• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عذاب قبر سے متعلق ایک روایت کی تحقیق درکار ہے

عثمانی

مبتدی
شمولیت
جون 24، 2017
پیغامات
11
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
13


السلام علیکم شیخ.

اس کی سند و متن اور تحقیق درکار ہے..

https://ibb.co/bHRKTT

اللہ اپ کو ہمیشہ خوش رکھے

اس پوسٹ کا حوالہ:
المسند في عذاب القبر للبيهقي
تحقيق: شيخ زبير

@خضر حیات
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,438
پوائنٹ
964
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
روایت یہاں لکھ دیں ، یا پھر کتاب کا صفحہ نمبر یا حدیث نمبر بتادیں۔
میرے پاس امیج ظاہر نہیں ہورہا۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,500
پوائنٹ
791
روایت یہاں لکھ دیں ،
قال الامام ابوبكر البيهقي
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، وأبو عبد الرحمن السلمي، وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا: ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا الحسن بن علي، يعني ابن عفان العامري، ثنا عباءة بن كليب الليثي، عن جويرية بن أسماء، عن نافع، عن ابن عمر قال: " بينا أنا صادر عن غزوة الأبواء، إذ مررت بقبور فخرج علي رجل من قبر يلتهب نارا وفي عنقه سلسلة يجرها، وهو يقول يا عبد الله اسقني سقاك الله قال: فوالله ما أدري، باسمي يدعوني أو كما يقول الرجل للرجل: يا عبد الله، إذ خرج على أثره أسود بيده ضغث من شوك وهو يقول: يا عبد الله لا تسقه، فإنه كافر فأدركه فأخذ بطرف السلسلة، ثم ضربه بذلك الضغث ثم اقتحما في القبر، وأنا أنظر إليهما، حتى التأم عليهما وروي في ذلك قصة عن عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير، عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه وفي الآثار الصحيحة غنية "

ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://archive.org/stream/WAQ17650/17650#page/n181/mode/2up

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
76474.jpg
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,438
پوائنٹ
964
قال الامام ابوبكر البيهقي
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، وأبو عبد الرحمن السلمي، وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا: ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا الحسن بن علي، يعني ابن عفان العامري، ثنا عباءة بن كليب الليثي، عن جويرية بن أسماء، عن نافع، عن ابن عمر
جزاکم اللہ خیرا۔
سند میں تمام راوی ثقات ہیں، سوائے عباءۃ بن کلیب اللیثی کے۔ انہیں ابو حاتم وغیرہ نےصدوق قرار دیا ہے، جبکہ بعض ائمہ نے انہیں ضعفاء میں شمار کیا ہے۔
اس روایت کے بعض اورطرق بھی ہیں۔ لہذا یہ حسن درجہ کی روایت ہے۔ واللہ اعلم۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,500
پوائنٹ
791
قال الامام ابوبكر البيهقي (في كتابه اثبات عذاب القبر )

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، وأبو عبد الرحمن السلمي، وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا: ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا الحسن بن علي، يعني ابن عفان العامري، ثنا عباءة بن كليب الليثي، عن جويرية بن أسماء، عن نافع، عن ابن عمر قال: " بينا أنا صادر عن غزوة الأبواء، إذ مررت بقبور فخرج علي رجل من قبر يلتهب نارا وفي عنقه سلسلة يجرها، وهو يقول يا عبد الله اسقني سقاك الله قال: فوالله ما أدري، باسمي يدعوني أو كما يقول الرجل للرجل: يا عبد الله، إذ خرج على أثره أسود بيده ضغث من شوك وهو يقول: يا عبد الله لا تسقه، فإنه كافر فأدركه فأخذ بطرف السلسلة، ثم ضربه بذلك الضغث ثم اقتحما في القبر، وأنا أنظر إليهما، حتى التأم عليهما وروي في ذلك قصة عن عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير، عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه وفي الآثار الصحيحة غنية "
(اثبات عذاب القبر ص183 )
ترجمہ :
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں غزوہ ابواء سے واپس لوٹ رہا تھا کہ میں ( کچھ ) قبروں کے پاس سے گزرا۔ ایک آدی ( اچانک ) قبر سے نکل کر میری طرف آیا ۔ اسے آگ لگی ہوئی تھی ۔ اور اس کی گردن میں ایک زنجیری جسے وہ گھسیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا:
" اے عبد الله! ( اللہ کے بندے) مجھے پانی پلاؤ ، اللہ تھے پانی پلائے۔ الله کی قسم! مجھے معلوم نہیں کہ اس نے مجھے پہچان کر ) عبداللہ کہا یا ویسے ہی کہہ دیا جیسے ایک آدمی دوسرے آدمی کو: اے اللہ کے بندے! کہہ کر پکارتا ہے۔ اس شخص کے پیچھے ایک کالا شخص نکلا جس کے ہاتھ میں کانٹوں والی ٹہنی تھی اور وہ کہ رہا تھا۔ اے عبداللہ! اسے پانی نہ پلانا کیونکہ یہ کافر ہے ۔ پھر اس ( کالے شخص )نے اسے پکڑ لیا ۔ اس کی زنجیر لے کر اس ٹہنی سے اسے مارتا ہوا دوبارہ قبر میں لے گیا۔ میں ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا حتی کہ وہ قبر میں غائب ہو گئے۔
یہ قصہ ایک دوسری سند سےبھی مروی ہے اور (عذاب قبر پر ) صحیح آثار کافی ہیں۔
إسناده حسن، کتاب الروح (ص 93، 94) میں اس کے شواہد ہیں ۔
تنبیہ: دوسری سند والی روایت معجم ابی یعلی الموصلی (ص 104) میں ہے اس میں عمرو بن دینار قهرمان آل زبیر ضعیف ہے۔
 
Top