• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عصر حاضر کا صنمِ اکبر

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
265
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
53
بسم اللہ الرحمن الرحیم

عصر حاضر کا صنمِ اکبر: جمہوریت!!!

الحمد للہ القوي المتین، والصلاۃ والسلام علی من بعث بالسیف رحمة للعالمین، أما بعد!

بلاد ہند کے بیشتر ممالک میں الیکشنز یعنی انتخابات کی آمد آمد ہے، اور لوگوں کے مابین یہ تبادلۂ خیال جاری ہے کہ اس بار کس سیاسی پارٹی کو ووٹ دیے جانے چاہییں، یا ان کے بقول وہ دو خبیثوں میں سے نسبتا کم خباثت والے کو خود پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایک مسلمان کا اس حوالے سے کیا موقف ہونا چاہیے، اسے جاننے کیلئے ضروری ہے کہ اس نظام جمہوریت کے معنیٰ، اس کی شرعی حیثیت، اسکے نظریاتی پہلوؤں اور اسکی موجودہ عملی صورت کو سمجھا جائے۔

جمہوریت کا شرعی واصطلاحی معنیٰ

جمہوریت کے شرعی معنیٰ کو جاننے کیلئے جب ہم تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کیلئے عربی زبان میں بذات خود کوئی لفظ موجود ہی نہیں بلکہ اس نظام کا حوالہ دینے کیلئے عربی میں "الدیمقراطیة" کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو یونانی زبان کے دو الفاظ “Demos” (عوام) اور “Kratia” (اقتدار) سے مشتق ہے۔ پھر قرآن وحدیث میں اس کے معنیٰ کو تلاش کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس نظام کو بحیثیت نظام ذکر کرنے والی قرآنی آیت تو درکنار، کوئی موضوع حدیث تک نہیں ملتی، لیکن اس نظام کے مبادی اور نظریات سے متعلق متعدد آیات واحادیث موجود ہیں۔

جمہوریت چونکہ کوئی اسلامی نظریہ نہیں، اسلئے اسکا اصطلاحی مفہوم سمجھنے کیلئے ہمیں اسکے نقطۂ آغاز کی جانب لوٹنا ہوگا۔ یہ نظریہ یونانی فلسفے کی میراث سے لیا گیا ہے اور اسکا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ ریاست میں طاقت کا سرچشمہ اور اقتدار اعلیٰ کی مالک خود اس ریاست کی عوام ہے۔

نظام جمہوریت کے بعض نظریاتی پہلو

اس نظام حکومت کو سمجھنے کیلئے اسکے نظریاتی پہلوؤں سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے، ان میں سے بعض کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

قوانین کی منظوری کا پیمانہ، اکثریت: اکثریت جمہوری نظام کا اساسی عنصر ہے۔ نظام جمہوریت میں کسی قانون کی منظوری کا دارومدار اسے اکثریت کی حمایت حاصل ہونے پر ہوتا ہے۔ مثلا اگر کسی زیر غور قانون کو سو میں سے اکاون ووٹ مل جائیں تو اسے قابل تنفیذ سمجھا جائے گا، چاہے وہ قانون بذات خود کتنا ہی غیر مذہبی، غیر اخلاقی، غیر منطقی اور نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔

مذہب کی حکومت سے علیحدگی: نظام جمہوریت کی اسکے وارثوں اور علمبرداروں یعنی مغرب نے اس صورت میں عملی تفسیر کی ہے جسے انکے ایک پروفیسر Loren J. Samons II نے اپنی تصنیف Modern America and The Religion of Democracy میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: “Separation of Church and State” (گرجے کی ریاست سے علیحدگی) ۔بالفاظ دیگر یہ کہ ریاستی وحکومتی معاملات میں مذہب کا کوئی عمل دخل باقی نہ رہنے دیا جائے۔ یعنی اس نظام میں عوام ریاستی معاملات کو مذہبی حدودوقیود سے آزاد ہوکر اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق چلاسکتے ہیں اور قوانین میں من چاہی تبدیلیاں کرسکتے ہیں۔ اس نظریے کو اصطلاح میں )Secularismسیکولرازم( یا لادینیت کہا جاتا ہے۔

مذہب و اعتقاد، رائے اور شخصی معاملات کی مکمل آزادی: جمہوری معاشرے میں ہر شخص کو مذہب، اظہار رائے اور شخصی معاملات کے حوالے سے آزادی ہوتی ہے، یعنی ہرشخص اپنی مرضی کا دین اور عقیدہ اپناکر اس پر عمل کرسکتا ہے۔ اور ہرکوئی جو چاہے کہہ سکتا ہے، جو چاہے لکھ سکتا ہے اور جو چاہے نشر کرسکتا ہے، اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے کی بات پر مذہبی، اخلاقی یا کسی بھی اور حوالے سے کوئی اعتراض کرسکے۔ اسی طرح ہرشخص اپنی ذات سے متعلق معاملات، رہن سہن اور طور طریقوں میں بھی آزاد ہے۔

معاشرے کے تمام افراد کے مابین باہمی مساوات: جمہوری نظام میں تمام افراد کو ایک ہی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور مذہب، جنس، قوم، اخلاق، رویہ، اجتماعی حالت، الغرض کسی بھی حوالے سے انکے مابین کوئی فرق نہیں رکھا جاتا۔

نظام جمہوریت کے نفاذ کے مراحل

جمہوریت کے نظریے کی تطبیق، یعنی اقتدار اعلیٰ عوام کے سپرد کرنے کیلئے ان مراحل سے گزرا جاتا ہے:

دستور سازی: اس مرحلے میں دستور ساز کمیٹی ملک کیلئے دستور کو وضع کرتی ہے اور بعد کے مراحل کی تکمیل پر وجود میں آنے والی پارلیمینٹ اس دستور کیلئے عوام سے موافقت پالینے کے بعد اسکو نافذ کرتی ہے اور مستقبل میں ضرورت کے مطابق اس میں ترمیمیں کرتی ہے۔

یہ نظام چونکہ مغربی ممالک سے مشرقی ممالک میں لایا گیا ہے، اس لیے اس نظام کے علمبردار مغربی ممالک میں رائج دستور کوہی مشرقی ممالک میں ہر ملک کیلئے درکار بعض ترمیمیں کرنے کے بعد لاگو کیا گیا ہے۔

متعدد گروہوں، یعنی پارٹیوں کی تشکیل: اور گروہوں، یعنی پارٹیوں کی بنیاد علاقائی، قومی، دینی، سیکولر، یعنی کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ اور کسی خاص طبقے یا پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنا گروہ بناسکتے ہیں۔ مثلا اگر ہم جنس پرستوں کی ایک خاطر خواہ تعداد اکٹھی ہوجائے اور وہ کسی ایک شخص کو اپنا راہنما مان لیں تو وہ شخص دستور میں مذکورہ قواعد وضوابط کے مطابق ایک گروہ بناسکتا ہے۔

ان گروہوں کا اپنے اندر سے نمائندوں کا انتخاب: جو حکومتی سطح پر اس گروہ کی نمائندگی کریں۔ یعنی جب وہ نمائندہ حکومتی سطح پر بات کرے گا تو وہ اپنے گروہ کے نام سے بات کرے گا۔ ان نمائندوں کی تعداد چونکہ عموما بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ان کی تعداد کو ایک معقول عدد تک پہنچانے کیلئے استصواب رائے یعنی ووٹنگ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

منتخب شدہ نمائندوں سے پارلیمنٹ کی تشکیل: ووٹنگ کے نتیجے میں منتخب شدہ نمائندوں کو ملاکر پارلیمنٹ تشکیل دی جاتی ہے، جس کی ذمہ داری دستور ساز کمیٹی کے بنائے ہوئے دستور کو نافذ کروانا اور حسب ضرورت اس میں ترمیمیں کرنا ہے۔

اقوام متحدہ میں نمائندگی: عالمی سطح پر جمہوری نظام کے سرپرست ادارے "اقوام متحدہ" کا ہر رکن ملک اپنے بعض نمائندے منتخب کرتا ہے جو اقوام متحدہ میں اس ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور عالمی سطح پر جمہوری نظام میں ہونے والے تغیرات سے اپنے ممالک کو باخبر کرتے ہیں اور اقوام متحدہ سے صادر ہونے والے احکامات کی وصولی اور اپنے ممالک میں ترسیل کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ممبر ممالک میں سے پانچ ممالک کو ایک خاص طرح کا اختیار حاصل ہے جس کو "VETO Power" کہا جاتا ہے اور یہ ممالک امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس ہیں۔ یہ ممالک کسی بھی کلیدی حیثیت کے حامل قانون کو مسترد یا اسکی منظوری کو مؤخر کرسکتے ہیں اور ایسی صورت میں وہ قانون نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں کسی قانون کے کلیدی حیثیت کا حامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھی یہی پانچ ممالک کرتے ہیں۔

