• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء باوجود غلطی کرنے والوں کی توبہ کے ان کے افکار کا رد کیوں کرتے رہے ؟

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
563
ری ایکشن اسکور
173
پوائنٹ
77
علماء باوجود غلطی کرنے والوں کی توبہ کے ان کے افکار کا رد کیوں کرتے رہے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گزرے ہوے پختہ علماء کے ہاں ہمیں ایک چیز یہ بھی دیکھنے کو ملتی ہے وہ کسی ایسے شخص کے افکار کے رد میں بھی کتابیں لکھ دیتے ہیں جس شخص کی گمراہی سے توبہ کا تذکرہ خود انھوں نے بھی اپنی کتابوں میں درج کر رکھا ہوتا ہے، مثلا شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فخر الدین رازی رحمہ اللہ کی کتاب ذم لذات الدنیا سے ان کی توبہ کئی کتابوں میں نقل کی ہے، اسی طرح امام غزالی کی توبہ کا تذکرہ اور علم کلام سے ان کی تحذیر کا تذکرہ بھی متعدد مقامات پر کیا ہے، اسی طرح امام جوینی کی توبہ کا تذکرہ بھی مختلف مقامات پر کیا ہے، مگر یہی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ انھیں تین علماء کے افکار کے رد میں بہت کچھ لکھ گئے ہیں، جو بعد میں آنے والے حق کے متلاشی لوگوں کے لیے عظیم تحقیقی مواد ہے، یہ صرف شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے ہاں نہیں ہے، بلکہ دیگر علماء کا معاملہ بھی ایسا ہے، امام ابن عقیل کی اعتزال سے توبہ حنابلہ کے ہاں مشہور ہے، لیکن حنابلہ ان کے افکار کا رد کرتے آئے ہیں
سوال یہ ہے کہ یہ علماء باوجود غلطی کرنے والوں کی توبہ کے ان کے افکار کا رد کیوں کرتے رہے ؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ رد کرتے ہوے غلطی کرنے والے اور اس کی غلطی کو جہاں دیکھا جاتا ہے وہیں اس کی غلطی کے معاشرے میں اثرات اور اس غلطی والے سے متاثر افراد کو بھی دیکھا جاتا ہے، اگر غلطی کرنے والا معاشرے میں اپنا اثر رکھتا ہو، اور اس کی غلطی دوسروں کے لیے بھی راستے سے بھٹکنے کا سبب بن رہی ہو تو اس کی غلطی کے رد سے صرف اس کی اصلاح مقصود نہیں ہوتی، بلکہ اس کی غلطی سے متاثر دیگر افراد کی اصلاح بھی مقصود ہوتی ہے، اور اس کی گمراہی کی روک تھام بھی۔

شریعت کی حکمت و دانائی میں سے ہے کہ شریعت ہر غلطی کرنے والے سے معاملہ ایک سا نہیں کرتی، جس کی غلطی چاہے منھجی اور عقدی ہو، ایک کمرے میں ہو اس کی اصلاح کا طریقہ ویسا نہیں جیسا اس شخص کی اصلاح کا طریقہ ہے جس کی غلطی معاشرے میں پھیل چکی ہو، اور دیگر لوگوں کے لیے بھی گمراہی کا سبب ہو۔

اصول و ضوابط کو مدِّ نظر رکھتے ہوے گمراہی پھیلانے والے شخص کا علانیہ تذکرہ تو اہل علم کے نزدیک غیبت سے بھی خارج ہے،

امام قرافی لکھتے ہیں : أرباب البدع والتصانيف المضلة ينبغي أن يشهر الناس فسادها وعيبها وأنهم على غير الصواب، ليحذرها الناس الضعفاء فلا يقعوا فيها، وينفر عن تلك المفاسد ما أمكن

یعنی گمراہی والی کتابیں لکھنے والوں کی کتابوں کا کھل کر رد کرنا چاہیے اور ان کا فساد ظاہر کرنا چاہیے تاکہ بیچارے لوگ ان سے بچ جائیں

اسی اصول کو تفصیل سے بیان کرتے ہوے شاطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : إن القيام عليهم ـ يعني أهل البدع ـ بالتثريب، أو التنكيل، أو الطرد، أو الإبعاد، أو الإنكار، هو بحسب حال البدعة في نفسها من كونها: عظيمة المفسدة في الدين، أو لا، وكون صاحبها مشتهرا بها أو لا، وداعيا إليها أو لا، ومستظهرا بالأتباع أو لا

یعنی بدعتی کے ساتھ سختی و انکار والا سلوک کرتے ہوے بدعت کی صورت حال دیکھنی چاہیے، دین میں وہ کس بڑے درجے کی مفسدت والی بدعت ہے، اس بدعت والا مشہور ہے یا نہیں؟ اس بدعت کی طرف دعوت دیتا ہے یا نہیں؟ اس کے معتقدین ہیں یا نہیں۔

پھر جن بدعتیوں کا علانیہ رد ہونا چاہیے ان کے متعلق لکھتے ہیں : والخامس: ذكرهم بما هم عليه، وإشاعة بدعتهم كي يحذروا، ولئلا يغتر بكلامهم، كما جاء عن كثير من السلف في ذلك

یعنی پانچواں کام یہ ہے کہ بدعتیوں کا علانیہ رد کیا جائے تاکہ لوگ ان کے کلام سے دھوکے میں نہ پڑ جائیں، جیسا کہ بہت سے سلف صالحین سے ثابت ہے۔

اس مسئلے کے متعلق علماء کرام کے اقوال بکثرت موجود ہیں
ان اقوال کو یہاں ذکر کرنے کا یہ معنی نہیں کہ تحریر پڑھنے والے خود سے ہی طے کر لیں کہ صاحب تحریر کے نزدیک فلاں فلاں بدعتی ہے، بلکہ اس سے مقصود اس امر کی وضاحت ہے کہ رد کرتے ہوے صرف ایک غلطی کرنے والے شخص کو ہی نہیں دیکھا جاتا، اگر اس کی غلطی سے دیگر لوگ گمراہ ہو رہے ہوں، اس کی غلطی کا معاشرے میں اثر ہو تو اس غلطی پر علانیہ نکیر ہی اس غلطی کا تدارک ہوتا ہے، حتی کہ اگر غلطی کرنے والا اپنی اصلاح کر بھی لے مگر اس کے افکار کا اثر معاشرے پر موجود ہو تب بھی مناسب طریقے سے ان افکار کا رد ضروری ہوتا ہے، البتہ یہ رد کبھی تو غلطی سے رجوع کرنے والے کا نام لیے بغیر مناسب ہوتا ہے اور کبھی اس کا نام لینا بھی مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے۔

از قلم : موھب الرحیم
 
Top