• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامات قیامت زمانہ حال کے تناظر میں

طارق بن زیاد

مشہور رکن
شمولیت
اگست 04، 2011
پیغامات
324
ری ایکشن اسکور
1,718
پوائنٹ
139

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا۝۱ۙ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا۝۲ۙ Ą۝ۙوَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا Ǽ۝ۚيَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا Ć۝ۙبِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا Ĉ۝ۭيَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ڏ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ Č۝ۭفَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ Ċ۝ۭوَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ Ď۝ۧ
جب زمین پوری طرح جھنجھوڑدی جائے گی (1) اور اپنے بوجھ باہر نکال پیھنکے گی (2) انسان کہنے لگے گا اسے کیا ہوگیا ہے (3) اس دن زمین اپنی سب خبریں بیان کر دے گی (4)اس لئے کہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔ (5)اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر (واپس) لوٹیں گے (6) تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں (7)پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (8)اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (9) سورہ زلزلہ

قارئین اکرام جیسا کہ آپ تمام احباب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ارکان ایمان میں سے اک رکن قیامت کے دن پر ایمان لانا ہے کیونکہ قرآن کریم میں کئی اک مقامات پر اسکا واضح تذکرہ ہمیں دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے تو ٹھیک اسی طرح احادیث صحیحہ میں بھی اسکا واضح ذکر موجود ہے قارئین کرام علامات قیامت دو طرح کی ہوتی ہیں ایک ہوتی ہے علامات صغری یعنی چھوٹی علامتیں اور دوسری ہوتی ہیں علامات کبری یعنی بڑی علامتیں ۔

آئیے آج ہم صرف ایک صحیح حدیث پر روشنی ڈالیں گے اور دیکھینگے کہ آیا اسمیں سے کتنی علامتیں ایسی ہیں جو اب تک پوری ہوچکی ہے

سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی، یہاں تک کہ (1) دو بڑے گروہ، آپس میں جنگ کریں گے اور ان کے درمیان زبردست خونریزی ہوگی، ان کا دعوی ایک ہوگا اور اس وقت ( 2) تقریبا تیس دجال پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعوی کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے (3) اور علم اٹھالیا جائے گا، زلزلوں کی کثرت ہوگی اور زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہوگا (4) اور ہرج یعنی قتل کی زیادتی ہوگی اور اس وقت تم میں مال کی کثرت ہوگی کہ بہتا پھرے گا اور مال کا مالک قصد کرے گا کہ کوئی اس کے صدقہ کو قبول کرلے اور وہ اس کو پیش کرے گا اور جس کو پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں اور (5)اس وقت لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں فخر کرنے لگیں گے اور اس وقت ایک شخص کسی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا کہ کاش میں اس جگہ ہوتا (6) اور آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا جب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا تو لوگ اسے دیکھیں گے، سب ایمان لے آئیں گے اس وقت کسی کا ایمان نفع نہ دے گا۔ جو پہلے ایمان نہ لایا یا اپنے ایمان میں نیکی نہ کی اور قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ دو شخص کپڑے پھیلائے ہوں گے نہ تو خرید و فروخت کرنے پائیں گے اور نہ اسے لپیٹ سکیں گے اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ ایک شخص اونٹنی کا دودھ دوھ کرلائے گا لیکن اسے پی نہ سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہوگی کہ ایک شخص اپنے مویشیوں کے لئے حوض درست کر رہا ہوگا لیکن اس میں کھلانے پلانے کی قدرت نہ پائےگا اور قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ ایک شخص اپنے منہ تک لقمہ اٹھائے گا لیکن کھانے نہ پائے گا۔

اب آئیے ایک ایک کرکے اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہیں

1 – دو بڑے گروہ میں جنگ – آج کے حالات پر اگر ہم نظر دوڑائینگے تو پتہ چلے کہ آج شیعہ سنی کا جھگڑا اک عام سی بات بنا ہوا ہے – عراق – ایران – لبنان – یمن اور سوریا کو ہی دیکھ لیجئے یہاں پر مسلک اور اپنے اپنے مذہب کے نام پر کتنا خون خرابا ہورہا دونوں گروہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں نہ بوڑھے دیکھتے ہیں نہ بچے اور نہ ہی عورتیں – حالانکہ دونوں ایک ہی اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو ماننے کا دعوی کرتے ہیں

