• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

طہارت کا بیان

شمولیت
اپریل 13، 2019
پیغامات
76
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
41
طہارت کا بیان


طہارت ایمان کا حصہ ہے اس کی دلیل یہ حدیث مبارکہ ہےَ:

ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے (جن کا نام حارث یا عبید یا کعب بن عاصم یا عمرو ہے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر: ۵۳۴)

طہارت نماز کے لیے شرط ہے اس کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی دلیل:

سیدنا مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ابن عامر کے پاس آئے وہ بیمار تھے ان کے پوچھنے کو۔ ابن عامر نے کہا: اے ابن عمر! تم میرے لئے دعا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اللہ نہیں قبول کرتا نماز کو بغیر طہارت کے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر:۵۳۵)

قضائے حاجت کے مسائل:

جو شخص بیت الخلا جانے لگے تو یہ دعا پڑھے:

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: ”اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں“ ۱؎۔(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر:۲۹۶)

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الطہارة 3 (6)، (تحفة الأشراف: 3685)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 373) (صحیح)

سنن ابی داود میں یہ حدیث کچھ اس طرح ہے۔

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔‏‏‏‏“(سنن ابی داود حدیث نمبر:۶)

فوائد و مسائل

➊ یہ خبر امور غیبیہ میں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے اور تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبروں پر من وعن اور بلا چون و چرا ایمان لائیں۔
➋ معلوم ہوا کہ اس دعا کی پابندی سے انسان کئی طرح کی ظاہری و باطنی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے، اور آج کل جو گھر گھر میں جنوں اور آسیب کے حملوں کا چرچا ہے اس کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ خود ناپاک رہتے ہیں یا اس سنت مطہرہ کے تارک ہوتے ہیں۔ «اعاذنا الله منها»

جب بیت الخلا سے نکلے تو یوں کہے:ؒ

ابوبردہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء (پاخانہ) سے نکلتے تو فرماتے تھے: «غفرانك» ”اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں“۔(سنن ابی داود حدیث نمبر:۳۰)

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 5 (7)، سنن النسائی/الکبری (9907)، الیوم واللیلة (79)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 10 (300)، (تحفة الأشراف: 17694)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة (17/707) (صحیح)» ‏‏‏‏

فوائد و مسائل:
علاوہ ازیں اور بھی دعائیں آئی ہیں مگر یہ حدیث اور دعا دیگر دعاؤں کے مقابلے میں سند کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ اس دعا کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ یہ وقت اللہ کے ذکر کے بغیر گزرتا ہے اس لیے اس پر استغفار کی تعلیم دی گئی ہے۔

اگر کھلی جگہ پر ہو تو مستحب یہ ہے کہ دور چلا جائے حتہ کے اوجھل ہو جائے:

مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ قضائے حاجت کے لیے نکلے تو بہت دور نکل گئے ۱؎۔(سنن ترمذی حدیث نمبر:۲۰)

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/ الطہارة (1) سنن النسائی/الطہارة 16 (17) سنن ابن ماجہ/الطہارة 22 (331) سنن ابی داود/ الطہارة 4 (686) (تحفة الأشراف: 7540) مسند احمد (4/244) (صحیح)»

فوائد و مسائل
➊ دیہات میں یعنی کھلے علاقے میں قضائے حاجت کے لیے آبادی سے دور جانا ضروری ہے تاکہ کسی شخص کی نظر نہ پڑے۔ شہروں میں چونکہ باپردہ بیت الخلاء بنے ہوتے ہیں، اس لیے وہاں دور جانے کی ضرورت نہیں۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک انسانی اور اسلامی فطرت کا آئینہ دار ہے جس میں شرمگاہ کو انسانی نظر سے محفوظ رکھنے کے علاوہ ماحول کی صفائی ستھرائی کے اہتمام کا بھی درس ملتا ہے اور مزید یہ کہ آبادی کے ماحول کو کسی طرح بھی آلودہ نہیں ہونا چاہیے۔
➌ نیز آپ حیا و وقار کا عظیم پیکر تھے۔
➍ ان احادیث میں اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کی بالغ نظری بھی ملاحظہ ہو کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشست و برخاست تک کے ایک ایک پہلو کو کس دقت نظر اور شرعی حیثیت سے ملاحظہ کیا، اسے اپنے اذہان میں محفوظ رکھا اور امت تک پہنچایا۔

جب تک زمین کے قریب نا ہوجائے کپڑا نہ اٹھائے:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا (شرمگاہ سے اس وقت تک) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے۔(سنن ابی داود حدیث نمبر:۱۴)

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 892، 8597)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 10 (14)، سنن الدارمی/الطھارة (7/693) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سنن بیہقی میں ”رجل مبہم“ کی صراحت ہے کہ وہ قاسم بن محمد ہیں، اور یہ ثقہ راوی ہیں)

صحرا یا کسی کھلی جگہ و فضہ میں قضائے حاجت کے لیے قبلہ رخ بیٹھنا یا پیٹھ کرنا حرام ہے:

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے زہری نے عطاء بن یزید لیثی کے واسطہ سے، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو۔ بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو۔ ابوایوب نے فرمایا کہ ہم جب شام میں آئے تو یہاں کے بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے (جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرتے تھے اور زہری نے عطاء سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا۔ اس میں یوں ہے کہ عطاء نے کہا میں نے ابوایوب سے سنا، انہوں نے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔(صحیح بخاری حدیث نمبر:۳۹۴)

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث میں «لَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوھَا» کا حکم نہی ایسی جگہ کے لیے ہے جہاں کوئی اوٹ وغیرہ نہ ہو اور کھلا میدان ہو۔
➋ گھروں میں جہاں آدمی کے سامنے دیوار وغیرہ حائل ہو وہاں کے لیے یہ حکم نہیں ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے واضح ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز میں اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چھت پر کسی ذاتی ضرورت کے لیے چڑھا تو (کیا دیکھتا ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر رہے تھے اور اس وقت آپ کا رخ شام کی طرف تھا اور پشت بیت اللہ کی جانب۔ [صحيح مسلم، الطهارة، باب الاستطابة، حديث: 265]
➌ مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قضائے حاجت کے وقت اپنا رخ قبلے کی طرف کرے نہ پشت۔ یہ حکم اہل مدینہ کے لیے مخصوص ہے، اس لیے کہ ان کے لیے قبلہ جنوب کی طرف پڑتا ہے۔

البتہ گھروں یا تعمیر شدہ طہارت خانوں میں رخصت ہے:

ابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، (لیکن) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (قضائے حاجت کی حالت میں) قبلہ رو دیکھا ۱؎۔(سنن ابی داود حدیث نمبر:۱۳)

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 7 (9)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 18 (325)، (تحفة الأشراف: 2574) (حسن)»

لوگوں کے راستے اور سائے میں رفع حاجت حرام ہے:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچو تم لعنت کے دو کاموں سے۔“ (یعنی جن کی وجہ سے لوگ تم پر لعنت کریں) لوگوں نے کہا: وہ لعنت کے دو کام کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تو راہ میں (جدھر سے لوگ جاتے ہوں) پائخانہ کرنا، دوسری سایہ دار جگہ (جہاں لوگ بیٹھ کر آرام کر لیتے ہوں) پائخانہ کرنا۔“ (ان دونوں کاموں سے لوگوں کو تکلیف ہو گی اور وہ برا کہیں گے لعنت کریں گے)۔(صحیح مسلم حدیث نمبر:۶۱۸)

غسل خانے میں پیشاب کرنا منع ہے:

حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا تھا، اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ۲؎، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں۔(سنن النسائی حدیث نمبر:۲۳۹)

تخریج الحدیث: «سنن ابی داود/الطھارة 15 (28)، 40 (81)، (تحفة الأشراف: 15554، 15555)، مسند احمد 4/110، 111، 5/369 و یأتي عند المؤلف برقم: 5057 (صحیح)»

فوائد و مسائل:

´جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔`
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا تھا، اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ۲؎، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 239]

