقوں کے علمائے کرام کو دیکھا ہے، ان سب کا مذہب یہ تھاکہ۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کے لیے رحمت کی دعا کرنا اور ان کے درمیان ہونے والے اختلافات سے اپنی زبان بند رکھنی چاہیے۔“ [كتاب أصل السنة واعتقاد الدين لابن أبي حاتم]

◈ عباسی خلیفہ القائم بامراللہ، ابوجعفر، ابن القادر، ہاشمی (391 -467ھ ) نے تقریباً 430 ہجری میں ’’ الاعتقاد القادری“ کے نام سے مسلمانوں کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ شائع کیا، جسے اس دور کے تمام اہل علم کی تائید حاصل تھی اور اس کا مخالف باتفاقِ اہل علم فاسق و فاجر قرار پایا، اس میں یہ عقیدہ بھی درج ہے :
ولا يقول فى معاوية إلا خيرا، ولا يدخل فى شيئ شجر بينهم، ويترحم علٰي جماعتهم
’’ مسلمان سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں صرف اچھی بات ہی کرتا ہے، وہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات میں دخل نہیں دیتا، بلکہ تمام صحابہ کرام کے لیے رحمت کی دُعا کرتا ہے۔“ [ الاعتقاد القادري، مندرج فى المنتظم لابن الجوزي : 281/15، وسنده صحيح ]

◈ ثقہ و صدوق تبع تابعی، امام عوام بن حوشب رحمہ اللہ (م : 148ھ) فرماتے ہیں :
اذكروا محاسن أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، تأتلف عليه قلوبكم، ولا تذكروا غيره، فتحرشوا الناس عليهم
’’ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے محاسن ہی بیان کیا کرو۔ اس سے تمہارے مابین اتحاد پیدا ہو گا۔ صحابہ کرام کے بارے میں بدگمانی والی باتیں نہ کرو۔ اس سے تم لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانے کا سبب بنو گے۔“ [الشريعة للآجري : 1981، السنة لأبي بكر الخلال : 828، 829، وسنده حسن]

◈ کٹر سنی، عظیم تبع تابعی، امام شہاب بن خراش رحمہ اللہ( المتوفٰي بعد : 174ھ) فرماتے ہیں :
أدركت من أدركت من صدر هٰذه الـأمة، وهم يقولون : اذكروا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما تأتلف عليه القلوب، ولا تذكروا الذى شجر بينهم، فتحرشوا الناس عليهم
’’ میں نے اس امت کے اسلاف کو یہی کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا صرف ایسا تذکرہ کیا کرو، جس سے ان کے بارے میں محبت پیدا ہو۔ ان کے اختلافات کا تذکرہ نہ کرو کہ اس سے تم لوگوں کو ان سے متنفر کرنے کا سبب بنو گے۔“ [الكامل فى ضعفاء الرجال لابن عدي : 53/5، تاريخ دمشق لابن عساكر : 215/23، ميزان الاعتدال للذهبي : 282/2، وسنده صحيح]

◈ امام ابوالحسن، اشعری رحمہ اللہ (260- 324ھ) فرماتے ہیں :
ونتولٰي سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونكف عما شجر بينهم
’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے مابین ہونے والے اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔“ [الإبانة عن أصول الديانة، ص : 29]

◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (673 -748ھ )فرماتے ہیں :
فسبيلنا الكف والاستغفار للصحابة، ولا نحب ما شجر بينهم، ونعوذ بالله منه
’’ ہمارا منہج یہ ہے کہ صحابہ کرام کے (اختلافات کے ) بارے میں زبان بند رکھی جائے اور ان کے لیے مغفرت کی دُعا کی جائے۔ ان کے مابین جو بھی اختلافات ہوئے، ہم ان کا تذکرہ پسند نہیں کرتے، بلکہ ایسے طرز عمل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔“ [سير أعلام النبلاء : 39/3]

◈ مزید فرماتے ہیں :
وكان الناس فى الصدر الـأول بعد وقعة صفين علٰي أقسام ؛ أهل سنة، وهم أولوا العلم، وهم محبون للصحابة، كافون عن الخوض فيما شجر بينهم، كسعد، وابن عمر، ومحمد بن سلمة، وأمم، ثم شيعة، يتوالون، وينالون ممن حاربوا عليا، ويقولون : إنهم مسلمون، بغاة، ظلمة، ثم نواصب، وهم الذين حاربوا عليا يوم صفين، ويقرون بإسلام علٰي سابقيه، ويقولون : خذل الخليفة عثمان، فما علمت فى ذٰلك الزمان شيعيا كفر معاوية وحزبه، ولا ناصبيا كفر عليا وحزبه، بل دخلوا فى سب وبغض، ثم صار اليوم شيعة زماننا يكفرون الصحابة، ويبرؤون منهم جهلا وعدوانا، ويتعدون إلى الصديق، قاتلهم الله، وأما نواصب وقتنا فقليل، وما علمت فيهم من يكفر عليا ولا صحابيا
’’ واقعہ صفیں کے بعد صدر اوّل کے لوگ تین اقسام میں بٹ گئے تھے ؛ ایک اہل سنت جو تمام صحابہ کرام سے محبت رکھتے تھے اور ان کے باہمی اختلافات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہتے تھے، جیسا کہ سیدنا سعد، سیدنا ابن عمر، محمد بن سلمہ اور دیگر بہت سے لوگ۔ دوسرے شیعہ جو اہل بیت سے محبت کا دم بھرتے تھے اور جن لوگوں کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی ہوئی، ان کی گستاخی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ باغی اور ظالم مسلمان ہیں۔ تیسرے ناصبی لوگ جو صفیں والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑے تھے اور سیدنا ابوبکر و عمر کو مسلمان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا۔ میرے علم میں اُس دور کا کوئی شیعہ ایسا نہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو کافر قرار دیتا ہو، نہ اس دور کا کوئی ناصبی ایسا تھا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہو، بلکہ وہ صرف مخالفین پر سب و شتم کرتے تھے اور دل میں ان کے لیے بغض رکھتے تھے۔ پھر یہ دور آیا کہ ہمارے زمانے کے شیعہ اپنی جہالت اور ہٹ دھرمی کی بنا پر صحابہ کرام کو کافر کہتے ہوئے ان سے براءت کا اعلان کرنے لگے۔ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ظلم و زیادتی پر مبنی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تباہ و برباد کرے۔ رہے ناصبی تو وہ ہمارے دور میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ان میں سے کوئی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کو کافر قرار نہیں دیتا۔“ [سير أعلام النبلاء : 374/5]

◈ نیز لکھتے ہیں :
بل سبيلنا أن نستغفر لكل ونحبهم، ونكف عما شجر بينهم
’’ ہمارا منہج یہ ہے کہ ہم تمام صحابہ کرام کے لیے مغفرت کی دُعا کرتے ہیں، سب سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان سے زبان بند رکھتے ہیں۔“ [سير أعلام النبلاء : 370/7]