2 تقریبا تیس دجال - اس حدیث کی دوسری پیشن گوئی کے مطابق خود کو مہدی یا اللہ کا نبی ہونے کا دعوی کرنے والےاللہ کے نبی ﷺ کے زمانے سے اب تک 62 ہوئے ہیں جنمیں سے خود نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا اور کسی کو اسکے ماننے والوں نے مہدی کہنا شروع کیا اور بعض کو اللہ کا نبی ماننے لگے اس طرح اللہ کے نبی ﷺ کے ذریعہ کی گئی دوسری پیشن گوئی بھی پوری ہوگئی –

3 – علم اٹھا لیا جائے گا – علماء اور حفاظ اکرام کی کمی حدیث کی اس تیسری پیشن گوئی کو آج پوری کرتی نظر آرہی ہے جہلاء کی کثرت ہوگئی ہے ہر کوئی عالم دین بنا پھرتا ہے ٹیکنالوجی نے اتنا ترقی کرلیا ہے کہ آپکے تھوڑا سا تلاش کرنے پر مطلوبہ قرآن کی آیتیں اور احادیث تو آسانی سے مل رہی ہیں لیکن فہم قرآن و حدیث آج ہمارے اندر نہیں رہا – اگرکسی انسان سے یہ ٹیکنالوجی کو چھین لیا جائے تو وہ اتنا معذور ہوجاتا ہے جیسا کوئی لنگڑا شخص اپنی بیساکھیوں سے محروم ہوجائے ۔ اس طرح حدیث کی یہ تیسری پیشن گوئی بھی پوری ہورہی ہے -

4 - قتل و غارت گری عام ہے حدیث کی چوتھی پیشن گوئی کے مطابق آج لوگوں کا قتل عام اک عام سی بات بن گئ ہے ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جارہا ہے اور تو کہیں سیاسی مفادات کی خاطر انسانی جان کی اب کوئی اہمیت ہی نہیں رہی اسکی جیتی جاگتی مثال ہمارے سامنے یہ ممالک سوریہ - عراق – لیبیاء – برما ہیں جہاں آئے دن عام شہریوں پر بم برسا کر تو کہیں گولیاں چلاکر موت کی ابدی نیند سلادیا جارہا ہےمارنے والا اسمیں نہ بوڑھے دیکھتا ہے اور نہ بچے - اسی طرح اگر ہم دنیا کے دوسرے ممالک کا جائزہ لیں تو یو – این – او – ڈی - سی کی رپورٹ 2012 ؑ کے مطابق امریکہ و شمالی و جنوبی امریکہ میں 16.30٪ آفریقہ میں 12.50 ٪ دنیا کے باقی ممالک میں 6.20 ٪ یوروپ میں 3 ٪ اوشیانا میں 3 ٪ ایشیاء میں 2.90 ٪ کے سالانہ اوسط سے لوگوں کو بنا وجہ قتل اور شہید کردیا جاتا ہے – اس طرح اس حدیث کی یہ پیشن گوئی بھی پوری ہوگئی ہے -

5 - بڑی بڑی عمارتیں – اس حدیث کی چوتھی بات پر اگر ہم غور کریں تو پتہ چلے گا کہ آج دنیا میں کتنی بڑی بڑی عمارتیں بنائیں جارہی ہیں جسکو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے - سی – ٹی – بی – یو – ایچ کی رینکنگ کے مطابق آج دنیا میں 51 ایسی عمارتیں ہیں جو پوری دنیا میں مشہور ہیں جنکی اونچائی 350 میٹر سے لے کر 828 میٹر تک ہے اسکے علاوہ بھی بہت ساری ہیں ۔ جسکو اس رینکنگ میں شامل نہیں کیا گیا ہے اس میں اک بہت ہی حیرت کی بات یہ ہےکہ یہ 1995 ؑ کے بعد سے بنانی شروع ہوئی ہیں اور اللہ کے نبیﷺ کی اس پیشن گوئی کو مد نظر رکھئے جسمیں اللہ کے نبیﷺ نے اس امت کی ضمانت چودہ سو سال دی ہے یعنی کہ اسکے بعد قیامت کبھی بھی قائم ہوسکتی ہے اور وہ چودہ سوسال 1995 تک مکمل ہوجاتے ہیں –

