• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کا طریقہ سورۃ الممتحنۃ کی روشنی میں

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
171
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
28
طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کا طریقہ سورۃ الممتحنۃ کی روشنی میں

تحریر : ابو عبدالرحمن السلفی حفظہ اللہ

سورۃ الممتحنۃ کی آیت کی روشنی میں غور وفکر کیجئے کہ طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کا کیا طریقہ ہے اس آیت میں اللہ نے حق واضح کیا ہے اور اس ملت توحید کی نشاندہی کی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کئی زمانوں تک انبیاء ورسل علیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا چنانچہ حق سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے:

قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ: تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے
اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِہِمۡ : جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا
اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ:
ہم تم سے اور اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان سے یقینا بیزار ہیں
کَفَرۡنَا بِکُمۡ :
ہم تمہارے ساتھ کفر کرتے ہیں
وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا : اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لئے دشمنی اور نفرت ظاہر ہوچکی ہے
حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ : حتیٰ کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ......
الخ [سورة الممتحنة: ٤]

تشریح :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿قَدۡ کَانَتۡ لَکُمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗ’’تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔ اس میں مذکور بہترین نمونہ سے مراد فرضی (واجب) نمونہ ہے نہ کہ نفلی (مستحب) نمونہ اس کی دو وجہیں ہیں :

ان آیات کے اختتام پر جن میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیم علیہ السلام کو بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡہِمۡ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ﴾ ’’تمہارے لئے ان میں یقینا بہترین نمونہ ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور روز آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور جو منہ موڑے گا تو اللہ بے پرواہ اور تعریف کیا گیا ہے‘‘۔ [سورة الممتحنة: ٦]

اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں فرمایا ﴿وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرَاہِیْمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہ﴾ ’’اور ملت ابراہیم سے منہ نہیں موڑتا مگر وہی جس نے خود کو بے وقوف بنارکھا ہو‘‘۔ [بقرہ:١٣٠] ایسے ہی سورة نحل میں فرمایا ﴿ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ﴾ ’’پھر ہم نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ ملت ابراہیم پر چلتے رہئیے جو یکطرفہ تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے‘‘۔ [نحل:١٢٣] اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ﴾ ’’جب انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا‘‘۔ جب اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے یہ کہہ دیں حالانکہ ان میں ان کے باپ، بھائی اور اولاد وخاندان بھی ہے جن کے درمیان میں پلے بڑھے ہیں اور ان سے ان کے بڑے گہرے تعلقات اور رشتہ داریاں ہیں پھر بھی ان سے یہ کہہ دینا ہے کیونکہ وہ کافر ہیں تو جو دور کا کافر ہو اس سے اس طرح کہنا بالاولیٰ فرض ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ بات ذکر کی جو کہنے کا انہیں حکم دیا گیا اور انہوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہ بات کہہ بھی دی چنانچہ فرمایا﴿اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ﴾ ’’ہم تم سے اور اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان سے یقینا بیزار ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے معبودان باطلہ سے براءت سے پہلے ان کے پجاری مشرکین سے اظہار براءت کو ذکر کیا جیسا کہ فرمایا ﴿مِنْکُمْ﴾ ’’تم سے‘‘ یعنی اے مشرکو پہلے ہم تم سے بیزار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات انسان معبودان باطلہ یعنی طاغوتوں سے تو بری ہوجاتا ہے لیکن اس کے پجاریوں، پیروکاروں اور مددگاروں سے بیزاری ظاہر نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ اپنے اوپر عائد ہونے والے فریضے کو ادا کرنے والا نہیں ہوگا حتیٰ کہ وہ ان کے معبودان باطلہ یعنی طاغوتوں سے براءت کا اظہار کرنے سے پہلے ان کے پجاریوں اور مددگاروں اور حامیوں سے اظہار براءت نہ کردے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے براءت کی کیفیت وطریقہ کی مزید وضاحت کی اور انہیں اسے بھی اختیار کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اسے اختیار بھی کیا اور کہا ﴿وَ بَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا﴾ ''اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لئے دشمنی اور نفرت ظاہر ہوچکی ہے‘‘۔ یہاں بداء ظاہر ہوچکی کا معنی ہے واضح ہوگیا نیز یہاں بھی نفرت سے پہلے دشمنی کو ذکر کیا گیا ہے کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ اہم ہے یعنی دشمنی نفرت سے زیادہ اہم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان مشرکین سے نفرت تو رکھتا ہے لیکن بسا اوقات ان سے دشمنی نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ اپنے اوپر عائد ہونے والے فریضے کو ادا کرنے والا نہ ہوگا حتیٰ کہ وہ دشمنی اور نفرت دونوں اختیار نہ کرلے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دشمنی اور نفرت واضح اور ظاہر ہو چھپی ہوئی یا مبہم نہ ہو اور یہ بھی جان لیں کہ نفرت کا تعلق اگرچہ دل سے ہے لیکن جب تک اس کی علامات ظاہر نہ ہوجائیں یہ فائدہ مند نہیں اور ایسا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ نفرت کے ساتھ ساتھ دشمنی اور قطع تعلقی بھی اختیار کی جائے اس طرح دشمنی اور نفرت دونوں واضح اور ظاہر ہوجائیں گی۔ بظاہر نفرت پہلے ہوتی ہے اس کے بعد دشمنی ہوتی ہے کیونکہ دشمنی سے پہلے نفرت وجود میں آتی ہے پھر دشمنی وجود میں آتی ہے نیز نفرت دل کا فعل ہے جبکہ دشمنی اعضاء کا فعل ہے اور اعضاء کے فعل سے پہلے دل کا فعل وجود میں آتا ہے اور اعضاء کا فعل دل کے فعل کے بعد اور اس کے مطابق ہوتا ہے لیکن یہان اللہ تعالیٰ نے دشمنی کو نفرت پر مقدم کیا ہے اور ا س کی ایک بلیغ حکمت ہے ۔

