• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبادت کے معنی اور اس کے پہلوؤں میں تحاکم بھی داخل ہے

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
94
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
21
بسم الله الرحمن الرحیم

عبادت کے معنی اور اس کے پہلوؤں میں تحاکم (یعنی فیصلہ کروانا یا چاہنا) بھی داخل ہے چنانچہ اگر بندہ اپنی عمومی اور خصوصی زندگی کے تمام تر پہلوؤں میں اللہ تعالیٰ کی شریعت (قانون، نظام) کا فیصلہ مانتا ہے تو وہ اللہ عزوجل کا بندہ ہے اور اگر اس کے علاوہ کسی کی بھی شریعت (قانون، نظام) کا فیصلہ چاہتا ہے اگرچہ زندگی کے پہلوؤں میں سے کسی ایک پہلو میں ہی ہو تو وہ اسی کا بندہ ہوا اور عبادت کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریقے کی عبادت اس کے لئے کرنے والا ہوا۔

اس کی دجہ یہ ہے کہ فیصلہ کروانا، شریعت سازی یا قانون سازی اور اقدار اور پیمانے مقرر کرنا یہ الوہیت کی خاصیتوں میں ہے سب سے خاص خاصیت ہے اور جو اللہ کے سوا یا اللہ کے ساتھ اپنے لئے اس خاصیت کا دعویدار ہو تو گویا وہ عملی طور پر اپنے لئے الوہیت کا دعویدار ہے اور اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا اس کی خصوصیات میں سے سب سے خاص خصوصیت میں شریک قرار دے رہا ہے چنانچہ جو اس کے لئے اس حق کو تسلیم کرے اور اللہ کے سوا یا اللہ کے ساتھ اس سے فیصلہ چاہے وہ اللہ کے سوا اس کی عبادت کرنے والا ہوا خواہ وہ زبانی اس کا اقرار بھی کرے یا نہ کرے اور خواہ اسے معلوم ہو یا نہ ہو۔

عمل تحاکم (یعنی فیصلہ کروانا یا فیصلہ چاہنا خواہ اختلاف کی صورت میں ہو یا اتفاق کی صورت میں) فیصلہ کروانے والے کی جانب سے فیصلہ کرنے والے کی عبادت ہے اس بات کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم یہ ثابت کریں کہ ’’فیصلہ کرنا‘‘ اور ’’قانون وشریعت بنانا‘‘ الوہیت کی خصوصیات میں سے ایک خاصیت ہے بلکہ اللہ عزوجل کی خاصیات میں سے سب سے خاص خاصیت ہے جس میں اس کی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس کا شریک بنانا جائز نہیں ہے اور یہ کہ جو بھی مخلوق (خواہ وہ کیسی ہی ہو) اپنے لئے اس میں سے کسی بھی بات کی اپنے لئے دعویدار ہو وہ بالفاظ دیگر الوہیت کی دعویدار ہے اور اپنے آپ کو بندوں کا معبود اور اللہ عزوجل کی خصوصیات میں سے سب سے خاص خصوصیت میں اس کا شریک قرار دے رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾ [یوسف: ۴۰]

’’نہیں ہے حکم (فیصلہ کرنا) مگر اللہ ہی کے لئے اس نے حکم دیا ہے کہ تم عبادت نہ کرو مگر اس کی یہی مضبوط دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘۔


عربی قواعد کے مطابق نفی کے بعد اثبات حصر اور قصر کا فائدہ دیتا ہے اس قاعدے کی روشنی میں معنی یہ ہوا کہ حکم (یعنی ایسی قانون سازی جو فیصلے کرنے حکم دینے اور منع کرنے پر مشتمل ہو) اللہ کے سوا اور کسی کے لئے نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک اور نفی اور اس کے بعد اثبات ہے یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ کسی کی عبادت نہ کی جائے (یعنی عبادت کے پہلوؤں میں سے کسی بھی پہلو میں) مگر صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ۔

یہ آیت اس سلسلے میں نص کی حیثیت رکھتی ہے کہ ’’حکم ‘‘ اللہ وحدہ کی ایسی خصوصیت ہے جس میں اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے اور مخلوق میں سے جو بھی اپنے لئے اس حق کا دعویٰ کرے گا گویا اس نے الوہیت (الٰہ ہونے) کا دعویٰ کرلیا اور اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا شریک قرار دیا ایسے ہی جو بھی اس کے لئے اس حق کو ثابت کرے گا گویا اس نے اللہ عزوجل کے سوا اس کے لئے عبودیت (بندگی) کو ثابت کردیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسے عبادت میں اس کا شریک قرار دیا۔

امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ﴾ ’’نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کے لئے‘‘یعنی نہیں ہے فیصلہ دینا اور حکم کرنا اور منع کرنا مگر اللہ ہی کے لئے ہے‘‘۔

[تفسیر بغوی: ۴۲۷/۲]


سید قطب نے فرمایا :

’’حکم نہیں ہوسکتا مگر اللہ ہی کے لئے یعنی حکم اللہ کی ذات تک محدود ہے کیونکہ وہ الٰہ واحد ہے کیونکہ حکم الوہیت کی خاصیتوں میں سے ہے جو اس سے اپنے حق کا دعویٰ کرے گویا اس نے اللہ سبحانہ سے اس کی الوہیت کی سب سے اہم خاصیت میں جھگڑا کیا خواہ اس حق کا دعویٰ کوئی فرد کرے یا طبقہ کرے یا کوئی پارٹی کرے یا کوئی ادارہ یا کوئی امت یا تمام انسان متحد ہوکر عالمی پیمانے پر کریں اور جو اللہ سے اس کی خصوصیات میں سے سب سے اہم خصوصیت کے متعلق جھگڑا کرے اور اس کا دعوے دار ہو اس نے اللہ کے ساتھ کفر بواح (واضح کفر جس کے کفر ہونے میں شک نہ ہو) کیا اس طرح کرکے اس کا کافر ہونا دین سے بالضرورۃ معلوم ہوتا ہے حتی کہ صرف اسی ایک نص کے حکم سے ہے۔

اور یہ ضروری نہیں کہ اس حق کا اپنے لئے دعویٰ کرنے والا صرف ایک ہی صورت میں دین پائیدار سے خارج ہوگا اور وہی ایک صورت اسے اللہ کی سب سے اہم خصوصیت میں اس سے جھگڑا کرنے والا بنائے گی کہ وہ اس طرح کہے کہ میں تمہارے لئے اپنے سوا کوئی اور معبود نہیں جانتا یا فرعون کی طرح اعلان کرے کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں بلکہ وہ فقط اللہ کے قانون کی حاکمیت ٹھکرا کر ہی اور کسی اور ذریعے سے قوانین لے کر اور محض یہ فیصلہ دے کر کہ قوانین کا ماخذ اللہ عزوجل کے علاوہ کوئی اور ہے خواہ وہ ساری قوم یا ساری انسانیت ہی ہو وہ ایسا بن جائے گا یعنی الوہیت کا دعویٰ کرنے والا۔

نیز اللہ تعالیٰ کے فرمان
: ﴿اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاہُ﴾ ’’اس نے حکم دیا ہے کہ تم عبادت نہ کرو مگر اسی کی‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں :

’’جب ہم نے عبادت کا معنی اس طور پر جان لیا (یعنی ایک اللہ کے لئے دین بنانا، اس کے لئے جھکنا اور صرف اس کے حکم پر چلنا) تو اب ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ خاص کرنے کی وجہ اللہ کے حکم کے ساتھ خاص ہونا ہی کیوں بیان کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس لئے کہ عبادت یعنی دین بنانا درست نہیں ہوسکتا جبکہ حکم کسی اور کا ہو۔

ہم ایک بار پھر خود کو اسی مقام پر پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے حکم میں جھگڑا کرنا جھگڑنے والے کو اللہ کے دین سے نکال دیتا ہے (اور شریعت کا یہ حکم بالضرورۃ معلوم ہے) کیونکہ ایسا کرنا اسے اللہ وحدہ کی عبادت سے نکال دیتا ہے اور یہی تو وہ شرک ہے جو شرک کرنے والے کو اللہ کے دین سے قطعی طور پر خارج کر دیتا ہے ایسے ہی ان لوگوں کو بھی جو جھگڑنے والے کے اس دعوے کا اقرار کرتے ہوں اور اطاعت کرکے اس کے لئے نئے نئے دین بناتے ہوں اور ان کے دل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی سلطنت وحاکمیت اور اس کی خصوصیات کے اس غصب کو ناپسند نہ کرتے ہوں یہ سب کے سب اللہ کے میزان میں برابر سرابر ہیں (کیونکہ کسی کام پر راضی ہونے والا اسے کرنے والے کی طرح ہوتا ہے اور شرعی قاعدے کے مطابق کفر پر راضی ہونا کفر ہے)