6 – آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا – حدیث رسول ﷺ کی یہ پیشن گوئی ہمارے لئے نہایت ہی حیرت انگیز ہے اک عام انسان کی عقل یہ سونچ سکتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سورج مغرب سے طلوع ہو اور یہ انسانی فطرت ہے کہ ہم بچپن سے سورج کو مشرق سے طلوع ہوتا دیکھ رہے ہیں وہی سورج مغرب سے طلوع ہو لیکن قارئین آپکو بتاتا چلوں کہ اللہ کے نبیﷺ کی بات اللہ کی بات ہوتی ہے وہ کوئی بات اپنی مرضی سے نہیں کہتے اسکے لئے میں آپکو بطور دلیل آپکی معلومات میں اضافے کیلئے یہ بات پیش کررہا ہوں جو جان آسٹن کی اک رپورٹ جو 12 اگسٹ 2015 کو اکسپریس نیوز یو – کے میں شائع ہوئی تھی جسمیں یہ بات کہی گئی تھی ورنہ ہمیں احادیث کی صحت کیلئے کسی سائنسی دلیل کی ضرورت نہیں چاہے وہ عقل میں آئے یا نہ آئے ہمارا ہر اس بات پر ایمان ہونا چاہئے
SCIENTISTS have warned Earth could be heading towards an extraordinary event which would see compasses point SOUTH and the sun rise in the West. Jon Austin – 12 aug 2015 express news uk

آئیے اس سلسلہ میں ہم کچھ اور احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں - سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ سرزمین عرب میں سر سبز شاداب چراگاہیں اور نہریں ہونگی ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے گا اسے راستہ بھٹکنے کے علاوہ کوئی خوف نہ ہوگا اور ہرج بڑھ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صحیح مسند احمد - اس صحیح حدیث سے یہ بات صاف واضح ہورہی ہے کہ عنقریب قیامت جزیرہ عرب سرسبز و شاداب ہوجائے گا بارشیں برسنے لگیں گی – لیکن اک سوال ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوگا کیونکہ ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ آج بھی یہاں ہر طرف صحراء ہی صحراء ہے پانی یا ندی نالے کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ؟ لیکن قارئین میں آپکو بتاتا چلوں کہ عرب نیوز 11 اکٹوبر 2017 ؑ کی اک رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت کے اگریکلچر و فارسٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ سارے حجاز یعنی سعودیہ میں 4 ملین پودے لگائنگے جو مختلف اقسام کےہونگے اور ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنگلات اور درخت بارش برسنے کا ایک اہم سبب ہوتے ہیں اسی لئے یہاں وادی الرمہ جوکہ مدینہ منورہ سے نکل کر ریاض کی سمت تقریبا 1000 کلو میٹر تک چلی جاتی ہے سعودیہ میں سال میں اک بار ضرور بارش ہوتی ہے اور یہ وادی اسی وقت بہتی ہے ورنہ پورے سال یہ سوکھی پڑی ہوتی ہے لیکن اس پر جو پل بنائے گئے ہیں وہ ایسے ہیں جیسے ہماری بڑی دریاؤں ندی نالوں پر بنائے جاتے ہیں اسکی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ جسمیں کبھی اتنا پانی بہتا ہی نہ ہو اس پر اتنے بڑے پل؟ ہاں قارئین میں آپکو بتاتا چلوں کہ عربوں کا یہ پختہ یقین ہے کہ اللہ کے نبیﷺ کی پیشن گوئی درست ثابت ہوگی اسی لئے سعودی حکومت نے یہ کام کیا ہے ۔

اب آئیے حالات حاضرہ پر اک نظر ڈالتے ہیں اور اللہ کے نبیﷺ کی اس حدیث کے مفہوم پر اک سرسری روشنی ڈالیں گے جس میں اللہ کے نبیﷺ نے بتایا تھا کہ عنقریب قیامت لوگ مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑینگے جس طرح اک برتن میں گوشت کا ٹکڑا ہو اور لوگ اسے کھانے کیلئے ٹوٹ پڑتے ہوں تو صحابہ اکرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہونگے تو اللہ کے نبیﷺ نے کہا نہیں اس وقت تم تعداد میں بہت زیادہ ہوگے لیکن تمہاری مثال سمندر کے اس جھاگ کی طرح ہوگی جو ہوا آنے پر بہہ جاتا ہے اور آج دیکھئے مسلمان ہر جگہ پٹتا نظر آرہا ہے حالانکہ ہم تعداد میں پوری دنیا میں عیسائیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں اور اسی طرح - دی – ٹیلی گراف – 1 مارچ 2017 ؑ کی اک رپورٹ کے مطابق 2070 ؑ تک اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا ان شاءاللہ۔لیکن آئے دن مسلمان مظالم کا شکار ہوتا نظر آرہا ہے -

قیامت کی بڑی علامتوں میں سے اک یہ بھی علامت ہے کہ امام مہدی ؑ اور سیدنا عیسی ؑ کا ظہور ہوگا جو سوریہ ( ملک شام ) کے شہر دمشق میں آئنگے اور دیکھئے جو بات اللہ کے نبیﷺ نے 1400 سال پہلے کہی تھی وہ آج پوری ہوتی نظر آرہی ہے کہ سوریہ حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور سوریہ اک جنگ کا میدان بنا ہوا ہے جہاں تمام بڑی طاقتیں اپنے ہتھیار آزما رہی ہیں تو ہم یہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ گمان کرسکتے ہیں یہ حالات اس حدیث کی اک کڑی ہے جو کہ ابھی شروع ہوئی ہے -

