• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبادت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اور گوشوں پر مشتمل ہے

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
159
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
بسم الله الرحمن الرحیم

عبادت کا لغوی معنی ہے ذلیل ہونا، جھک جانا، اطاعت کرنا، دین بنانا/ماننا۔ وہ راستہ جس پر بہت زیادہ چلاجاتا ہو اور جسے بہت زیادہ روندا جاتا ہو اسے الطریق المعبد کہتے ہیں ۔[لسان العرب ۔ القاموس المحیط]

اور شرعی اصطلاح میں عبادت ہر اس ظاہری اور باطنی قول وفعل کا نام ہے جس سے اللہ محبت کرتا ہو اور اس سے راضی ہوتا ہو ۔ [العبودیۃ لابن تیمیۃ]

اور یہ اللہ تعالیٰ کی کمال درجے کی محبت کے ساتھ کمال درجے جھک جانے اور مان لینے اور قبول کرلینے کو متضمن ہو۔اور اللہ تعالیٰ کو عبادت میں اکیلا مان لینے کا لازمی تقاضا ہے کہ اسے عبادت کے تینوں ارکان میں اکیلا مان لیا جائے یعنی نسک (طریقہ، قربانی) اور تشریع (قانون سازی) اور ولایت (دوستی، تعلق) میں گویا معنی یہ ہوا کہ :

اللہ کو نسک (طریقہ، قربانی) اور شعائر تعبدیہ (عبادت والے کام) میں اکیلا مان لینا اور اللہ کو حکم (فیصلہ) اور تشریع (قانون سازی) میں اکیلا مان لینا اور اللہ کو ولایت (دوستی، تعلق) میں اکیلا مان لینا عبادت ہے۔

لہٰذا جو اللہ سے محبت کئے بغیر اس کی اطاعت کرے اور اس کے لئے جھک جائے وہ منافق ہے جس کے دل میں بغض بھی ہو اور جو اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرے لیکن بظاہر اس کی شریعت کی اطاعت نہ کرے اور اپنے آپ کو اس کے آگے جھکائے نہیں وہ زندیق کذاب (بہت بڑا جھوٹا) ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ اﷲُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ [آل عمران: ۳۱]

’’اے نبی کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے واقعی محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘
(یعنی اللہ سے محبت کا ایسا دعویٰ جو اس کی اطاعت سے خالی ہو محبت کا جھوٹا دعویٰ ہے)

ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’جو شخص طریقہ محمدیہ پر نہ ہو اور اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہو یہ آیت اس کے خلاف فیصلہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے دعویٰ میں اس وقت تک جھوٹا شمار ہوگا جب تک اپنے تمام اقوال وافعال میں شریعت محمدی اور دین نبوی کی اتباع نہ کرلے ۔‘‘

[تفسیر ابن کثیر: ۳۶۶/۱]


عبادت کی پیش کردہ تعریف سے واضح ہوتا ہے کہ عبادت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں اور گوشوں پر مشتمل ہے چنانچہ ہر وہ قول اور ہر وہ عمل اور ہر وہ عقیدہ ونظریہ جس کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے وہ عبادت کی تعریف میں داخل ہے اور عبادت اس کا احاطہ کررہی ہے اور اس پر مشتمل ہے۔

لہٰذا جب کسی بندے سے اکیلے اللہ کی عبادت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اس سے عبادت کا یہی عام معنی مراد لیا جاتا ہے یعنی اکیلے اللہ تعالیٰ کی رکوع وسجود میں عبادت کرنا، روزوں اور حج اور نذروں اور قربانیوں میں اس کی عبادت کرنا، اور پسندیدگی و ناپسندیدگی میں اور جہاد وقربانی میں اور خوف اور توکل میں اور دعا اور رجوع کرنے اور امید و آس لگانے میں اور اطاعت وجھک جانے میں اور اتباع و فیصلے اور فیصلہ چاہنے میں ایسے ہی شرعاً واجب اور مستحب اور مباح وغیرہ تمام امور میں اکیلے اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا۔

اس کی بہترین مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴾ [ذاریات: ۵۶]
’’میں نے جن اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے‘‘۔

ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے انہیں عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور ایسے ہی اس نے ان کی طرف رسولوں کو بھیجا اور اپنی کتابیں نازل کیں تاکہ وہ اس کی عبادت کریں گویا عبادت ہی وہ اصل مقصد ہے جس کی خاطر انہیں پیدا کیا گیا۔‘‘

[بدائع التفاسیر لابن القیم: ۲۴۸/۴]


ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی اس کی دلیل ہے فرمایا:

﴿قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ [الانعام: ۱۶۳]
’’اے نبی کہہ دیجئے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے ماننے والا (مسلم) ہوں۔‘‘


ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

’’اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں بتادیں کہ میرے سارے افعال اور سارے احوال اکیلے اللہ ہی کے لئے ہیں نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور کے لئے جس طرح کہ تم اس کے شریک بناتے ہو۔‘‘

[زاد المیسر: ۱۶۱/۳]

لہٰذا جس طرح عبادتی طور محض اللہ کے لئے ہیں اسی طرح بقیہ زندگی اور اس کے مختلف حالات پہلو اور گوشے بھی سارے کے سارے اکیلے اللہ ہی کے لئے ہیں حتی کہ موت کا بھی صرف اللہ کے لئے ہونا اور اللہ کی خاطر ہونا ضروری ہے نہ کہ وطن اور ملک کی خاطر نہ ہی ہمارے زمانے کے مختلف بتوں اور طاغوتوں کی خاطر (جنہوں نے لوگوں کو ان کے دین سے فتنوں میں مبتلا کر رکھا ہے) جن کی اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی ۔


نیز دین اسلام میں عبادت صرف مخصوص افعال واعمال کا نام نہیں بلکہ ایک مسلمان کا ہر ہر لمحہ عبادت ہوسکتا ہے اس بات کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَ مَآ اُمِرُوْآ اِلَّا لِیَعْبُدُوا اﷲَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ﴾ [بینۃ: ۵]
’’اور انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر صرف اس بات کا کہ وہ اللہ کی عبادت کو اسی کے لئے خالص کرنے والے ہوں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی مضبوط دین ہے۔‘‘


اس آیت میں عبادت کا حکم عام ہے اور زندگی کے تمام پہلوؤں اور گوشوں کو شامل ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عبادت کے خاص پہلوؤں یعنی نماز اور زکاۃ کا حکم دیا تاکہ اسلام میں ان کی اہمیت کو بیان کیا جائے۔

ایسے ہی نبی ﷺ نے فرمایا:

(بنی الاسلام علیٰ خمس ان یعبداﷲ ویکفر بما دونہ واقام الصلاۃ وایتاء الزکاۃ و حج البیت وصوم رمضان)
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا کے ساتھ کفر کیاجائے اور نماز کو قائم رکھنے پر اور زکاۃ ادا کرنے پر اور بیت اللہ کا حج کرنے پر اور رمضان کے روزے رکھنے پر۔‘‘ [مسلم]


یہاں نماز اور زکاۃ اور حج اور روزے کا حکم اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مکرر (دوبارہ) حکم نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ ان فرائض کو عبادت کے عام پہلوؤں میں سے خاص طور پر ذکر کرنا ہے اور عبادت کے ان خاص پہلوؤں میں سے سب سے بنیادی فریضہ توحید ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں جو بتاتے ہیں کہ اسلام میں عبادت عام ہے اور صرف عبادت کے مخصوص طور طریقوں اور افعال واعمال کا نام نہیں ہے۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس دین کی حقیقت پر گمراہی اور جہالت کے ایسے دبیز اور تاریک پردے پڑتے رہے جنہیں ایک طرف کفریہ سیکولرازم اور بے دینی گہرا اثر کرتی رہی تو دوسری جانب چند ٹکوں پر بکے ہوئے طاغوت کے مددگار اور وہ نام نہاد علماء انہیں مضبوط کرتے رہے

جنہیں طاغوتی نظام علامہ، عالم، اور مولانا کے القابات سے نواز کر کپا بناتے رہے تاکہ وہ لوگوں کو مسلسل گمراہ کئے رکھیں اور ان طاغوتی نظاموں اور حکومتوں کو جائز قرار دیتے رہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سی شرعی حقیقتوں کے حقائق مسخ ہوکر رہ گئے

اور مسخ شدہ حقائق میں سے (جنہیں گمراہ کرنے اور شبہات میں ڈالنے والے ہاتھ ہاتھوں ہاتھ لیتے رہے) ایک حقیقت ’’عبادت‘‘ بھی ہے جسے انہوں نے عبادت کے صرف ان مخصوص طور طریقوں اور اعمال وافعال میں محصور کردیا جو صرف مسجدوں اور عبادت گاہوں اور خانقاہوں میں ادا کئے جاتے ہیں