جمہوریت، شریعت اسلامی کے آئینے میں

اسلام صرف چند مذہبی رسومات وعبادات کے مجموعے کا نام نہیں، بلکہ یہ دین کامل، اور انفرادی واجتماعی سطح پر ہر شعبۂ زندگی میں، ہر دور میں اور ہر انسان کیلئے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں نہ کسی کمی بیشی کی گنجائش ہے اور نہ ہی ضرورت ہے۔ دوسری جانب جمہوریت بھی صرف دنیاوی معاملات کو چلانے کا طریقۂ کار نہیں بلکہ یہ اپنی ذات میں ایک مذہب ہے۔ اسلام اور جمہوریت کی آپس میں مثال روشنی اور اندھیرے کی مانند ہے، پس جہاں اسلام کی روشنی موجود ہو وہاں جمہوریت کا اندھیرا نہیں ہوتا۔ اب ہم جمہوریت کو چند پہلوؤں سے اسلامی شریعت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

جمہوریت کی أساس، اکثریت؛ لیکن اکثریت تو۔۔۔۔: نظام جمہوریت میں کسی قانون کے قابل تنفیذ ہونے یا نہ ہونے کا معیار اسے اکثریت کی حمایت حاصل ہونا یا نہ ہونا ہے۔ اس "اکثریت" کی پیروی کرنے کا انجام اللہ رب العزت اس آیت کریمہ میں بیان فرماتے ہیں: "وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ" (الانعام:116) ( (اے محمدﷺ)! اگر آپ زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کے کہنے پر چلیں گے تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بہکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور صرف قیاس آرائیاں کرتے ہیں)۔ اس اکثریت کی پیروی معاذ اللہ اگر رسول اکرمﷺ بھی کرتے تو یہ انہیں بھی اللہ کے راستے سے منحرف کردیتی۔ اگر یہ معاملہ صراط مستقیم کی طرف بلانے والے نبئ آخر الزماںﷺ کا ہے، تو ایک عام مسلمان کی کیا وقعت ہے اور وہ کیسے اکثریت کی پیروی کے باوجود حق پر کاربند رہ سکتا ہے؟!

پھر اس اکثریت کی شعوری سطح کے بارے میں رب تعالیٰ ہمیں اس آیت میں خبر دیتے ہیں: "أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا" (الفرقان:44) (کیا آپ کا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے یا سمجھتے ہیں؟ وہ تو مویشیوں کے مانند ہیں بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں)، اور: "وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ" (الانعام:111) (اور لیکن ان میں سے اکثر جہالت برتتے ہیں

جمہوری نظام کی خوبصورتی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں اگر بالفرض کسی قانون کی حمایت اور مخالفت میں ووٹ برابر ہوجائیں، اور پھر کوئی گمراہ، عقل کا اندھا، جاہل، شرمگاہ کی علامت "لنگم" کا پجاری اور تَعَدُّدُ أَزوَاجٍ (ایک سے زیادہ مردوں کا ایک عورت سے شادی کرنا) کا حصہ بننے والا مشرک ہندو، ہم جنس پرست، یا مغضوب علیہم میں سے کوئی یہودی، یا ضالّین میں سے کوئی عیسائی، یا حتیٰ کہ کوئی بھنگی چرسی بھی اچانک سے اس قانون کی حمایت میں ووٹ ڈال دے تو ترازو کا پلڑا اکثریت کی جانب جھک جائے گا اور وہ قانون منظور کرلیا جائے گا، اس سے قطع نظر کہ اس قانون کے منظور کرنے والے کون ہیں اور وہ قانون خود کیسا ہے۔ واہ! اس اکثریت پرست اندھے کفری شیطانی نظام کے کیا کہنے!

اور تو اور، اس نظریۂ اکثریت پرستی کے سب سے بڑے دشمن خود اس نظام کے سرپرست ہیں، اور پانچ ممالک کیلئے VETO Power کا حق محفوظ کرکے انہوں نے جمہوریت کو آمریت اور غیر جمہوریت بنا دیا ہے۔ یہ کیسی اکثریت کی حکمرانی ہے کہ اقوام متحدہ میں شامل 188 ممالک کے 5.2 ارب انسانوں پر 5 ممالک کے 2 ارب انسان بزور قوت حکومت جمائے بیٹھے ہیں؟! موسیٰ علیہ السلام کے دور کے فرعون نے بھی اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے اور دین حق کو پنپنے سے روکنے کیلئے اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اسکے عوام نے بھی اس کی پیروی کی، جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ" (الزخرف:54) (اس طرح اس (فرعون) نے اپنی قوم کو الو بنا لیا تو وہ اس کی بات مان گئے، وہ تو تھے ہی فاسق لوگ)۔ بالکل اسی طرح دور حاضر کے فرعون یعنی VETO Power کے حامل ممالک اپنی عوام کو پاگل بناتے ہیں اور انہیں لالچ دیتے ہیں کہ آؤ جمہوریت کا جھانسا دے کر باقی دنیا پر اپنے فرعونی استبدادی نظام کے پنجے گاڑے رکھیں اور انکے وسائل لوٹتے رہیں۔

پھراس کفری طاغوتی نظام کی بدمعاشی کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی طاغوت حکمران کوئی ایسا قدم اٹھالے جس سے جمہوریت کے علمبردار ممالک کے مفادات پر ضرب پڑتی ہو، تو یہ ممالک اپنے ہی اصولوں کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے اس حکمران کا پتّہ صاف کردیتے ہیں اور کسی اکثریت یا آزادی وغیرہ کی پروا نہیں کرتے۔ اس کی واضح ترین مثال طاغوت صدام حسین ہے، جو 100 فیصد ووٹ حاصل کرکے صدر منتخب ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود امریکہ نے عراق پر عسکری حملہ کرکے 100 فیصد کی اکثریت کے ساتھ منتخب ہونے والے اس طاغوت کی حکومت کو گرادیا کیونکہ اس نے بعض معاملات میں مغرب کے اشاروں پر ناچنے سے انکار کرتے ہوئے دنیا پر انکی تھوپی ہوئی جمہوریت کو نہیں اپنایا تھا۔ یہی معاملہ مصر کے طاغوت محمد مرسی اور اس جیسے دوسروں کا بھی ہوا، حالانکہ مرسی بھی عوام کی اکثریت کی حمایت سے ہی منتخب ہوا تھا۔ صدام، مرسی اور ان جیسے کئی اور مرتدین نے کفری جمہوریت کو ہی نافذ کیا تھا، لیکن مسئلہ بس یہ تھا کہ انکی جمہوریت سے جمہوریت کے خود ساختہ ٹھیکیداروں، یعنی ویٹو پاور کے حامل ممالک کے مفادات پر ضرب پڑتی تھی۔ ان ویٹو پاور کے حامل ممالک کی تھوپی ہوئی جمہوریت کو جو ملک مکمل طور پر اپنانے سے انکار کردے اس پر وہ B52, AC130, F22, A10 طیاروں اور اپاچی ہیلی کاپٹروں وغیرہ کو قاصد بناکر بھیج دیتے ہیں جو اس ملک کے ہر خاص وعام کو Hellfire, AGM-65K Maverick میزائلوں اور ڈیزی کٹر بموں وغیرہ میں رکھ کر یہ پیغام ارسال کرتے ہیں کہ اگر وہ انکی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی کفریہ آزادی اور جمہوریت کو نہیں اپنائیں گے تو یہ پیغامات ارسال کیے جاتے رہیں گے یہاں تک کہ ان پیغامات کو وصول کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔ یہ کیسی اکثریت کی حکومت ہے اور یہ کہاں کی آزادی ہے؟!

