• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عدت میں عید کی نماز

Abdul Mussavir

مبتدی
شمولیت
ستمبر 22، 2017
پیغامات
30
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
25
السلام وعلیکم

میرا ایک سوال ہے ۔
جو عورت عدت میں ہو تو کیا اُنکا عید کی نماز کے لیے عید گاہ جانا درست ہے ؟
یہ وہ گھر میں دوسری عورتوں کے ساتھ ملکر عید کی نماز باجماعت گھر میں ادا کر سکتی ہے ؟
 

عامر عدنان

مشہور رکن
شمولیت
جون 22، 2015
پیغامات
916
ری ایکشن اسکور
254
پوائنٹ
142
حضرت علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اس بارے میں مفصل مدلل بحث کے بعد فرمایا ہے اما فی معناہ من الاحادیث قاضیۃ بمشروعیۃ خروج النساءفی العیدین الی المصلی من غیر فرق بین البکروالثیب والشابۃ والعجوز والحائض وغیرھا مالم تکن معتدۃ او کان فی خروجھا فتنۃ اوکان لھا عذر یعنی احادیث اس میں فیصلہ دے رہی ہیں کہ عورتوں کو عیدین میں مردوں کے ساتھ عیدگاہ میں شرکت کرنا مشروع ہے اور اس بارے میں شادی شدہ اور کنواری اور بوڑھی اور جوان اور حائضہ وغیرہ کا کوئی امتیاز نہیں ہے جب تک ان میں سے کوئی عدت میں نہ ہو یا ان کے نکلنے میں کوئی فتنہ کاڈر نہ ہو یا کوئی اور عذر نہ ہو تو بلا شک جملہ عورتوں کو عیدگاہ میں جانا مشروع ہے پھر فرماتے ہیں والقول بکراھیۃ الخروج علی الاطلاق رد للاحادیث الصحیحۃ بالاراءالفاسدۃ یعنی مطلقا عورتوں کے لیے عید گاہ میں جانے کو مکروہ قرار دینا یہ اپنی فاسد رایوں کی بنا پر احادیث صحیحہ کو رد کرنا ہے۔
https://shamilaurdu.com/hadith/bukhari/974/

علامہ شوکانی رح کے مطابق عورتوں کاعیدگاہ جانامستحب ہے خواہ کنواری ہوں یاشادی شدہ جوان ہوں یابوڑھی حیض والی یاپھردوسری۔لیکن عدت والی عورتیں اوروہ جن کے جانے سے فتنہ یاپھرکوئی عذرہواس کے لیے رخصت ہے۔(نیل الاوطار354/3).
http://www.urdumajlis.net/index.php?threads/17612/
 
Top