• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,574
پوائنٹ
384
میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے روایت پیش کی اور اس پر سند اور متن کے حوالہ سے پوچھا تھا ۔
بات اب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کی طرف نکل گئی ہے ۔ خیر اس پر بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں
اگر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ھوجاتا ہے کہ وہ سری و جہری نمازوں میں قرات خلف الامام کے قائل نہیں تھے تو اس سے فاتحہ خلف الامام کے مسئلے میں نہیں پیش کیا جائے گا اور نہ میرا مقصد اس مسئلہ کو یہاں ڈسکس کرنا ہے ۔ فاتحہ خلف الامام کو ثابت کرنے کے لیئے پہلے قرآن سے پھر حدیث سے ثابت کرنا ہو گا
جی بھائی عبد اللہ بن عمر کی روایت صحیح ہے، اور دوسری روایتیں جن میں وہ سری میں فاتحہ کے قائل ہیں وہ بھی صحیح ہیں!

آپ نے کہا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سری نماز میں خلف الامام کے قرات کے قائل تھے تو میں نے جو روایت پیش کی اس میں سری و جہری دونوں نمازوں میں خلف الامام کی ممانعت ھے ۔ کیا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا موقف تبدیل کر لیا تھا ؟؟؟
بھائی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ پر ایک ہی روایت تو منقول نہیں ہے نہ۔ ان کی دوسری روایتوں میں آپ سے صراحتا ثابت ہے کہ وہ سری میں فاتحہ کے قائل تھے اس سے پتہ چلتا ہے کہ مالک کی روایت میں جو ممانعت ہے وہ جہری نماز میں ہے!
لہٰذا ان کے موقف کے تبدیل ہونے کی بات ہی نہیں یہاں۔
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,505
پوائنٹ
191
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بھائی روایت مزکورہ پر شیخ زبیر علی زئی رح نے فاتحہ خلف الامام ص ۱۳۳ اور شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے توضیح الکلام فی وجوب القراءة خلف الامام ص ۹۸۹ میں تبصرہ کیا ہے وہاں رجوع کر لیں

جزاک اللہ خیراً
توضیح الکلام میں صفحہ نمبر 989 دیکھا ہے وہاں اس روایت سے محترم امام اہل سنت سرفراز صفدر صاحب نے اس روایت سے فاتحہ خلف الامام پر جو استدلال کیا ھے اس پر بحث ہے میں اس روایت سے فاتحہ خلف الامام پر دلیل نہیں پکڑ رہا بلکہ صرف عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کے حوالہ سے بات کر رہا ہوں
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,225
پوائنٹ
425
بھائی یہ میں نے اپنے پاس کے نہیں لکھا۔ بلکہ شیخ زبیر علی زئی بھی یہی کہتے ہیں ۔ان کی اس بات کا درست مطلب بتادیں
جزاکم اللہ خیرا محترم بھائی میں نے یہ نہیں کہا کہ تلمیذ بھائی درست ہیں یا غلط ہیں یا مقلد درست ہوتا ہے یا غلط ہوتا ہے
بلکہ میں نے تو الٹا فرعون کی مثال دی ہے جس کے غلط ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں پس شیخ زبیر رحمہ اللہ کی بات نہیں بات دعوت کے اسلوب کی ہے کہ کڑوی گولی بھی دینی ہو تو میٹھی گولی میں بھر کے دیتے ہیں یہی موسی علیہ السلام کو تلقین کی گئی تھی مگر مجھ سمیت اکثر داعی یہ غصہ کی حالت میں بھول جاتے ہیں
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,505
پوائنٹ
191
جی بھائی عبد اللہ بن عمر کی روایت صحیح ہے، اور دوسری روایتیں جن میں وہ سری میں فاتحہ کے قائل ہیں وہ بھی صحیح ہیں!
محترم وہ دوسری روایتیں پیش کریں جن میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سری میں فاتحہ کے قائل ہیں
۔ ابن قدامہ بھائی نے جو روایات پیش کیں ایک تو ان میں ٹائیپنگ غلطیاں تھیں اور ایک ان میں ضعیف تھی اور دوسری منقطع
 
شمولیت
ستمبر 07، 2020
پیغامات
44
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
16
489 - أخبرنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي، نا ابن علية، عن ابن جريج، أخبرني العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب، أن أبا السائب أخبره، سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:

"من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج فهي خداج هي خداج غير تمام". فقلت: يا أبا هريرة! إني أكون أحيانا وراء الإمام. قال: فغمز ذراعي. وقال: يا فارسي اقرأ بها في نفسك.

(97) باب ذكر الدليل [على أن] الخداج الذي أعلم النبي - صلى الله عليه وسلم - في هذا الخبر هو النقص الذي لا تجزئ الصلاة معه. إذ النقص في الصلاة يكون نقصين، أحدهما لا تجزئ الصلاة مع ذلك النقص، والآخر تكون الصلاة جائزة مع ذلك النقص لا يجب إعادتها، [وليس] (1) هذا النقص مما يوجب سجدتي السهو مع جواز الصلاة

490 - أخبرنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا محمد بن يحيى، نا وهب بن جرير، نا شعبة عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:

"لا تجزئ صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب". قلت: فإن كنت خلف الإمام، فأخذ بيدي، وقال: اقرأ بها في نفسك يا فارسي.
صحيح ابن خزيمة:جزء1/صفحة256
 
Top