اقتدار اعلیٰ کا مالک: نظام جمہوریت کی روسے ریاست میں طاقت کا سرچشمہ اور اقتدار اعلیٰ کی مالک خود اس ریاست کی عوام ہے۔ اقتدار اعلیٰ یعنی جس سے اوپر اور کوئی طاقت اور سلطہ نہیں، یعنی عوام کی اکثریت جو بھی قانون منظور کردے اسے نافذ کیا جائے گا اور اس پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔

اس کے برعکس اسلام میں قانون سازی اور شریعت وضع کرنے کا حق بغیر کسی شریک کے صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: "إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ" (یوسف:40) (اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے)، اور: "وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا" (الکھف:26) (اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا)۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ تمام مخلوقات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اسلئے ان میں حکم بھی اُسی کا چلے گا، پس فرمان باری تعالیٰ ہے: "اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ"(الأعراف:54) (خبر دار! پیدا فرمانا اور حکم دینا اللہ ہی کے لیے خاص ہے

ان آیات کریمہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں حکم اور قانون سازی کا اختیار رب تعالیٰ نے اپنی ذات گرامی کے ساتھ مختص فرمایا ہے اور اس میں اسکا کوئی شریک نہیں۔ جبکہ جمہوریت میں حکمران اور قانون ساز اداروں کے اراکین رب تعالیٰ کے اس اختیار میں اسکی برابری کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں وہ خود کو اللہ عزّٗوجل کا شریک بنا لیتے ہیں۔ وہ افراد جوانتخابات کے قیام میں مدد و معاونت کرتے ہیں تو وہ اس عمل کےاور اسکے پیچھے کارفرما افراد کےحمایتی شمار ہوں گے، انکا حکم وہی ہے جو اس عمل کی طرف بلانے والوں اور اس کا پرچار کرنے والوں کا ہے۔ اور انتخابات کے امیدواران ربوبیت و الوہیت کے دعویدار ہیں اور ان کو منتخب کرنے والوں نے ان کو اللہ کے علاوہ اپنا رب اور اس کا شریک ٹھہرا لیا ہے، لہذا اللہ کے دین میں ان کا حکم کفرکا اور اسلام سے خروج کا ہے۔

شریعت الٰہی کے نفاذ کا حکم: پھر رب تعالیٰ نے اپنے تمام انبیاء علیہم السلام کو اور محمد رسول اللہﷺ کو بھی یہی حکم فرمایا کہ وہ اللہ عزّوجل کی وضع کردہ شریعت کو قائم کریں اور اسی کے مطابق فیصلے کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: "شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٖٓ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيْسٰٓى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ" (الشوریٰ:13) (اس نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جو ہم نے آپ کو بذریعہ وحی دیا ہے، اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا، اور سب سے کہا تھا کہ تم دین کو قائم کرو، اور اس میں اختلاف پیدا نہ کرو)۔ اور فرمایا: "وَاَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعْ اَهْوَاۗءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ"(المائدة:49) (آپ ان کے معاملات میں اللہ کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی حکم کیا کریں، اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کیجئے اور ان سے ہوشیار رہیے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے اِدھر اُدھر نہ کردیں)۔ جبکہ نظام جمہوریت میں احکام الٰہی کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے انسانوں کی نفسانی خواہشات کے مطابق بنائے ہوئے کفریہ قوانین نافذ کیے جاتے ہیں۔

دین اللہ کی جگہ کچھ اور نافذ کرنے والا حاکم: اللہ کے حکم کو بدلنے، اسے معطل کرنے یا اسکی جگہ کچھ اور نافذ کرنے والا حاکم طاغوت ہے۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے: "اَمْ لَهُمْ شُرَكٰۗؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ" (الشوری:21) (کیا ان لوگوں کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کا ایسا طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟)۔ اور: "وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ" (المائدة:44) (اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں)۔ ایک اور آیت میں اس سے بھی واضح انداز میں ایسے لوگوں کا حکم بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْٓا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ ۭ وَيُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا" (النساء:60) (کیا آپ نے ان لوگوں کے حال پر غور کیا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے، اس پر بھی ایمان لائے ہیں اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتارا گیا تھا، مگروہ چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کے فیصلے تسلیم نہ کریں اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں گمراہ کرکے بہت دور تک لے جائے)۔ اسی لیے شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے ان طواغیت کو اپنے رسالے میں ذکر کردہ طواغیت کے سرغنوں میں شامل کیا ہے۔

ابن القیم رحمہ اللہ کا قول ہے: "ہر وہ معبود یا متبوع (جس کی اتباع کی جائے) یا مطاع (جس کی اطاعت کی جائے) جس کی عبادت، اتباع یا اطاعت میں لوگ حد سے تجاوز کرجائیں، طاغوت کہلاتا ہے۔ پس کسی قوم کے لوگ اللہ اور اسکے رسولﷺ کو چھوڑ کر جس کی طرف اپنے فیصلے کروانے کیلئے جائیں یا اللہ کے سوا اسکی عبادت کریں یا اللہ کی جانب سے عطاکردہ بصیرت کے بغیر اس کی اتباع کریں یا کسی ایسے کام میں اسکی اطاعت کریں جس کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی اطاعت نہیں(یعنی کسی ایسے امر میں اسکی اطاعت کریں جس کو سرانجام دینے سے اللہ کی معصیت کا ارتکاب ہوتا ہو) تو وہ اس قوم کا طاغوت ہے"(اعلام الموقّعین)۔ اور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول ہے: "اور اللہ کی معصیت میں جس کی اطاعت کی جائے وہ بھی طاغوت ہے۔ اسی لیے کتاب اللہ سے ہٹ کر جس سے فیصلہ کروایا جائے وہ بھی طاغوت ہے۔ اور فرعون اور عاد کو طاغوت کا نام دیا گیا"(مجموع الفتاویٰ)۔

وہ تمام حکام، بادشاہ اور امراء و وزراء، مجلس قانون ساز (پارلیمنٹ) میں بیٹھے اراکین (چاہے وہ جواہر لال نہرو ہو یا مرتد أبو الکلام آزاد، نرندر مودی ہو یا مرتد اسد الدین اویسی)، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں اور کمیٹیوں کے قاضی، اور ان سب کی سرپرست اقوام متحدہ کی تنظیموں، سلامتی کونسل کے اراکین اور عالمی عدالت انصاف وغیرہ کے قاضی، جو شرعی احکام کو بدلتے ہیں، انہیں معطل کرتے ہیں اور انکی جگہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین، رائج شدہ معاشرتی اقدار یاقبائلی رسوم ورواج کو نافذ کرتے ہیں، وہ سب طواغیت کی فہرست میں شامل ہیں۔

غیر اللہ سے فیصلے کروانے والوں کا حکم: شریعت اسلامی کی بجائے کفریہ قوانین وضع کرنے والوں اور انہیں نافذ کرنے والوں کا حکم اوپر بیان کیا گیا ہے۔ ان طاغوتی کفریہ قوانین سے فیصلے کروانے والوں کے ایمان کی اللہ سبحٰنہ وتعالیٰ نے نفی کی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا"(النساء:65) ( (اے محمدﷺ!) آپ کے پروردگار کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے اختلاف میں آپ کو حَکَم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم نہ کرلیں، پھر آپ جو فیصلہ کریں اس کے متعلق اپنے دلوں میں گھٹن بھی محسوس نہ کریں اور اس فیصلہ پر پوری طرح سر تسلیم خم کردیں)۔ پھر ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگون کا اصل مرض مفاد پرستی ہے، اور انکے بیمار اور شکوک وشبہات میں پڑے ہوئے دل اللہ اور اسکے رسولﷺ کے منصف ہونے پر یقین نہیں رکھتے، پس فرمان باری تعالیٰ ہے: "وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ٭ وَاِنْ يَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ يَاْتُوْٓا اِلَيْهِ مُذْعِنِيْنَ ٭ اَفِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْٓا اَمْ يَخَافُوْنَ اَنْ يَّحِيْفَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَرَسُوْلُهٗ ۭ بَلْ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ٭"(النور:48۔50) (اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے تو ان میں ایک گروہ منہ موڑ کر چل دیتا ہے* اور حق ان کی موافقت میں ہو تو بڑے مطیع و منقاء ہو کر چلے آتے ہیں* کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا یہ شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا انھیں اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کہیں ان کی حق تلفی نہ کریں؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی بڑے ظالم ہیں)۔ انہی أسباب کی بناء پر اور یقین کی دولت سے محروم ہونے کے سبب وہ جاہلی احکام کی جانب دوڑے جاتے ہیں۔ "اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ" (المائدة:50)( کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟

باہمی مساوات؛ کیا بینا اور نابینا دونوں برابر ہیں؟!: نظام جمہوریت کے تحت معاشرے کے افراد کے مابین مذہب کے لحاظ سے کوئی تفریق نہیں کی جاتی، یعنی بالفاظ دیگر اس نظام میں افراد کو تولا نہیں جاتا بلکہ گنا جاتا ہے۔ پس جمہوریت کی نگاہ میں ایک موحد کی رائے کا بھی اتنا ہی وزن ہے جتنا کہ مشرک کی رائے کا؛ زمین وآسمان کے رب کا عبادت گزار، بتوں کا پجاری، ہر مفید ومضر شے کے آگے سجدہ ریز ہوجانے والا، اللہ کے نبی کو اسکا بیٹا قرار دینے والا، جمہوریت میں سب برابر ہیں۔ لیکن حقیقت اسکے عین برعکس ہے، اور لوگ نہ صرف دین بلکہ بصیرت، اعمال اور انجام کار کے حوالے سے بھی مختلف ہیں۔ جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: "قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ۭاَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ"(الانعام:50) ( آپ ان سے پوچھئے: کیا نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں؟ پھر تم لوگ کیوں نہیں سوچتے؟)۔ ایک اور آیت میں رب تعالیٰ نے ہر اچھے برے پر ایک ہی حکم لگا دینے والوں کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا: " اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ٭مَا لَكُمْ ۪ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ٭"(القلم:35۔36) (تو کیا ہم فرماںبرداروں کو جرم کرنے والوں کی طرح کردیں گے؟* تمہیں کیا ہوگیا ہے، کیسے فیصلے کر رہے ہو؟ لیکن جمہوریت کا فیصلہ تو یہی ہے کہ ہر اچھا برا، اللہ کا دوست اور دشمن، معاشرے کا خیرخواہ مصلح اور مفسد ناسور، سب کی رائے کا ایک ہی وزن ہے۔ جن کے بارے میں جنتوں کا فیصلہ ہے اور جنہیں ہمیشہ کیلئے جہنم کا ایندھن بننا ہے، جمہوریت کی نگاہ میں وہ سب ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں، حالانکہ "لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ" (الحشر:20)( اہل دوزخ اور اہل جنت کبھی برابر نہیں ہوسکتے