◈ امام محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ ( م : 360ھ) فرماتے ہیں :
ينبغي لمن تدبر ما رسمناه من فضائل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفضائل أهل بيته رضي الله عنهم أجمعين أن يحبهم، ويترحم عليهم، ويستغفر لهم، ويتوسل إلى الله الكريم بهم، ويشكر الله العظيم إذ وفقه لهٰذا، ولا يذكر ما شجر بينهم، ولا ينقر عنه، ولا يبحث، فإن عارضنا جاهل مفتون قد خطئ به عن طريق الرشاد، فقال : لم قاتل فلان لفلان، ولم قتل فلان لفلان وفلان؟ قيل له : ما بنا وبك إلٰي ذكر هٰذا حاجة تنفعنا، ولا اضطررنا إلٰي علمها، فإن قال : ولم ؟ قيل له : لأنها فتن شاهدها الصحابة رضي الله عنهم، فكانوا فيها علٰي حسب ما أراهم العلم بها، وكانوا أعلم بتأويلها من غيرهم، وكانوا أهدٰي سبيلا ممن جائ بعدهم، لأنهم أهل الجنة، عليهم نزل القرآن، وشاهدوا الرسول صلى الله عليه وسلم، وجاهدوا معه، وشهد لهم الله عز وجل بالرضوان والمغفرة والـأجر العظيم، وشهد لهم الرسول صلى الله عليه وسلم أنهم خير قرن، فكانوا بالله عز وجل أعرف، وبرسوله صلى الله عليه وسلم وبالقرآن وبالسنة، ومنهم يؤخذ العلم، وفي قولهم نعيش، وبأحكامهم نحكم، وبأدبهم نتأدب، ولهم نتبع، وبهٰذا أمرنا، فإن قال : وإيش الذى يضرنا من معرفتنا لما جرٰي بينهم والبحث عنه؟ قيل له : ما لا شك فيه، وذٰلك أن عقول القوم كانت أكبر من عقولنا، وعقولنا أنقص بكثير، ولا نأمن أن نبحث عما شجر بينهم، فنزل عن طريق الحق، ونتخلف عما أمرنا فيهم، فإن قال : وبم أمرنا فيهم؟ قيل : أمرنا بالاستغفار لهم، والترحم عليهم، والمحبة لهم، والاتباع لهم، دل علٰي ذٰلك الكتاب والسنة وقول أئمة المسلمين، وما بنا حاجة إلٰي ذكر ما جرٰي بينهم، قد صحبوا الرسول صلى الله عليه وسلم، وصاهرهم، وصاهروه، فبالصحبة يغفر الله الكريم لهم، وقد ضمن الله عز وجل فى كتابه أن لا يخزي منهم واحدا، وقد ذكر لنا الله تعالٰي فى كتابه أن وصفهم فى التوراة والإنجيل، فوصفهم بأجمل الوصف، ونعتهم بأحسن النعت، وأخبرنا مولانا الكريم أنه قد تاب عليهم، وإذا تاب عليهم لم يعذب واحدا منهم أبدا، رضي الله عنهم ورضوا عنه، أولٰئك حزب الله، ألا إن حزب الله هم المفلحون، فإن قال قائل : إنما مرادي من ذٰلك لـأن أكون عالما بما جرٰي بينهم، فأكون لم يذهب على ما كانوا فيه، لأني أحب ذٰلك ولا أجهله، قيل له : أنت طالب فتنة، لأنك تبحث عما يضرك ولا ينفعك، ولو اشتغلت بإصلاح ما للٰه عز وجل عليك فيما تعبدك به من أدائ فرائضه، واجتناب محارمه، كان أولٰي بك، وقيل : ولا سيما فى زماننا هٰذا، مع قبح ما قد ظهر فيه من الـأهوائ الضالة، وقيل له : اشتغالك بمطعمك وملبسك من أين هو؟ أولٰي بك، وتكسبك لدرهمك من أين هو؟ وفيما تنفقه؟ أولٰي بك، وقيل : لا يأمن أن يكون بتنقيرك وبحثك عما شجر بين القوم إلٰي أن يميل قلبك، فتهوٰي ما لا يصلح لك أن تهواه، ويلعب بك الشيطان، فتسب وتبغض من أمرك الله بمحبته، والاستغفار له، وباتباعه، فتزل عن طريق الحق، وتسلك طريق الباطل، فإن قال : فاذكر لنا من الكتاب والسنة، وعمن سلف من علمائ المسلمين، ما يدل علٰي ما قلت، لترد نفوسنا عما تهواه من البحث عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم، قيل له : قد تقدم ذكرنا لما ذكرته مما فيه بلاغ وحجة لمن عقل، ونعيد بعض ما ذكرناه ليتيقظ به المؤمن المسترشد إلٰي طريق الحق، قال الله عز وجل : ﴿محمد رسول الله والذين معه اشدآئ على الكفار رحمآئ بينهم تراهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماهم فى وجوههم من اثر السجود ذٰلك مثلهم فى التوراة ومثلهم فى الـانجيل كزرع اخرج شطاه فآزره فاستغلظ فاستوٰي علٰي سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار﴾ [الفتح 48 : 29] ، ثم وعدهم بعد ذٰلك المغفرة والـأجر العظيم، وقال الله عز وجل : ﴿لقد تاب الله على النبى والمهاجرين والـانصار الذين اتبعوه فى ساعة العسرة﴾ [التوبة 9 : 117] ، وقال عز وجل :﴿والسابقون الـاولون من المهاجرين والـانصار والذين اتبعوهم باحسان رضي الله عنهم﴾ [التوبة 9 : 100] إلٰي آخر الآية، وقال عز وجل : ﴿يوم لا يخزي الله النبى والذين آمنوا معه نورهم يسعٰي بين ايديهم وبايمانهم﴾ [التحريم 66 : 8] الآية، وقال عز وجل : ﴿كنتم خير امة﴾ [آل عمران 3 : 110] الآية، وقال عز وجل : ﴿لقد رضي الله عن المؤمنين﴾ [الفتح 48 : 18] إلٰي آخر الآية، ثم إن الله عز وجل أثنٰي علٰي من جائ بعد الصحابة، فاستغفر للصحابة، وسأل مولاه الكريم أن لا يجعل فى قلبه غلا لهم، فأثني الله عز وجل عليه بأحسن ما يكون من الثنائ، …..، وقال النبى صلى الله عليه وسلم : ”خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم“ [صحيح البخاري : 2652، صحيح مسلم : 2533] ، …..، قال محمد بن الحسين رحمه الله : يقال لمن سمع هٰذا من الله عز وجل ومن رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن كنت عبدا موفقا للخير اتعظت بما وعظك الله عز وجل به، وإن كنت متبعا لهواك خشيت عليك أن تكون ممن قال الله عز وجل ”ومن أضل ممن اتبع هواه بغير هدي من الله (، وكنت ممن قال الله عز وجل) ولو علم الله فيهم خيرا لأسمعهم ولو أسمعهم لتولوا وهم معرضون“، ويقال له : من جائ إلٰي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتٰي يطعن فى بعضهم ويهوٰي بعضهم، ويذم بعضا ويمدح بعضا، فهٰذا رجل طالب فتنة، وفي الفتنة وقع، لأنه واجب عليه محبة الجميع، والاستغفار للجميع، رضي الله عنهم، ونفعنا بحبهم
’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور آپ کے اہل بیت کے جو فضائل بیان کیے ہیں، جو شخص ان کو غور سے ملاحظہ کر لے، اسے چاہئیے کہ وہ تمام صحابہ کرام اور اہل بیت سے محبت رکھے، سب کے لیے رحمت اور مغفرت کی دُعا کرے۔ ان (کے بارے میں اس عقیدے ) کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں وسیلہ بناتے ہوئے اس طرف توفیق دینے پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کریں، وہ صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان کا نہ ذکر کرے، نہ ان کے بارے میں بحث و تفتیش میں پڑے۔ اگر راہِ ہدایت سے بھٹکا ہوا کوئی جاہل اور پاگل شخص تکرار کرتے ہوئے ہمیں کہے کہ فلاں صحابی نے فلاں سے لڑائی کیوں کی اور فلاں نے فلاں کو قتل کیوں کیا ؟ تو ہم اسے جواب میں یہ کہیں گے کہ ہمیں اس بات کا نہ تو کوئی فائدہ ہے نہ ہم اسے معلوم کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر وہ کہے کہ کیوں ؟ تو ہم کہیں گے کہ یہ فتنے تھے جن سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پالا پڑا اور انہوں نے ان فتنوں میں وہی طریقہ کار اپنایا جس کی طرف ان کے علمی اجتہاد نے ان کی رہنمائی کی۔ وہ ان فتنوں کی حقیقت کو بعد والوں سے بڑھ کر جانتے تھے۔ وہ بعد والوں سے زیادہ سیدھے راستے پر گامزن تھے، کیونکہ وہ اہل جنت تھے، ان کے سامنے قرآن نازل ہوا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا اور آپ کی معیت میں جہاد بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی خوشنودی، مغفرت اور اجر عظیم کی ضمانت دی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیرالقرون ہونے کی گواہی دی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑھ کر معرفت رکھنے والے تھے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ جاننے والے اور قرآن و سنت کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، لہٰذا ہم علم انہی سے اخذ کرتے ہیں، ان کے اقوال سے تجاوز نہیں کرتے، انہی کے فیصلوں کو نافذ کرتے ہیں، اپنے آپ کو انہی کے رنگ میں رنگتے ہیں، انہی کی پیروی کرتے ہیں اور ہمیں حکم بھی اسی بات کا دیا گیا ہے۔ اگر وہ شخص یہ کہہ دے کہ ہمیں صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کی جانچ پڑتال میں پڑنے سے کون سا نقصان ہو جائے گا ؟ تو ہم کہیں گے مشاجرات ِ صحابہ میں دخل دینے سے نقصان میں مبتلا ہونا لازم ہے، کیونکہ صحابہ کرام عقلی اعتبار سے ہم سے بہت فائق تھے، جبکہ ہم ان کے مقابلے میں بہت زیادہ کم عقل ہیں، یوں اگر ہم ان کے مابین اختلافات میں غور و خوض کریں گے تو ضروری طور پر راہِ حق سے گمراہ ہو جائیں گے اور ان کے بارے میں جس سلوک کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، اس سے منحرف ہو جائیں گے۔ اگر وہ سوال کرے کہ ہمیں صحابہ کرام کے بارے میں کیا حکم دیا گیا ہے ؟ تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ان کے لیے استغفار اور رحمت کی دُعا کرنے، ان سے محبت رکھنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم سنایا گیا ہے۔ اس پر کتاب و سنت اور ائمہ مسلمین کے اقوال دلیل ہیں۔ ہمیں صحابہ کرام کے مابین اختلافات کو ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری اختیار کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے رشتہ داری بنائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی بنا پر ہی اللہ کریم ان کو معاف فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ضمانت دی ہے کہ وہ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا اور قرآنِ کریم میں یہ بھی ذکر کیا کہ صحابہ کرام کی نشانیاں توراۃ و انجیل میں مذکور ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین محاسن و اوصاف سے متصف فرمایا اور ہمیں یہ بتا دیا کہ اس نے اُن کی توبہ قبول کر لی ہے۔ جب ان کی توبہ قبول ہو گئی ہے تو ان میں سے کسی کو کبھی بھی عذاب نہیں ہو سکتا۔ اللہ صحابہ کرام سے راضی ہو گیا اور صحابہ کرام اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ تھے اور اللہ کا گروہ ہی کامیاب و کامران ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ میں صحابہ کرام کے اختلافات سے باخبر ہو جاؤں اور وجہ اختلاف جاننا مجھے اچھا لگتا ہے۔ اسے کہا جائے کہ تو فتنہ برپا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ تو وہ چیز طلب کر رہا ہے جو تجھے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، البتہ نقصان ضرور دے گی۔ اگر اس کے بجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کیے گئے فرائض و واجبات کی ادائیگی کر کے اور اس کے بیان کردہ محرمات سے بچ کر اپنی بندگی کی اصلاح کر لیتا تو یہ کام تیرے لیے بہتر ہوتا، خصوصاً ہمارے اس زمانے میں جب کہ بہت سی گمراہیاں بھی سر اٹھا چکی ہیں۔ تیرے کھانے پینے، لباس اور معاش کا انتظام کہاں سے ہو گا اور مال کو خرچ کہاں کرنا ہے ؟ اس بارے میں غور و فکر تیرے لیے زیادہ بہتر ہے۔ صحابہ کرام کے مشاجرات کی بحث و تفتیش میں پڑنے کے بعد تیرا دل کج روی سے محفوظ نہیں رہ پائے گا اور تو وہ سوچنے لگے گا، جو تیرے لیے جائز ہی نہیں، شیطان تجھے بہکائے گا اور تو ان ہستیوں کو برا بھلا کہنے لگے گا اور ان سے بغض رکھنے لگے گا، جن سے محبت کرنے، جن کے بارے میں استغفار کرنے اور جن کی پیروی کرنے کا تجھے اللہ کی طرف سے حکم ہے۔ یوں تو شاہراہِ حق سے بھٹک کر باطل کی پگڈنڈیوں کا راہی بن جائے گا۔ اگر وہ کہے کہ ہمیں قرآن و سنت کی نصوص اور علمائے مسلمین کے اقوال میں وہ بات دکھاؤ جس سے تمہارا مدعا ثابت ہوتا ہو تاکہ ہم صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں بحث و تفتیش کی خواہش سے باز آ جائیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ اس سلسلے میں وہ تمام چیزیں ہم ذکر کر چکے ہیں جن سے ذی شعور شخص کو حقیقت کا ادراک ہو سکتا ہے، البتہ ان میں سے کچھ باتیں یہاں دوبارہ ذکر کی جائیں گی تاکہ حق کا متلاشی مؤمن کا ضمیر جاگ جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [الفتح 48 : 29]
”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں، وہ کافروں پر بہت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں، آپ انہیں رکوع و سجود کرتے دیکھیں گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کے طلبگار رہتے ہیں، ان کی ایک خصوصی پہچان ان کے چہروں میں سجدوں کا نشان ہے، ان کی یہ صفت تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کی صفت اس کھیتی کے مانند ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا اور وہ (پودا) توانا ہو گیا، پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا، یہ صورت حال کسانوں کو خوش کرتی ہے، (اللہ کی طرف سے یہ اس لیے ہوا) تاکہ ان (صحابہ کرام ) کی وجہ سے کفار کو غیض و غضب میں مبتلا کرے۔“
پھر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ دیا۔ یہ بھی فرمایاکہ :
﴿لَقَدْ تَابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ﴾ [التوبة 9 : 117]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان مہاجرین و انصار پر شفقت فرمائی جنہوں نے تنگی کے عالم میں آپ کی پیروی کی۔“
نیز فرمایا
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ﴾ [التوبة 9 : 100]
”مہاجرین اور انصار میں سے اسلام میں سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے اچھے طریقے سے ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا“
﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّـهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾ [التحريم 66 : 8]
”(قیامت وہ دن ہے) جس دن اللہ اپنے نبی اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑتا ہو گا۔“ ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ﴾ [آل عمران 3 : 110] ”تم بہتر امت ہو۔“ ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الفتح 48 : 18] ”یقیناً اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے راضی ہو گیا۔“ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف بھی کی جو صحابہ کرام کے بعدآ کر ان کے لیے استغفار کریں گے اور دُعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں کوئی خلش نہ ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی بہت زیادہ ثناء کی ہے۔۔۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئے [ صحيح البخاري : 2652، صحيح مسلم : 2533] جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرامین سن لے، اسے کہا جائے کہ اگر تو ہدایت و بھلائی کا طالب ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصیحت پر عمل کر اور اگر اب بھی تو اپنی من مرضی کرے گا تو ڈر ہے کہ تیرا شمار ان لوگوں میں سے ہو جائے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّـهِ﴾ [القصص 28 : 50] ”اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی کر لی ؟“ ﴿وَلَوْ عَلِمَ اللَّـهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ [الأنفال 8 : 23] اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انہیں ضرور سنا (سمجھا) دیتا، اور اگر وہ انہیں (سمجھا) دیتا تو بھی وہ ضرور پھر جاتے اور اعراض کرنے والے ہوتے اور اسے یہ بھی کہا جائے کہ جو شخص رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام پر طعن کرے اور بعض کی تعریف کرے، نیز بعض پر تنقید کرے، اور بعض کی مدح کرے، وہ فتنہ پرور ہے اور فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے، کیونکہ اس پر فرض تھا کہ سب صحابہ کرام سے محبت کرتا اور سب کے لیے استغفار کرتا۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام سے راضی ہو اور ہمیں ان کی محبت کے سبب نجات دے۔۔۔“ [الشريعة : 2485/5]

◈ امام ابوبکر، احمد بن ابراہیم، اسماعیلی رحمہ اللہ ( 277- 371ھ) محدثین کرام کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
والكف عن الوقيعة فيهم، وتأول القبيح عليهم، ويكلونهم فيما جرٰي بينهم على التأويل إلى الله عز وجل
’’ ائمہ حدیث صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں، بری باتیں ان پر نہیں تھوپتے اور اجتہادی طور پر ان کے مابین جو بھی ناخوشگوار واقعات ہوئے، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں۔“ [اعتقاد ائمة الحديث، ص : 79]

◈ امام، ابوالحسن، علی بن اسماعیل، اشعری رحمہ اللہ (260- 324ھ ) فرماتے ہیں :
فأما ما جرٰي من على والزبير وعائشة رضي الله عنهم أجمعين، فإنما كان علٰي تأويل واجتهاد، وعلي الإمام، وكلهم من أهل الاجتهاد، وقد شهد لهم النبى صلى الله عليه وسلم بالجنة والشهادة، فدل علٰي أنهم كلهم كانوا علٰي حق فى اجتهادهم، وكذٰلك ما جرٰي بين سيدنا على ومعاوية رضي الله عنهما، فدل علٰي تأويل واجتهاد، وكل الصحابة أئمة مأمونون غير متهمين فى الدين، وقد أثني الله ورسوله علٰي جميعهم، وتعبدنا بتوقيرهم وتعظيمهم وموالاتهم، والتبري من كل من ينقص أحدا منهم، رضي الله عنهم أجمعين
’’ سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے مابین جو اختلافات ہوئے، وہ اجتہادی تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور سب صحابہ کرام مجتہد تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنت اور شہادت کی خوشخبری سنائی ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ سب اپنے اجتہاد میں حق پر تھے۔ اسی طرح سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو اختلافات ہوئے، وہ بھی اجتہادی تھے۔ تمام صحابہ کرام بااعتماد اور باکردار ائمہ تھے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سب کی تعریف کی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی عزت و تعظیم کریں، ان سے محبت رکھیں اور جو شخص ان کی تنقیص کرتا ہے، اس سے براءت کا اعلان کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر راضی ہو چکا ہے۔“ [الإبانة عن أصول الديانة، ص : 78]

◈ امام ابومنصور معمر بن احمد اصبہانی رحمہ اللہ (م : 418ھ ) مشاجرات ِ صحابہ میں زبان بند رکھنے کو اہل سنت و الجماعت کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
ومن السنة السكوت عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونشر فضائلهم والاقتدائ بهم، فإنهم النجوم الزاهرة رضي الله عنهم، ثم الترحم على التابعين والـأئمة والسلف الصالحين رحمة الله عليهم
’’ سنت (کا مقتضیٰ) یہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، ان کے فضائل بیان کیے جائیں اور ان کی اقتداء کی جائے۔ صحابہ کرام تو چمکدار ستارے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر راضی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تابعین، ائمہ دین اور سلف صالحین کے لیے رحمت کی دُعا کی جائے۔“ [الحجة فى بيان المحجة لأبي القاسم الأصبهاني : 252/1، وسنده صحيح]

