• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طاہرالقادری کے پیچھے عید کی نماز ادا کرنے والوں کی نماز نہیں ہوئی، قاری حنیف جالندھری

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,783
پوائنٹ
1,069
طاہرالقادری کے پیچھے عید کی نماز ادا کرنے والوں کی نماز نہیں ہوئی، قاری حنیف جالندھری



اسلام آباد: وفاق المدارس کے جنرل سیکریٹری قاری حنیف جالندھری نے کہا ہےکہ طاہرالقادری کے پیچھے عید کی نماز ادا کرنے والوں کی نماز نہیں ہوئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کےمطابق قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ ڈی چوک پر ڈاکٹر طاہرالقادری کی امامت میں نماز عید ادا کرنے والوں کی نماز نہیں ہوئی ہے کیونکہ طاہرالقادری نے نماز کے دوران رکوع اور سجود اشاروں کے ذریعے ادا کیے جبکہ ان کے پیچھے مقتدی صحت مند تھے جنہوں نے باقاعدہ رکوع اور سجود ادا کیے جس سے شرعی مسئلے کے تحت معذور امام کی اقتدا میں صحت مند مقتدیوں کی نماز ادا نہیں ہوتی۔ قاری حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیچھے نماز عید ادا کرنے والے افراد اللہ کے حضور معافی مانگیں اور توبہ استغفار کریں کیونکہ ان کی عید کی نماز ادا نہیں ہوئی ہے۔

دوسری جانب ادارہ منہاج القرآن کے مفتی اعلیٰ عبدالقیوم ہزاروی نے قاری حنیف جالندھری کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمہ نے اپنے آخری ایام میں بیٹھ کر امامت فرمائی اور معذور امام کے پیچھے نماز جائز اور سنت سے ثابت ہے۔

 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,783
پوائنٹ
1,069
عاجز امام كے پيچھے نماز ادا كرنا

كيا كرسى پر بيٹھ كر امامت كروانے والے شخص كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے ؟ ميرا مقصد يہ ہے كہ وہ درج ذيل صورتوں ميں نماز پڑھاتا ہے:

كھڑے ہو كر تكبير تحريمہ كہے اور قيام بھى كھڑے ہو كر كرے اور پھر ركوع كرنے كے بعد كرسى پر بيٹھ جائے اور جھك كر سجدہ كرے، اور پھر كرسى پر ہى جلسہ استراحت كرنے كے بعد دوسرا سجدہ بھى كرسى پر بيٹھے ہوئے ہى كرے اور پھر دوسرى ركعت كے ليے تكبير كہے.

اور كيا اس كے پيچھے ( اس حالت ميں نماز ادا كر رہا ہو ) اقتدا كرنے والوں كا اجروثواب ضائع ہو جائيگا، حالانكہ وہ مكمل نماز سارى حركات كے ساتھ ( طبعى صورت ميں نماز ) ادا كرتے ہيں ؟


الحمد للہ:

سوال ميں مذكورہ صورت ميں امام كے ليے لوگوں كى امامت كروانا جائز ہے، جيسا كہ اس كے ليے بيٹھ كر نماز كى امامت كروانا جائز ہے، امام ابو حنيفہ، امام شافعى، امام احمد رحمہم اللہ كا مسلك يہى ہے.

اس كے پيچھے نماز ادا كرنے والے مقتديوں كى حالت امام كى حالت ميں مختلف ہو گى.

پہلى حالت:

اگر امام بيٹھ كر نماز كى ابتدا كرتا ہے تو اس كى اقتدا ميں نماز ادا كرنے والے بھى بيٹھ كر نماز ادا كرينگے.

پہلى حالت كے دلائل:

1 - ام المومنين عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيمارى كى حالت ميں ان كے گھر ميں نماز پڑھى تو بيٹھ كر نماز ادا كى اور ان كے پيچھے لوگوں نے كھڑے ہو كر نماز ادا كرنا شروع كى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں بيٹھ كر نماز ادا كرنے كا اشارہ كيا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" يقينا امام اس ليے بنايا گيا ہے كہ اس كى اقتدا كى جائے، چنانچہ جب وہ ركوع كرے تو تم ركوع كرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم اٹھاؤ، اورجب وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے تو تم بھى بيٹھ كر نماز ادا كرو "
صحيح بخارى كتاب الاذان ( 657 ).

2 - انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم گھڑ سوارى كى تو گھوڑے سے گر گئے اور آپ كا داياں پہلو زخمى ہو گيا چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز بيٹھ كر پڑھائى اور ہم نے ان كے پيچھے بيٹھ كر نماز ادا كى، جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے فرمانے لگے:

" يقينا امام اقتدا كرنے كے ليے بنايا گيا ہے، چنانچہ جب وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے تو تم بھى بيٹھ كر نماز ادا كرو، اور جب وہ ركوع كرے تو تم ركوع كرو اور جب سر اٹھائے تو تم اٹھاؤ، اور جب سمع اللہ لمن حمدہ كہے تو تم ربنا و لك الحمد كہو، اور جب وہ بيٹھ كر نماز ادا كرے تو تم سب بھى بيٹھ كر نماز ادا كرو "
صحيح بخارى كتاب الاذان حديث نمبر ( 648 ).

