• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عالمِ حیاتیات کے دلچسپ حقائق!

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جنوں کی زمین میں موجودگی کے بعد قرآن مجید میں جس جاندار کا اس دنیا میں ذکر ملتا ہے وہ حضرتِ انسان ہی ہیں(گرچہ سائینس دان کہتے ہیں کہ پہلے یک خلیہ جاندار۔۔یونی سیلولر جاندار وجود میں آئے اور پھر رفتہ رفتہ پیچیدہ ملٹی سیلولر ۔۔ایک سے زیادہ سیلز والےجاندار)
بہرحال۔۔انسان کی فطرت میں تجسس کا عنصر پنہاں ہیں۔۔وہ انسان جس نے زمین پر غور کیا۔۔اپنی خوراک کی فکر کی۔۔شکار کے ذرائع دریافت کیے اور پھر پتھروں سے چنگاریوں کا نکلنا تلاش کیا۔۔اس کی فطرت میں اپنی ذات متعلق تجسس کتنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہو گا؟
اسی تجسس اور شوق کی تکمیل کو اس نے اپنے آپ کو اور ارد گرد جانداروں کو جانچا،پرکھا!!اور جدید دور میں اس کی ان کاوشوں،کوششوں کا نتیجہ ایک الگ علم کے طور پر نکلا!
ابتدا میں تمام سائینسی علوم "سائینس"کے نام سے جانے جاتے تھے۔۔جوں جوں تحقیق کے رستے دریافت ہوئے۔۔سائینس مختلف شعبہ جات میں تقسیم ہوتی گئی۔۔۔انہیں شعبوں میں ایک اہم شعبہ اور شاخ"بائیولوجی" کی ہے۔۔(جسے اردو میں حیاتیات کہا جاتا ہے۔۔حیات :زندگی)۔۔لفظ بائیولوجی دو لاطینی (سائینسی اصطلاحات کی ایک نمایاں تعداد لاطینی اور یونانی الفاظ پر مشتمل ہے)الفاظ پر مشتمل ہے۔
1)بائیوس:زندگی
2)لوگوس:مطالعہ،بحث
یعنی زندگی کا مطالعہ۔۔وہ زندگی چاہے پودے کی ہو ،جانور کی یا حضرتِ انسان کی!۔۔ہر جاندار کی زندگی کا سائینسی مطالعہ بائیولوجی کے شعبے میں کیا جاتا ہے!!
اس دھاگہ میں ہم عموم سے ہٹ کر بائیولوجی کے چند دلچسپ حقائق بیان کریں گے۔۔۔تا کہ حضرتِ انسان اپنے خالق کی بے مثال تخلیق سے آگاہی حاصل کر سکے!
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
ایک جاندار (خواہ وہ پودا ہے،جانور یا جاندار) کےجسم کی بنیادی اکائی"سیل"(خلیہ) ہے۔(جس طرح کپڑے کی بنیادی اکائی دھاگہ)
ایک بالغ انسانی جسم تقریبا ساٹھ ٹریلین (60,000,000,000,000)سیلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر سیل میں دیگر اعضاء کے ساتھ ساتھ ایک اہم حصہ D.N.A نامی جینیاتی مادے کا ہوتا ہے(گرچہ میچور ریڈ بلڈ سیلز اور جلد کے کورنیافائیڈ سیلز D.N.A کے حامل نہیں ہوتے تا ہم ان کی ابتدا D.N.A سے ہوتی ہے)۔
ایک D.N.A ایک ڈیٹا لائبریری ہے جس میں ڈیٹا یا معلومات کوڈ کی گئی ہیں۔۔کس طرح سے؟؟؟خود ہی اندازہ لگا لیں!
ایک سیل کےD.N.A کی معلومات سےایک ایسی لائبریری بنائی جا سکتی ہے جس میں نو سو جلدیں ہوں اور ایک جلد پانچ سو صفحات پر مشتمل ہو۔۔(خیال رہے کہ یہ صرف ایک سیل کی لائبریری ہے ایسی ساٹھ ٹریلین لائیبریریز انسانی جسم میں موجود ہیں)
900X500=450000 یعنی چار لاکھ پچاس ہزار صفحات پر مشتمل لائبریری!!!جو انسانی معلومات سے بھری ہے!اللہ اکبر۔۔اس اللہ سبحانہ وتعالٰی کے سوا کون ہے جو اس قدر بہترین تخلیق کر سکتا ہے؟؟؟کوئی نہیں ۔۔وہی ایک ذات۔۔تعریفات کے لائق ہے!!

عموما ڈیٹا سٹوریج اٹھارویں صدی کے سائینسدانوں کی ایجاد(کمپیوٹر،میگنیٹک ٹیپ،ہارڈ ڈسک،سی ڈی،میموری کارڈ،فلیش)سمجھی جاتی ہے۔۔جبکہ اللہ سبحانہ وتعالٰی نے اس قدر زبردست اور پیچیدہ ڈیٹا سٹوریج ،پروگرامنگ اس ایجاد کرنے والے انسان کے اپنے اندر (بقولِ سائینس دان) ساڑھے چار ارب سال سے ترتیب دے رکھا ہے!!سبحان الخالق
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
جزاک اللہ بہت اچھا تھریڈ بنا یا ہے، کیا اس بارے میں کوئی شرعی دلیل موجود ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان کسی اور مخلوق کو پیدا نہیں کیا گیا؟
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
جزاک اللہ بہت اچھا تھریڈ بنا یا ہے، کیا اس بارے میں کوئی شرعی دلیل موجود ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان کسی اور مخلوق کو پیدا نہیں کیا گیا؟
میرے علم میں نہیں۔۔کوئی اہلِ علم ہی رہنمائی کر سکتا ہے۔۔بہرحال میرا نقطہ قرآن مجید تھا!!
جنوں کی زمین میں موجودگی کے بعد قرآن مجید میں جس جاندار کا اس دنیا میں ذکر ملتا ہے وہ حضرتِ انسان ہی ہیں
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
انسانی چہرہ کم از کم 21مختلف تاثرات(خوشی،غصہ،پریشانی،جنجھلاہٹ۔۔وغیرہ وغیرہ) کا اظہار کر سکتا ہے!(پرانی تحقیق کے مطابق انسان محض چھ تاثرات دے سکتا ہے)
جن میں نو تاثر بنیادی ہیں۔غصہ،خوف،خوشی،اداسی،حیران کن،نفرت زدہ،نا پسندیدہ،دہشت زدہ،حیرت زدہ ہیں۔جبکہ بقیہ 12 تاثر ات درج بالا 9 تاثرات کے ملاپ سے تشکیل پاتے ہیں!
 

ابو عبدالله

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 28، 2011
پیغامات
722
ری ایکشن اسکور
448
پوائنٹ
135
بہت شکریہ بہن معلوماتی تھریڈ ہے۔
اگر ہوسکے تو ان معلومات کے مآخذ کا لنک بھی ساتھ لگاتی رہیں تاکہ اگر کوئی ممبر اس پر مزید معلومات چاہتا ہو تو دیکھ سکے۔

جزاک اللہ خیرا
 

محمد شاہد

سینئر رکن
شمولیت
اگست 18، 2011
پیغامات
2,510
ری ایکشن اسکور
6,022
پوائنٹ
447
بہت شکریہ معلوماتی تھریڈ ہے۔جزاک اللہ خیرا
 

اخت ولید

سینئر رکن
شمولیت
اگست 26، 2013
پیغامات
1,792
ری ایکشن اسکور
1,290
پوائنٹ
326
بہت شکریہ بہن معلوماتی تھریڈ ہے۔
اگر ہوسکے تو ان معلومات کے مآخذ کا لنک بھی ساتھ لگاتی رہیں تاکہ اگر کوئی ممبر اس پر مزید معلومات چاہتا ہو تو دیکھ سکے۔