﴿ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ﴾ ’’یہی مضبوط دین ہے‘‘ یہ تعبیر قصر کا فائدہ دیتی ہے چنانچہ سوائے اس دین کے جس میں اللہ تعالیٰ کو حکم کے ساتھ خاص کیا گیا ہو کیونکہ وہ عبادت کے ساتھ خاص ہے اور کوئی بھی دین پائیدار مضبوط نہیں ہے‘‘۔

[فی ظلال القرآن : ۱۹۹۱-۱۹۹۰/۴]

ایسے ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی دلیل ہے فرمایا: ﴿وَّ لاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا﴾ [کہف: ۲۶] ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں بناتا ہے۔‘‘

امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ اپنے سوا اپنی مخلوق کے بارے میں فیصلہ دینے اور حکم بنانے میں کسی کو شریک نہیں بناتا بلکہ وہ ان کے متعلق فیصلہ دینے اور حکم بنانے میں اور اپنی مشیئت وشریعت میں ان کی تدبیر وتصریف (ایک حال سے دوسرے حال کی طرف پھیرنا) میں یکتا ہے‘‘۔

[تفسیر طبری : ۲۱۲/۸]


نیز امام شنقیطی رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :

’اس کا معنی ہے کہ اللہ بزرگ وبرتر اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں بناتا بلکہ حکم کرنا اسی اکیلے بزرگ وبرتر کے لئے ہے اس کے علاوہ کے لئے قطعاً نہیں ہے چنانچہ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اس نے حرام کیا اور دین وہ ہے جس کے ضابطے اس نے مقرر کئے اور فیصلہ وہ ہے جو اس نے دیا اور اللہ بزرگ وبرتر کے اس فرمان ﴿وَّ لاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا﴾ [کہف: ٢٦] ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں بناتا‘‘میں مذکور حکم اللہ بزرگ وبرتر کے ہر فیصلے کو شامل ہے اور سب سے پہلے اس میں شریعت سازی داخل ہوتی ہے ۔

اور یہ آیت جس معنی پر مشتمل ہے کہ حکم صرف اللہ کے لئے ہے اس میں کوئی اس کا شریک نہیں یہ معنی دیگر آیات میں بھی واضح طور پر آیا ہے مثلاً فرمایا ﴿اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاہُ﴾ ’’نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کے لئے اس نے حکم دیا ہے کہ تم عبادت نہ کرو مگر صرف اسی کی‘‘

نیز فرمایا : ﴿وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہٗ اِلَی اﷲِ﴾ [شوریٰ: ١٠] ’’اور تم جس شئے میں بھی اختلاف کرو تو اس کا حکم اللہ کی طرف لوٹا دو‘‘۔

نیز فرمایا : ﴿کُلُّ شَیْئٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ﴾ [قصص: ٨٨] ’’ہر شئے ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرے کے اسی کے لئے حکم کرنا اور اسی کی طرف تم لوٹ جاؤگے۔‘‘

نیز فرمایا : ﴿اَفَحُکْمَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اﷲِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴾ [مائدہ: ٥٠] ’’کیا پس وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور حکم کے اعتبار سے اللہ سے بڑھ کر اچھا یقین رکھنے والوں کے لئے کون ہوسکتا ہے‘‘۔

نیز فرمایا : ﴿اَفَغَیْرَ اﷲِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا وَّ ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلًا﴾ [انعام: 114] ’’کیا پس اللہ کے علاوہ میں حاکم تلاش کروں حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب کو تفصیل کے ساتھ نازل کیا ہے‘‘۔ اس کے علاوہ اور بہت سی آیات ہیں‘‘۔

[اضواء البیان: ٨٢/٤]


اللہ تعالیٰ حکم اور شریعت سازی میں یکتا ہے اور حکم اللہ تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہے جس میں وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی شریک نہیں کرتا اس بات کو مان لینے کا لازمی تقاضا ہے کہ بندوں میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ کے سوا یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے لئے حکم کی صلاحیت کا دعویٰ کرے گویا اس نے الوہیت اور ربوبیت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیا اور خود کو بندوں کے لئے معبود کے طور پر پیش کیا ۔