آزادی تو ہے، مگر باطل کیلئے:
نظام جمہوریت کے علمبردار مذہب، رائے اور شخصی معاملات کی جس آزادی، بلکہ مادر پدر آزادی کے دعوے کرتے ہیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اس آزادی کا اسلام میں کوئی وجود ہی نہیں، بلکہ اس کے برعکس تمام مخلوقات اور خصوصا انسان اور جن اللہ تعالیٰ کے غلام ہیں جن کیلئے اپنے آقا کے بنائے ہوئے قوانین اور اوامر پر چلنا فرض ہے۔ رب کائنات کا فرمان ہے: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ"(الذاریات:56) ( اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں پھر دین کو چننے کی بھی کوئی آزادی نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں صرف اسلام ہی قابل قبول دین ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَھُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ"(آل عمران:85) (اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگاجن لوگوں کو انکی جان، مال اور عزتوں کی امان دی جاتی ہے تو وہ بھی ان پر اسلام کے لاگو کردہ جزیہ اور دیگر شرائط کو پورا کرنے کی صورت میں دی جاتی ہے، یعنی اس صورت میں بھی غلبہ دین اسلام ہی کیلئے ہے۔

دوسری جانب جمہوریت والوں کو بھی کسی کے کلمۂ شہادت زبان سے ادا کردینے اور نماز، روزہ، زکاۃ اور حج کی ادائیگی سے کوئی خاص سروکار نہیں کیونکہ ان عبادات کی ادائیگی سے انکے مفادات پر ضرب نہیں پڑتی، لیکن جیسے ہی کوئی جہاد اور نفاذ شریعت کی بات کرتا ہے، امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر کماحقہ کاربند ہوتا ہے، اور طاغوتی نظام کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو جمہوریت کے سرپرست ہر طرح کے اسلحے سے لیس ہوکر اس پر چڑھائی کردیتے ہیں، کیونکہ ان کی نظر میں کفروشرک، سود، بے حیائی، لوٹ مار، ظلم وجبر کیلئے تو کھلی چھٹی ہے، لیکن دین حق کی تطبیق انہیں قطعا منظور نہیں۔ اسی لیے دنیا بھر میں جو علاقے نظام جمہوریت کے زیر اثر ہیں وہاں سیکولرازم یعنی لادینیت کی اور دہریت کی ہر طریقے سے اور ہر سطح پر پشت پناہی کی جارہی ہے۔

اور آزادیٔ رائے کی بات کریں تومعاملہ یہ ہے کہ جب باطل مذاہب کے پیروکاروں کے سامنے انکے معبودوں اور مقتدر ہستیوں کی گستاخی کی جائے تو وہ بھی ایسے شخص کو سنگسار کرنے اور جلادینے وغیرہ پر تلے ہوئے نظر آتے ہیں (جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فیصلہ کیا گیا کہ انہیں جلادیا جائے)؛ پھر دین حق کے پیروکاروں کا ایسے اشخاص اور ایسی آزادی کے بارے میں کیا موقف ہوگا؟ ایک موقع پر بعض افراد نے صحابۂ رسولﷺ کے بارے میں از راہ مذاق بعض طنزیہ کلمات کہہ دیے، تو اس پر رب تعالیٰ کا فیصلہ اس آیت میں نازل ہوا کہ: "وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ۭ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ٭ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ"(التوبة:65-66) ( اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو صرف مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ آپ ان سے کہئے کہ کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی، اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی ہوتی ہے؟* بہانے نہ بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو لیکن حقیقت حال تو یہ ہے کہ یہ آزادیٔ رائے صرف مستشرقین، گستاخان رسولﷺ، اور ان جیسے دیگر اسلام دشمنوں کو ہی حاصل ہے۔ اسی آزادئ رائے کی آڑ لے کر مرتد سلمان رشدی لعنۃ اللہ علیہ، رحمۃ للعالمینﷺ کی ذات گرامی کی شان میں گستاخیوں کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر اسکے پیشوا برطانوی صلیبی اسے پناہ دیتے ہیں۔ اسی گمراہ کن آزادی کو ڈھال بناکر مرتدہ تسلیمہ نسرین لعنۃ اللہ علیہا دین حنیف کے خلاف زبان درازیاں کرتی ہے اور اس پر جمہوریت کے سرپرست مغربی ممالک اسے شہریت، انعام واکرام اور تمغوں سے نوازتے ہیں۔ اسی آزادی کا ڈھونگ رچاکر مغربی صلیبی ممالک رسول اکرمﷺ کی گستاخی میں بنائے گئے کارٹونز کو اپنے اخبارات میں بارہا شائع کرتے ہیں۔ اسی پلید آزادی کا نام لے کر اسلام دشمن ممالک کا میڈیا اسلام کے خلاف جنگ برپا کیے ہوئے ہے۔ لیکن دوسری جانب اگر کوئی شخص طاغوتی نظام کے خلاف اظہار رائے کردے تو اس جانبدار جمہوریت کے علمبرداروں کے ہاں اس شخص کیلئے آزادیٔ رائے اس طرح غائب ہوجاتی ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔ پس کفری جمہوریت کے ان پاسبانوں کی دی گئی نام نہاد آزادی کا مطلب اللہ عزّوجل کی غلامی سے نکل کر انکی غلامی میں آجانا ہے۔

نام نہاد "اسلامی مملکت" کے حکمران خود مرتدین!!!: نظام جمہوریت میں اسلام کے جھوٹے دعویدار ایک انتخابی امیدوار کو ارتداد کے بعض ابواب سے گزرنا ہوتا ہے، جن میں سے صرف ایک باب سے اسکا گزر جانا ہی اسکو ملت اسلامیہ سے خارج کردینے اور مرتد بنا دینے کیلئے کافی ہے۔ ان ابواب میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • خود ساختہ کفری دستور اور اس پر عمل کا اقرار کرنا
  • حکومت میں کافر گروہوں کے موجود ہونے کے جواز کا اقرار کرنا
  • دستوری حلف اٹھانا (یعنی اللہ سے کفر کرنے پر اللہ ہی کی قسم اٹھانا)
  • اپنے دور حکومت میں کفری قوانین کی تطبیق کرنا
  • نئے کفری قوانین وضع کرنا
  • مسلمانوں اور خصوصا مجاہدین کو "دہشت گرد" کا عنوان دے کر کفار کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے خلاف جنگ برپا کرنا
  • جن معاملات میں طرفین مسئلہ حل کرنے سے عاجز ہوں انہیں اقوام متحدہ میں فیصلے کیلئے پیش کرنا
یہ وہ افعال ہیں جن میں سے ایک بھی فعل کا ارتکاب کرنے سے نماز روزے کا پابند، حافظ قرآن، زکاۃ وصدقات نکالنے والا پکا ٹھکا حاجی بھی مرتد بن جاتا ہے اور ان میں سے بعض افعال کا ارتکاب تو اسے طاغوت بنا دیتا ہے؛ تو نام نہاد "اسلامی جمہوریہ" پاکستان اور "اسلامی جمہوریہ" ایران (جوکہ فی الحقیقت مرتد رافضیوں کا گڑھ "مرتد جمہوریہ" ایران ہے) کی پارلیمینٹس کے اراکین کا حال تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثر کے پلے دکھاوے کی عبادات بھی نہیں، اور اگر کسی کے پلے ہوں بھی تو اس صورت میں بھی اسکے اعمال کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ اس کے اعمال نے تو دنیا وآخرت میں اکارت ہی جانا ہے (وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ)(البقرة:217) (اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا، اور پھر حالت کفر میں ہی مرجائے گا، تو اس کے اعمال دنیا وآخرت میں ضائع ہوجائیں گے، اور وہ لوگ جہنمی ہوں گے، اسی میں ہمیشہ رہیں گے