239۔ اردو حاشیہ:
➊ ہر روز کنگھی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص کی ضرورت سے زیادہ تزئین کی طرف توجہ ہے جب کہ یہ چیز بہت سی معاشرتی اور اخلاقی خرابیوں کی بنیاد ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، کہتے ہیں: «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن الترجل الاغبا» [سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4159]
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے مگر ایک دن چھوڑ کر۔“ یعنی بلاناغہ روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کی سند میں اگرچہ خفیف سا ضعف ہے لیکن یہ سنن نسائی کے درج ذیل روایت سے ختم ہو جاتا ہے جس کی صحت کو محقق کتاب نے بھی تسلیم کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی مصر پر مقرر گورنر (عامل) کے ہاں تشریف لے گئے اور وہ بھی صحابیٔ رسول تھے۔ دیکھتے ہیں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں، پوچھا: کیا وجہ ہے، آپ کو پراگندہ حال دیکھتا ہوں جبکہ آپ امیر ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: «کان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینھانا عن الارفاہ، قلنا: وما الارفاہ؟ قال: الترجل کل یوم» [سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5061]
”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ”إرفاہ“ سے روکا کرتے تھے، ہم نے کہا: ”إرفاہ“ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: روزانہ کنگھی کرنا۔“ اس حدیث میں بھی روزانہ کنگھی کرنے سے ممانعت کا ذکر ہے، خصوصاً اس نہی کی وجہ سے صحابیٔ رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بھی باوجود یکہ عظیم عہدے پر فائز تھے روزانہ کنگھی نہیں کرتے تھے، حالانکہ انہیں بال بڑے ہونے کی وجہ سے اس کی اشد ضرورت بھی تھی۔ یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ روزانہ کنگھی کرنا ممنوع ہے اور اس میں ایک درجہ زہد و ورع کا بھی پہلو نمایاں ہے جو یقیناًً ایسے افراد کے لیے مطلوب ہے کیونکہ اکثر اوقات اسی بناؤ سنگھار میں لگے رہنا کم از کم دیندار لوگوں کا شیوہ نہیں ہے، نیز اس میں ممانعت عام ہے جو امت کے ہر فرد کو شامل ہے۔ اس ممانعت میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں، تخصیص کی دلیل معلوم نہیں جبکہ جمہور علمائے کرام اس نہی کو زجرو توبیخ پر محمول کرتے ہیں کہ اس سے مراد اکثر و بیشتر اسی عمل میں مصروف رہنا قابل مذمت ہے نہ کہ اس سے حقیقی حرمت مراد ہے کہ انسان روزانہ کنگھی نہیں کر سکتا۔ بہرحال احادیث کے ظاہر اور صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ممانعت ہی ثابت ہوتی ہے۔ واللہ أعلم۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 501]
➋ غسل خانے میں پیشاب سے متعلق دیکھیے: حدیث 36۔ اگلی حدیث میں جنبی کے غسل سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا اثبات ہوتا ہے، اس لیے اس حدیث میں اس سے ممانعت استحباب پر محمول ہو گی، یعنی اس سے بچنا بہتر ہے، تاہم استعمال کرنا جائز ہے۔

کھڑے پانی میں پیشاب کرنا حرام ہے:

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھمے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے۔(صحیح مسلم حدیث نمبر:۶۵۵)

پیشاب کے چھینٹوں سے بچنا واجب ہے:

ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ مجاہد سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کی) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے (ایک ایک ٹکڑا) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہو جائے۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر:۲۱۶)

دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا منع ہے:

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے یحییٰ بن کثیر کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنا عضو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ پکڑے، نہ داہنے ہاتھ سے طہارت کرے، نہ (پانی پیتے وقت) برتن میں سانس لے۔(صحیح بخاری حدیث نمبر:۱۵۴)

فوائد و مسائل:
➊ جب استنجاء جیسی اہم ضرورت کے وقت دائیں ہاتھ سے شرم گاہ کو چھونا یا اسے پکڑنا منع ہے تو عام حالات میں اور زیادہ بچنا چاہیے۔ عورتیں بھی اسی حکم کی پابند ہیں۔
➋ کوئی چیز پینے کا شرعی ادب یہ ہے کہ اسے تین سانس میں پیا جائے۔

(جمع و ترتیب: احقر جلال الزامان)
 

اٹیچمنٹس

Top