اللہ تعالیٰ کا فرعون کے متعلق یہ فرمان اس مسئلے کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

فرمایا : ﴿وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰآَیُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ﴾ [قصص: ٨٨] ’’اے سرداروں کی جماعت میں تمہارے لئے اپنے سوا کوئی اور معبود نہیں جانتا‘‘۔

نیز : ﴿فَحَشَرَ فَنَادٰی، فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی﴾ [نازعات : ٢٤] ’’پس اس نے جمع کیا اور اعلان کیا پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں‘‘۔


ان آیات کے مطابق فرعون خود کو معبود اور رب کہتا تھا لیکن وہ اپنے اس دعوے سے یہ مراد نہیں لیتا تھا کہ وہ ایسا معبود ہے کہ جو پیدا کرتا ہے اور اس کائنات کا اختیار رکھتا ہے وہ تو ایک مچھر بلکہ اس سے بھی کمتر شئے تک کو پیدا کرنے سے عاجز تھا چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اسے اپنی لاٹھی کو دوڑتے ہوئے سانپ میں تبدیل کرکے دکھایا تو اس کے پاس سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہ بچا کہ وہ جادوگروں اور شعبدہ بازوں کو طلب کرکے اپنی اور اپنی سلطنت کا دفاع کرے لیکن اللہ تعالیٰ کی زبردست آیات کے سامنے ان کی کیا چلتی ۔

ثابت ہوا کہ وہ اپنے دعویٔ الوہیت و ربوبیت سے یہ مراد لیتا تھا کہ اس کے سوا اور کوئی بھی حاکم یا قانون ساز یا قابل اطاعت نہیں ہے جس کی طرف لوگ اپنی زندگی کے پہلوؤں میں رجوع کریں اور اس کے سوا کسی اور سے رائے لیں ۔

اس کی یہ مراد قرآن میں بیان کردہ اس قول سے واضح ہوتی ہے جب اس نے اپنی قوم اور اپنے لشکروں میں اعلان کیا تو ﴿قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِیْکُمْ اِلَّا مَآ اَرٰی وَ مَآ اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ﴾ [مومن: ۲۹] ’’میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تمہیں بھلائی کی ہی راہ بتا رہا ہوں‘‘۔

معلوم ہوا کہ وہ اپنی رائے اور اپنا قانون چلاتا تھا اور اپنے سوا کسی اور کی رائے اور قانون کو نہیں مانتا تھا یہی اس کا دعویٰ الوہیت و ربوبیت تھا پھر جو اس پر اس سے راضی ہوگیا اور اس کی اتباع کرنے لگا وہ عبادت کے وسیع ترین معنی اور پہلو کے اعتبار سے اس کی عبادت اور اسے الٰہ ماننے میں شامل ہوگیا۔

لہٰذا جو مخلوق بھی (خواہ وہ کیسی ہی ہو وہ فرد ہو یا جماعت ہو، مجلس ہو یا پارٹی، گروہ ہویا کچھ اور) جس زمانے میں بھی جس زمانے میں اپنے لئے حکم اور قانون سازی کی صلاحیت کا دعویٰ کرے گی اور یہ کہے کہ وہ قانون کا سر چشمہ ہے اور بندوں پر اس سلسلے میں اس کی اطاعت واتباع کرنا ضروری ہے تو اس نے اسی طرح کی الوہیت و ربوبیت کا دعویٰ کیا جو فرعون نے اپنے لئے کیا تھا اور اگر وہ فرعون کی طرح نہ کہے کہ ﴿مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ.اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی﴾ ’’میں تمہارے لئے اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں‘‘۔

قرآن کی دیگر آیات میں بھی ہمیں یہی مفہوم ملتا ہے جیسا کہ فرمایا :

﴿قُلْ یٰآَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍ م بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ اَلاَّ نَعْبُدَ اِلَّا اﷲَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٰ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْہَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴾ [آل عمران: ۶۴]

’’(اے نبی ﷺ) آپ کہہ دیں کہ اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان متفقہ ہے کہ ہم عبادت نہ کریں مگر اللہ کی اور ہم اس کے ساتھ کچھ بھی شریک نہ ٹھہرائیں اور نہ ہی ہم ایک دوسرے کو اللہ کے سوا رب بنائیں پھر اگر وہ نہ مانیں تو تم کہہ دو کہ اس بات کے گواہ رہنا کہ ہم مسلمان (ماننے والے) ہیں‘‘۔

ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا
: ﴿اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ﴾ ’’انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا ‘‘۔

نبی ﷺ نے ان کی مزعومہ (خودساختہ) ربوبیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ انہوں نے ان کے لئے شریعت سازی کی کہ انہوں نے اللہ کی جانب سے دلیل کے بغیر لوگوں کے لئے حلال اور حرام کرنا شروع کردیا ایسے ہی لوگوں کی جانب سے ان کی اطاعت واتباع کو ہی آپ نے لوگوں کی جانب سے ان کی عبادت قرار دیا ۔

ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا﴾ [نساء: ۶۰]

’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف نازل کردہ اور آپ سے پہلے نازل کردہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت کی طرف فیصلہ لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں بہت دور گمراہ کرنا چاہتا ہے‘‘۔


امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اس میں نبی ﷺ سے ان لوگوں کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جو اپنے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رسول اﷲ ﷺ پر نازل کردہ یعنی قرآن اور ان سے پہلے دیگر انبیاء پر نازل کردہ پر ایمان رکھتے ہیں پھر خود ہی اپنے اس دعوے کو مکمل طور پر باطل بھی کردیتے ہیں اور ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے ان کا اس دعوے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس طرح کہ وہ طاغوت کی طرف فیصلہ لے جانا چاہتے ہیں (اللہ کی شریعت قانون کے سوا ہر قانون وشریعت طاغوت ہے) حالانکہ رسول اﷲ ﷺ پر اور ان سے پہلوں پر نازل کردہ میں انہیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کفر کریں‘‘۔

[فتح القدیر: ۴۸۷/۱]

نیز محمد ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’کہ اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ’’یزعمون‘‘وہ گمان کرتے ہیں‘‘ ان کے دعویٔ ایمان کو جھوٹ ثابت کر رہا ہے کیونکہ کسی بندے کے دل میں ایمان اور نبی کے لائے ہوئے دین کے علاوہ کی طرف فیصلے کے لئے جانا قطعاً جمع نہیں ہو سکتا بلکہ ایمان دوسرے کی نفی کر دیتا ہے‘‘۔

[رسالہ تحکیم القوانین]

نیز ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا :

’’اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات مقدسہ کی تاکیدی قسم کھا کر مخلوق کے ایمان کی نفی کردی ہے جب تک کہ وہ اپنے تمام تر اختلافات میں اس کے رسول کو حاکم نہ مان لیں خواہ وہ اختلافات اصولی ہوں یا فروعی ہوں، احکام شریعت سے متعلق ہوں یا احکام آخرت و دیگر صفات سے متعلق اور پھر صرف اس تحکیم (یعنی رسول کو حاکم مان لینا) کے سبب ان کے لئے ایمان کو ثابت نہیں کیا حتی کہ ان سے حرج یعنی تنگدلی بھی ختم نہ ہوجائے اور ان کے دل آپ کے فیصلے کے لئے مکمل طور پر نہ کھل جائیں اور وسیع نہ ہوجائیں اور اسے مکمل طور پر قبول نہ کرلیں اور پھر اس پر بھی ان کے لئے ایمان کو ثابت نہیں کیا حتی کہ ان کے لئے اس حکم سے مکمل طور پر راضی ہوجانا اور اسے مکمل طور پر تسلیم کرلینا اور اس سے اختلاف نہ کرنا یا اس پر اعتراض نہ کرنا بھی ثابت نہ ہوجائے ‘‘۔

[التبیان فی اقسام القرآن : ۲۷۰]


اس کلام سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مراد ہے :

﴿فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴾ [النساء: ۶۵]

’’آپ کے رب کی قسم وہ مومن نہیں حتی کہ آپ کو اپنے آپس کے اختلافات میں حاکم مان لیں پھر آپ کے فیصلے سے دل میں تنگی نہ پائیں اور مکمل طور پر تسلیم کرلیں‘‘۔


میں (ابو عبدالرحمن السلفی) کہتا ہوں : جب کسی مومن کے لئے ایمان اس وقت تک ثابت ہی نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ عزوجل کی شریعت کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) نہ کرے تو اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں:

(۱) اللہ تعالیٰ کی شریعت کی طرف فیصلے کے لئے جانا اس کی عبادت ہے کیونکہ یہ ایمان کے لئے شرط ہے اور کوئی بھی شئے اس وقت تک ایمان کی شرط نہیں بن سکتی جب تک کہ اس میں عبادت کا کوئی پہلو نہ ہو۔