◈ امام ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ (430-336ھ ) فرماتے ہیں :
فالواجب على المسلمين فى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إظهار ما مدحهم الله تعالٰي به وشكرهم عليه من جميل أفعالهم وجميل سوابقهم، وأن يغضوا عما كان منهم فى حال الغضب والإغفال وفرط منهم عند استزلال الشيطان إياهم، ونأخذ فى ذكرهم بما أخبر الله تعالٰي به، فقال تعالٰي : ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر 59 : 10] الآية، فإن الهفوة والزلل والغضب والحدة والإفراط لا يخلو منه أحد، وهو لهم غفور، ولا يوجب ذٰلك البرائ منهم، ولا العداوة لهم، ولٰكن يحب على السابقة الحميدة، ويتولٰي للمنقبة الشريفة
’’ اصحاب رسول کے بارے میں مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح میں جو کچھ فرمایا ہے اور ان کے اچھے افعال و کارناموں کی جو تعریفات کی ہیں، انہیں بیان کیا جائے اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر ان سے غصے، غفلت اور شدت میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، ان سے چشم پوشی کی جائے۔ اس سلسلے میں ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو دلیل بناتے ہیں : ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر 59 : 10] ”جو لوگ ان کے بعد آئیں اور کہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں بھی معاف فرما دے اور ہم سے پہلے ایمان والوں کو بھی )۔“ کیونکہ لغزش، غلطی، غصے، شدت اور کوتاہی سے کوئی بھی مبرا نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی ایسی لغزشوں کو معاف فرما دیا ہے۔ صحابہ کرام کی ایسی بشری لغزشیں ان سے براءت اور عداوت کا باعث نہیں بن سکتیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قابل ستائش سبقت ِ اسلام کی بنا پر ان سے محبت رکھتا ہے اور عزت والے مرتبے کی وجہ سے ان سے دوستی رکھتا ہے۔“ [كتاب الإمامة والرد على الرافضة، ص : 341، 342]

◈ شیخ الاسلام، ابوعثمان، اسماعیل، صابونی رحمہ اللہ (م : 449ھ )فرماتے ہیں :
ويرون الكف عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتطهير الـألسنة عن ذكر ما يتضمن عيبا لهم ونقصا فيهم، ويرون الترحم علٰي جميعهم، والموالاة لكافتهم
’’ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں خاموشی اختیار کی جائے اور زبان کو ایسی باتوں سے پاک رکھا جائے جن سے صحابہ کرام کا کوئی عیب و نقص ظاہر ہوتا ہو، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دُعا کی جائے اور ان سب سے محبت رکھی جائے۔“ [عقيدة السلف أصحاب الحديث، ص : 93]

◈ حافظ عبیداللہ بن محمد، ابن بطہ رحمہ اللہ(304 – 387ھ )فرماتے ہیں :
نكف عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد شهدوا المشاهد معه، وسبقوا الناس بالفضل، فقد غفر الله لهم، وأمرك بالاستغفار لهم، والتقرب إليه بمحبتهم، وفرض ذٰلك علٰي لسان نبيه، وهو يعلم ما سيكون منهم، وأنهم سيقتلون، وإنهم فضلوا علٰي سائر الخلق، لأن الخطأ والعمد قد وضع عنهم، وكل ما شجر بينهم مغفور لهم
’’ ہم اصحاب رسول کے باہمی اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا اور نیکی میں ان کو ساری امت سے سبقت حاصل ہے، اللہ نے ان کو معاف فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان کے لیے دُعائے مغفرت کرنے اور ان سے محبت رکھ کر اپنا تقرب حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ احکام اس اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرض کیے ہیں جسے یہ بخوبی معلوم تھاکہ آئندہ کیا ہونے والا ہے، اسے معلوم تھا کہ صحابہ کرام آپس میں قتال تک کریں گے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے (انبیائے کرام کے بعد) ساری مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ خطا و عمد دونوں قسم کی لغزشیں ان سے دور کر دی گئی ہیں اور ان کے تمام باہمی اختلافات بھی انہیں معاف فرما دیے گئے ہیں۔“ [الإبانة فى أصول السنة، ص : 268]

◈ امام، قوام السنۃ، ابوالقاسم، اسماعیل بن محمد، اصبہانی رحمہ اللہ (م : 535ھ )فرماتے ہیں :
وما جرٰي بين على وبين معاوية، فقال السلف : من السنة السكوت عما شجر بين أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
’’ سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو اختلافات ہوئے، اس سلسلے میں سلف کا موقف یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں خاموشی اختیار کرنا سنت (کا مقتضٰی) ہے۔“ [الحجة فى بيان المحجة : 569/2]

◈ حافظ، ابوزکریا، یحییٰ بن شرف، نووی رحمہ اللہ (631 – 676ھ ) قتل مسلم پر جہنم کی وعید والی حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
واعلم أن الدمائ التى جرت بين الصحابة رضي الله عنهم، ليست بداخلة فى هٰذا الوعيد، ومذهب أهل السنة والحق إحسان الظن بهم، والإمساك عما شجر بينهم، وتأويل قتالهم، وأنهم مجتهدون متأولون، لم يقصدوا معصية، ولا محض الدنيا، بل اعتقد كل فريق أنه المحق، ومخالفه باغ، فوجب عليه قتاله ليرجع إلٰي أمر الله، وكان بعضهم مصيبا، وبعضهم مخطئا معذورا فى الخطإ، لأنه لاجتهاد، والمجتهد إذا أخطأ لا إثم عليه، وكان على رضى الله عنه هو المحق المصيب فى تلك الحروب، هٰذا مذهب أهل السنة، وكانت القضايا مشتبهة، حتٰي إن جماعة من الصحابة تحيروا فيها، فاعتزلوا الطائفتين، ولم يقاتلوا، ولم يتيقنوا الصواب، ثم تأخروا عن مساعدته
’’ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات کے دوران جو خون بہے، وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اہل سنت و اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام کے بارے میں حسن ظن ہی رکھتے ہیں، ان کے مابین اختلافات پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، اہل سنت کے نزدیک صحابہ کرام کی باہمی لڑائیاں دلائل پر مبنی تھیں اور وہ اس سلسلے میں مجتہد تھے۔ ان کا ارادہ کسی گناہ یا دنیاوی متاع کا نہیں تھا، بلکہ ہر فریق یہی سمجھتا تھا کہ وہ حق پر اور ان کا مخالف باغی ہے، جس کو اللہ کے حکم کی طرف لوٹانے کے لیے قتال ضروری ہے۔ یوں بعض واقعی حق پر اور بعض خطا پر تھے، کیونکہ یہ اجتہادی معاملہ تھا اور مجتہد جب غلطی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ ان لڑائیوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے ( لیکن خطا اجتہادی ہونے کی بنا پر دوسرے صحابہ پر بھی کوئی قدغن نہیں )۔ اہل سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے۔ یہ معاملات اتنے پیچیدہ تھے کہ بہت سے صحابہ کرام بھی اس سلسلے میں پریشان رہے اور دونوں گروہوں سے علیحدگی اختیار کر لی۔ انہیں بالقیں درست بات کا علم نہ ہو سکا اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت سے بھی دستبردار رہے۔“ [شرح صحيح مسلم : 11/18]

◈ نیز فرماتے ہیں :
وأما الحروب التى جرت، فكانت لكل طائفة شبهة، اعتقدت تصويب أنفسها بسببها، وكلهم عدول رضي الله عنهم، ومتأولون فى حروبهم وغيرها، ولم يخرج شيئ من ذٰلك أحدا منهم عن العدالة، لأنهم مجتهدون، اختلفوا فى مسائل من محل الاجتهاد، كما يختلف المجتهدون بعدهم، فى مسائل من الدمائ وغيرها، ولا يلزم من ذٰلك نقص أحد منهم، واعلم أن سبب تلك الحروب أن القضايا كانت مشتبهة، فلشدة اشتباهها اختلف اجتهادهم، وصاروا ثلاثة أقسام؛ قسم ظهر لهم بالاجتهاد أن الحق فى هٰذا الطرف، وأن مخالفه باغ، فوجب عليهم نصرته وقتال الباغي عليه، فيما اعتقدوه، ففعلوا ذٰلك، ولم يكن يحل لمن هٰذه صفته التأخر عن مساعدة إمام العدل، فى قتال البغاة فى اعتقاده، وقسم عكس هٰؤلائ، ظهر لهم بالاجتهاد أن الحق فى الطرف الآخر، فوجب عليهم مساعدته وقتال الباغي عليه، وقسم ثالث اشتبهت عليهم القضية، وتحيروا فيها، ولم يظهر لهم ترجيح أحد الطرفين، فاعتزلوا الفريقين، وكان هٰذا الاعتزال هو الواجب فى حقهم، لأنه لا يحل الإقدام علٰي قتال مسلم، حتٰي يظهر أنه مستحق لذٰلك، ولو ظهر لهؤلائ رجحان أحد الطرفين، وأن الحق معه، لما جاز لهم التأخر عن نصرته فى قتال البغاة عليه، فكلهم معذورون، رضي الله عنهم، ولهٰذا اتفق أهل الحق، ومن يعتد به فى الإجماع، علٰي قبول شهاداتهم ورواياتهم، وكمال عدالتهم، رضي الله عنهم أجمعين
’’ جو لڑائیاں صحابہ کرام کے مابین ہوئیں، ان میں ہر گروہ کو ایک شبہ تھا جس کے مطابق ہر ایک نے اپنے آپ کو حق پر سمجھ لیا اور صحابہ کرام سب کے سب عادل تھے اور اپنی لڑائیوں اور دیگر معاملات میں دلائل رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی بھی معاملے کی بنا پر کوئی بھی صحابی ثقاہت کے دائرہ کار سے خارج نہیں ہوا، کیونکہ سب صحابہ کرام مجتہد تھے، وہ کئی اجتہادی مسائل میں مختلف الخیال ہوئے، جیسا کہ بعد میں آنے والے فقہائے کرام بھی قتل و حرب سمیت بہت سے مسائل میں اختلافات کا شکار ہوئے۔ ان اختلافات سے کسی میں کوئی نقص ثابت نہیں ہوتا۔ یہاں آپ کو ان لڑائیوں کی وجہ بھی معلوم ہونی چاہئیے۔ ان کی وجہ یہ بنی کہ معاملات انتہائی پیچیدہ تھے اور اسی سخت پیچیدگی کے باعث صحابہ کرام کے اجتہادات مختلف ہو گئے اور وہ تین قسموں میں بٹ گئے۔ ایک قسم وہ تھی جنہوں نے اپنے اجتہاد سے پہلے فریق کو حق پر سمجھا اور اس کے مخالف کو باغی خیال کیا، یوں ان پر پہلے فریق کی مدد کرنا اور اس کے مخالف سے لڑنا لازم ہو گیا اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حق والوں کے لیے اپنے نزدیک اہل حق کی نصرت اور اہل بغاوت سے لڑائی کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم ان کے برعکس تھی، انہوں نے اپنے اجتہاد سے سمجھا کہ دوسرا فریق حق پر ہے، چنانچہ ان پر دوسرے فریق کی نصرت اور ان کے مخالفین کی سرکوبی ضروری ہو گئی۔ تیسری قسم میں وہ صحابہ کرام تھے جن پر معاملہ واضح نہ ہو سکا، وہ اس سلسلے میں کشمکش ہی کا شکار رہے اور کسی ایک فریق کی ترجیح ان پر ظاہر نہ ہو سکی۔ ایسے لوگ دونوں فریقوں سے علیحدہ ہو گئے اور ان پر یہ علیحدگی ہی ضروری تھی، کیونکہ اس وقت تک کسی مسلمان کو قتل کرنے کی کوشش جائز نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ اس کا ہے۔ اگر ان صحابہ کرام کے سامنے کسی ایک فریق کا اہل حق ہونا عیاں ہو جاتا تو ان کے لیے اس کی نصرت و حمایت اور باغیوں سے قتال فرض ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل حق اور اہل علم کا اجماع ہے کہ تمام صحابہ کرام کی گواہی اور ان کی روایات قبول کی جائیں گی اور ان کی ثقاہت میں کوئی نقص نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر راضی ہو چکا ہے۔“ [شرح صحيح مسلم : 149/15]

◈ علامہ، ابوحامد، محمد بن محمد، غزالی (450- 505ھ) فرماتے ہیں :
وما جرٰي بين معاوية وعلي رضي الله عنهما كان مبنيا على الاجتهاد، ولا منازعة من معاوية فى الإمامة
’’ سیدنا معاویہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے باہمی اختلافات اجتہاد پر مبنی تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے امامت و خلافت کا کوئی تنازع نہیں تھا۔“ [إحياء علوم الدين : 115/1]