جمہوریت سے متعلق اسکے حمایتیوں کے پھیلائے ہوئے شبہات

بعض دفعہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ گمراہ، بصیرت سے محروم اور مغرب سے مرعوب زدہ لوگ اسلام میں اپنے تئیں جدت لانے اور اسے نام نہاد "دور جدید کے تقاضوں" سے ہم آہنگ قرار دینے کی غرض سے یا تو جمہوریت کو درست نظام سمجھ کر اپنانے اور نافذ کرنے کیلئے اپنی جانیں کھپاتے ہیں، یا اس کی دین اسلام کے ساتھ مطابقت قائم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، اور یا اسے اپنانے کو مجبوری قرار دینے کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ آئیے انکے پھیلائے ہوئے بعض شبہات اور انکے علمی محاکمہ پر نظر ڈالتے ہیں۔

جمہوریت کو شوریٰ کا بدل قرار دینا: جمہوریت کے بعض حمایتی یہ بے بنیاد حجت پیش کرتے ہیں کہ جمہوریت کا تصور تو اسلام میں بھی شوریٰ کے نام سے موجود ہے، کیونکہ جمہوریت میں بھی استصواب رائے ہوتا ہے اور شوریٰ میں بھی۔ یہ بات وہی شخص کرسکتا ہے جس کی سیاہ کاریوں کے سبب رب تعالیٰ نے اس سے نور بصیرت چھین لیا ہو۔ فی الحقیقت جمہوریت کا شوریٰ کے ساتھ دور پار کا بھی واسطہ نہیں۔ ان دونوں نظاموں میں متعدد پہلوؤں سے فرق ہے جن میں سے بعض یہ ہیں:

  • شوریٰ کا تصور اسلامی ہے، جبکہ جمہوریت کا تصور کفری، یونانی اور مغربی ہے۔
  • جمہوریت کیلئے قرآن وحدیث میں کوئی نص موجود نہیں، جبکہ شوریٰ کیلئے نصوص موجود ہیں۔
  • ان امور میں شوریٰ کا کوئی تصور نہیں جن میں قرآن وحدیث میں سے قطعی نص موجود ہو اور جن کا فرض، واجب، یا حرام ہونا واضح ہو؛ لیکن جمہوریت میں کسی بھی چیز پر ووٹنگ ہوسکتی ہے بلکہ اگر کسی چیز کے حق میں اکثریت ووٹ دے دے تو اسے جائز اور اسکے خلاف ووٹ دے دے تو اسے ناجائز قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ اگر کسی حلال کو حلال قرار دینے یا حرام کو حرام قرار دینے پر بھی ووٹنگ کی جائے تو یہ بھی ارتداد ہے، کیونکہ حلال وحرام کی تعیین کا حق صرف اللہ عزّوجل کو حاصل ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:"وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَٰذَا حَلَالٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ"(النحل:116) (کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو اور بالفرض اگراکثریت حلال کو حلال قرار دینے کے خلاف ووٹ دے دے تو اسے حلال قرار نہیں دیا جائے گا جوکہ ارتداد کا موجب ہے۔
  • شوریٰ صرف مسلمانوں سے کی جاتی ہے جبکہ جمہوریت میں ووٹنگ کے عمل کے تحت مشرک، کافر، مرتد، بقر (گائے) کا پجاری، قبر کا پجاری، الغرض کوئی بھی شریک ہوسکتا ہے۔
  • نظام شوریٰ میں معاملات کا فیصلہ اکثریت کی بنیاد پر نہیں ہوتا، بلکہ امام یعنی خلیفہ زیر غور معاملے کا فیصلہ کرتا ہے اور اس سلسلے میں اہل الحل والعقد سے اور بعض معاملات میں عام مسلمانوں سے بھی مشورہ کرتا ہے، اور امام اس بات کا پابند نہیں کہ وہ اہل الحل والعقد کی متفقہ رائے کو ہی اپنائے بلکہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ امت کی مصلحت متفقہ رائے میں نہیں تو اسکا فیصلہ اہل الحل والعقد کی متفقہ رائے سے بالکل برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ پھر آخرکار امام ہی کا فیصلہ نافذ کیا جاتا ہے اور اس فیصلے کے مخالف رائے رکھنے والے بھی اسی طرح امام کی اطاعت کرتے ہیں جس طرح اس کے موافق رائے رکھنے والے۔ اسکے برعکس جمہوریت میں کسی امر کا فیصلہ کرنے کیلئے اس کے موافق اور مخالف افراد کو گنا جاتا ہے، اور فیصلہ ہوجانے کے بعد بھی حزب اختلاف اپنی مخالفت پر قائم رہتا ہے۔
  • شورائی نظام میں لوگ احساس ذمہ داری اور دنیا وآخرت میں جوابدہی کے سبب خود عہدوں کو طلب نہیں کرتے بلکہ عہدوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، بلکہ جو خود کوئی عہدہ طلب کرے اسے وہ عہدہ دیا بھی نہیں جاتا۔ اس کے برعکس جمہوریت میں انتخابی امیدواران فقیروں کی طرح عہدوں کے پیچھے بھاگتے ہیں اور گھر گھر جاکر ووٹوں کی بھیک مانگتے ہیں۔
  • شوریٰ میں ممبران، یعنی اہل الحل والعقد کی صفات جو سورۃ الشوریٰ کی آیت 36 تا 39 میں مذکور ہیں، ان صفات کا اور پارلیمینٹس کے اراکین کی صفات کا موازنہ کچھ اس طرح سے ہے:
  • اراکین شوریٰ: اللہ عزّوجل پر ایمان
  • اراکین پارلیمینٹ: ربوبیت اور الوہیت میں اللہ عزّوجل کی برابری کرنے کی جسارت
  • اراکین شوریٰ: اللہ رب العزت پر توکل
  • اراکین پارلیمینٹ: اپنے سرپرستوں اور پیشواؤں یعنی اقوام متحدہ اور اسکے اداروں پر توکل
  • اراکین شوریٰ: کبائر اور فواحش سے اجتناب
  • اراکین پارلیمینٹ: اکثریت سراپا کبائر و فواحش
  • اراکین شوریٰ: حالت غضب میں عفوودرگزر کرنا
  • اراکین پارلیمینٹ: انکی پارلیمینٹ ہاؤس کے اندر اور عوام کے ساتھ بھی ہاتھا پائی اور ہنگامہ آرائی کی روشن تاریخ کسی سے مخفی نہیں
  • اراکین شوریٰ: رب تعالیٰ کے اوامر کی بجاآوری
  • اراکین پارلیمینٹ: رب تعالیٰ کے اوامر کو معطل کرکے انکی جگہ خود ساختہ اوامر کا نفاذ
  • اراکین شوریٰ: نماز کا قیام
  • اراکین پارلیمینٹ: ان میں سے اکثریت کا نماز سے پرہیز، اور ارتداد کا ارتکاب کرنے کے سبب نماز پڑھنے والوں کی بھی نمازیں اور دیگر اعمال اکارت
  • اراکین شوریٰ: معاملات کا شوریٰ کے ساتھ طے کرنا (یعنی کسی زیر غور معاملے سے متعلق عدول (یعنی عاقل، فسق سے اجتناب کرنے والے اور صاحب اخلاق ووقار)، امانت دار، باصلاحیت اور اس معاملے کی سمجھ بوجھ رکھنے والے مسلمانوں کا آپس میں مشورہ کرکے اس معاملے کو طے کرنا)
  • اراکین پارلیمینٹ: معاملات کا ووٹنگ کے ساتھ طے کرنا (یعنی کسی معاملے سے متعلق ہر ایرے غیرے مرتد یا کافر کا ووٹنگ کے عمل میں شامل ہوجانا، چاہے وہ بددیانتی وبدعنوانی، بدکرداری وبداخلاقی، اناڑی پن وغیرہ میں حد کمال کو ہی پہنچ چکے ہوں اور اس معاملے سے مطلقا ناآشنا ہوں)
  • اراکین شوریٰ: انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے
  • اراکین پارلیمینٹ: ان کی اکثریت عوام کی کھلے عام جیبیں کترنے میں ہمہ تن مصروف، اور بظاہر تو فلاح وبہبود کے خوب دعوے، لیکن پس پردہ "لوٹ مار چھین شاد باد"!
  • اراکین شوریٰ: زیادتی ہونے کی صورت میں بدلہ لینے والے
  • اراکین پارلیمینٹ: خود اپنی عوام پر زیادتیاں کرنے والے اور انہیں زیادتیاں کرنے والےکافر اور صلیبی ممالک کے حوالے کردینے والے
اب ان پارلیمینٹ ممبران میں سے کوئی چاہے تہجد پڑھتے ہوئے رات گزارے یا کوئی کسی زنا کے اڈے پر حرام کاری میں رات بِتادے، یا کوئی کسی مندر میں پوجا پاٹ کرتے کرتے سوجائے، انجام کار کے حوالے سے تو وہ سب برابر ہی ہیں کیونکہ وہ سب طواغیت ہیں اور اُن سب نے آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم کا ایندھن ہی بننا ہے۔