یہاں تک کہ عوام الناس کی اکثریت یہ سمجھنے لگی کہ عبادت فقط انہی طور طریقوں اور اعمال کا نام ہے اور اس کا الٹا اثر ان کے تصورات اور عقائد اور طرز زندگی پر یہ پڑا کہ وہ رکوع اور سجود میں تو اللہ کی عبادت کرنے لگے لیکن عبادت کے دیگر پہلوؤں میں غیر اللہ کو پوجنے لگے اور اپنے آپ کو شاہراہ حق پر گامزن سمجھتے رہے۔

اور اگر کوئی اس سوچ اور عمل پر انکار کرتا تو وہ اس کے انکار پر اعتراضات جڑتے اور حیران اور ششدر رہ جاتے اور کہتے کہ وہ سیاست کو بھی دین میں داخل کرنا چاہتے ہیں اور ایسے پہلوؤں کو بھی دین قرار دینا چاہتا ہے جو دین کے تابع نہیں ہیں دین الگ اور دنیا الگ ہے۔ فالعیاذ باﷲ

لہٰذا ہمارے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ عبادت میں کیا کچھ داخل ہے اور کہاں تک بندے پر بندگی (عبادت) کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے خواہ وہ اس کا اقرار کرے یا انکار، اور اسے معلوم ہو کہ کیا وہ اکیلے اللہ کی عبادت واطاعت میں لگا ہوا ہے یا مخلوق کی عبادت واطاعت کر رہا ہے؟

﴿لِّیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنْ م بَیِّنَۃٍ وَّ یَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ﴾ [انفال: ۴۲] ’’تاکہ ہلاک ہونے والا دلیل کی بنیاد پر تباہ ہو اور زندہ رہنے والا دلیل پر زندہ رہے ۔‘‘
 

غرباء

رکن
شمولیت
جولائی 11، 2019
پیغامات
85
ری ایکشن اسکور
-1
پوائنٹ
35
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ۔

عبادت سے متعلق ایک سوال کرنا تھا۔
کیا دعائے قنوت صرف ہمیں رمضان میں کرنی چاہیے؟؟؟

میں تو اس opinions سے ہوں کہ عورت اور مرد کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے؟؟
مگرایک چیز دیکھ کر حیرت ہوئی کہ چاروں ائمہ کا اس بات پر اجماع تھا کہ عورت اور مرد کی نماز میں فرق ہے؟؟؟
اس اس حوالے سے آپ کے پاس کوئی معلومات ہو تو انشاء اللہ ؟؟
 

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
159
ری ایکشن اسکور
27
پوائنٹ
28
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا دعائے قنوت صرف ہمیں رمضان میں کرنی چاہیے؟؟؟
کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ قنوت صرف نصف رمضان کے بعد ہی کرنی چاہئے، یہ موقف امام شافعی، اور امام مالک سے ایک روایت اسی کے مطابق ملتی ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

ولا يقنت في رمضان إلا في النصف الأخير , وكذلك كان يفعل ابن عمر ومعاذ القاري

"آدھا رمضان گزرنے کے بعد ہی قنوت کی جائے گی، یہی عمل ابن عمر ، اور معاذ القاری کا تھا"

[مختصر المزنی، مطبوع مع الأم ، ۸/۱۱۴]

اور الباجی کہتے ہیں کہ:


وعن مالك في ذلك روايتان : إحداهما : نفي القنوت في الوتر جملة وهي رواية ابن القاسم وعلي

"امام مالک سے اس بارے میں دو روایات ہیں: پہلی یہ ہے کہ: انہوں نے وتروں میں قنوت کا یکسر انکا ر کیا ہے، اس بات کو ان سے ابن القاسم اور علی نے نقل کیا ہے۔

والثانية : أن ذلك مستحب في النصف الآخر من رمضان وهي رواية ابن حبيب عن مالك وبه قال الشافعي .