◈ علامہ، علی بن احمد، ابن حزم رحمہ اللہ (384- 456ھ) فرماتے ہیں :
فبهٰذا قطعنا علٰي صواب على رضي الله عنه، وصحة أمانته، وأنه صاحب الحق، وأن له أجرين؛ أجر الاجتهاد، وأجر الإصابة، وقطعنا أن معاوية رضى الله عنه ومن معه مخطئون، مجتهدون، مأجورون أجرا واحدا
’’ ان دلائل کی رُو سے ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ درستی پر تھے، صاحب حق و امانت تھے اور ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا۔ ہم یہ بھی یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی غلطی پر تھے، لیکن مجتہد تھے اور ان کو اجتہاد کا ایک اجر ملے گا۔“ [الفصل فى الملل والأهواء والنحل : 161/4]

◈ شیخ الاسلام، ابوالعباس، احمد بن عبدالحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661- 728ھ) فرماتے ہیں :
ولهٰذا ينهٰي عما شجر بين هٰؤلائ، سوائ كانوا من الصحابة أو ممن بعدهم، فإذا تشاجر مسلمان فى قضية، ومضت، ولا تعلق للناس بها، ولا يعرفون حقيقتها، كان كلامهم فيها كلاما بلا علم ولا عدل، يتضمن أذاهما بغير حق، ولو عرفوا أنهما مذنبان أو مخطئان، لكان ذكر ذٰلك من غير مصلحة راجحة من باب الغيبة المذمومة، لٰكن الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين أعظم حرمة، وأجل قدرا، وأنزه أعراضا، وقد ثبت من فضائلهم خصوصا وعموما ما لم يثبت لغيرهم، فلهٰذا كان الكلام الذى فيه ذمهم علٰي ما شجر بينهم أعظم إثما من الكلام فى غيرهم
’’ صحابہ کرام ہوں یا بعد والے مسلمان، ان کے باہمی اختلافات میں دخل دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دو مسلمان کسی معاملے میں جھگڑ پڑیں، پھر وہ معاملہ قصہ پارینہ بن جائے، بعد میں آنے والے لوگوں کا اس سے کوئی تعلق بھی نہ ہو اور وہ اس کی حقیقت سے واقف بھی نہ ہوں تو ان کا اس بارے میں باتیں کرنا جہالت و ناانصافی کا باعث ہو گا اور یہ عمل ان دونوں مسلمانوں کو ناحق اذیت دینے کی کوشش ہو گی۔ اگر بعد والوں کو یہ معلوم بھی ہو جائے کہ وہ غلطی پر تھے تو بھی اس معاملے کا ذکر کرنا مذموم غیبت شمار ہو گا جس میں کوئی مصلحت نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو عام لوگوں سے بہت بڑھ کر حرمت، مقام و مرتبے اور عزت و تکریم کے حامل تھے۔ ان کے اس قدر عمومی و خصوصی فضائل و محاسن ثابت ہیں جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکے۔ چنانچہ ان کے باہمی اختلافات کی مذمت میں کوئی بات کرنا دیگر گزرے ہوئے مسلمانوں کے اختلافات کے بارے میں بات کرنے سے بڑا جرم ہے۔“ [منهاج السنة النبوية فى نقض كلام الشيعة القدرية : 147,146/5]

◈ نیز فرماتے ہیں :
الإمساك عما شجر بينهم مطلقا، وهو مذهب أهل السنة والجماعة
’’ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔“ [مجموع الفتاوي : 51/35]

◈ حافظ، ابوعبداللہ، محمد بن احمد بن عثمان، ذہبی رحمہ اللہ ( م : 748ھ )فرماتے ہیں :
وخلف معاوية خلق كثير يحبونه ويتغالون فيه، ويفضلونه، إما قد ملكهم بالكرم والحلم والعطاء، وإما قد ولدوا فى الشام علٰي حبه، وتربٰي أولادهم علٰي ذٰلك، وفيهم جماعة يسيرة من الصحابة، وعدد كثير من التابعين والفضلائ، وحاربوا معه أهل العراق، ونشؤوا على النصب، نعوذ بالله من الهوٰي، كما قد نشأ جيش على رضى الله عنه ورعيته إلا الخوارج منهم علٰي حبه، والقيام معه، وبغض من بغٰي عليه، والتبري منهم، وغلا خلق منهم فى التشيع، فبالله كيف يكون حال من نشأ فى إقليم، لا يكاد يشاهد فيه إلا غاليا فى الحب، مفرطا فى البغض، ومن أين يقع له الإنصاف والاعتدال ؟ فنحمد الله على العافية الذى أوجدنا فى زمان قد انمحص فيه الحق، واتضح من الطرفين، وعرفنا مآخذ كل واحد من الطائفتين، وتبصرنا، فعذرنا، واستغفرنا، وأحببنا باقتصاد، وترحمنا على البغاة بتأويل سائغ فى الجملة، أو بخطإ إن شائ الله مغفور، وقلنا كما علمنا الله :﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ [الحشر 59 : 10] وترضينا أيضا عمن اعتزل الفريقين، كسعد بن أبي وقاص، وابن عمر، ومحمد بن مسلمة، وسعيد بن زيد، وخلق، وتبرأنا من الخوارج المارقين الذين حاربوا عليا، وكفروا الفريقين، فالخوارج كلاب النار، قد مرقوا من الدين، ومع هٰذا فلا نقطع لهم بخلود النار، كما نقطع به لعبدة الأصنام والصلبان
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد بہت سے لوگ ایسے تھے جو ان سے محبت رکھتے تھے، ان کے بارے میں غلو سے کام لیتے تھے اور ان کے فضائل بیان کرتے تھے۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حکمرانی کے دوران ان سے حلم و کرم اور بخشش کا سلوک فرمایا تھا یا پھر یہ لوگ شام میں پیدا ہوئے تو علاقائی طور پر ان کی محبت میں پرورش پائی اور ان کی اولادیں اسی ماحول میں پروان چڑھیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والوں میں کچھ صحابہ کرام اور تابعین کرام کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ اہل شام نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر اہل عراق کے خلاف لڑائی کی اور ان میں (نعوذ باللہ ) بغض اہل بیت پیدا ہوا۔ اسی طرح خوارج کے علاوہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رعایا اور ان کا گروہ ان کی محبت و عقیدت میں اور ان کے مخالفین کے بغض و عناد میں پروان چڑھا۔ ان میں سے ایک گروہ تو تشیع میں غلو اختیار کر گیا۔ ایسے علاقے میں پرورش پانے والے لوگوں کا کیا حال ہوتا ہو گا کہ جو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو کسی خاص شخص کی محبت میں غلو کرتے اور کسی خاص شخص کے بغض میں حد سے بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے انصاف اور اعتدال کی کیا امید کی جا سکتی ہے ؟ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایسے پرعافیت زمانے میں پیدا کیا جس میں حق نتھر کر سامنے آ گیا اور طرفین کے دلائل واضح ہو گئے۔ ہم نے دونوں گروہوں کے مآخذ تک رسائی حاصل کی، غور و فکر کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب لوگ قابل قبول عذر رکھتے تھے۔ چنانچہ ہم نے ان سب کے لیے دُعائے مغفرت کی اور اعتدال پسندی کو اختیار کرتے ہوئے جائز تاویل یا معاف شدہ غلطی کی بنیاد پر باغیوں کے لیے بھی رحمت کی دُعا کی اور وہی کہا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا تھا کہ : ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ [الحشر 59 : 10] ”اے ہمارے رب ! ہمیں بھی معاف فرما دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان کی حالت میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے بارے میں کوئی خلش نہ ڈالنا۔“ ہم نے ان صحابہ کرام کے بارے میں رضائے الٰہی طلب کی جنہوں نے دونوں فریقوں سے علیحدگی اختیار کی تھی، ان میں سیدنا سعد بن ابو وقاص، سیدنا ابن عمر، سیدنا محمد بن مسلمہ، سیدنا سعید بن زید وغیرہ شامل تھے۔ البتہ ہم مسلمانوں کی جماعت سے نکل جانے والے ان خارجیوں سے براءت کا اعلان کرتے ہیں جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کی اور سب صحابہ کرام کو کافر قرار دیا۔ خوارج جہنم کے کتے ہیں، وہ اسلام سے نکل چکے تھے۔ اس کے باوجود ہم ان کو اس طرح ہمیشہ کے جہنمی نہیں سمجھتے جس طرح بتوں کے پجاریوں اور صلیبیوں کو سمجھتے ہیں۔“ [سير أعلام النبلاء : 128/3]

◈ حافظ، ابوفداء، اسماعیل بن عمر، ابن کثیر رحمہ اللہ (700 – 774ھ ) فرماتے ہیں :
وأما ما شجر بينهم بعده عليه الصلاة والسلام، فمنه ما وقع عن غير قصد، كيوم الجمل، ومنه ما كان عن اجتهاد، كيوم صفين، والاجتهاد يخطئ ويصيب، ولٰكن صاحبه معذور وإن أخطأ، ومأجور أيضا، وأما المصيب فله أجران اثنان
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان میں سے بعض ایسے تھے جو بلا قصد و ارادہ واقع ہو گئے، جیسا کہ جنگ جمل والے دن ہوا اور بعض ایسے ہیں جو اجتہادی طور پر سرزد ہوئے، جیسا کہ جنگ صفیں والے دن ہوا۔ اجتہاد کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی درست، لیکن اجتہاد کرنے والا غلطی بھی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے اور اس کا عذر قبول کیا جاتا ہے اور اگر وہ درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔“ [الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، ص : 182]

◈ نیز فرماتے ہیں :
إن أصحاب على أدني الطائفتين إلى الحق، وهٰذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن عليا هو المصيب، وإن كان معاوية مجتهدا، وهو مأجور، إن شاء الله
’’ بلاشبہ دونوں گروہوں میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی حق کے زیادہ قریب تھے۔ اہل سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
حق پر تھے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی مجتہد تھے اور ان کو بھی ان شاءاللہ ایک اجر ملے گا۔“ [البداية والنهاية : 279/2]

◈ حافظ، ابوالفصل، احمد بن علی بن محمد، ابن حجر، عسقلانی رحمہ اللہ(773 – 852ھ) فرماتے ہیں :
واتفق أهل السنة علٰي وجوب منع الطعن علٰي أحد من الصحابة، بسبب ما وقع لهم من ذٰلك، ولو عرف المحق منهم، لأنهم لم يقاتلوا فى تلك الحروب إلا عن اجتهاد، وقد عفا الله تعالٰي عن المخطئ فى الاجتهاد، بل ثبت أنه يؤجر أجرا واحدا، وأن المصيب يؤجر أجرين
’’ اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کی بنا پر کسی بھی صحابی پر طعن کرنا حرام ہے، اگرچہ کسی کو ان میں سے اہل حق کی پہچان ہو بھی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اجتہادی طور پر یہ لڑائیاں کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اجتہاد میں غلطی کرنے والے سے درگزر فرمایا ہے، بلکہ اسے ایک اجر ملنا بھی ثابت ہے اور جو شخص حق پر ہو گا، اسے دو اجر ملیں گے۔“ [فتح الباري : 34/13]

◈ علامہ، ابومحمد، محمود بن احمد، عینی، حنفی (762- 855ھ ) فرماتے ہیں :
والحق الذى عليه أهل السنة الإمساك عما شجر بين الصحابة، وحسن الظن بهم، والتأويل لهم، وأنهم مجتهدون متأولون، لم يقصدوا معصية ولا محض الدنيا، فمنهم المخطئ فى اجتهاده والمصيب، وقد رفع الله الحرج عن المجتهد المخطئ فى الفروع، وضعف أجر المصيب
’’ برحق نظریہ جس پر اہل سنت والجماعت قائم ہیں، وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین ہونے والے اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، ان کے بارے میں حسن ظن سے کام لیا جائے، ان کے لیے تاویل کی جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ مجتہد تھے اور ان سب کے پیش نظر دلائل تھے، ان اختلافات میں سے کسی صحابی نے بھی کسی گناہ یا دنیاوی متاع کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اجتہاد میں بعض کو غلطی لگی اور بعض درستی کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے فروعی معاملات میں اجتہادی غلطی کرنے والے کو گناہ گار قرار نہیں دیا (بلکہ ایک اجر کا حق دار ٹھہرایا ہے )، جبکہ درستی کو پہنچنے والے کا اجر دو گناکر دیا گیا ہے۔“ [عمدة القاري : 212/1]