دوسرى حالت:

جب امام كھڑے ہو كر نماز شروع كرے اور دوران نماز اسے كوئى مشكل پيش آ جائے جس سے وہ قيام كرنے سے عاجز ہو جائے تو اس كے پيچھے نماز ادا كرنے والے كھڑے ہو كر نماز مكمل كرينگے.
اس حالت كى دليل يہ ہے كہ:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيمارى كى بنا پر كمزور ہو گئے اور فرمانے لگے كيا لوگوں نے نماز ادا كر لى ہے تو ہم نے نفى ميں جواب ديا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ميرے ليے برتن ميں پانى ركھو.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں انہوں نے غسل كيا اور جانے كے ليے اٹھے تو بے ہوش ہو گئے، پھر كچھ دير بعد ہوش آيا تو فرمانے لگے كيا لوگوں نے نماز ادا كر لى ہے؟

ہم نے عرض كيا نہيں اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم وہ تو آپ كا انتظار كر رہے ہيں، انہوں نے فرمايا: ميرے ليے برتن ميں پانى ركھو، عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں انہوں نے بيٹھ كر غسل كيا پھر جانے كے ليے اٹھے تو بے ہوشى طارى ہو گئى، پھر كچھ دير بعد ہوش ميں آئے تو كہنے لگے:

كيا لوگوں نے نماز ادا كر لى ہے ؟ تو ہم نے عرض كيا نہيں اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم وہ تو آپ كا انتظار كر رہے ہيں، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ميرے ليے برتن ميں پانى ركھو، چنانچہ انہوں نے بيٹھ كر غسل كيا اور پھر جانے كے ليے اٹھے تو غشى طارى ہو گئى پھر افاقہ ہوا تو فرمانے لگے:
كيا لوگوں نے نماز ادا كر لى ہے ؟ تو ہم نے عرض كيا نہيں اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم لوگ تو مسجد ميں بيٹھے عشاء كى نماز ادا كرنے كے ليے نبى كا انتظار كر رہے ہيں، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى طرف پيغام بھيجا كہ وہ لوگوں كو نماز پڑھائيں.

چنانچہ پيغام لانے والا شخص آيا اور كہنے لگا: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم آپ كو نماز پڑھانے كا حكم دے رہے ہيں، تو ابو بكر رضى اللہ تعالى بہت ہى رقيق القلب شخص تھے كہنے لگے: اے عمر آپ لوگوں كو نماز پڑھائيں تو عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے انہيں كہا: اے ابو بكر آپ اس كے زيادہ حقدار ہيں چنانچہ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے لوگوں كو ان ايام ميں نماز پڑھائى، پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو كچھ افاقہ ہوا اور آپ نے حالت بہتر پائى تو دو آدميوں كے درميان ظہر كى نماز كے ليے نكلے جن ميں سے ايك عباس رضى اللہ تعالى عنہ تھے، اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ لوگوں كو نماز پڑھا رہے تھے جب ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ديكھا تو پيچھے ہٹنا چاہا، چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں اشارہ كيا كہ وہ پيچھے مت ہٹيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: مجھے اس كے پہلو ميں بٹھا دو تو ان دونوں نے ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كے پہلو ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو بٹھا ديا.

راوى كہتے ہيں: تو ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ نماز پڑھا رہے تھے اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اقتدا كر رہے اور لوگ ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى اقتدا كر رہے تھے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيٹھے ہوئے تھے "
صحيح بخارى كتاب الاذان حديث نمبر ( 655 ).

حديث سے استدلال يہ ہے كہ:

ابو بكر رضى اللہ تعالى نے نماز شروع كى تو وہ كھڑے ہو كر نماز پڑھا رہے تھے، پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تشريف لے آئے اور بيٹھ كر وہيں سے نماز پڑھانى شروع كى جہاں ابو بكر رضى اللہ تعالى نے چھوڑى تھى، اور صحابہ كرام رضى اللہ تعالى عنہم ان كے پيچھے كھڑے ہو كر نماز ادا كر رہے تھے، جو اس بات كى دليل ہے كہ اگر امام نے نماز كھڑے ہو كر شروع كى ہو اور دوران نماز اسے كوئى مشكل پيش آ جائے جس كى بنا پر وہ كھڑا ہونے سے عاجز ہو تو مقتدى اس كے پيچھے كھڑے ہو كر ہى نماز ادا كريں گے.

اس سے نماز ميں كوئى نقص پيدا نہيں ہوتا، اور ان شاء اللہ نہ ہى بركت ضائع ہوتى ہے.

واللہ تعالى اعلم

كتاب احكام الامامۃ والائتمام فى الصلاۃ للمنيف كا مطالعہ كريں ( 112 - 116 ).
اور صحيح بخارى كى شرح فتح البارى بھى ديكھيں: ( 2 / 174 ).

واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,783
پوائنٹ
1,069
مشرک بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
شروع از Muhammad Asif بتاریخ : 28 February 2013 12:11 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مشرک بدعتی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث شریف میں ہے فلیؤمکم خیارکم صالح عمل انسان امامت کرائے اس لیے مستقل امام پابند سنت چاہے مشرک و بدعتی درست نہیں اگر اس کا اشراک ابتداء سے واضح ہے تو پھر اس کی اقتداء ہر گز نہ چاہیے نماز نہ ہو گی۔ ہاں اگر کبھی کبھار اتفاقی طور پر ایسے امام سے پالا پڑ جائے تو طوہاً کرہاً اقتدا کر لینی چاہیے حدیث پاک میں ہے۔
«صَلّوا خلفَ کل برّو فاجر» ’’ہر ایک نیک و بد فاجر کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘
یہ گاہے ماہے کے لیے اجازت ہے۔ (اہل حدیث سوہدرہ جلد نمبر ۱۳ شمارہ نمبر ۱۴)
فتاویٰ علمائے حدیث

 
Top