دوسری یہ ہے کہ: نصف رمضان کے بعد مستحب ہے، یہ بات اُن سے ابن حبیب نے نقل کی ہے، اور اسی کے امام شافعی بھی قائل ہیں"

[المنتقى، ۱/۲۱۰]


جبکہ ابو حنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ پورے رمضان میں قنوت کی جاسکتی ہے، بلکہ پورا سال وتروں میں قنوت کی جاسکتی ہے۔

چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

القنوت مسنون في الوتر , في الركعة الواحدة , في جميع السنة . هذا المنصوص عند أصحابنا , وهذا قول ابن مسعود , وإبراهيم , وإسحاق , وأصحاب الرأي . وروي ذلك عن الحسن.


وعن أحمد رواية أخرى , أنه لا يقنت إلا في النصف الأخير من رمضان ، وروي ذلك عن علي ، وأبيّ ، وبه قال ابن سيرين , وسعيد بن أبي الحسن , والزهري , ويحيى بن وثاب , ومالك والشافعي واختاره أبو بكر الأثرم ; لما روي عن الحسن , أن عمر جمع الناس على أبي بن كعب , فكان يصلي لهم عشرين ليلة , ولا يقنت إلا في النصف الثاني . رواه أبو داود , وهذا كالإجماع .

وقال قتادة : يقنت في السنة كلها إلا في النصف الأول من رمضان ; لهذا الخبر , وعن ابن عمر أنه لا يقنت إلا في النصف الأخير من رمضان .

وعنه لا يقنت في صلاة بحال .

والرواية الأولى هي المختارة عند أكثر الأصحاب . وقد قال أحمد , في رواية المروذي : كنت أذهب إلى أنه في النصف من شهر رمضان , ثم إني قنت , هو دعاء وخير . ووجهه ما روي عن أبي , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر , فيقنت قبل الركوع . وعن علي رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في آخر وتره : اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك , وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك , وأعوذ بك منك , لا أحصي ثناء عليك , أنت كما أثنيت على نفسك . وكان للدوام , وفعل أبيّ يدل على أنه رآه . ولا ينكر اختلاف الصحابة في هذا , ولأنه وتر , فيشرع فيه القنوت , كالنصف الآخر , ولأنه ذكر يشرع في الوتر , فيشرع في جميع السنة , كسائر الأذكار

"وتروں کی ایک رکعت میں قنوت پورا سال کرنا سنت ہے، ہمارے [حنبلی] احباب کے ہاں یہی موقف صراحت سے لکھا ہوا ہے، یہ قول ابن مسعود، ابراہیم، اسحاق، اصحاب الرائے ، اور حسن سے بھی مروی ہے۔


امام احمد سے ایک دوسری روایت ہے کہ صرف نصف رمضان کے بعد ہی قنوت کی جائے، یہ موقف علی، ابی بن کعب سے منقول ہے، اسی کے ابن سیرین، سعید بن ابی الحسن، زہری، یحیی بن وثاب، مالک، اور شافعی قائل ہیں، اسی کو ابو بکر اثرم نے اختیار کیا ہے؛ اسکی دلیل میں حسن بصری نے بیان کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کی امامت میں اکٹھا کردیا، تو انہوں نے بیس راتوں میں قیام کروایا، اور صرف دوسرے نصف میں ہی قنوت کی ۔ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے، اور اس طرح اس موقف پر اجماع کہنا ممکن ہے۔

قتادہ کہتے ہیں:

[مذکورہ بالا ابی بن کعب کی ] روایت کی وجہ سےرمضان کے پہلے نصف کو چھوڑ کر پورے سال میں قنوت کی جاسکتی ہے، ابن عمر سے منقول ہے کہ وہ رمضان کے صرف آخری نصف میں ہی قنوت کیا کرتے تھے۔

ان سے یہ بھی منقول ہے کہ [عام]نماز وں میں کسی صورت میں بھی قنوت نہیں کی جاسکتی۔

پہلی روایت ہی اکثر [حنبلی]احباب نے اختیار کی ہے، جبکہ امام احمد سے مروذی کی روایت کے مطابق یہ بھی منقول ہے کہ:

"میں اس بات کا قائل تھا کہ قنوت نصف رمضان کے بعد ہی ہے، پھر میں بھی قنوت کرنے لگا، کیونکہ یہ دعا اور اچھا کام ہے، اسکی وجہ ابی بن کعب کی روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے اور رکوع سے قبل قنوت کرتے تھے، اسی طرح علی رضی اللہ عنہ کی روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں کہا کرتے تھے: (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ)ترجمہ"یا اللہ! میں تیری رضا کے صدقے تیری ناراضگی سے پناہ چاہتا ہوں، تیری معافی کے بدلے تیری سزا سے پناہ چاہتا ہوں، میں تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں، میں تیری ثناخوانی ایسے نہیں کرسکتا، جیسے توں نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے"مذکورہ دونوں احادیث میں ہے (کان) کا لفظ استعمال ہوا ہے جو کہ دوام اور ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے، اسی طرح ابی بن کعب نے قنوت کی یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قنوت کرتے ہوئے دیکھا تھا، [اگرچہ ]اس بارے میں صحابہ کرام کی مختلف آراء سے بھی انکا ر نہیں کیا جاسکتا،[لیکن پھر بھی پورے سال کی طرح یہ بھی] وتر ہی ہیں، اس لئے رمضان میں قنوت جائز ہونے کی طرح دیگر ایام میں بھی جائز ہوگی، جس طرح دیگر [نماز کیساتھ مخصوص] اذکار بھی سارا سال نماز میں پڑھے جاسکتے ہیں"

[المغنی، ۱/۴۴۷]


مگرایک چیز دیکھ کر حیرت ہوئی کہ چاروں ائمہ کا اس بات پر اجماع تھا کہ عورت اور مرد کی نماز میں فرق ہے؟؟؟
اس کا حوالہ پیش کریں؟ یہ اجماع کس نے اور کہاں نقل کیا ہے؟

اس اس حوالے سے آپ کے پاس کوئی معلومات ہو تو انشاء اللہ ؟؟
اس مسئلہ ميں صحيح يہ ہے كہ مرد اور عورت كى نماز ميں كوئى فرق نہيں

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

صلوا كما رأيتموني أصلي

" تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے "

[رواہ البخارى]

علامہ البانى كہتے ہيں:

كل ما تقدم من صفة صلاته صلى الله عليه وسلم يستوي فيه الرجال والنساء ولم يرد في السنة ما يقتضي استثناء النساء من بعض ذلك ، بل إن عموم قوله صلى الله عليه و سلم : " صلوا كما رأيتموني أصلي " يشملهن.

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى نماز كے طريقہ ميں جو كچھ بيان كيا گيا ہے اس ميں مرد اور عورت برابر ہيں، سنت نبويہ ميں كوئى بھى دليل نہيں ملتى جو يہ تقاضا كرتى ہو كہ اس ميں سے كچھ ميں عورتيں مستثنى ہيں بلكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان:

صلوا كما رأيتموني أصلي
" تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے "

عورتوں كو بھى شامل ہے. "

[صفة صلاة النبي، ۱۸۹]

شيخ محمد بن عثيمين كہتے ہيں:

قول الفقهاء : المرأة لا تجافي بل تضم نفسها ، فإذا سجدت تجعل بطنها على فخذيها ، وفخذيها على ساقيها ... لأن المرأة ينبغي لها الستر ، وضمها نفسها أستر لها مما لو جافت


فقھاء كا قول ہے : عورت كشادہ نہ ہو بلكہ اپنے آپ كو سميٹ كر ركھے اور جب سجدہ كرے تو اپنا پيٹ اپنى رانوں پر اور اپنى رانيں اپنى پنڈليوں كے ساتھ لگائے ركھے... كيونكہ عورت كے ليے ستر لازمى ہے، اور اس كے ليے اپنا آپ سميٹ كر ركھنا كشادہ ہونے سے زيادہ ستر كا باعث ہے.

پھر شيخ ابن عثيمين اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:

والجواب على هذا من وجوه
اس كا جواب كئى ايک وجوہات كى بنا پر ہے:


اول:

أن هذه العلة لا يمكن أن تقاوم عموم النصوص الدالة على أن المرأة كالرجل في الأحكام ، لاسيما وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم : ( صلوا كما رأيتموني أصلي ) فإن هذا الخطاب عامّ لجميع الرجال والنساء .

يہ علت ان عمومى نصوص كے مقابلہ ميں نہيں آسكتى جن نصوص ميں ہے كہ عورت احكام ميں مرد كى طرح ہے، اور خاص كر جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے: "تم نماز اس طرح ادا كرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا كرتے ہوئے ديكھا ہے" كيونكہ يہ خطاب سب مردوں اور عورتوں كو عام ہے.

دوم:


ينتقض هذا فيما لو صلت وحدها ، والغالب والمشروع للمرأة أن تصلي وحدها في بيتها بدون حضرة الرجال ، وحينئذ لا حاجة إلى الانضمام ما دام لا يشهدها رجال.