◈ قاضی، ابوالفضل، عیاض بن موسیٰ، یحصبی (476- 544ھ) فرماتے ہیں :
ومن توقيره وبره صلى الله عليه وسلم توقير أصحابه وبرهم، ومعرفة حقهم، والاقتدائ بهم، وحسن الثناء عليهم، والاستغفار لهم، والإمساك عما شجر بينهم، ومعاداة من عاداهم، والإضراب عن أخبار المؤرخين، وجهلة الرواة، وضلال الشيعة والمبتدعين القادحة فى أحد منهم، وأن يلتمس لهم فيما نقل عنهم من مثل ذٰلك فيما كان بينهم من الفتن أحسن التأويلات، ويخرج لهم أصوب المخارج، إذ هم أهل ذٰلك، ولا يذكر أحد منهم بسوئ، ولا يغمص عليه أمر، بل تذكر حسناتهم وفضائلهم وحميد سيرهم، ويسكت عما ورائ ذٰلك
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی عزت و تکریم کی جائے، ان کا حق پہچانا جائے، ان کی اقتدا کی جائے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے، ان کے لیے استغفار کیا جائے، ان کے مابین ہونے والے اختلافات میں اپنی زبان بند رکھی جائے، ان کے دشمنوں سے عداوت رکھی جائے، ان کے خلاف مؤرّخین کی (بے سند) خبروں، مجہول راویوں کی بیان کردہ روایات، گمراہ شیعوں اور بدعتی لوگوں کی پھیلائی ہوئی من گھڑت کہانیوں کو نظر انداز کیا جائے، جن سے ان کی شان میں کمی ہوتی ہو۔ ان کے مابین فتنوں پر مبنی جو اختلافات ہوئے ہیں، ان کو اچھے معنوں پر محمول کیا جائے اور ان کے لیے بہتر عذر تلاش کیے جائیں، کیونکہ وہ لوگ اسی کے اہل ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی برا تذکرہ نہ کیا جائے، نہ ان پر کوئی الزام دھرا جائے، بلکہ صرف ان کی نیکیاں، فضائل اور ان کی سیرت کے محاسن بیان کیے جائیں۔ اس سے ہٹ کر جو باتیں ہوں، ان سے اپنی زبان کو بند رکھا جائے۔“ [الشفا بتعريف حقوق المصطفٰي : 612,611/2]

↰ ہم نے علمائے سلف کی نصائح پر مبنی یہ چند صفحات عام مسلمانوں کی خیرخواہی کے نظریے سے تحریر کیے ہیں، کیونکہ بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام کو انہی مشاجرات کی بنا پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور لوگوں کو بھی ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا، وغیرہ۔
حالانکہ یہ صحابہ کرام کا باہمی معاملہ تھا، جس کو اللہ رب العالمین نے معاف فرما دیا ہے اور ان سے راضی ہو گیا ہے۔ ائمہ اہل سنت نے مشاجرات صحابہ کے حوالے سے روایات تو اپنی کتابوں میں درج کی ہیں، لیکن ان کی بنا پر کسی بھی صحابی پر طعن و تنقید نہیں کی۔ سلف صالحین ہی قرآن و سنت کی نصوص اور صحابہ کرام کے معاملے کو بہتر طور پر سمجھتے تھے۔
بتقاضائے بشریت صحابہ کرام سے ایسی باتوں کا صدور باعث ملامت نہیں، جیسا کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا :
يا أمير المؤمنين، اقض بيني وبين هٰذا الكاذب، الآثم، الغادر، الخائن
’’ اے امیرالمومنین ! میرے اور اس جھوٹے، سیاہ کار، دھوکہ باز اور خائن کے مابین فیصلہ صادر فرما دیں۔“ [صحيح مسلم : 1757، صحيح البخاري : 3094، مختصرا]
کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان الفاظ کی بنا پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرناجائز ہے جو معاملہ بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرتے ہیں ؟ حق یہ ہے کہ صحابہ کرام معصوم عن الخطا نہیں تھے، لیکن ہم مشاجرات صحابہ میں سلف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام اصحاب رسول کی محبت پر زندہ رکھے اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
صحابہ کرام سے متعلق عقیدہ
بسم اللہ والحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لانبی بعدہ!

حضراتِ صحابہ کرام سے محبت اہلسنت والجماعت کے نزدیک اصول ایمان میں سے ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بنی نوع انسان کے برگزیدہ ومنتخب افراد میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پیارے رسول ﷺ کی مصاحبت ونصرت اور دین کی دعوت واشاعت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين اُمت کا وہ طبقہ ہے جس نے حفاظت دین اور اگلی نسلوں تک اس کی تبلیغ کی اہم اور سنگین ذمہ داری کو اچھی طرح پوری کرچکاہے۔ اگر یہ منتخب گروہ نہ ہوتا تو اسلامی شریعت بھی یہودیت ومسیحیت کی طرح تحریف کا شکار ہوجاتی۔ اب اگر کوئی شخص صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کی صلاحیت وراست گوئی اور امانتداری کے حوالے سے شک وشبہ کا اظہار کرتاہے تو دراصل وہ قرآن وسنت کی حقانیت پر طعن کرتا ہے اور ان مآخذ ومنابع کو مشکوک بناتاہے جو صحابہ کرام کے ذریعے ہم تک پہنچے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب صحابہ کرام رضی الله تعالى عنهم أجمعين کی فضیلت میں موجود متعدد آیات واحادیث ان کی محبت کو ہم پر واجب بناتی ہیں، نیز جو افراد صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان سے دشمنی وبغض کا سبق بھی ہمیں انہی قرآنی آیات واحادیث نبوی سے ملتاہے۔

ہم صحابہ کرام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں چونکہ:

1۔ اللہ تعالی اُن سے راضی ہوا، ارشادربانی ہے: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا} (الفتح/ 18).

(بیشک اﷲ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، سو جو (جذبۂ صِدق و وفا) ان کے دلوں میں تھا اﷲ نے معلوم کر لیا تو اﷲ نے ان (کے دلوں) پر خاص تسکین نازل فرمائی اور انہیں ایک بہت ہی قریب فتحِ (خیبر) کا انعام عطا کیا(

2۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نے انہیں ایمان کی صفت سے متصف کرکے یاد کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَإِن يُرِيدُواْ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ} (الانفال/ 62).

(اور اگر وہ (کفار ) چاہیں کہ آپ کو دھوکہ دیں تو بیشک آپ کے لئے اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ذریعے اور اہلِ ایمان کے ذریعے طاقت بخشی)


3۔ ہمیں صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے اس لئے محبت ہے چونکہ اللہ تعالی نے ان کی تصدیق کرکے انہیں کامیاب قرار دیا ہے اور انہیں جنت کا وعدہ بھی دیا ہے، ارشاد باری ہے:: {لَـكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ جَاهَدُواْ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ وَأُوْلَـئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ* أَعَدَّ اللّهُ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} (التوبہ/89-88).

(لیکن رسول(ﷺ) اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور انہی لوگوں کے لئے سب بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں* اللہ نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے.)



4۔ ہم صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یوں مخاطب کیا ہے: {كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران/110)؛

(تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے،) ابن عباس فرماتے ہیں: یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔



5۔ ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں چونکہ اللہ تعالی بھی صحابہ کرام سے محبت کرتا ہے، چنانچہ فرماتاہے: {فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ } (المائدہ؛ 54)؛ (عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے).

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم یہ آیت "حروراء" کے لوگوں کے بارے میں نازل نہیں ہوئی بلکہ حضرت ابوبکر وعمر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔


6۔ ہم صحابہ کرام سے محبت کرتے ہیں چونکہ اللہ تعالی نے انہیں سچے مومن قرار دیا ہے، ارشاد ربانی ہے: (وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَـئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} (الانفال/ 74)؛

(اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (راہِ خدا میں گھر بار اور وطن قربان کر دینے والوں کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہی لوگ حقیقت میں سچے مسلمان ہیں، ان ہی کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے).



7۔ نبی کریم ﷺنے ان سے محبت کرنے کو ایمان کی علامت اور بغض صحابہ کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: : «آيَةُ الایمان: حب الانصار، وآيَةُ النفاق بغض الانصار»؛متفق علیہ.

ترجمہ: "انصار سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے"۔

8۔ ہمیں صحابہ کرام سے پیار ہے چونکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کے تعلق سے برُا کہنے سے منع کیا ہے، ارشاد نبوی ہے: -: «إذا ذُكِر أصحابي فأمسكوا، و إذا ذُكِرتِ النُّجوم فأمسكوا، و إذا ذُكِرَ القدر فأمسكوا ] صحَّحه الألباني 545 في صحيح الجامع
(جب بھی میرے صحابہ کے بارے میں بات ہو رہی ہو تو خاموش رہو،جب بھی ستاروں سے متعلق بات ہورہی ہو تو خاموش رہو، اور جب بھی قدر سے متعلق بات ہورہی ہوتو خاموش رہو)

9۔ صحابہ کرام سے ہمیں محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امت مسلمہ کے امن وقرار کا سبب قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: {النجوم أمنة للسماء، فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد، وأنا أمنة لأصحابي فإذا ذهبتُ أتى أصحابي ما يوعدون، وأصحابي أمنة لأمتي، فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون}؛ (مسلم:2531)۔

(ترجمہ: ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہو جائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے۔)



10۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس امت کے بہترین افراد قرار دیا ہے اسی لیے ہمیں ان سے محبت ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: { خير أمَّتي القرن الّذين يلوني ثمَّ الَّذين يلونهم ثمَّ الَّذين يلونهم (مسلم: 2532)۔

ترجمہ: میری امت کے بہترین اشخاص وہ ہیں جن کے درمیان میری بعثت ہوئی (صحابہ کرام)، پھر (وہ نسل) جو ان کے بعد آئے (تابعین)، پھر (سب سے بہترین افراد وہ ہیں) جو ان کے بعد آئیں (تبع تابعین)۔

11۔ ہم صحابہ سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پیارے نبی علیہ السلام نے ہمیں صحابہ کو بُرا بھلا کہنے سے منع کیا ہے، فرمان نبوی ہے: {لا تسبوا أصحابي ، فوالذي نفسي بيده لو أنَّ أحدكم أنفق مثل أحد ذهباً ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفه}۔ (مسلم: 2540.)؛

ترجمہ: میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو، اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرڈالے تو ان کے ایک مد( مٹھی) غلہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر.



12۔ ہم صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے ہر اس شخص پر جو صحابہ رضي الله تعالى عنهم أجمعين کو گالی دیتا ہے، فرماتے ہیں: "لعن الله من سبَّ أصحابي" [حسَّنه الألباني 5111 في صحيح الجامع[
( ترجمہ: اللہ تعالی کی لعنت ہو اس شخص پر جو میرے صحابہ کو بُرا بھلا کہے۔)



13۔ ہمیں صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ان کے ذریعے دین پھیلے گا اور اسلام کی نصرت ہوگی۔ امر واقع بھی یہی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:
{يأتي على الناس زمان، يغزو فئام من الناس، فيقال: فيكم من صاحب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: فيكم من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم، ثم يأتي على الناس زمان، فيغزو فئام من الناس، فيقال لهم: هل فيكم من صاحب من صاحب أصحاب رسول الله صلی الله علیه وسلم ؟ فيقولون: نعم، فيفتح لهم}۔ (بخاری ومسلم)؛

ترجمہ: ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو نبی کریم ﷺ کا ہمرکاب رہا ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، اس طرح (مقابلے کے بعد) وہ لوگ فتح یاب ہوں گے۔ پھر کسی اور زمانے میں مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرنے جائے گا، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا بندہ ہے جو صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کے ساتھ رہاہو؟ جواب آئے گا کہ جی ہاں، پھر مجاہدین کا وہ گروہ فتح یاب ہوگا۔ ایک ایسا دور بھی آئے گا کہ بعض لوگ جہاد کے لیے نکلیں گے تو ان سے سوال ہوگا کہ کیا تمہارے ساتھ ایسا آدمی ہے جو صحابہ کرام کے ساتھیوں کے ہمرکاب رہاہو؟ وہ کہیں گے: جی، تو کامیاب ہوں گے۔


14۔ ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ہے چونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے وزیر اور مدد گار ساتھی تھے، اس بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: {ان الله تبارك وتعالى اختارني، واختار لي أصحاباً، فجعل لي منهم وزراء وأنصاراً وأصهاراً، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل}۔ (رواہ حاکم وصحّحہ)۔
ترجمہ: حضور اکرم نے فرمایا: اللہ نے مجھے منتخب فرمایا ہے اور میرے لئے میرے صحابہ کو منتخب کیا ان کو میرا وزیر‘ مددگار اور رشتہ دار بنایا جو ان کو برا کہے اس پر اللہ تعالیٰ کی‘ فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا کوئی فرض اور کوئی کفارہ قبول نہ کرے گا.


15۔ ہم صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ ان سے محبت کرنا نبی کریم ﷺ سے محبت کرنا ہے اور صحابہ سے نفرت آپ ﷺ سے نفرت کی دلیل وعلامت ہے، اسی بارے میں فرمان نبوی ہے: {الله الله في أصحابي، لا تتخذوهم غرضاً بعدي، فمن أحبهم فبحبي أحبهم، ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم، ومن آذاهم فقد آذاني، ومن آذاني فقد آذى الله، ومن آذى الله أوشك أن يأخذه} (رواہ احمد وترمذی وجعلہ حسناً)؛ ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا )نشانہ نہ بنانا (یاد رکھو) جس نے اِن سے محبت کی ،پس میری محبت کی وجہ سے اِس نے اُن سے محبت کی ۔ جس نے اُن سے بغض رکھا پس میرے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا اور جس نے اُن کو اذیت دی پس اس نے مجھے اَذیت دی جس نے مجھے اَذیت دی ، اس نے اللہ کواذیت دی اور جس نے اللہ کو اذیت دی، پس قریب ہے کہ وہ اس کو گرفت کر لے.



16۔ ہمیں صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت ہے چونکہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے احترام وعزت کو اپنے ہی احترام کے مترادف قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں: {احفظوني في أصحابي، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم}۔ (ابن ماجہ: 1927،وصححہ الالبانی)؛

ترجمہ: میری منزلت وعزت کی حفاظت کے لیے میرے صحابہ اور ان کے بعد آنے والے دو صدیوں کے لوگوں کی منزلت وعزت کا خیال رکھو۔



18۔ ہم صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت کرتے ہیں اس لیے کہ وہ اہل علم وفضیلت، اخلاق اور سچائی والے تھے، ارشاد نبوی ﷺ ہے: {أرأف أمتي بأمتي أبوبكر، وأشدهم في دين الله عمر، وأصدقهم حياء عثمان، وأقضاهم علي، وأفرضهم زيد بن ثابت، وأقرؤهم أبيّ، وأعلمهم بالحلال والحرام معاذ بن جبل، ألا وإن لكل أمة أميناً، وأمين هذه الأمة أبوعبيدة بن الجراح}۔ (حاکم، صحَّحه الألباني 868 في صحيح الجامع.) ترجمہ: میری امت پرسب سے زیادہ رحیم ابوبکر ہے، دین پر سختی سے عمل کرنے والا عمر ہے، سب سے زیادہ سچے باحیا عثمان ہے،عدل میں سب سے آگے علی ہے، ہرامت کا ایک امین ہوتاہے اور اس امت کا امین ابوعبیدہ بن الجراح ہے۔



حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے صفات عالیہ کے ذکر میں کہتے ہیں:

جب اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک کو بہترین پایا۔ تو انہیں منتخب کرکے اپنا نبی بنایا۔ پھر اللہ تعالی نے سارے قلوب پر نظر ڈالی تو صحابہ کرام کے دلوں کو بہترین پایا سو انہیں اپنے برگزیدہ پیغمبر کی صحبت کے لیے منتخب کرکے آپ ﷺ کے وزیر بنادیا تا کہ اس کے دین کی راہ میں لڑیں۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو ان کی پیروی کرے جن کا انتقال ہوچکا ہے، چونکہ جو زندہ ہیں معلوم نہیں فتنے کا شکار ہوں گے کہ نہیں۔ جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں وہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ہیں جو امت میں عقائد کے اعتبار مضبوط ترین اور سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، دین میں وہ بہت کم تکلف کرنے والے تھے۔ صحابہ کرام وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے نبی کے مصاحبت اور دین کے قیام کے لیے منتخب فرمایا تھا۔ ان کی جاہ ومقام کو پہچانو اور ان کے طریقے پر چلو اس لیے کہ وہ ہدایت اور راہ راست پر تھے۔
[رواه ابن عبد البرّ)

صحابہ کرام کے حوالے سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

واضح اور آشکار مسائل میں سے ایک صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کی تمام خوبیوں کو بیان کرنا، ان کی غلطیوں اور آپس کے اختلافات کو بیان کرنے سے گزیر کرنا ہے۔ لہٰذاجو شخص کسی بھی صحابی کی شاں میں گستاخی کرے، برا بھلا کہے اور طعنہ زنی کرے یا کسی صحابی کی عیب جوئی کرے تو وہ شخص بدعتی، ناپاک، رافضی او اہل سنت کا مخالف ہے۔اللہ تعالی (قیامت کے دن) نہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا نہ کوئی فدیہ وکفارہ اس کی جان چھڑا سکے گا۔

اس کے برعکس صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين سے محبت سنت اور ضروری ہے، ان کے لیے نیک دعاء کرنا قرب الہی کا باعث ہے۔ ان کی پیروی باعث نجات ہے اور ان کی راہ پرچلنا فضیلت شمار ہوتاہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سب سے اچھے لوگ تھے، کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ انہیں گالیاں دے یا عیب جوئی کرکے ان کی شان میں گستاخی کرے اور انہیں گندی زبان سے یاد کرے۔ [كتاب السُّنَّة ص78[



امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالی کی توفیق سے میں نے اپنی کتاب (شریعہ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل تحریر کیا۔ اس کے بعد صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کے فضائل کا تذکرہ ہوگا۔ جنہیں اللہ تعالی نے منتخب فرمایا اور اپنے برگزیدہ نبی کے لیے وزیر، رشتہ دار، ساتھی اور اس کی امت کے لیے خلیفہ مقرر فرمایا۔ مہاجرین وانصار وہ حضرات تھے جن کو اللہ تعالی نے قرآن پاک میں بہترین اوصاف کے ساتھ یاد کیا ہے۔ قرآن میں آیا ہے اللہ تعالی نے توریت میں بھی صحابہ کرام کو اچھے الفاظ و اوصاف میں یاد کیا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالی کا فضل وکرم ہے۔ اللہ جلّ وعلیٰ کا فضل بہت بڑا ہے جسے چاہے وہ عطا فرماتاہے۔



مہاجرین: مہاجرین وہ جاں نثار صحابہ تھے جنہوں نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا اور اپنے عمل سے اُسے ثابت کردکھایا، سختیوں اور برے دنوں میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے، اللہ کی راہ میں ذلت اور بھوک کو غیر اللہ کے راستے میں عزت اور شکم سیری پر ترجیح دی۔ اللہ کی رضا کے لیے رشتہ دار اور اجنبی کی مخالفت کو بخوشی قبول کیا۔ مہاجرین اپنے والدین، خاندان، قبیلہ، جائیداد اور سب کچھ چھوڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم رکابی میں ہجرت کے لیے نکلے۔ ان سب چیزوں سے زیادہ اہم ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول تھے اس لیے کہ ان کا ایمان مضبوط، عقل سلیم، نفس پاک، رائے صائب اور صبر زیادہ تھا اور یہ اللہ تعالی کی توفیق تھی۔ ارشاد الہی ہے: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ } (المجادلہ :۲۲)؛

ترجمہ: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے.



انصار: وہ لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے دین کی نصرت اور نبی ﷺ کی پیروی کے لیے منتخب فرمایا۔


جب نبی کریم صلى الله عليه وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف فرماتھے انصاری صحابہ آپ کے پاس تشریف لاکر مومنوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ انصار اپنی بیعت میں مخلص تھے اور ہمہ تن آپ ﷺ کی نصرت ومدد کیلیے کمر بستہ تھے۔ انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مکمل پیروی کرنے والے تھے اور نبی کریم ﷺ سے محبت کی وجہ سے انہوں نے آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابھی تک ہجرت کا وقت نہیں آیا ہے۔ انصار کا وہ دستہ جو آپ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کر چکاتھا واپس مدینہ چلا گیا تو وہ دیگر اہل مدینہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا ذریعہ بن گئے۔



تمام انصار اپنے ایمان میں ثابت قدم تھے چنانچہ جب مہاجرین مدینہ پہنچے تو انکا شاندار استقبال کیا گیا، انہوں نے نبی کریم ﷺ و دیگر مہاجرین کا خوب اکرام کیا۔ انصار کو معلوم ہوا یہ مبارک ہجرت اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لیے بڑی نعمت ہے۔ اس کے بعد دیگر مہاجرین جب مدینہ پہنچے تو انصار نے ان کی بھی عزت وخدمت کی۔ اپنے گھروں کو تقسیم کرکے انہیں جگہ دینے کے علاوہ ان کو اپنے بچوں اور بیووں پر بھی ترجیح دی۔ اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں الفت ومحبت ڈالی تھی جس کی برکت سے وہ بھائی بھائی بن کر رہ رہے تھے۔ اللہ تعالی صحابہ کرام کی تعریف میں فرماتے ہیں: { وَإِن يُرِيدُواْ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللّهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ* وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً مَّا أَلَّفَتْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَـكِنَّ اللّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ }؛ (الأنفال۔ 63۔62)؛

ترجمہ: اور اگر وہ چاہیں کہ آپ کو دھوکہ دیں تو بیشک آپ کے لئے اللہ کافی ہے، وہی ہے جس نے آپ کو اپنی مدد کے ذریعے اور اہلِ ایمان کے ذریعے طاقت بخشی اور (اسی نے) ان (مسلمانوں) کے دلوں میں باہمی الفت پیدا فرما دی۔ اگر آپ وہ سب کچھ جو زمین میں ہے خرچ کر ڈالتے تو (ان تمام مادی وسائل سے) بھی آپ ان کے دلوں میں (یہ) الفت پیدا نہ کر سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان (ایک روحانی رشتے سے) محبت پیدا فرما دی۔ بیشک وہ بڑے غلبہ والا حکمت والا ہے.



ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ}

(آل عمران۔103)

ترجمہ: اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ.



ان آیات قرآنی سے معلوم ہوا سارے صحابہ کرام بشمول مہاجرین وانصار اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی نصرت ومدد پر وہ متفق تھے، شریعت اور احکام کے نفاذ میں وہ متحد اور آپ ﷺکے بہترین ساتھی تھے۔ اس راہ میں وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور ہر حال میں نبی کریم ﷺ کی نصرت اور اسلام کے لیے جاں نثاری ان کا مقصد حیات بن چکاتھا۔ اسی لیے ایک سے زائد مرتبہ اللہ تعالی نے مہاجرین وانصار کی تعریف کی ہے، انہیں جنت کا وعدہ دیا ہے اور اپنی رضامندی کا اعلان بھی فرمایا ہے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُوْلَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ }المجادلہ۔22)؛

(ترجمہ: اللہ اُن سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں، یہی اﷲ (والوں) کی جماعت ہے، یاد رکھو! بیشک اﷲ (والوں) کی جماعت ہی مراد پانے والی ہے.)



صحابہ کرام کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:صحابہ کرام کے فضائل سے وہ شخص واقف ہوسکتاہے جو عہد نبوی ﷺمیں ان کا تعامل اور اس کے بعد کی زندگی پر گہری نظر ڈالے۔ صحابہ کرام وہ عظیم شخصیات تھے جو ایمان، کفار سے جہاد وقتال، اشاعت دین، قیام دین، اعلائے شان احکامات الہی ونبوی، فرائض اور سنن نبوی کی تعلیم وتعلم میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين نہ ہوتے تو ہرگز دین کا کوئی اصل یا فرع ہم تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہرگز نبی کریم ﷺ کی کوئی حدیث یا سنت سے ہم واقف نہیں ہوسکتے تھے۔

اس لیے جو شخص صحابہ کے حوالے سے طعنہ زنی وگستاخی سے کام لے وہ پوری طرح دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے چونکہ جو شخص صحابہ کو گالیاں دے کر طعنہ زنی کرتا ہے وہ اس طرح اپنے عقیدے کا اظہار کرتا ہے کہ صحابہ کرام ہی غلط راستے پر تھے اور قرآن پاک اور احادیث میں ان کے جتنے اوصاف مذکور ہیں یہ لوگ ان تعریفوں کی تردید کرتے ہیں۔ یہ قرآن وحدیث کا انکار ہے۔ جو شخص صحابہ پر طعن کرتا ہے در اصل وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتاہے۔ نصوص شریعت کے ناقلین کی توہین وگستاخی درحقیقت نصوص (قرآن وسنت) کی توہین ہے۔ یہ اہم بات ہر اس شخص کے لیے قابل فہم ودرک ہے جو تدبر کا اہل ہو، نفاق وکفر اور الحاد سے دور ہو۔ (الکبائر ص ۔۲۷۴)


فُضیل بن عیاض رحمہ اللہ اس بارے میں فرماتے ہیں:صحابہ سے محبت ذخیرہ آخرت ہے۔ اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو صحابہ رسول ﷺ پر سلام ودرود بھیجے۔

عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اگر کسی شخص میں یہ دو صفات ہوں مجھے امید ہے کہ وہ قیامت کے عذاب سے محفوظ رہے گا، ایک سچائی اور دوسرا اصحاب رسول سے محبت۔ [الشَّريعة4/1688[

ترجمہ: مبصرالرحمن قاسمی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
صحابہ رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات اور سلف کا موقف