شیخ اسحاق بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ولا يكفي بغضهم بالقلب، بل لا بد من إظهار العداوة والبغضاء
کفار سے محض دلی نفرت کافی نہیں ہے بلکہ دشمنی اور نفرت دونوں کا اظہار ضروری ہے۔


پھر سورۃ الممتحنۃ کی یہی آیت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :

فانظر إلى هذا البيان الذي ليس بعده بيان، حيث قال: {وبدا بيننا} أي: ظهر؛ هذا هو إظهار الدين، فلا بد من التصريح بالعداوة، وتكفيرهم جهارا، والمفارقة بالبدن. ومعنى العداوة: أن تكون في عدوة، والضد في عدوة أخرى.كان أصل البراءة: المقاطعة بالقلب واللسان والبدن.

اس بیان پر غور کیجئے جس کے بعد کوئی بیان نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿بَدَا بَیْنَنَا﴾’’ظاہر ہوچکی‘۔ یعنی ظاہر ہے یہ ہے اظہار دین چنانچہ دشمنی کی صراحت کرنا اور انہیں اعلانیہ کافر قرار دینا اور ان سے جسمانی (ظاہری) تعلقات ختم کرلینا ضروری ہے۔ اور دشمنی کا معنی ہے کہ آپ ایک حالت میں دشمنی میں ہوں اور مخالف دشمنی کی اس سے مخالف حالت میں ہوجیسا کہ براءت کی بنیاد دل، زبان اور ہاتھ کے ذریعے قطع تعلق ہے۔


[الدرر السنية في الأجوبة النجدية، ج: ٨، ص: ٣٠٥]

شیخ سلیمان بن سحمان رحمہ اللہ سورۃ الممتحنۃ کی اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں:

فهذه هي ملة إبراهيم، التي قال الله فيها {ومن يرغب عن ملة إبراهيم إلا من سفه نفسه} [سورة البقرة آية: ١٣٠] . فعلى المسلم أن يعادي أعداء الله، ويظهر عداوتهم، ويتباعد عنهم كل التباعد، وأن لا يواليهم، ولا يعاشرهم

یہ وہ ملت ابراہیم علیہ السلام ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ’’اورملت ابراہیم سے منہ نہیں موڑتا مگر وہی جس نے خود کو بے وقوف بنا رکھا ہو‘‘۔ [بقرہ:۱۳۰] چنانچہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں سے دشمنی کرے اور ان سے اس دشمنی کا اظہار کرے اور ان سے مکمل طور پر الگ (دور) ہوجائے اور ان سے تعلقات، معاشرت، میل جول نہ رکھے۔


[الدرر السنية في الأجوبة النجدية، ج:٨، ص: ٤٦٣]

طاغوت کے ساتھ کفر کرنے کے طریقے کو مجمل طور پر تین صورتوں میں بیان کیا جاسکتا ہے:

  1. مشرکوں، مرتدوں اور ان کے طاغوتوں سے اعلان براءت کرکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡکُمۡ وَ مِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ﴾’’ہم تم سے اور اللہ کے سوا تمہارے معبودوں سے یقینا بیزا ر ہیں‘‘۔
  2. طاغوتوں اور ان کے نظاموں اور ان کی مجلسوں اور ان کے قوانین اور ان کے دستوروں کے ساتھ اعلان کفر کرکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿کَفَرْنَا بِکُمْ﴾’’ہم تمہارے ساتھ کفر کرتے ہیں‘‘۔
  3. ان سے اور ان کی مختلف کفریہ حالتوں اور کوششوں اور کفریہ کیفیات سے دشمنی اور نفرت کو ظاہر کرکے اور ان کے خلاف ہاتھ یا زبان کے ذریعے حتی الامکان جہاد کرکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿وَ بَدَا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃُ وَ الۡبَغۡضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗۤ﴾’’اور ہمارے اور تمہارے مابین ہمیشہ کے لئے دشمنی اور نفرت ظاہر ہوچکی ہے حتیٰ کہ تم اللہ وحدہ پر ایمان لے آؤ‘‘۔
 
Top