قرآنی آیات کی الٹ تفسیر: سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے اور جمہوریت کے کفر کو اسلام کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش میں بعض لوگ قرآنی آیات کی من مانی تفسیر کرتے ہیں اور انہیں اپنے موقف کے حق میں دلیل بنانے کیلئے انہیں نبی اکرمﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے فہم سے ہٹاکر الٹ طریقے سے بیان کرتے ہیں۔ ان آیات میں سورۃ الکافرون کی آخری آیت "لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ"(الکافرون: 6) (تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین) بھی ہے جس کو بنیاد بناکر جمہوریت کے حامی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جمہوریت میں مذہب کی جو آزادی دی جاتی ہے وہ تو اسلام میں بھی موجود ہے۔ یہ دعویٰ نہ تو قرآن وحدیث کی رو سے درست ہے اور نہ ہی یہ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے عمل سے مطابقت رکھتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: "وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ"(الانفال:39) (اور ان سے قتال کرو، یہاں تک کہ (شرک کا) فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے پھر ایک اور آیت میں اہل کتاب کے حوالے سے حکم دیا جارہا ہے کہ: "قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ"(التوبة:29) (ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریںیعنی یہودونصاریٰ کو بھی انکے دین پر چلنے کی مطلقا آزادی نہیں دی جائے گی، اور اگر انہیں اپنے مذہب پر قائم رہنا ہے تو انہیں اسلام کے تابع ہوکر، ذلیل بنتے ہوئے جزیہ دے کر، اور شرائط عمر(رضی اللہ عنہ) کی پابندی کرتے ہوئے رہنا پڑے گا۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک جانب ہم انکے دین کے باطل ہونے کے سبب انہیں دین حق پر لانے یا انہیں دین حق کے حکم کے تابع کرنے کیلئے ان سے قتال کریں اور دوسری جانب ہم یہ کہیں کہ کفار کو اپنے مذاہب پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہے؟!

مذہبی آزادی کے دعوے کی حقیقت جاننے کیلئے ہم اس آیت "لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ" کے شان نزول اور تفسیر کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مکی دور میں قریش کے بعض افراد رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور انہیں پیش کش کی کہ مشرکین ایک سال تک اللہ عزّوجل کی عبادت کریں اور اسکے بالمقابل رسول اللہﷺ (معاذ اللہ) ایک سال تک مشرکین کے معبودان باطل کی پوجا کریں۔ اس پر رب تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں جو ابلیس پر اس سورت سے زیادہ بھاری اور شدید ہو، کیونکہ اس میں توحید کے اثبات اور شرک سے براءت کا بیان ہے"۔ ابن القیم رحمہ اللہ کا آیت "لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ" کے بارے میں قول ہے: "اس آیت میں ان (کفار) کے دین سے بدرجہ کمال براءت اور اس سے عدم موافقت وارد ہوئی ہے"۔ الغرض نہ تو رسول اللہﷺ، نہ صحابہ کرام اور نہ ہی سلف صالحین میں سے کسی نے اس آیت سے حریت دین اور حریت عقیدہ کا مطلب لیا۔

یہ حقیقت اور زیادہ کھل کر سامنے آجاتی ہے جب ہم انبیاء علیہم السلام اور انکے پیروکاروں کا باطل مذاہب کے ساتھ معاملہ دیکھتے ہیں۔ یہ رہے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام، کہ جنہوں نے معبودان باطل کے پجاری مشرکین کے ساتھ انکے معبودوں کے بارے مکالمہ کیا اور ان مشرکین کو اور انکے آباءواجداد کو انکے منہ پر گمراہ قرار دیا (الأنبیاء:52-56)۔ پھر پیشگی دھمکی دے کر انکے بتوں میں سے بڑے والے کو چھوڑکر باقیوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اس منظر کو ان کیلئے لمحۂ فکریہ بنادیا(الأنبیاء:57-63)۔ پھر جب مشرکین اپنے باطل پر ہونے کا یقین آجانے اور ابراہیم علیہ السلام کے انکو لاجواب کرکے بغلیں جھانکنے پر مجبور کردینے کے باوجود اپنی ضد پراڑے رہے اور انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک ڈالا تو رب تعالیٰ نے انہیں آگ سے بچاکر مشرکین کے مکروفریب کو خاک میں ملادیا(الأنبیاء:64-70)۔ اسی طرح آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہﷺ تک تمام انبیاء اور اہل باطل کے مابین کشمکش جاری رہی، بلکہ اس راہ میں کتنے ہی انبیاء علیہم السلام قتل بھی ہوئے۔ پھر خاتم النبیینﷺ کو دیکھیے، کہ مشرکین مکہ نے انہیں دولت، عورت، سیادت وبادشاہت، ہر دنیاوی آسائش کی پیش کش کی، لیکن آپﷺ شرک اور مشرکین سے عداوت پر قائم رہے اور انکے عقائد کا ابطال کرتے رہے اور دین حق کی دعوت کو جاری رکھا۔ پھر پہلی آیت قتال نازل ہوتے ہی رسول اللہﷺ اور آپ کے ہمراہ اہل ایمان، کفار سے اپنی جانوں اور أموال کے ساتھ قتال کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ پھر آپﷺ کے بعد صحابہ کرام اور سلف صالحین بھی اسی راہ پر کاربند رہے، یہاں تک کہ اسلامی سلطنت اس قدر وسعت اختیار کرگئی کہ خلیفہ ہارون الرشید نے آسمان پر بدلی کو دیکھا تو کہا کہ "جا جہاں چاہتی ہے جا برس، کہ تیرے (برسنے سے اگنے والی فصل کے) خراج تو لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے"۔ ان وسیع فتوحات کے حصول میں لاکھوں جانیں قربان ہوئیں، لاکھوں خواتین بیوا اور بچے یتیم ہوئے، کتنے ہی شیر جوان مجاہدین زخموں اور دائمی معذوری کا شکار ہوئے، اور اسی طرح جہادوقتال قیامت تک جاری رہے گا۔ لیکن اگر مذہبی آزادی کا نظریہ درست مان لیا جائے تو یہ سب قربانیاں دینے اور اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر قتال کرنے کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی آزادی کی یہ بیمار اور فرسودہ سوچ آئی کہاں سے؟ درحقیقت مسلمانوں میں اس سوچ کا آغاز کرنے والا شخص تاتاریوں کا ایک وزیر تھا، جس کا ذکر ابن تیمیہ رحمہ اللہ "اور اسی طرح ان (تاتاریوں) کا پاگل وزیر" کے الفاظ سے شروع کرکے اسکے بارے میں لکھتے ہیں: "یہاں تک کہ انکے خبیث، ملحد، منافق وزیر نے ایک کتاب لکھی جسکا مضمون یہ تھا کہ رسول اللہﷺ (معاذ اللہ) یہود ونصاریٰ کے دین پر راضی تھے اور وہ ان کا انکار نہیں کرتے تھے، اور انکی مذمت نہیں کی جاتی تھی اور انہیں انکے دین سے روکا نہیں جاتا تھا اور انہیں اسلام کی طرف منتقل ہونے کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ اور اس خبیث جاہل نے دلیل کے طور پر یہ فرمان باری تعالیٰ نقل کیا: ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ * لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ * وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ * وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَا عَبَدْتُمْ * وَلَا أَنْتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ * لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ*)(الْكَافِرُون:1-6) (آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو * نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو* نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں* اور نہ میں عبادت کرونگا جسکی تم عبادت کرتے ہو* اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں* تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے) اور اس نے گمان کیا کہ اس آیت سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ (معاذ اللہ) مشرکین کے دین سے راضی تھے"۔ پھر آگے ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: "اور ظاہر ہے کہ یہ اسکی جہالت ہے , کیونکہ فرمان باری تعالیٰ "لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِين" میں ایسا کوئی مفہوم نہیں پایا جاتا جس سے مشرکین کے دین کا حق ہونا اور (اللہ تعالیٰ کا) اس سے راضی ہونا معلوم ہو، بلکہ یہ تو انکے دین سے براءت کا بیان ہے۔ اسی لیے رسول اکرمﷺ نے اس سورت کے بارے میں فرمایا (یہ سورت شرک سے براءت ہے)(الترمذی)"۔ یعنی اس نظریے میں افلاطون کے پیروکار جمہوریت کے حامیوں کے پیشوا تاتاریوں کا وزیر اور اسکے ہم خیال لوگ ہیں، نہ کہ سلف صالحین۔