امام محمد بن الحسین الآجری کا فرمان :
امام ابو بکر محمد بن الحسین بن عبداللہ آجری المتوفی ۳۶۰ ھ نے اپنی معروف کتاب‘‘ کتاب الشریعۃ’’ میں (باب نمبر ۲۵۷ص ۹۳۲نسخہ مر قمہ) باب یہی قائم کیا ہے۔ ‘‘باب ذکر الکف عما شجر بین أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و رحمۃ اللہ علیھم أجمعین’’ کہ یہ باب اس کے متعلق ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان ہونے والے اختلافات سے گریز کیا جائے اللہ تعالیٰ کی ان سب پر رحمتیں ہوں۔’’ امام آجری نے اس باب میں بڑی تفصیل سے بحث کی ہے اور اپنے اس موقف پر بہت سے دلائل ذکر کئے ہیں جو دس صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان دلائل سے قطع نظر ہم یہاں صرف ان کے موقف کا خلاصہ پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
‘‘فضائل صحابہ کرام و اہلِ بیت کے سلسلے میں جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس پر غور و فکر کرنےو الے پر لازم ہے کہ وہ ان سب سے محبت کرے ان کے بارے میں رحمت اور بخشش کی دعا کرے اور ان کی محبت کو اللہ کے ہاں اپنے لئے وسیلہ بنائے، ان کے مابین جو اختلافات ہوئے ہیں، ان کو ذکر نہ کرے نہ ان کی چھان بین کرے اور نہ ہی ان پر بحث کرے ہمیں تو ان کے بارے میں استغفار کرنے اور ان کے حق میں رحمت کی دعا کرنے، ان سے محبت اور ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، جیسا کہ قرآن مجید، احادیث رسول اور ائمہ مسلمین کے اقوال اس پر دلالت کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے مابین مشاجرات (اختلافات)کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت اور رشتہ کا شرف حاصل ہے ان کے اسی شرف صحبت کی بنا پر اللہ تعالی ٰ نے انہیں معاف کر دینے کا اعلان فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس بات کی ضمانت دی ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی قیامت کے دن شرمسار نہیں کروں گا، ان کے اوصاف کا اللہ تعالیٰ نے تورات و انجیل میں تذکرہ کیا ہے اور ان کی بہترین تعریف کی ہے، ان کی توبہ کا اور اپنی رضا و خوشنودی کا ذکر کیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں تو ان مشاجرات کے بارے میں محض اپنی معلومات میں اضافہ چاہتا ہوں تا کہ میں ان حالات سے بچ سکوں جن میں وہ مبتلا ہوئے ہیں ، تو اسے سمجھایا جائے گا کہ تم تو فتنہ کے طلب گار ہو کیونکہ تم ایسی بات کے درپے ہو جو تمہارے لئے نقصان کا باعث ہے، کسی فائدہ کی اس سے کوئی توقع نہیں۔ اس کی بجائے اگر تم فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کی صورت میں اپنی اصلاح کی کوشش کرتے تو یہ تمہارے لئے بہتر تھا بالخصوص اس دور میں جب کہ بدعات ضالہ عام ہو رہی ہیں، لہذا تمہارے لئے یہی بہتر تھا کہ تم اپنے کھانے پینے، اپنے لباس کی فکر کرو کہ یہ کہاں سے آیا ہے، یہ روپیہ پیسہ کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں خرچ کیا جا رہا ہے، نیز ہمیں اس بارے میں بھی خطرہ ہے کہ مشاجرات صحابہ میں تمہاری چھان بین اور بحث و تکرار کے نتیجہ میں تمہارا دل بدعت کی طرف مائل ہو جائے گا شیطان کے ہاتھوں تم کھیلنے لگو گے۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ ان سے محبت کرو، ان کے لئے بخشش طلب کرو اور ان کی اتباع کرو، اگر تم ان کو برا کہنے لگو گے، اور ان سے بغض و نفرت کرنے لگو گے، باطل راستہ پر چل نکلو گے، جو شخص بغض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدح و توصیف کرتا ہے بعض کی مذمت کرتا ہے اور ان پر طعن و تشنیع کرتا ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہے کیونکہ اس پر تو سب صحابہ کرام سے محبت اور سب کے بارے میں استغفار واجب ہے۔ (الشریعۃ ص۲۴۸۵ ، ۲۴۹۱ج۵)

امام ابو بکر الآجری رحمہ اللہ کے اس کلام پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ بلا ریب مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار کا نتیجہ وہی ہے جس کی نشاندہی انہوں نے کی ہے، اور اسی سے دیگر علمائے امت نے بتکرار خبردار کیا۔’’[مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف کا موقف ص ۴۱ ، ۴۲]

امام نووی کا فرمان:
امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی المتوفی ۶۷۶ھ شرح صحیح مسلم میں رقم طراز ہیں:
‘‘و مذھب أھل السنۃ و الحق إحسان الظن بھم و الإمساک عما شجر بینھم و تاویل قتالھم، و إنھم مجتھدون متأولون لم یقصد و امعصیۃ ولا محض الدنیا، بل اعتقد و اکل فریق أنہ المحق و مخلافہ باغ فوجب قتالہ لیر جع الی أمر اللہ، وکان بعضھم مصیباً و بعضھم مخطئاً معذوراً فی الخطأ لأنہ بإجتھاد و لمجتھد إذاأ خطألا إثم علیہ وکان علی رضی اللہ عنہ ھو المحق المصیب فی ذلک الحروب ھذا مذھب أھل السنۃ و کانت القضایا مشتبۃ حتی أن جماعۃ من الصحابۃ تحیرو ا فیھا فاعتزلو االطائفتین ولم یقاتلو اولو تیقنو االصواب لم یتأ خرواعن مساعدتہ’’
(شرح صحیح مسلم ص ۳۹۰ج۲، کتاب الفتن ، باب إذا التقی المسلمان بسیفیھما إلخ)
‘‘اہلِ سنت اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے۔ ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے۔ وہ بلا شبہ سب مجتہد اور صاحب رائے تھے معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی، بلکہ ہر فریق یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باغی ہے اور باغی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے تاکہ وہ امر الٰہی کی طرف لوٹ آئے، اس اجتہاد میں بعض راہ صواب پر تھے اور بعض خطا پر تھے، مگر خطا کے باوجود وہ معذور تھے کیونکہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجتہد خطا پر بھی گنہگار نہیں ہوتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اہلِ سنت کا یہی موقف ہے، یہ معاملات بڑے مشتبہ تھے یہاں تک کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جامعت اس پر حیران و پریشان تھی جس کی بنا پر وہ فریقین سے علیحدہ رہی اور قتال میں انہوں نے حصہ نہیں لیا، اگر انہیں صحیح بات کا یقین ہو جاتا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معاونت سے پیچھے نہ رہتے۔’’
(شرح مسلم ص۲۷۲ج۲)
https://www.tohed.com
 

محمدی سلفی

مبتدی
شمولیت
ستمبر 28، 2018
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
یزید بن معاویہ پر واعظین و مقررین کی کرم فرمائیاں
✿ ✿ ✿
کفایت اللہ سنابلی
کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں نہ یزید کے دفاع سے کچھ لینا دینا ہوتا ہے نہ یزید کی مذمت سے ، انہیں بس اپنی دوکان چمکانی ہوتی ہے ، یزید بے چارہ ایسے لوگوں کی کرم فرمائیوں کا بھی بہت شکار ہواہے۔
واعظین ومقررین کا ایک ایسا ٹولہ ہر دور میں رہا ہے جن کا کام مجلس کو گرمانا ، سامعین کو رلانا ، اور قصے و کہانیاں سنانا ہوتا ہے ، ایسے لوگوں کے لئے کربلا کا حادثہ بہترین موضوع ثابت ہوا ، ان لوگوں نے اس موضوع کو لیکر عجیب وغریب داستانیں وضع کی ہیں بلکہ واقعہ کربلا کے ہر موڑ پر اہل بیت کی طرف سے دو چار تقریریں کروائی ہیں ۔ان جھوٹوں نے شہرت اور پیٹ کے لئے احادیث تک وضع کرڈالیں تو کربلائی دستانیں گڑھنا ان کے لئے کون سی بڑی بات ہے۔
واعظین کی ایک مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ عموما فین اور آفر پرست ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ سامعین و حقہ نواز کی تلاش میں رہتے ہیں ، اس نوع کے لوگ رائے عامہ کے مطابق ہی یزید کے بارے میں موقف قائم کرتے ہیں ۔مثلا اگر یہ دیکھا کہ ان کے سامعین اور مہربان یزید کا دفاع پسند کرتے ہیں تو یہ یزید کا دفاع کریں گے اور جہاں یہ محسوس کیا کہ یزید کی مذمت میں ہی فضاء اپنے حق میں ہوگی وہاں یزید کی مذمت میں شروع ہوجاتے ہیں ۔
اور جو بہت زیادہ چالاک ہوتے ہیں وہ دونوں کشتی پر سوار ہونے کی کوشش کرتی ہیں ، اورنام نہاد اعتدالی فارمولے سے ہر خیمے کی برکتیں لوٹنا چاہتے ہیں ۔اور کچھ لوگ تو اتنے ذہین ہوتے ہیں کہ گول مول بات کرکے سب کوخوش کردیتے ہیں ۔
ممبئی کی دین رحمت کانفرنس میں شیخ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ نے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ سے متعلق بتایا کہ وہ بھی ایک زبردست واعظ و مقرر تھے اور ان کی تقریر میں لاکھوں کی تعداد میں سنی اور شیعہ شریک ہوتے تھے۔ ایک دفعہ کچھ سنی اور شیعہ میں تکرار ہوئی ، سنیوں نے نے کہا کہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ ہمارے موقف پر ہیں، جبکہ شیعہ نے کہا کہ نہیں وہ ہمارے ہم خیال ہیں ، دونوں نے طے کیا کہ ابن الجوزی رحمہ اللہ سے سوال کر لیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر اور علی رضی اللہ عنہما میں سب سے افضل کون تھے ؟ ان کا جواب فیصلہ کردے گا کہ وہ کس کی طرف ہیں ۔
چنانچہ ابن الجوزی رحمہ اللہ سے جب یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا:
”افضلهما من كانت ابنته تحته“ [تذكرة الحفاظ للذهبي: 4/ 1345]
اب شیعہ نے سمجھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ، علی رضی اللہ عنہ کے بیوی ہیں، اس لئے علی رضی اللہ عنہ کو امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے افضل بتایا ہے۔
اور سنیوں نے سمجھا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ، اس لئے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے سب سے افضل بتایا ہے۔
اس طرح ”رضى الفريقان بجوابه“ ان کے جواب سے شیعہ اور سنی دونوں خوش ہوگئے ۔
شیخ عبدالحمید رحمانی حفظہ اللہ نے بتایا کہ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے ۔
 

محمدی سلفی

مبتدی
شمولیت
ستمبر 28، 2018
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
3
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ پر کفایت اللہ سنابلی صاحب کی کرم فرمائیاں بجواب یزید بن معاویہ پر واعظین و مقررین کی کرم فرمائیاں:
______________
اس سے قطع نظر کہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ(متوفی ۵۹۷ھ) سے یہ واقعہ ثابت ہے یا نہیں۔ سنابلی صاحب کی اس تحریر میں امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اگر مذکورہ واقعہ ثابت بھی ہوجائے تو امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے اس عمل کو دو طرح سے پیش کیا جاسکتا ہے۔:
۱) اس واقعہ میں امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کی ذھانت اور آپ کا علمی مقام واضح ہوتا ہے۔
۲) شاید واضح جواب دینے سے فتنے کا اندیشہ ہوتا اسی لیے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے دور اندیشی سے کام لیا اور یہ آپ کی حکمت تھی جو آپ نے اس طرح کا جواب دیا جس میں جھوٹ بھی شامل نہیں ہوا۔

اگر کفایت اللہ سنابلی صاحب اس اصرار پر ہیں کہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کا ایسا کرنا صحیح نہیں تھا بلکہ واضح بتلا دینا تھا۔ تو پھر بھی ان کی ہی حد تک ہم اسے تسلیم بھی کرلیں۔ تو اس کو وہ رنگ دینا جو موصوف نے دیا ہے کہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ دونوں شیعہ اور سنی کو خوش کرنے کے لیے یہ جملہ کہا، سراسر بدگمانی اور تعصب پر مبنی ہے۔

اور مذکورہ تحریر میں امام ابن الجوزی رحمہ اللہ پر ایک الزام نہیں بلکہ کفایت اللہ سنابلی صاحب نے یزید کے دفاع میں اور یزید کی محبت میں فریفتہ ہوکر کئی ایسے بے تکے الزامات دھر دئے۔ جیسے:
* امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کو ان واعظین و مقررین میں شامل کردیا گیا جو مفاد پرست ہوتے ہیں۔

* "دونوں کشتی پر سوار ہونے والا، نام نہاد اعتدالی فارمولے سے ہر خیمے کی برکتیں لوٹنا اور گول مول بات کرکے سب کو خوش کرنا، بہت زیادہ چالاک وغیرہ"۔ اس طرح کے قبیح صفات کے حامل لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کا واقعہ نقل کیا گیا۔ یعنی یہ سب گھٹیاں قسم کی خصلتوں کو زبردستی ایک حدیث کے عالم اور وقت کے عظیم محدث کے کھاتے میں ڈالنے کی ناکام سعی کی گئی۔
اور موصوف کا یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ آپ نے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کو ہدف تنقید بنایا۔بلکہ آپ نے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ(متوفی ۵۹۷ھ) پر اس طرح کے کرم فرمائیاں پہلے بھی کرچکے ہیں۔
جیسا کہ محترم کفایت اللہ سنابلی صاحب نے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے متعلق عنوان قائم کیا "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے" اور پھر انھے طعن کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا: " ابن الجوزی نے اپنی زندگی میں کئی لوگوں پر بےجا جرح کرتے ہوئے ان کی طرف بے بنیاد عیوب کی نسبت کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اندر یہ عیوب نہ تھے، بلکہ خود ابن الجوزی ہی ان عیوب سے متصف تھے اور شاید وہ اپنے اوپر دوسروں کو بھی قیاس کرنے لگ جاتے تھے۔"(یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ص۷۹۳)
اس طرح کے مزید خود موصوف نے معروف محدث، فقیہ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ پر بے جا طعن کئے ہیں۔ (دیکھیے:اشاعۃ الحدیث، شمارہ:۱۳۴،ص۳۲،۳۱)