يہ اس وقت ٹوٹ جاتا ہے كہ اگر وہ اكيلى نماز ادا كرے، اور غالب طور پر عورت كے ليے مشروع بھى يہى ہے كہ وہ اكيلى اور اپنے گھر ميں مردوں كى غير موجودگى ميں نماز ادا كرے، تو اس وقت اسے اپنا آپ سميٹنے كى كوئى ضرورت ہى نہيں كيونكہ مرد تو موجود ہى نہيں.


سوم:


أنتم تقولون إنها ترفع يديها ، ورفع اليدين أقرب إلى التكشف من المجافاة ، ومع ذلك تقولون يسنّ لها رفع اليدين ، لأن الأصل تساوي الرجال والنساء في الأحكام .

آپ يہ كہتے ہيں كہ وہ رفع اليدين كرے گى، اور رفع اليدين كرنا تو كشادہ اور كھل كر نماز ادا كرنے سے زيادہ انكشاف ہے، اور اس كے باوجود آپ يہ كہتے ہيں كہ عورت كے ليے رفع اليدين كرنا سنت ہے، كيونكہ اصل ميں عورت احكام ميں مردوں كے برابر ہے.


والقول الراجح
راجح قول يہ ہے كہ:


أن المرأة تصنع كما يصنع الرجال في كل شيء فترفع وتجافي ، وتمد الظهر في حال الركوع ، وترفع بطنها عن الفخذين ، والفخذين عن الساقين في حال السجود ... وتفترش في الجلوس بين السجدتين ، وفي التشهد الأول ، وفي التشهد الأخير في صلاة ليس فيها إلا تشهد واحد ، وتتورك في التشهد الأخير في الثلاثية والرباعية

عورت بھى ہر چيز ميں اسى طرح كرے گى جس طرح مرد كرتا ہے، چنانچہ وہ رفع اليدين بھى كرے گى اور كشادہ اور كھل كر نماز ادا كرے، اور ركوع كى حالت ميں اپنى كمر كو پھيلا كر سيدھا كرے گى، اور سجدہ كى حالت ميں اپنا پيٹ رانوں سے اٹھا كر ركھے، اور اپنى رانيں پنڈليوں سے دور ركھےگى... اور دونوں سجدوں كے مابين اور پہلى تشھد اور ايک تشھد والى نماز ميں پاؤں بچھا كر بيٹھے گى، اور دو تشھد والى تين اور چار ركعتى نماز كى آخرى تشھد ميں تورک كر كے بيٹھے گى۔


إذاً لا يُستثنى من هذا شيء بالنسبة للمرأة .
چنانچہ ان اشياء ميں سے عورت كے ليے كچھ بھى مستثنى نہيں ہے۔

[الشرح الممتع، ۳ / ۳۰۳ - ۳۰۴]


منقول
 

غرباء

رکن
شمولیت
جولائی 11، 2019
پیغامات
85
ری ایکشن اسکور
-1
پوائنٹ
35
- عورت ركوع اور سجدہ ميں اپنے آپ كو اكٹھا كرے گى اور كھلى ہو كر نہ رہے كيونكہ يہ اس كے ليے زيادہ پردہ كا باعث ہے.

ديكھيں: المغنى ( 2 / 258 ).

ليكن اس كا ذكر كسى حديث ميں نہيں ملتا.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى نے " المختصر " ميں كہا ہے كہ: عورت اور مرد كے مابين نماز ميں كوئى فرق نہيں، ليكن اتنا ہے كہ عورت كے ليے اكٹھا ہونا اور سجدہ ميں اپنا پيٹ رانوں سے لگا لينا مستحب ہے، كيونكہ يہ اس كے ليے زيادہ پردہ كا باعث ہے، اور زيادہ پسنديدہ ہے، ركوع اور سارى نماز ميں. انتہى.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 3 / 429 ).

اکثر حنفی حضرات کہتے ہیں ابن حزم کے آنے کے بعد انہوں نے عورت کی نماز میں فرق نہیں رکھا٫ جبکہ اگر آپ اپنے ہی پہلے کے علماء کو دیکھیں جو Iبن حازم کے پہلے تھے عورت اور مرد کی نماز میں فرق رکھتے تھے٫ اور ابن حزم بہت بعد میں آئے تھے۔ ؟؟؟
 
Top