(۲) اللہ تعالیٰ کی شریعت کی طرف فیصلے کے لئے نہ جانا ایمان کی نفی کر دیتا ہے اور یہ بات گزر چکی ہے کہ کسی مومن سے ایمان کی نفی کسی ایسے شرک کی وجہ سے ہی کی جاتی ہے جو مخلوق کی عبادت پر مشتمل ہو اگرچہ عبادت کی صورت ایک ہی ہو۔

لہٰذا یہ معلوم ہوا کہ تحاکم (یعنی فیصلے کے لئے جانا، فیصلہ کروانا، فیصلہ چاہنا) فیصلہ چاہنے اور فیصلہ کروانے والے کی جانب سے فیصلے دینے اور فیصلہ کرنے والے کی عبادت ہے لہٰذا جو اپنی زندگی کے عام یا خاص حالات میں صرف اللہ کی طرف فیصلے کے لئے جاتا ہے اور اسی سے فیصلہ چاہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور جو اس کے علاوہ کی طرف خواہ وہ کوئی بھی ہو اور خواہ زندگی کے کسی معمولی سے پہلو میں وہ فیصلے کے لئے جاتا ہے یا اس سے فیصلہ چاہتا ہے تو وہ اسی کا بندہ ہوا۔

امام شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَّ لاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا۔﴾ [کہف: ۲۶] ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں بناتا‘‘۔ اور اس جیسے دیگر فرامین سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون کے علاوہ قانون سازی کرنے والوں کے احکامات کی اتباع کرنے والے اللہ کے ساتھ شریک بنانے والے ہیں اور یہ معنی دیگر آیات میں بھی واضح طور پر آیا ہے۔

اور اس کے واضح ترین دلائل میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اللہ بزرگ وبرتر سورۃ النساء میں بیان کرتا ہے کہ جو اللہ کی شریعت کے علاوہ کی طرف فیصلے کے لئے جانا چاہتے ہیں ان کے دعویٔ ایمان پر تعجب ہے اور اس تعجب کی وجہ یہ ہے کہ دعویٰ ایمان کے باوجود طاغوت کا فیصلہ چاہنا جھوٹ کی انتہاء ہے جس پر تعجب بھی کیا جاسکتا ہے جیسا کہ فرمایا :

﴿اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّہُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا﴾ [نساء: ۶۰]

’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گمان کرتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف نازل کردہ اور آپ سے پہلے نازل کردہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ طاغوت کی طرف فیصلے کے لئے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں بہت دور گمراہ کرنا چاہتا ہے‘‘۔

ان آفاقی نصوص (قرآنی دلائل) سے جو ہم نے ذکر کئے ہیں پوری طرح واضح ہوگیا کہ جو لوگ اللہ عزوجل کے اپنے رسولوں کی زبانی بنائے ہوئے قوانین کے برخلاف شیطان ملعون کے اپنے دوستوں کی زبانی بنائے ہوئے وضعی قوانین پر چلتے ہیں ان کے کفر و شرک میں صرف وہی شخص شک کرسکتا ہے جسے اللہ نے بصیرت سے اندھا اور نور وحی سے کورا کر دیا ہو‘‘۔

[اضواء البیان: ۷۴-۷۳/۴]


ہمارے دور میں ایسے بہت سے لوگ ہیں ہم نے بعض ایسے علماء بھی دیکھے ہیں جو ان سرکشوں کو کافر قرار دینے میں توقف اختیار کرتے ہیں حالانکہ ان میں نواقض ایمان جمع ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو جان لینے کے بعد آج کے اس دور میں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کی حالت پر غور کرنے والا جان لے گا کہ اس دور میں اصل دین اسی طرح اجنبی ہو چکا ہے جس طرح اپنی ابتداء میں تھا۔

بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ حاکم اور قانون ساز طاغوت ہے اور جس شریعت (قانون) پر چلا رہا ہے وہ طاغوتی شریعت ہے اور لوگ برضا ورغبت اس کی طرف فیصلوں کے لئے جاتے ہیں اور اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی محسوس نہیں کرتے اس طرح وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو جانے انجانے میں طاغوتوں کی عبادت کرتے ہیں اس سب کے باجود وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں اور خود کو مسلمان سمجھتے ہیں.!!
 
Top