کچھ ہی عرصہ پہلے حافظ ندیم ظہیر صاحب اور کفایت اللہ سنابلی صاحب کے درمیان تردید کا سلسلہ چلا۔اس دوران حافظ ندیم ظہیر صاحب نے محترم کفایت اللہ سنابلی صاحب کا امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کو مطعون کرنے پر گرفت کی اور موصوف کی کتاب سے کچھ حوالے نقل کئے جس میں موصوف نے ابن الجوزی رحمہ اللہ پر بےانتہا سخت کلمات لکھے اور آپ رحمہ اللہ پر الزام تراشی کی۔
پھر سنابلی صاحب نے اس کے جواب میں بہت کچھ لکھا۔لیکن اس بات سے جان نہ چھڑا سکے کہ انہونے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ پر سخت کلامی کی۔اور اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔چناچہ محترم کفایت اللہ سنابلی صاحب نے لکھا: "لیکن ہم نے اپنی اسی کتاب میں یزید کے خلاف لکھنے والے کئی اہل علم کا جواب بھی دیا ہے، لیکن ابن الجوزی رحمہ اللہ کی تردید میں جو سختی آگئی، وہ دیگر اہل علم کے جواب میں ہرگز نہیں ہے۔"(ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کا جائزہ،حصہ اول:ص۴)
مزید لکھا: "ندیم ظہیر صاحب نے تو میرے تعلق سے صرف ابن الجوزی رحمہ اللہ کا نام لیا ہے، جن کے خلاف میرے قلم میں شدت آئی۔۔۔" (ندیم ظہیر صاحب کے اعتراضات کا جائزہ،حصہ اول ص۶)
مزید لکھا :"اس کے ساتھ بعض مقامات پر کچھ سخت الفاظ نوکِ قلم پر آگئے ہیں۔۔۔"(ندیم ظہیر۔۔۔۔۔ص۱۱)

اور ایک جگہ لکھتے ہیں: "بہر حال حافظ ابن الجوزی سے متعلق بعض سخت کلمات لکھتے وقت وہی کچھ باتیں ذہن میں گردش کررہی تھی،جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا، یہی سبب تھا جس کی بنا پر بعض مقامات پر سخت کلمات رقم ہوگئے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ چیزیں سخت کلام کا جواز ہیں، بلکہ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ چیزیں سخت کلامی کی محرک ہوئی ہیں اور ان شاء اللہ اگلے ایڈیشن میں ہم الفاظ کو نرم کرلیں گے۔" (ندیم ظہیر۔۔۔۔ ص۱۵)
محترم سنابلی صاحب بار بار سخت الفاظ،قلم میں شدت وغیرہ کہہ رہے ہیں، یہ صرف سختی ہی نہیں بلکہ الزام تراشی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کردیا ہے۔ اور موصوف کا یہ وعدہ کرنا کہ اگلے ایڈیشن میں وہ الفاظ کو نرم کرلیں گے۔ تو گزارش یہ ہے کہ امام ابن الجوزی رحمہ اللہ آپ کے نرم الفاظ کے محتاج نہیں ہے۔ اور اگلے ایڈیشن کا تو پتہ نہیں ،اسی تحریر کو ذرا دیکھ لیں، گنہونے اوصاف اور مفاد پرست واعظین کا ذکر کرنے کے بعد امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کا واقعہ نقل کرکے لوگوں کو آپ کی شخصیت سے بد ظن کرنے اور آپ کو مجروح بنانے کی پوری ناکام کوشش کی ہے۔جس کا نمونہ مذکورہ تحریر میں دیکھا جاسکتا ہے۔(جو کچھ ہی دن پہلے لکھی گئی ہے۔)
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں موصوف ہاتھ دھو کر صاحب کتاب المعضوعات علامہ ابو الفرج ابن الجوزی (متوفی ۵۹۷ھ) کے پیچھے پڑ گئے؟ تو عرض ہے کہ ہم نے شروع میں بھی اشارہ کیا تھا کہ یہ ساری محنتیں اور جدو جہد یزید کی محبت میں کی جارہی ہے۔ اور امام ابن الجوزی رحمہ اللہ پر یہ کرم فرمائیاں صرف اس وجہ سے،کیوں کہ آپ رحمہ اللہ نے یزید کی مزمت میں ایک کتاب ("الرد علی المتعصب العنید المانع من ذم یزید") لکھی ہے۔
یہاں پر اس بحث کو نہ چھیڑتے ہوئے کہ یزید کی شخصیت کیسی تھی، یہ بات بتلانا چاہتا ہوں کہ یزید کے حاملین اور یزید کا دفاع کرنے والے بہت سے اہل حدیث علماء ہیں، جنہونے تقریر، تحریر کے ذریعے یزید پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیا۔ لیکن ان علماء میں سے کسی نے بھی دفاع یزید کے نام پر امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کو یا اسلاف میں سے یزید کے مخالف کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنایا۔ اور یہاں پر یہ بھی عرض کردوں کہ محترم کفایت اللہ سنابلی صاحب نہ صرف یزید کی مذمت کرنے والے یا یزید کو اچھا نہ جاننے والوں کو ہدف تنقید بناکار لوگوں کو ان شخصیات سے بد ظن کرتے ہیں بلکہ جو یزید کے معاملے میں سکوت اختیار کرتا ہے۔ اسے بھی وہ طعن کا نشانہ بنادیتے ہیں۔

ہندوستان کے کئی علماء نے موصوف کے قلم کی سختیوں پر انہے نصیحتیں کیں ہے۔ موصوف کی کتاب "انوار البدر فی وضع الیدین عل الصدر" ص۴۲ پر بھی ایک عالم دین کی نصیحت موجود ہے۔
بہر حال ہمیں دکھ ان کے قلم کی سختیوں کے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے قلم درازیوں سے ائمہ محدثین بھی نہیں بچ سکے۔ بلکہ مزید اس سے بڑھ کر یزید کی حمایت میں ڈوب کر موصوف نے گھٹیا پن کی انتہا کردی اور موصوف کے الزام تراشیوں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسی جماعت تک نہ بچ سکیں۔
یزید کے دور میں جو خانہ کعبہ کی بے حرمتی ہوئی، یہاں تک کہ کعبہ میں آگ لگ گئی۔چوں کے لوگ اس فعل بد کا ذمدار یزید اور اس کی فوج کو ٹھراتے ہیں۔ اسی لیے موصوف یزید کو بری الذمہ کرنے کی چکر میں تمام الزامات ایک صحابی رسول پر دھر دئے۔ سنابلی صاحب لکھتے ہیں: "اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو خانہ کعبہ کی جو بھی بے حرمتی ہوئی، اس کی اصلی ذمہ داری حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گروہ ہی پر آتی ہے، اگر یہ لوگ خلیفہ وقت کے خلاف خروج نہ کرتے اور خانہ کعبہ میں پناہ نہ لیتے تو خانہ کعبہ کے ساتھ یہ سانحہ پیش نہ آتا اور اہل شام کی طرف سے کاروائی نہ ہوتی۔"
(یزید بن معاویہ پر اعتراضات کا تحقیق جائزہ،ص۵۳۸)

اسی طرح مشاجرات صحابہ کے معاملہ میں اہل سنت کا متفقہ موقف ہے کہ سکوت اختیار کیا جائے۔ لیکن موصوف کو دفاع یزید کا بھوت ایسا چھڑا ہوا ہے کہ اگر کوئی ان کے موقف کے خلاف یزید پر کچھ کہہ دے تو اس پر صرف قلم کو دراز ہی نہیں کرتے بلکہ اس پر طرح طرح کے الزامات لگاکر اسے قبیح صفات سے متصف ٹھرا دیتے ہیں۔
جیسا کہ موصوف نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کے متعلق ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرکے لکھا:
"غور فرمائیں کہ صحابی رسول ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی لڑائی کو قتال فی سبیل اللہ نہیں قتال فی سبیل الدنیا قرار دیا ہے اور یہ بات اللہ کی قسم کھا کر پوری تاکید کی ہے۔"
(یزید بن معاویہ پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ، ص۵۵۰)
اس طرح کی حرکتیں تو ہم نے انجینیر علی مرزا نیم رافضی سے دیکھی ہے۔پر افسوس۔۔۔۔۔!

اس موقع پر ضرور کفایت اللہ سنابلی صاحب کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں جو محبت و نفرت میں میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ) نے فرمایا: "اپنے دوست سے ایک حد تک محبت کر، ممکن ہے کبھی (کسی وجہ سے) تجھے نفرت ہوجائے اور (اپنے دشمن سے بھی) ایک حد تک نفرت کر،ممکن ہے کسی دن تجھے (اس سے) محبت ہوجائے۔"(سنن ترمذی:۱۹۹۷، وسندہ حسن)
اور اسی کے متعلق سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نصیحت بھی ہے۔ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے(اسلم رحمہ اللہ سے) فرمایا: "تیری محبت فریفتہ کرنے والی نہ ہو اور نہ تیری محبت ہلاک کرنے والی ہو۔"(اسلم رحمہ اللہ نے کہا:) میں نے عرض کیا: وہ کیسے؟ انہونے فرمایا:جب تو محب کرے تو بچے کی طرح فریفتہ ہونے لگے اور جب تو نفرت کرے تو اپنے ساتھی کی تباہی و بربادی پسند کرے۔" (الأدب المفرد للبخاری:۱۳۲۲،وسندہ صحیح)

اور ساتھ ہی میں اہل علم حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ محترم سنابلی صاحب کی زبان درازیوں اور تہمت تراشیوں پر گرفت کرے،انہے اکیلے میں سمجھائیں یا جس طرح ممکن ہو نصیحت کرے۔ تاکہ موصوف آئیندہ اس طرح محدثین اور صحابہ کرام پر کھلے عام تنقید نہ کرے اور ان ہستیوں کے متعلق لوگوں کے دلوں میں نفرتیں پیدا نہ کرے۔
 
Last edited:
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
@محمدی سلفی السلام علیکم
جب بغض معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ میں لوگ بہک جاتے ہیں تو حب یزید بھی کچھ بھی کر واسکتا ہے۔اس میں اتنی حیرت اور تنقید کرنے کی کیا بات ہے ۔ ہر شخص کا اپنا عقیدہ ہے اور روز محشر وہ خود اس کا دفاع کرے گا۔
 

difa-e- hadis

رکن
شمولیت
جنوری 20، 2017
پیغامات
294
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
71
جب بغض معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ میں لوگ بہک جاتے ہیں تو حب یزید بھی کچھ بھی کر واسکتا ہے۔اس میں اتنی حیرت اور تنقید کرنے کی کیا بات ہے ۔ ہر شخص کا اپنا عقیدہ ہے اور روز محشر وہ خود اس کا دفاع کرے گا۔
محترم،
آپ کے اس قول کے مطابق تو پھر دفاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہی کرنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ ہر کوئی اپنے عقیدہ کا دفاع روز محشر خود کرئے گا۔
صحابہ کرام کا دفاع ضروری و لازم ہیں اور ہزاروں یزید جیسے ان کی جوتیوں کے برابر بھی نہیں ہیں اس لئے یزید کا دفاع کرتے ہوئے کسی صحابی رسول پر طعن و تشنع کرنا اہلسنت و الجماعۃ کا منھج نہیں ہے اور یہ ان کو بھی سوچنا چاہیے جنہوں نے اپ کی پوسٹ کو پسند ٹیگ کیا ہے۔
 

baig

رکن
شمولیت
فروری 06، 2017
پیغامات
101
ری ایکشن اسکور
46
پوائنٹ
43
حب یزید بھی کچھ بھی کر واسکتا ہے۔اس میں اتنی حیرت اور تنقید کرنے کی کیا بات ہے ۔ ہر شخص کا اپنا عقیدہ ہے اور روز محشر وہ خود اس کا دفاع کرے گا۔
@نسیم احمد بھائی یہ اصول صرف حب یزید کے لیے خاص ہے؟ یا تمام مسائل کے لیے بھی ہے؟
ہر شخص کا اپنا عقیدہ ہے اور روز محشر وہ خود اس کا دفاع کرے گا۔
برائے مہربانی اس مضمون کی وضاحت کریں۔
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
126
پوائنٹ
90
@نسیم احمد بھائی یہ اصول صرف حب یزید کے لیے خاص ہے؟ یا تمام مسائل کے لیے بھی ہے؟
میں نے یہ جملہ یزید کی حمایت والوں کیلئے لکھا ہے ۔ باقی آپ کی تمام مسائل سے کیا مراد ہے وہ میں نہیں سمجھا۔ برائے مہربانی وضاحت کردیں۔
برائے مہربانی اس مضمون کی وضاحت کریں۔
میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ اگر میں یزید کو غلط اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو حق پر سمجھتا ہوں تو یہ میرا اپنا عقیدہ ہے اور اس کا جوابدہ روز محشر بھی میں ہی ہوں گا۔ جو یزید کو حق پر سمجھتے ہیں وہ وہاں پر اپنے اس عقیدے کا دفاع کریں گے ۔
یہ ایک عمومی بات ہے ہر شخص اپنے اعمال اور افعال کا خود ذمہ دار ہے اب وہ چاہے کسی سے محبت ہو یا کسی سے نفرت۔
 
Top