قیامت کی بڑی علامتوں میں سے اک علامت یہ بھی ہے کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کرینگےجیسا کہ اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبداللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے درخت غرقد کے کیونکہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2838

اس حدیث سے ہمیں دو باتوں کا پتہ چلتا ہے اک یہ کہ یہودی مسلمانوں سے جنگ کرینگے اور اس جنگ میں پتھر اور درخت تک مسلمانوں کا ساتھ دینگے اورکہینگے کہ آؤ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے اسے مارو۔

پہلی بات یہ کہ اب تک دنیا میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئی ہیں وہ کسی نہ کسی اسباب کی بناء ہی لڑی گئی ہیں بے وجہ کوئی کسی سے نہیں لڑتا ٹھیک اسی طرح یہودی بھی مسلمانوں سے جنگ کرینگے اسکے کئی اک اسباب ہیں لیکن چند اک اسباب کا میں یہاں تذکرہ کرنا چاہونگا وہ یہ کہ یہودیوں کا یہ دعوی ہے کہ جبل طور جس پر سیدنا موسیؑ اللہ سے ہم کلام ہوئے تھے وہ پہاڑ سعودی عربیہ میں ہے اور یہ وہی پہاڑ ہے جسے آج جبل اللوز کے نام سے جانا جاتا ہے جوکہ تبوک شہر سے تقریبا 80 کم کے فاصلے پر ہے اور سعودی حکومت نے اس پہاڑ کے اطراف گھیراؤ بھی کررکھا ہے اور اس پر آثار قدیمہ کی اک تختی آویزاں ہے - اور دوسرا جنگ کرنے بڑا سبب یہودیوں کے وہ علاقے ہیں جو مدینہ منورہ اور خیبر کے ہیں جوکہ اللہ کے نبی ﷺ کے زمانے میں ان سے چھین لئے گئے تھے آج وہ ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو – اور اسکے لئے یہودیوں نے اک عرضی اقوام متحدہ میں داخل کردی ہے یہ اور بات ہے کہ اس وقت انھیں اس میں کامیابی نہ ملے لیکن انھوں نے آئندہ کیلئے اک بیج بودیا ہے تو غالب امکان ہے کہ ضرور اسمیں سے پودا اگے گا ہی۔

اب اس حدیث کی دوسری بات ہماری عقل میں نہیں آتی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پتھر اورر درخت یہ کہیں کہ میرے پیچھے یہودی ہے تو دوستوں میں پہلے ہی یہ بات کہہ چکا ہوں کہ قرآن وحدیث پر ہمارا ایمان ایسا ہونا چاہئے جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تھا جب اللہ کے نبیﷺ کے معراج کی بات ابو جہل نے بتائی تو انھوں نے کہا تھا کہ اگر محمدﷺ نے یہ بات کہی ہے تو پھر وہ جھوٹ نہیں ہوسکتی ٹھیک اسی طرح اللہ کے نبیﷺ نے جو بات کہہ دی وہ سچ تھی - ہے - اور - ہوگی - ان شاءاللہ

آج زرعی میدان میں ٹیکنالوجی اتنی ترقی کرچکی ہے جسکا ہم وہم وگمان بھی نہیں کرسکتے تھے اور آپکو یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ اسرائیل اس میدان میں اتنی ترقی کرچکا ہے کہ وہ دنیا کے پانچ اول نمبر کے زمرے میں آتا ہے کچھ ماہ پہلے ہی اک خبر مجھے پڑھنے کو ملی جوکہ 25 اکٹوبر 2017 کو اسرائیل 21 اخبار میں شائع ہوتھی جو اس طرح تھی
Israeli trees can text message their farmers when thirsty -israel21 -wed25 oct. 17
جب یہ بات مجھے پڑھنے کو ملی تو میری حیرت کی انتہاء نہ رہی اور فورا زبان سے سبحان اللہ کے الفاظ ادا ہوئے اور یہ حدیث یاد آگئی جو میں نے اوپر تحریر کی ہے۔ کہ جب ایک درخت/ پودا اپنی پیاس کا بتا سکتا ہے تو یہ مستقبل میں کیوں نا ممکن ہے کہ وہ اک یہودی کی بھی نشاندہی کرسکے؟

نوٹ - اس تحریر سے تمام ممبران کا متفق ہونا ضروری نہیں اسمیں میری اپنی فق بھی شامل ہے - ابتسامہ


 
Last edited:
Top