• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علماء کی شخصیت میں تواضع کی ضرورت

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,307
ری ایکشن اسکور
364
پوائنٹ
209
علماء کی شخصیت میں تواضع کی ضرورت

تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف(مسرہ) سعودی عرب

دنیاوی علوم تقریباشہرت و معیشت سے جڑے ہوئے ہیں اس وجہ سے جو آدمی جس قدر بڑے علوم سے جڑا ہوا ہوگا اور جتنی بڑی ڈگری ہولڈر ہوگا اتنا ہی وہ مشہور ہوگا، اس کی شہرت ہوگی اور اس کا عوام سے اسی قدر فاصلہ ہوگابلکہ یہ کہہ لیں اس کی زندگی میں اسی قدر پرتکلف رکھ رکھاؤ ہوگا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ مثلا طب کا پیشہ ہے اور ایک نرس یا کمپاؤڈر ہے اس کی سماج میں اسی کے بقدر وقعت ہوگی ، کوئی ڈاکٹر ہوگا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی سماجی قدر کمپاؤنڈر سے زیادہ ہوگی، ڈاکٹروں میں کوئی اسپیشلسٹ ہو مثلا سرجن تو وہ عام ڈاکٹروں پر بھاری ہوگا ، پھر ان میں ڈگری کے حساب سے بھی قدرومنزلت ہوتی ہے ، ایم بی بی ایس کی الگ پہچان اور ایم ڈی کی الگ حیثیت ہوتی ہے۔ یہ باتیں تواضع کے پس منظر میں کہی جارہی ہیں کہ دنیاوی علوم کے ماہرین میں جس قدر بڑی ڈگری یا بڑا پیشہ ومنصب ہوگا اسی قدر تواضع سے بعید کبرونخوت کا پیکر ہوگا الا من رحم ربی۔جب عصری علوم کا یہ حال ہے تو مادی قوت واسباب سے لیس دنیادار افراد میں تواضع کا ناپید ہوجانا بدیہی امر ہے۔ کوئی گاؤں کا پردھان بن جائے وہ عا م لوگوں سے ممتاز رہے گا، ضلع کا کمشنراس سے بھی بڑا ، صوبے کا وزیر اس سے اعلی اور ملک کا حاکم سب پر فوقیت جتلانے والا ہوگا۔ یہ لوگ اپنے اپنے اسٹیٹس کے لحاظ سے سماج میں اپنا رکھ رکھاؤ اپناتے ہیں جہاں کبرتو جگہ جگہ ملتا ہے تواضع کا عکس وپرتو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا۔
اس کے بالمقابل دینی علوم شہرت وتجارت سے ہٹ کر اصلاح نفوس وقلوب ، تعمیرانسانیت، سلامتی فردوجماعت اورفلاح و تعاون سوسائٹی پر مبنی ہیں ۔ان تمام دینی علوم کا اصل مقصد اپنے خالق کی معرفت سے آگاہی حاصل کرنا اور اس کے احکام کی تابعداری میں زندگی گزارنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو جس قدر دینی علوم کا ماہر ہوگا اسی قدر رب شناس ہوگا، اسی قدر اس سے ڈرنے والا،اس کی بندگی میں غرق رہنے والا اور تواضع وانکساری کا پیکر ہوگا۔ ایک عام معلم ومدرس سے بڑھ کر متواضع شخصیت مفسر، محق اور محدث کی ہوگی ۔ یہ لوگ اگر مادی اسباب سے بھی لیس ہوجائیں تو ان کا علم تواضع کی ڈگر سے ہٹنے نہیں دے گا۔ہم سب کے عظیم رہبرورہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تواضع کا سب سے اعلی نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے ، گوکہ آپ عظیم المرتبت تھے مگر تواضع اس قدر کہ مالدار سے مالدار اور مسکین سے مسکین بھی آپ کے قریب ہوسکتا ، اس کو قرآن یوں بیان کیا ہے :
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ
ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ(آل عمران:159)
ترجمہ: اللہ تعالی کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں اور اگر آپ بدزبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ۔
قرآن کی آیت(وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ،ترجمہ:اوربیشک تو بہت بڑے اخلاق پر ہے) بھی اس بات کی مستحکم دلیل ہے۔ آپ کے نقش قدم پر چلنےوالے اسلاف کرام کی سیرت میں تواضع کی بے شماراورعمدہ مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں جو خوف طوالت سے یہاں ذکر نہیں کی جارہی ہیں۔
تواضع کہتے ہیں انکساری اور عاجزی کو جو فخروروغروراور کبرونخوت کی ضد ہے ۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں :
إن الله اوحى إلي ان تواضعوا حتى لا يفخر احد على احد ولا يبغ احد على احد(صحیح مسلم:2865)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے حکم کیا مجھ کو تواضع کرنے کا اس طرح کہ کوئی فخر نہ کرے دوسرے پر نہ کوئی زیادتی کرے دوسرے پر۔
تواضع اختیار کرنے والا اعلی کردار والا اور بلند اخلاق والا ہوتاہے ، وہ نرم خو، نرم دل اور نرم زبان والا ہوتا ہے، عبادات سے لیکر جملہ قسم کے معاملات میں عاجری اختیار کرنے والا ہوتا ہے ، نہ کسی پر برتری جتلاتاہے اور نہ ہی زبان وہاتھ سے کسی کو زک پہنچانے والا ہوتا ہےیعنی متواضع شخص کی زندگی حددرجہ شرافت وبزرگی سے لبزیر ہوتی ہے جیساکہ فرمان رسول ہے :
المؤمنُ غرٌّ كريمٌ ، والفاجرٌ خِبٌّ لئيمٌ(صحيح أبي داود:4790)
ترجمہ: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے۔
جب اللہ تعالی رسول سے تواضع طلب کرتا ہے اور اس کے رسول مومن کی پہچان بزرگی وشرافت قرار دیتا ہے تو جووارثین انبیاء یعنی علماء ودعاۃ ہیں ان کے اندر کس قدر کوٹ کوٹ تواضع بھرا ہوا ہونا چاہئے ۔وہ ہمیشہ تبلیغ رسالت کی غرض سےعوام الناس کے درمیان ہوتے ہیں جن میں اچھے اور برے سبھی ہوتے ہیں ۔اگر علماء بلند کردار کے مالک نہ ہوں تو اچھے لوگ تو ان سے بھاگیں گے ہی برے لوگ بھی قریب نہیں ہوں گے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں :
مَنْ تواضعَ للهِ رفَعَهُ اللهُ(صحيح الجامع:6162)
ترجمہ: جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند کرتا ہے ۔
اس حدیث کو حم السجدہ کی آیت سے جوڑ کرغورکریں تو علماء اور دعاۃ کے اندر تواضع کی ضرورت حد درجہ محسوس ہوتی ہے۔اللہ کا فرمان ہے:
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (فصلت:33)
ترجمہ: اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقینا مسلمانوں میں سے ہوں ۔
حدیث میں ہے جو(من تواضع) تواضع اختیار کرے اور قرآن کی آیت میں ہے جو (من احسن )اللہ کی طرف بلائے گویا اللہ کی طرف بلانے والے کا کردار متواضع ہونا چاہئے تاکہ وہ بگڑے سے بگڑے شخص کو اپنے قریب کرسکے اور منکرات پہ تنبیہ کرسکے ، تواضع کے بدلے اللہ بلندی عطا کرتا ہے۔
قرآن نے علماء کو سب سے زیادہ ڈرنے والا بتلایا ہے ، فرمان الہی ہے :
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ(فاطر:28)
ترجمہ: اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے (علماء) ہیں۔
یہ آیت بھی تقاضہ کرتی ہے کہ علماء جس طرح اللہ تعالی سے لوگوں میں سب سے زیادہ ڈرنے والے ہیں اسی طرح لوگوں میں سب سے زیادہ متواضع بھی ہوں ۔ تواضع خوف الہی کا مظہر ہے ، بھلا کبر وغرور اختیار کرنے والا اور اکڑدکھانےوالاکبھی متواضع ہوسکتا ہے ؟ تواضع تو اس میں پایا جائے گا جو اپنے خالق(قوت والا) کو پہچانتا ہوں ، اپنی حیثیت(ضعیف) کو جانتا ہوں اور اس سے ڈرنے والااور تقوی اختیار کرنے والاہو۔
انسان کواللہ نے عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے ، یہی تخلیق انسانی کا مقصد ٹھہرایا گیا اس لئے انسان اپنے خالق کی معرفت حاصل کرکے خالص اس کی بندگی بجالائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو یہ تعلیم دینے کے واسطے ہرقوم اور ہرزمانے میں انبیاء ورسول بھیجے اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ کی آمد کے بعد بعثت رسول کا سلسلہ بند ہوگیا مگر اللہ کے مذکورہ پیغام کی ترسیل آج بھی جاری وساری ہے اور اس پیغام رسانی کی ذمہ داری قیامت تک آنے والے علماء کرام کی ہے ۔ علماء اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ وہ لوگوں کواللہ کی بندگی کی طرف بلائیں اور خود بھی اللہ کی بندگی میں سرشار رہیں ۔معلم جس بات کی تعلیم دے رہا ہوتا ہے اس تعلیم پر وہ پہلے سے عمل کررہا ہوتا ہے ورنہ وہ معلم نہ ہوگا ۔اس بات کے ذکر کے بعد کہ علماء اللہ کی بندگی کی طرف بلاتے ہیں تو وہ بھی اللہ کی بندگی بجالانے والے ہوں گے ، یہاں رک کر غور کریں کہ عبادت کیا چیز ہے جو انسانوں کی تخلیق سے جڑی ہے ، اس کی طرف سارے انبیاء نے دعوت دی اور اب علماء دے رہے ہیں ؟
