1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیقہ اور امام ابو حنیفہ

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏فروری 15، 2014۔

  1. ‏فروری 15، 2014 #1
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جن مسائل شرعیہ کو ان احناف نے اپنی مزعومہ تحقیق اور ریسرچ کی آماجگاہ بنا رکھا ہے ان میں عقیقہ کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ان میں نام نہاد محققین کی تحقیق کا ما حصل یہ ہے کہ عقیقہ جاہلی رسم ہے ،جہاں تک اس تحقیق زدہ لوگوں کے دلائل کی معقولیت کا تعلق ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ بریلوی ٹولے کی طرح ان کے ہاں بھی بس چند مغالطے اور مفروضے ہیں جنھیں نمک مرچ لگا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔ فقہ حنفی کی روشنی میں امام ابو حنیفہ نے یہ فتوی صادر فرمایا کہ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش پرکوئی قربانی نہیں ہوگی، بلکہ لوگ جسے عقیقہ کہتے ہیں یہ صرف ایک جاہلی رسم ہے، جناب علامہ شوکانی نے نیل الاوطار مین لکھا ہے:
    حَكَى صَاحِبُ الْبَحْرِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّ الْعَقِيقَةَ جَاهِلِيَّةٌ مَحَاهَا الْإِسْلَامُ(نیل الاوطار:ج۵، ص:۱۵۷
    رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مقابلہ میں کسی بھی اُمتی کا قول حجت نہیں۔ان تصریحات کا خلاصہ یہ ہے کہ صحیح حدیث کے ہوتے ہوئے بڑے سے بڑا مجتہد اور امام بھی اتھارٹی نہیں رکھتا، خواہ وہ امام ابو حنیفہؒ ہون یا کوئی اور صاحب خواہ ایک ہو یا سینکڑوں ،غرض یہ کہ چونکہ امام ابو حنیفہ کا یہ فتویٰ احادیث صحیحہ غیر منسوخہ کے سراسر خلاف ہے لہذا حجت نہیں تعجب ہے کہ احناف ایک امتی کو امام اور پیشوا بنا کر دن رات اس کی تقلید کے گن گاتے ہیں
     
  2. ‏فروری 15، 2014 #2
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ابو حنیفہ اور احناف کا مذہب ہے کہ عقیقہ نہ واجب ہے، نہ سنت بلکہ جاہلیت کی ایک رسم ہے
    (المغنی مع الشرح الکبیر: ۱۱؍۱۲۰
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 15، 2014 #3
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    امام ابو حنیفہ نے یہ فتوی صادر فرمایا کہ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش پرکوئی قربانی نہیں ہوگی۔(ہدائع صنائع :ج ۵ ،ص۱۵۷)
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 15، 2014 #4
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

  5. ‏فروری 15، 2014 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    بعض علما نے تو امام صاحب کے بارے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ وہ عقیقہ کو بدعت خیال کرتے تھے، چناں چہ الامین الحاج محمد احمد رقم طراز ہیں:
    انھا بدعۃ وھو مذہب ابی حنیفۃ،وہو شاذ لمخالفۃ الآثار التی وردت بسنیتھا (العقیقۃ و تعریفھا و احکامھا:ص۵
    یعنی امام صاحب کے نزدیک عقیقہ بدعت ہے لیکن یہ موقف شاذ ہے کیوں یہ ان آثار کے مخالف ہے جو عقیقے کی سنیت کے بارے میں وارد ہوے ہیں
    کیا فرماتے ہیں علماے احناف بیچ اس مسئلے کے؟؟؟
     
  6. ‏فروری 15، 2014 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ابوحنیفہ صاحب نے دین کی اتنی خدمات کیں ہیں اور اتنا علم حاصل کیا ہے تو ضرور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اہمیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی سزا کے متعلق بھی ضرور پڑھا ہو گا۔

    تو آخر کیا وجہ ہے کہ فقہ حنفی کے مسائل واضح انداز میں قرآن و حدیث کے واضح نصوص سے ٹکراتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:
    • یا تو واقعی میں خود ابوحنیفہ صاحب کتاب و سنت کے مقابلے میں اپنی رائے کو ترجیح دیتے تھے، اور انہوں نے یہ باتیں خود کہی ہیں۔
    • یا انہوں نے نہیں کہیں بلکہ بعد میں ان کے مقلدین نے ان کے باتوں اور ان کے موقف کو بدل کر پیش کیا ہے۔
    اللہ معاف کرے۔ دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، اب جس کو ابوحنیفہ سے محبت ہو گی وہ کیا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو مانے گا؟

    وہ تو یہی کہے گا کہ ابوحنیفہ صاحب کیا کم عالم تھے، اتنے بڑے عالم نے ایسے ہی بات نہیں کہی ہو گی۔ استغفراللہ

    مولویو! تم اللہ کو کیا جواب دو گے؟

     
  7. ‏فروری 15، 2014 #7
    محمد یوسف

    محمد یوسف رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 14، 2013
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    46
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    محمد ارسلان
    بھائی اس وقت احناف کا عمل کیا ہے ؟ اور احناف اس وقت عقیقہ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
     
  8. ‏فروری 15، 2014 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی میں حنفی نہیں ہوں، لہذا یہ آپ کسی حنفی سے پوچھیں، میں اہلحدیث ہوں الحمدللہ، اور ہم عقیقہ کو سنت مانتے ہیں۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم
    بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا ہے

    ہمارا عمل
    بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا ہے۔

    الحمدللہ
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 15، 2014 #9
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    حافظ ابن حجر عسقلانی عقیقے کے بارے امام صاحب کا موقف نقل کرتے ہوے لکھتے ہیں:
    والذی نقل عنہ انھا بدعۃ ابو حنیفۃ وقال ابن المنذر: انکر اصحاب الرأی ان تکون سنۃ و خالفوا فی ذالک الآثار الثابۃ( فتح الباری:ج۹، ص۵۸۸
    اور جو بات عقیقے کے بدعت ہونے کے بارے نقل کی گئی ہے یہ ابو حنیفہ کا موقف ہے ، اور ابن المنذر نے کہا ہے : اصحاب الراے نے عقیقے کی سنیت کا انکار کیا ہے اس معاملے میں انھوں نے مستند دلائل کی مخالفت کی ہے "
    کیا اب بھی اہل تقلید کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اتباع صرف کامل انسان کی ہی ہو سکتی ہے یعنی رسول اللہ کی ؟
     
  10. ‏فروری 15، 2014 #10
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    عقیقے کے بارے منکرین حدیث کا موقف بھی ملاحظہ فرمائیں ، جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے بھی عقیقے کے بارے وہی راے دی ہے جو امام صاحب سے منقول ہے ،غامدی صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں عقیقہ کے متعلق کہا تھا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے،عقیقہ کی سنیت کو رد کرتے ہوے وہ کہتے ہیں کہ عقیقہ کے بارے میں یہ اختلاف ہمیشہ سے ہے کہ یہ کوئی مستقل دینی حکم ہے یا نہیں۔فقہ کی مشہور کتاب ''بدایۃ المجتہدونہایۃ المقتصد'' میں فقہی آرا کا خلاصہ ان الفاظ میں منقول ہے:
    ''ایک گروہ نے، جس میں ظاہری علما شامل ہیں، عقیقہ کو واجب قرار دیا ہے۔ جمہور نے اسے سنت کہا ہے۔ امام ابوحنیفہ اسے فرض مانتے ہیں نہ سنت۔''
    (بدایۃ المجتہد ونہایۃ المقتصد، ابن رشد، ترجمہ: ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی۱۵۶۔۱۵۷)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں