1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبى رواد الأزدى

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏دسمبر 16، 2012۔

  1. ‏دسمبر 16، 2012 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اسلام علیکم۔
    عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبى رواد الأزدى ، أبو عبد الحميد المكى ، مولى المهلب بن أبى صفرة ( مروزى الأصل )

    شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ نے فتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین (ص 56) میں اس راوی کے بارے میں فرمایا: "ضعيف من جهة حفظه، ضعفه الجمهور (تحفة الأقوياء: ٢٤٢)"

    لیکن یہ تو صحیح مسلم کا راوی ہے، اور جمہور کی رائے بھی کچھ اور نظر آتی ہے۔
    امام احمد، یحیی بن معین، دارقطنی، ابن خزیمہ، حاکم، ابو عوانہ، ترمذی، ابو داود، نسائی، ابو یعلی الخلیلی، ضیا المقدسی، العراقی، ذہبی، ابن حجر، ہیثمی، البوصیری وغیرہ نے اس راوی کی توثیق کی ہے۔
    جبکہ جرح کرنے والوں کی تعداد اس سے کم ہے۔ اور مصنف تحریر تقریب التہذیب نے تو یہ کہا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے، وہ حدیث میں ویسے ہی غلطیاں کرتا ہے جسطرح دوسرے عام راوی کرتے ہیں اور وہ ابن جریج کی حدیث میں اثبت الناس ہے۔ لوگ صرف اس کی ارجاء کی وجہ سے اس پر جرح کرتے تھے، اور کچھ نے صرف ارجاء کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا۔

    اس راوی کے معاملے میں سچ بات کون سی ہے؟ جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں