• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحابہ کے مراسیل

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیکم

امید ہے سب خیریت سے ہوں گے

صحابہ کرام کے مرسل روایات کے بارے میں علمائے متقدمین کی کیا رائے ہے؟

کیا کوئی ان کے ضعیف ہونے کا بھی قائل ہے؟

اگر صحابی اس وقت کم عمر ہو، تو اس صورت میں کیا حکم لگایا جائے گا؟

شکریہ
 

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75
السلام علیکم

کیا کوئی جواب عنایت کرے گا؟

شکریہ
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,111
پوائنٹ
412
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
صحابی کی مرسل روایت: یہ کہ صحابی کہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے یوں فرمایا حالانکہ اس نے یہ بات نبی کریمﷺ سے سنی نہ ہو۔

صحابی کا نبی کریمﷺ سے اس بات کو نہ سننے کا پتہ اس بات سے چل جاتا ہے کہ وہ صحابی دیر سے مشرف بااسلام ہوا تھا اور جس معاملے کے بارے میں وہ خبر دے رہا ہے وہ پہلے کی ہے اور وہ اپنے اسلام سے قبل نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر بھی نہیں ہوا تھا۔یا پھر صحابی چھوٹی عمر کا ہو اور اپنی ولادت سے بھی پہلے کے واقعات کی خبر دے۔ تو اس بارے میں یہ بات تو واضح ہے کہ اس نے یہ حدیث نبی کریمﷺ کی زبانی نہیں سنی بلکہ کسی اور واسطہ سے سنی تھی، اور گمان غالب یہی ہوتا ہے کہ وہ واسطہ کوئی صحابی ہی ہوسکتا ہےجو اس سے عمر میں بڑا تھا یا اسلام لانے میں مقدم تھا۔ جیسا کہ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی سن سات ہجری سے پہلے کے واقعات کے بارے میں احادیث ہیں کیونکہ وہ سات ہجری میں مسلمان ہوئے تھے ۔ اسی طرح ابن عباس ، ابن عمر اور ان جیسے چھوٹے صحابہ کی شروع اسلام کے بارے میں روایات ہیں کیونکہ یہ تو پیدا ہی بعد میں ہوئے تھے۔تو اس طرح کی مرسل روایات مقبول ہوں گی کیونکہ صحابہ سارے کے سارے عدول ہیں۔ لہٰذا ان روایات کا وہی حکم ہے جو مسند روایات کا ہے۔
حوالہ
 

قاضی786

رکن
شمولیت
فروری 06، 2014
پیغامات
146
ری ایکشن اسکور
70
پوائنٹ
75

السلام علیکم بھائی
جزاک اللہ
اس بات سے میں آگاہ ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مرسل روایات کے بارے میں علمائے متقدمین کی کیا رائے ہے؟
 

عمر اثری

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 29، 2015
پیغامات
4,404
ری ایکشن اسکور
1,111
پوائنٹ
412
السلام علیکم بھائی
جزاک اللہ
اس بات سے میں آگاہ ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مرسل روایات کے بارے میں علمائے متقدمین کی کیا رائے ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم بھائی!
کوئی جواب نہیں دے رہا تھا. سو میں نے جتنا مجھے ملا نقل کر دیا.
 

محمد صارم

مبتدی
شمولیت
جون 18، 2017
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
4
السلام علیکم

امید ہے سب خیریت سے ہوں گے

صحابہ کرام کے مرسل روایات کے بارے میں علمائے متقدمین کی کیا رائے ہے؟

کیا کوئی ان کے ضعیف ہونے کا بھی قائل ہے؟

اگر صحابی اس وقت کم عمر ہو، تو اس صورت میں کیا حکم لگایا جائے گا؟

شکریہ
 

محمد صارم

مبتدی
شمولیت
جون 18، 2017
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
4
*مرسل صحابی* پر چند گزارشات

راقم: *محمد صارم*

سند میں معرفت صحابی رضی اللہ عنہم بہت ضروری ہے۔

*الصحابہ کلھم عدول*

عدم معرفت کی صورت میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے بارے تابعی ہونے کا مغالطہ لگ جائے اور ان کا ترجمہ نہ ملے تو مجہول کہہ دینے سے عدالت صحابی رضی اللہ عنہ پر کسی درجہ میں جرح واقعہ ہو جاتی ہے جو کسی طور بھی مناسب نہیں۔
صحابی صحابی سے روایت کرے اور لیکن اس کا ذکر نہ کرے تو اسے اصطلاح میں *مرسل صحابی* کہا جاتا ہے۔
اصل الاصول تو یہ ہے کہ راوی اگر خود سامع ہو یا شریک واقعہ ہو تو اس پر اعتماد ہو گا اور یہ اعتماد مزید دو امور سے متعلق ہے
1۔ راوی کے ضبط
2۔ راوی کی عدالت

لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے سے اگر کوئی شریک واقعہ نہ بھی ہو تو بھی یہ
*یہ ارسال مضر نہیں ہوگا کیونکہ ان کی عدالت کی گواہی قرانی ہے*

لِلْفُقَرَآءِ ٱلْمُهَٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِمْ وَأَمْوَٰلِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ *أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ* (الحشر:8)

ان کی صدق کی گواہی مل گئی تو یہ بات واضح ہوئی کہ اگر صحابی دوسرے صحابی کا واسطہ گرا کر بات کرے گا تو لازم ہے کہ اس نے شریک واقعہ سے سماع کیا ہوگا اور اگر ایسا نہ ہو تو اس پر جھوٹ لازم ائے گا جو قرانی گواہی صداقت کے منافی ہے اور ایسا ہونا محال ہے۔ لہذا 《《《 *مرسل صحابی* 》》》مقبول ہے۔

⬅صحابہ رضی اللہ عنہم پر کسی بھی قسم کی جرح منع ہے۔

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
*لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي*
(بخاری۔ کتاب فضائل۔ باب قول النبي صلى الله عليه وسلم إن لم تجديني فأتي أبا بكر)

⬅صحابہ باعث امن ہیں اور اگر انہی پر سب و شتم و جرح کریں تو خود ہی اپنے پاسبان پر اعتراض ہے
*انا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي* فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَ *أَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي* فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُون

⬅اسی بات پر امت کا اجماع ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سب کے سب عدول تھے۔
*الأمة مجمعة على تعديل جميع الصحاب*
مقدمہ ابن الصلاح
 
Top