اسی طرح سورۃ البقرۃ کی آیت 257 "لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ" (دین میں کوئی زبردستی نہیں) کو جمہوریت کے مرتد حامی اسکے اصل مفہوم سے ہٹاکر مذہبی آزادی کے اپنے دعوے کو سچا ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں استعمال کرتے ہیں۔ اس آیت کا اصل مفہوم جاننے کیلئے اس کے بارے میں علماء ومفسرین کے اقوال پر نظر دوڑاتے ہیں جو مختلف آراء میں منقسم ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ اس رائے کے حاملین میں صحابہ میں سے عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، اور مفسرین میں سے ابن کثیر اور ابن العربی المالکی رحمہما اللہ شامل ہیں۔ اور امام قرطبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مفسرین میں سے ایک کثیر تعداد کی یہی رائے ہے۔ اس رائے کے حاملین کے ہاں اس آیت کی ناسخ آیت "يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ" (التوبة:73) (اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے) اور "فأقتلوا المشركين"(التوبة:5) (تو مشرکوں کو قتل کرو) ہے۔ ایک اور رائے کے مطابق یہ آیت صرف اہل کتاب یعنی یہودونصاری سے متعلق ہے۔ اس رائے کے حاملین میں ابن عباس رضی اللہ عنہما، سعید بن جبیر، حسن البصری اور امام الطبری رحمہم اللہ شامل ہیں۔ اس رائے کو زیر غور آیت کے شان نزول سے بھی تقویت ملتی ہے۔ اور تیسری رائے امام جصاص رحمہ اللہ کی ہے جن کے مطابق "اس آیت کا حکم عام ہے اور یہ قتال کے حکم اور اہل کتاب کے مسئلے سے پہلے نازل ہوئی تھی"۔ یعنی اسلام کے آغاز میں مسلمان کسی پر اسلام قبول کرنے کے حوالے سے زبردستی نہیں کیا کرتے تھے اور یوں اس آیت کا حکم سب کفار سے متعلق تھا۔ پھر جب مشرکین سے قتال کا حکم آیا تو یہ آیت مشرکین کے حوالے سے منسوخ ہوگئی اور اہل کتاب کے حق میں غیر منسوخ رہی اور اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کردیں تو انکے جزیہ دینے اور اسلام کے حکم کے تحت آنے کی صورت میں انہیں جان، مال اور عزتوں کی امان دی گئی ہے جس کو عمر رضی اللہ عنہ نے القدس کے عیسائیوں پر ان شرائط کے ساتھ لاگو کیا جنہیں "شروط عمریة" (شرائط عمر) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اہل کتاب اگر جزیہ دینے سے بھی انکار کردیں تو انکے خلاف قتال کیا جائے گا۔ رہا اس شخص کا معاملہ جو اسلام قبول کرکے دوبارہ سے کفر کی جانب واپس لوٹ جائے تو اس کے بارے میں حدیث نبویﷺ موجود ہے جس کو امام بخاری رحمہ للہ نے روایت کیا ہے کہ "من بدّل دینه فاقتلوہ" (جو اپنا دین بدلے اسے قتل کرڈالو الغرض مذہبی آزادی کا جو تصور جمہوریت کے حمایتی لیے پھرتے ہیں اسکا اسلام سے دور پار کا بھی کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ تصور رکھنے کا صاف صاف مطلب صریح قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کا انکار ہے۔

دو خبیثوں میں سے چھوٹے خبیث کو منتخب کرنے کا فلسفہ: ایک اور غیر اسلامی نقطۂ نظر جس کو بنیاد بناکر لوگ ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ اس انتخابی امیدوار کو ووٹ دیں گے جو نسبتا کم ظالم ہے اور کم کرپشن وبدعنوانی کرنے والا ہے، تاکہ قوم کو نقصان سے حتی الامکان بچایا جاسکے۔ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ انتخابی امیدواران کا ظلم صرف خباثت اور کرپشن تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگوں سے اپنی عبادت کرواکر انہیں ظلم عظیم یعنی شرک کا مرتکب بنا دیتے ہیں اور نتیجتا خود طاغوت بن جاتے ہیں۔ اور اللہ عزّوجل نے تمام انبیاء کرام اور انکے پیروکاروں کو طاغوت سے اجتناب کا حکم دیا ہے، نہ کہ اسے منصب حکومت پر فائز کردینے کا (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ)(النحل:36) (ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (جو انھیں یہی کہتا تھا) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو پھر ارشاد ہوتا ہے: "اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ" (البقرة:257) (اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آتا ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ان کے دوست طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے)۔ یعنی جس طرح اہل ایمان کا مولیٰ وملجا اللہ رب العزت ہے اسی طرح کفار کا مولیٰ وملجا طواغیت ہیں اور وہی انکی قیادت کرتے ہیں، اور قیامت کے دن بھی وہی طواغیت انکے آگے آگے ہوں گے (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ)(ھود:98) (وہ (فرعون) قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے چلے گا اور انہیں جہنم رسید کردے گا، اور وہ بہت ہی بری جگہ ہوگی، جہاں وہ لوگ پہنچا دیے جائیں گے

تدریجی طور پر شرک کے خاتمے اور نظام کی تبدیلی کا فلسفہ:
وہ لوگ جو نظام جمہوریت میں داخل ہوکر تبدیلی لانے اور اسلام نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ہی اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، وہ یہ جان لیں کہ جمہوریت کے ذریعے سے اسلام کبھی غالب آہی نہیں سکتا، کیونکہ جمہوریت اولا تو اسلام کے عین منافی نظام ہے اور جس طرح تھوہر کی کھیتی کاشت کرکے میٹھے پھل حاصل نہیں کیے جاسکتے، اسی طرح جمہوریت کے ذریعے اسلام غالب نہیں کیا جاسکتا۔ کل کا وہ طاغوت ظالم جابر بادشاہ "فرعون"، جس نے ایک کاہن کی پیشنگوئی پربنی اسرائیل کے ہزاروں لاکھوں بیٹوں کو ذبح کروادیا، اس کے دور میں اگر کوئی یہ کہتا کہ چلو فرعون کے نظام حکومت کا حصہ بن کر موسیٰ علیہ السلام کا نظام غالب کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں تو اس وقت کے اہل ایمان کیا کہتے؟ یقینا وہ یہی کہتے کہ یہ شخص دین سے خارج ہونے کے ساتھ ساتھ عقل سے بھی پیدل ہوچکا ہے، اور اسکا مقصد محض جاہ ومنصب کی اپنی ہوس کو پورا کرنا ہے۔ پھر اگر ایسا شخص فرعون کے نظام کا حصہ بن جاتا تو اسکا انجام کیا ہوتا؟ "فَاَغْرَقْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ جَمِيْعًا"(بنی اسرائیل:103) (تو ہم نے اس (فرعون) کو اور جو اس کے ساتھ تھے، سب کو غرق کردیا)، کیونکہ: "اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ"(القصص:8) (بیشک فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکر بڑے ہی خطاوار لوگ تھے اور اگر کوئی یہ حجت لائے کہ کفری نظام میں تبدیلی کی نیت کے ساتھ شامل ہونے والے کی نیت تو اچھی ہے، تو جان لینا چاہیے کہ یہ شیطان کی چال ہے، کیونکہ شیطان بارہا نیک نیتی کا جھانسا دے کر کفر کا ارتکاب کروادیتا ہے، اور کفری عمل نیک نیتی کے ذریعے سے عمل صالح نہیں بنایا جاسکتا بلکہ کفری عمل تو کفری عمل ہی رہتا ہے اور اسکی جزاء بھی وہی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم کا ایندھن بننے ہی کی صورت میں ملے گی (كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ٭ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَآ اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيْهَا ۭ وَذٰلِكَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِيْنَ)(الحشر:16-17) (شیطان کی طرح کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر، جب کفر کرچکا تو کہنے لگا میں تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں٭ پھر ان دونوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے اور ثانیا یہ کہ جمہوریت کے علمبردار اور انکی صف اول میں کھڑے یہودونصاریٰ دنیا میں کہیں بھی جمہوریت کو کسی ایسی صورت میں نافذ نہیں ہونے دیتے جو انکے مفادات اور انکی مرضی کے خلاف ہو۔ پس وہ کیسے اسلام کے نفاذ پر راضی ہوسکتے ہیں؟ جبکہ خالق کائنات نے ہمیں ان کے بارے میں خبر دے رکھی ہے کہ: "وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ"(البقرة:120) (اور یہودونصاری آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کی اتباع کرنے لگیں