عبادت سراپا تذلل وخاکساری کا نام ہے ، عبادت کی ہیئت ، اس کا طریقہ اور ساری تعلیمات میں انکساری کی جھلک پائی جاتی ہے ۔ ایک بندہ اپنے خالق کے سامنے بندگی کے واسطے کھڑا ہوتا ہے وہ اپنی عاجزی کا اظہار کررہاہوتا ہے ، جب رکوع کرتا ہے تو بے بسی کا اس سے زیادہ اظہار ہوتا ہے اور سجدہ کی حالت میں عاجزی کی انتہا ہوجاتی ہے ۔ یہی ہے عبادت ۔ اب عبادت کی اس عاجزی کو علماء کی زندگی سے جوڑ کر دیکھیں کہ ان کے اندر اس خوبی کا پایا جانا کس قدر ضروری ہے ؟
ان سب باتوں کے ذکر کے بعد بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح دنیاوی علوم کے افراد میں تواضع ناپید ہوتا ہے آج کے اکثر علماء ان کی صف میں نظر آتے ہیں جبکہ آپ نے جانا کہ علماء میں عام مسلمانوں کی بنسبت وافر مقدر میں تواضع ہونا چاہئے ۔ کیا وجہ ہے کہ آج کے علماء متواضع شخصیت کے مالک نہیں ہیں ؟ وجہ وہی ہے جس کا ذکر اللہ نے رسول سے کیا ہے کہ کسی دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو۔
آج کے اکثر علماء خود کو دوسروں سے بہتر گمان کرتے ہیں ، جس قدر بڑی ڈگری مل جاتی ہے اسی قدر کبر کا شکار ہوجاتے ہیں ، جہاں کہیں کوئی بڑا منصب مل جاتاہے ، کسی میدان میں شہرت مل جاتی ہے یا چند کتابوں کے مصنف بن جاتے ہیں کبروغرور کا ایسا اظہار ہوتا ہے کہ عام مسلمانوں سے کجا اپنے سے نیچےعلماء کی بھی قدر نہیں کرتے ہیں ،ان سےسلام وکلام میں حرج ، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھے اور دعوت وتبلیغ میں عارمحسوس کرتے ہیں۔ پھر بات وہیں جانکلتی ہے کہ جو حال دنیاوی علوم والوں نے اپنا بنا رکھا ہے وہی حال آج کے مدرس ومبلغ اور مفسرومحقق کا ہے ۔ شہرت پانے والے مقرر کا تو سب سے برا حال ہے ،جس قدرگراں ان کی تقریری فیس ہے اسی قدر بعد تواضع سے ہے ۔ کیا ہوگیا ہے امت کو ؟ دینی علم جو ہمیں متواضع بناتا کیسے کبر کے دلدل میں پھنس گئے ؟
شاید ہم دنیاوی مفاد کے چکر میں یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ دوسروں کے احترام سے اپنی قدر گھٹتی ہے، نرم دلی اپنانے سے لوگ بےجا فائدہ اٹھاتے ہیں، گھل مل کر رہنے سے اسٹیٹس پر حرف آتا ہے اور ہرکسی کو سلام کرنے اور اپنے سے چھوٹوں سے بات کرنے سے حقارت کا اظہار ہوتا ہے ، سنیئے امام الانبیاء کا فرمان:
ما نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِن مالٍ، وما زادَ اللَّهُ عَبْدًا بعَفْوٍ، إلَّا عِزًّا، وما تَواضَعَ أحَدٌ لِلَّهِ إلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ(صحيح مسلم:2588)
ترجمہ:صدقہ دینے سے کوئی مال نہیں گھٹا اور جو بندہ معاف کر دیتا ہے اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔
آخر میں زندگی کے ایک تجرنے کی بات کرنا چاہتا ہوں کہ حرم مکی کے مفتی ڈاکٹر وصی اللہ عباس حفظہ اللہ سے میری پہلی ملاقات جدہ (سی پورٹ) دعوۃ سنٹر میں ہوئی تھی اس ملاقات میں پرخلوص محبت، ملنساری، اخوت ، نرم روی اور خوش گفتاری کا جو عکس دیکھا عش عش کرنے لگا۔ جب کبھی بھی آپ سے بذریعہ فون رابطہ کیا وہی نرمی اور خوش گفتاری محسوس کرتا ہوں ، شیخ مجھےبہت حوصلہ دیتے ہیں اورنوجوانی کا واسطہ دے کر لکھتے رہنے کی کثرت سے تلقین کرتے ہیں ۔میں نے اپنی زندگی میں محسوس کیا کہ اللہ نے واقعی آپ کو اس حدیث کا مصداق بنایا کہ جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرے اللہ اس کا درجہ بلند کرتا ہے، مجھے یقین ہے کہ اللہ نے آپ کو تواضع کے بدلے حرم مکی سےعلمی طورپر مربوط رکھا ہے۔ اے کاش علماء کو تواضع کی سمجھ آ جائے ۔
 
Top