• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عذاب القبر کیا ہے؟ عذاب القبر کی حقیقت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
عذاب القبر کیا ہے؟ عذاب القبر کی حقیقت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک تشہد کے لئے بیٹھے تو اللہ تعالیٰ سے چار چیزوں سے پناہ طلب کرے اور اس طرح کہے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ
اے اللہ! میں آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں عذابِ جہنم سے اور عذاب قبر سے اور زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شرسے۔
(صحیح مسلم کتاب المساجد باب ما یستعاذ منہ فی الصلاۃ حدیث نمبر ۵۸۸)۔
اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: (صحیح بخاری کتاب الاذان باب الدعاء قبل السلام (۸۳۲) مسلم ایضاً (۳۲۵)
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ دعا اس طرح سکھایا کرتے تھے کہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم ایضاً ۵۹۰، مشکاۃ المصابیح کتاب الصلوۃ باب الدعاء فی التشھد)۔
ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر بدکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کو ان چار چیزوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا تھا۔ (مسلم، مشکوٰۃ المصابیح)۔ یہ روایت آگے آرہی ہے۔
ان احادیث میں چار چیزوں سے پناہ مانگنے کی تاکید کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر نماز کے آخر میں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے جنازہ پر ایک دعا پڑھی جس کے آخری الفاظ یہ ہیں:
واعذہ من عذاب القبر و من عذاب النار (مسلم:۹۶۳)
اے اللہ اسے عذاب قبر سے اور عذاب جہنم سے بچا (محفوظ رکھ)۔
اوپر کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چیزوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ان کی تعداد آپ نے چار بیان کی ہے اور ظاہر بات ہے کہ یہ چاروں چیزیں ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ ہیں۔ اس وضاحت سے بھی یہ حقیقت ثابت ہو گئی کہ عذاب جہنم الگ اور عذاب قبر الگ الگ دو حقیقتیں ہیں۔ یہ امر قابل غور اور قابل توجہ ہے کہ جو لوگ عذابِ جہنم کو عذاب قبر ثابت کرنے کے درپے ہیں انہیں اس بات پر غور و تدبر کرنا چاہیئے کہ اگر یہ ایک ہی عذاب ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو عذاب کیوں قرار دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو وحی کے بغیر کلام نہیں فرمایا کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ الگ عذاب قرار دے رہے ہیں تو پھر آپ کی منشاء کے خلاف اگر کوئی دو کو ایک قرار دے گا تو اس طرح آپ کی مخالفت لازم آئے گی اور آپ کی مخالفت کرنے والے کا جو انجام ہو گا اسے اس آیت مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے:
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا (النساء:۱۱۵)
اور جو شخص رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مخالفت کرے ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اور اہل ایمان کے راستہ کے سوا کسی دوسرے راستہ پر چلے تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے۔
اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے:
فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
پس اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے رب کی قسم یہ کبھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سربسر تسلیم کر لیں (النسا:۶۵)
روح کے قبض ہونے اور قبر کے سوال و جواب کے بعد کافر و منافق اور نافرمان کی روح کو جہنم میں داخل کر دیا جاتا ہے جہاں وہ عذاب سے دوچار ہوتی رہتی ہے۔ یہی عذاب جہنم ہے اور اس کی میت کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے اور یہ عذاب قبر ہے۔ اور جب قیامت قائم ہو گی تو عذابِ قبر ختم ہو جائے گا اور صرف عذابِ جہنم باقی رہ جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں عذابوں سے پناہ مانگنا واضح کرتا ہے کہ یہ دونوں عذاب الگ الگ ہیں لیکن بعض کوتاہ فہموں نے عذاب جہنم کی احادیث ذکر کر کے اسے ہی عذاب قبر کہنا شروع کر دیا اور قبر کے عذاب کا بالکل انکار کر دیا۔ جبکہ عذاب جہنم کا تعلق روح کے ساتھ اور عذاب قبر کا تعلق میت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور احادیث اس سلسلہ میں بالکل واضح ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دُعاؤں سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے۔
حوالہ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے جنازہ پر ایک دعا پڑھی جس کے آخری الفاظ یہ ہیں: (واعذہ من عذاب القبر و من عذاب النار (مسلم:۹۶۳)
یہ حدیث مبارک مکمل پیش ہے ،تاکہ اس میں مروی جنازہ کی مسنون دعاء یاد کرلی جائے :
صحیح مسلم ،کتاب الجنائز میں ہے :
عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللهُمَّ، اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ - أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ -» قَالَ: «حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ»
ترجمہ :
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں سے یہ لفظ یاد کرلئے:
«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ»
یعنی ”یا اللہ! بخش اس کو اور رحم کر اور عافیت دے اس کو، اور معاف کر اس کو، اور اپنی عنایت سے میزبانی کر اس کی، اس کا گھر (قبر) کشادہ کر، اور اس کو پانی اور برف اور اولوں سے دھو دے، اور اس کو گناہوں سے صاف کر دے، جیسے سفید کپڑا میل سے صاف ہو جاتا ہے اور اس کو اس گھر کے بدلے اس سے بہتر گھر دے، اور اس کے لوگوں سے بہتر لوگ دے اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی دے، اور جنت میں لے جا اور عذاب قبر سے بچا۔“
(پیارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سےاتنی پیاری دعاء سن کر ) میں نے آرزو کی کہ یہ مردہ میں ہوتا۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاص طور پر نماز کے آخر میں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے پناہ مانگا کرتے تھے
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب نبی اکرم ﷺ نماز میں یہ دعاء کرتے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا، وَفِتْنَةِ المَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ "
ترجمہ :
اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں،اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اورزندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں ،اوراے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔
(صحیح بخاری ،کتاب الاذان ،حدیث نمبر832)
 
شمولیت
اگست 29، 2018
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
10
جزاک اللہ خیرالجزا و احسن الجزا فی الدنیا والاخرة
 
Top