اہل طائف کے اسلام لانے کے واقعے پر غور کیا جائے تو اس نظریے کا ابطال اور زیادہ واضح ہوکر سامنے آتا ہے۔ اہل طائف اسلام لانے کی غرض سے رسول اکرمﷺ کے پاس آئے۔ رسول اکرمﷺ نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا اور انہوں نے اسلام لانے پر موافقت ظاہر کی، لیکن اس شرط پر کہ رسول اللہﷺ ایک سال کیلئے ان کے رب بت کو چھوڑے رکھیں، جس پر آپﷺ نے ناکردی، انہوں نے کہا کہ پھر چھ ماہ کیلئے چھوڑ دیں، آپﷺ نے پھر نا کردی، انہوں نے کہا کہ بس ایک دن کیلئے چھوڑ دیں، آپﷺ نے پھر نا کردی۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر یہی معاملہ ہے تو اس بت کو مسمار کرنے کا ذمہ آپ خود لے لیں اور ہمیں اسکا مکلف نہ بنائیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اس کے حوالے سے ہم تمہیں کافی ہوجائیں گے۔ پس آپﷺ نے ابو سفیان اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ طائف میں ثقیف کی نیابت میں اس بت کو مسمار کرنے کی مہم کو سرانجام دیں۔ رسول اللہﷺ نے شرک کے خاتمے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کی اور نہ ہی اس معاملے میں کوئی لین دین، سمجھوتہ اور سودے بازی کی، تو جو لوگ کفروشرک کو مہلت دینا تو درکنار، خود کفروشرک کا ارتکاب کرتے ہوئے کفریہ پارلیمینٹس میں نظام کی تبدیلی کا بہانہ بناکر جاگھستے ہیں وہ کس منہ سے اسلام کا نام لیتے ہیں؟! اسلام اُن سے بھی بَری ہے اور اُنکے اِن افعال سے بھی۔

پس اے ہمارے عزیز مسلمان بھائیو!

اے خاتم النبیین محمد رسول اللہﷺ کی میراث، دین اسلام کے وارثو! اے گزشتہ امتوں پر گواہ بننے والو! اسلام بالکل شفاف اور واضح دین ہے اور ہدایت گمراہی سے ممیّز ہوچکی ہے۔ جمہوری نظام حکومت کے کفری ہونے کا اجمالی تذکرہ اوپر گزر چکا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں کس نظام کو اپنانا ہے؟ مسلمانوں کے قائد اعظم محمد رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام آپﷺ کا سایہ اپنے سروں سے اٹھ جانے کی مصیبت اعظم میں مبتلاء ہوچکے تھے، اور انکے غم واندوہ کی شدت کا یہ عالم تھا کہ کوئی بے ہوش ہوگیا تو کوئی ایسا گھٹنوں کے بل گرا کہ اٹھ نہیں پارہا تھا، کسی کو ایسی چپ لگی کہ کلام ہی نہ کر پارہا تھا اور کسی نے تو اس خبر پر یقین کرنے سے ہی انکار کردیا۔ لیکن اس سب کے باوجود انہوں نے مسلمانوں کی وحدت کو بکھرنے نہیں دیا بلکہ رسول اکرمﷺ کی تدفین سے بھی پہلے نبوت کی جانشینی، یعنی خلافت کا قیام عمل میں آگیا۔ جی ہاں! یہ ہے خلافت اور یہ ہے اسکی اہمیت۔ یہ ہے وہ نظام جس کو مسلمانوں نے اپنی اجتماعی زندگیوں میں اپنانا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ"، قَالُوا: "فَمَا تَأْمُرُنَا؟" قَالَ: "فُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ، فَالْأَوَّلِ، وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ" (متفق علیه) (بنی اسرائیل کے انبیاء ان کا اجتماعی نظام چلاتے تھے، جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا جانشیں ہوتا اور (اب) بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، اب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے"۔ صحابہ نے عرض کی : "آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟" آپ ﷺنے فرمایا : "پہلے کی اور (اسکی خلافت ختم ہونے پر) اس کے بعد پھر پہلے کی بیعت کے ساتھ وفا کرو، انہیں ان کا حق دو اور (تمہارے حقوق کی) جو ذمہ داری انہیں دی گئی ہے اس کے متعلق اللہ خود ان سے سوال کرے گا")۔ خلیفہ کی اطاعت میں رہنے کی اہمیت کا اندازہ اس صحیح حدیث سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے: "جو بالشت بھر بھی مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہوا یقینا اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے نکال پھینکا۔ اور جس کی موت اس حال میں آئی کہ اس پر امام کا ہاتھ نہ تھا تو بیشک اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ اور جو کسی اندھے گمراہی کے جھنڈے تلے عصبیت (یعنی قوم یا قبیلے کی ناحق حمایت) کی دعوت دیتا ہوا یاعصبیت کی نصرت کرتا ہوا مرا تو بیشک جاہلیت کی موت مرا"(الکبیر للطبرانی)۔ اور سنن الدارمی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان منقول ہے کہ: "بلاشبہ جماعت کے بغیر اسلام نہیں، اور امیر کے بغیر جماعت نہیں اور اطاعت کے بغیر امیر نہیں"۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان اپنی جماعت یعنی خلافت کے ساتھ جڑے رہے تب تک وہ دنیا میں غالب رہے اور انکا رعب ودبدبہ بھی قائم رہا۔ پھر جب خلافت کا خاتمہ ہوگیا تو مسلمانوں کا شیرازا بھی بکھر گیا اور وہ مغلوب ومقہور ہوکر رہ گئے۔ لیکن اس امت میں ہر دور میں ایک ایسا گروہ موجود رہا ہے اور رہے گا جو قیامت تک حق پر قتال کرتا رہے گا۔ اسی گروہ کے اہل صدق جواں مردوں نے اللہ عزّوجل کی توفیق سے اپنے جان ومال اور اہل وعیال کی قربانیاں پیش کرکے اسی رب کریم کے فضل سے خلافت کو ازسرنو قائم کردیا ہے اور اس خلافت کا دفاع کرنے اور اسے وسعت دینے کیلئے وہ ہر طرح کی قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

اے دنیا بھر کے غیور مسلمانو! تمہارے دین، ایمان اور عزتوں کا بچاؤ اسی میں ہے کہ تم خلافت اسلامیہ کا حصہ بنو اور اس ڈھال کی آڑ لے کر اسلام کے بدترین دشمن یعنی جمہوریت کے طاغوتی نظام کے خلاف برسرپیکار ہوجاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: "امام ڈھال ہے، اس کے پیچھے سے قتال کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے امان دی جاتی ہے"(صحیح مسلم)۔ اور یاد رکھنا کہ طواغیت اور انکے نظام کو قائم رکھنے اور اسے عوام پر مسلط کرنے میں الیکشن کمیشن، پولیس، انٹیلیجنس اداروں، فوج کے اہلکاران اور پارلیمینٹ کے اراکین، یعنی نیچے سے لے کر اوپر تک سب کے سب شریک ہیں، سو ان میں سے کسی کو بھی مت چھوڑو اور ان سب کے حوالے سے اس فرمان باری تعالیٰ پر کاربند ہوجاؤ "الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا" (النساء:76) (جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں، سو ان شیطان کے دوستوں سے خوب قتال کرو۔ یقینا شیطان کی چال کمزور ہوتی ہے اٹھو اور سنت ابراہیمی کو تازہ کرتے ہوئے عصر حاضر کے سب سے بڑے بت جمہوریت کو توڑ ڈالنے پر کمر بستہ ہوجاؤ تاکہ اللہ عزّوجل کا کلمہ بلند تر ہوجائے اور کفار کا کلمہ پست تر ہوجائے۔

اور جو مسلمان اس کفر کا ارتکاب کرکے مرتد ہوچکا ہے تو اسکا جرم اگرچہ بہت بڑا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر شے پر وسیع ہے، پس اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ توبہ کی راہ اختیار کرنی چاہیے (قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ)(الزمر:53) (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقینا سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہےاور اسے چاہیے کہ وہ توبہ کے بعد نہ صرف طاغوت سے اجتناب کرے بلکہ اسکے خلاف برسر پیکار ہوجائے، امید ہے کہ اسکا یہ عمل اسکی مغفرت کا باعث بن جائے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم کا ایندھن بننے سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنتوں کا وارث بن جائے (إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا)(النساء:146) (ہاں! ان میں سے جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ (کے دین) کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اللہ کے لیے دین کو خالص کرلیا تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ عنقریب مومنوں کو بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا

اے اللہ! اے وحدہ لاشریک لک! اے وہ کہ جس کی دو انگلیوں کے درمیان بنی نوع انسان کے دل ہیں! ہمارے دلوں کو اپنی توحید اور اطاعت پر جمادے اور ہمیں ہر چھوٹے بڑے شرک سے بچالے۔ اے جباروقہار! عرب وعجم کے طواغیت، کفار اور مرتدین کو نیست ونابود کردے اور ہماری ان کے خلاف مدد فرما۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔

جیش انصار اللہ
 
Top