• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عصر کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھنا کیسا ہے؟

رانا ابوبکر

ناظم خاص
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 24، 2011
پیغامات
2,055
ری ایکشن اسکور
3,033
پوائنٹ
432
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آپ کہتے ہیں کہ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے، جبکہ بخاری شریف میں حدیث ہے… حمران بن ابان سے سنا وہ معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے اس سے منع کیا۔ یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے۔[بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ]
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,471
پوائنٹ
791
عصر کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھنا کیسا ہے؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ رہا آپ کا عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع فرمانا تو وہ درست ہے، لیکن اس منع والی حدیث سے جو نمازیں آپ نے عصر کے بعد پڑھیں یا ان کے پڑھنے کی اجازت دی وہ اس حدیث سے مستثنیٰ ہیں منع نہیں۔ تفصیل کے لیے اس فقیر إلی اللہ الغنی کے
رسالہ ’’ تعداد رکعات ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
فتاوی احکام ومسائل

کتاب الصلاۃ ج 2 ص 264۔265
محدث فتویٰ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوسرا فتوی

جس طرح فجر کے غلاوہ باقی نمازوں کے بعد کسی بھی قسم کی نفلی نماز پڑھی جاسکتی ہے بالکل اسی طرح نماز عصر کے بعد بھی جب تک سورج بلند ہو نوافل پڑھے جاسکتے ہیں ۔ عموما جو یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ نماز عصر کے بعد کوئی نفلی نماز نہیں تو وہ بالکل غلط ہے ‘ درست یہ ہے کہ نماز عصر کے بعد جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے اسکے بعد کوئی نفلی نماز نہیں ۔ کیونکہ جب تک سورج بلند ہو اس وقت تک نماز پڑھنے کی اجازت نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے دی ہے
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ
سنن ابی داود کتاب الصلاۃ باب من رخص فیہما إذا کانت الشمس مرتفعۃ ح 1274
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ہاں اگر سورج ابھی بلند ہو تو پڑھی جاسکتی ہے ۔

اس ضمن میں جتنی بھی مطلق روایات ہیں وہ سب کی سب اس روایت کی وجہ سے مقید ہیں ۔ یعنی ممانعت سورج کے بلندی ختم ہونے کے بعد ہے مطلق نہیں ۔
خوب سمجھ لیں
اور نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نماز عصر کے بعد دو رکعتیں ادا فرماتے تھے بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو ان دو رکعتوں کے بارہ میں نہایت صراحت سے وضاحت فرماتی ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ قَالَتْ وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنْ الصَّلَاةِ وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ
صحیح بخاری کتاب مواقیت الصلاۃ باب ما یصلى بعد العصر من الفوائت ونحوھا ح 590
اس ذات کی قسم جس نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو وفات دی ہے آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں حتى کہ خالق حقیقی سے جاملے ۔ اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم اس وقت تک رفیق اعلى سے نہیں ملے جبتک آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز مشکل نہیں ہوئی اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم اکثر بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے یعنی عصر کے بعد والی دو رکعتیں اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے لیکن مسجد میں نہیں بلکہ گھر میں پڑھتے تھے کیونکہ آپ کو ڈر تھا کہ کہیں امت پر مشقت نہ ہو اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم امت کے لیے تخفیف پسند فرماتے تھے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس صراحت سے واضح ہوتا ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان دو رکعتوں کا علم کیوں نہ ہوا ۔ اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم یہ عمل زندگی میں ایک دو بار نہیں بلکہ مستقل کیا ہے حتى کہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ۔
اور یاد رہے کہ یہ عمل نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا خاصہ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل امت کے لیے عام ہوتا ہے الا کہ خاصہ ہونے کی کوئی دلیل مل جائے ۔ اور ان دو رکعتوں کے خاصہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔
بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتوں کی قضائی دی تھی اور امت کو منع کر دیا تھا لیکن اس روایت میں " أفنقضیہما إذا فاتتا" کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں
اور دوسری بات یہ ہے کہ ظہر کی دوسنتیں تو صرف ایک بار آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے قضاء ہوئی ہیں جبکہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد یہ دو رکعتیں ہمیشہ پڑھی ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو رکعتیں اور ہیں اور یہ دو رکعتیں اور ہیں
مزید تفصیل کے لیے یہ آڈیو سماعت فرمائیں :


مولانا محمد رفیق طاھر, ‏جولائی 30, 2012
 
شمولیت
جولائی 01، 2017
پیغامات
401
ری ایکشن اسکور
155
پوائنٹ
47
جب بھی رسول الله صلى الله عليه وسلم کی حدیث مبارک پڑتا ہو تو دل میں عجیب سی اطمینائت وسکون محسوس کرتا ہو

سبحان الله!
 
شمولیت
اپریل 03، 2018
پیغامات
5
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
18
سوال نمبر: 1 - فتوی نمبر:19518 س 1: مؤلف محمد طارق محمد صالح اپنی کتاب ( دن و رات میں مسلمان کا عمل ) میں لکھتے ہيں کہ عصر کے بعد دو رکعت نماز سنت ہے؛ اس لئے کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی تھا۔ مؤلف نے مندرجہ ذیل احادیث ذکر کی ہیں : 1 - عائشہ رضي الله عنها نے كہا :
نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب بھی عصرکے بعد میرے پاس آتےتهے تو دو رکعت نماز ادا فرماتے
اور ايک روايت ميں ہے کہ
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے میرے پاس عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا كبهى نہی چهوڑا .
اسے بخاری اور مسلم نے روايت كيا ہے۔ 2 - عائشہ رضي الله عنها نے یہ بھی فرمايا :
دو نمازيں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پوشیدہ اور ظاہری طور پرمیرے گھر میں کبھی نہیں چھوڑا: دو رکعتیں فجر سے پہلے اوردو رکعتیں عصر کے بعد.
اسے مسلم نے روايت كيا ہے۔ 3 - اور انہوں نے کہا کہ
رسول الله صلى الله عليه وسلم نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا كبهى نہیں چھوڑا ۔
اسے امام مسلم نے روايت كيا ہے۔
( جلد کا نمبر 6، صفحہ 174)
محترم شیخ صاحب ! کیا سابقہ احادیث صحیح ہیں ؟ کیا نماز عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا سنت ہے ؟
ج 1: عصر کے بعد نفل نماز جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ممنوعہ وقت ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ احادیث میں جو عمل کیا وہ ظہر کی ان سنتوں کی قضاء تھی جوآپ سے فوت ہوگئی تھیں، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کی پابندی فرمائی؛ کیونکہ جب آپ کوئی عمل کرتے تو اس پر ہمیشگی برتتے، یہ آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ خاص ہے، لیکن عصر کے بعد نماز جائز ہے جبکہ وہ سببی نمازيں ہوں، مثال کے طور پر تحیۃ المسجد ، چاند گرہن كی نماز ، عصر اور صبح کے بعد طواف کی دو رکعتیں ، اور نماز جنازہ ، اس لئے کہ اس بارے میں احادیث وارد ہیں۔ وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔


علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی






ممبر نائب صدر صدر
بکر ابو زید عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز





 
شمولیت
مئی 13، 2020
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ۔
عصر کے بعد دو رکعتیں نبوی خاصہ ہیں، اس موقف کے قائلین کون کون ہیں؟
 
Top