جزاک اللہ خیرا
وایاک!
محترم بھائی ان معلومات کے ذرائع مختلف ہیں۔شایدتمام حوالاجات دینا میرے لیےممکن نہ ہوں کیونکہ ان میں سے کچھ مختلف کتب سے نوٹ کردہ ہیں،کتب کے نام ،مصنف یاد نہیں۔۔کبھی ایک پوسٹ پر تین چار جگہ سے معلومات اکٹھی کی ہوتی ہیں۔۔بہر حال میں کوشش کروں گی۔۔
ایک جاندار (خواہ وہ پودا ہے،جانور یا جاندار) کےجسم کی بنیادی اکائی"سیل"(خلیہ) ہے۔(جس طرح کپڑے کی بنیادی اکائی دھاگہ)
ایک بالغ انسانی جسم تقریبا ساٹھ ٹریلین (60,000,000,000,000)سیلز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر سیل میں دیگر اعضاء کے ساتھ ساتھ ایک اہم حصہ D.N.A نامی جینیاتی مادے کا ہوتا ہے(گرچہ میچور ریڈ بلڈ سیلز اور جلد کے کورنیافائیڈ سیلز D.N.A کے حامل نہیں ہوتے تا ہم ان کی ابتدا D.N.A سے ہوتی ہے)۔

ایک D.N.A ایک ڈیٹا لائبریری ہے جس میں ڈیٹا یا معلومات کوڈ کی گئی ہیں۔۔کس طرح سے؟؟؟خود ہی اندازہ لگا لیں!
ایک سیل کےD.N.A کی معلومات سےایک ایسی لائبریری بنائی جا سکتی ہے جس میں نو سو جلدیں ہوں اور ایک جلد پانچ سو صفحات پر مشتمل ہو۔۔(خیال رہے کہ یہ صرف ایک سیل کی لائبریری ہے ایسی ساٹھ ٹریلین لائیبریریز انسانی جسم میں موجود ہیں)


عموما ڈیٹا سٹوریج اٹھارویں صدی کے سائینسدانوں کی ایجاد(کمپیوٹر،میگنیٹک ٹیپ،ہارڈ ڈسک،سی ڈی،میموری کارڈ،فلیش)سمجھی جاتی ہے۔۔جبکہ اللہ سبحانہ وتعالٰی نے اس قدر زبردست اور پیچیدہ ڈیٹا سٹوریج ،پروگرامنگ اس ایجاد کرنے والے انسان کے اپنے اندر (بقولِ سائینس دان) ساڑھے چار ارب سال سے ترتیب دے رکھا ہے!!سبحان الخالق
ہائی لائیٹڈ ہارون یحیٰ(ترکی مصنف عدنان اوکتار) کی کتاب(wonders of Allah's creation) سے ماخوذ ہے۔(یہ علیحدہ بحث ہے کہ ہارون یحییٰ کن عقائد کا مالک ہے)
گوگل سرچ سے یہ اقتباس ہارون یحیٰ کی آفیشل سائیٹ سے مل سکا ہے:
http://m.harunyahya.com/tr/works/1023/Wonders-Of-Allah’s-Creation/chapter/945/The-Data-Bank-of-Our-Body-DNA
باقی سیل متعلق باتیں تو معمول کی ہیں۔۔
انسانی چہرہ کم از کم 21مختلف تاثرات(خوشی،غصہ،پریشانی،جنجھلاہٹ۔۔وغیرہ وغیرہ) کا اظہار کر سکتا ہے!(پرانی تحقیق کے مطابق انسان محض چھ تاثرات دے سکتا ہے)
جن میں نو تاثر بنیادی ہیں۔غصہ،خوف،خوشی،اداسی،حیران کن،نفرت زدہ،نا پسندیدہ،دہشت زدہ،حیرت زدہ ہیں۔جبکہ بقیہ 12 تاثرات درج بالا 9 تاثرات کے ملاپ سے تشکیل پاتے ہیں!
یہ خبر انٹرنیٹ ذرائع سے حاصل ہوئی تھی۔گوگل سرچ سے مل جائے گی!
 
Last edited:

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
ایک اور عمدہ تھریڈ!

جزاکِ اللہ خیرا!
 
Top