• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علمِ دین کا طلب حصول مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
247
ری ایکشن اسکور
58
پوائنٹ
41
علمِ دین کا طلب حصول مال سے کہیں زیادہ بہتر ہے

━════﷽════━

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکل کر تشریف لائے، اس وقت ہم صفہ میں موجود تھے، چنانچہ آپ نے ہمیں مخاطب ہوکر فرمایا:

’’أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوْ إِلَى الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ"، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِكَ

تم میں سے کون ہے جسے یہ بات پسند ہو کہ وہ ہر روز صبح سویرے وادیٔ بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے موٹی موٹی کوہانوں والی دو اونٹنیاں بغیر گناہ میں مبتلا ہوئے اور قطع رحمی کئے لے آئے؟ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! ہم سب ہی یہ پسند کرتے ہیں.

قَالَ: "أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنْ الْإِبِلِ‘‘.

آپ ﷺ نے فرمایا کہ: پھر تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے مسجد میں کیوں نہیں جاتا کہ وہ وہاں جاکر کتاب اللہ کی دو آیتیں سیکھے یا ان کی تلاوت کرے‘ تو یہ عمل اس کے لئے دو اونٹ حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہوگا اور یہ تین آیات تین اونٹنیوں سے بہتر اور چار آیتیں اس کے لئے چار اونٹوں سے بہتر ہوں گی، اور آیتوں کی تعداد جس قدر زیادہ ہو‘ اونٹوں کی اتنی تعداد سے بہتر ہے.


[صحیح مسلم: ۸۰۳، سنن أبی داود: ١٤٥٦]

فائدہ:

علامہ عظیم آبادی لکھتے ہیں:

’’حاصل کلام یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں اپنے صحابہ کو ان اعمال کی ترغیب دلائی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں اور ساتھ ہی دنیائے فانی کی حقیقت سے آگاہ بھی فرمایا ہے، آپ ﷺ نے اونٹوں کا تذکرہ برسبیل مثال تقریبِ فہم کے لئے کیا ہے، ورنہ دنیا اپنے تمام سازو سامان کے ساتھ اس قدر حقیر ہے کہ وہ کہاں اللہ تعالیٰ کی ایک آیت کی معرفت کے ثواب اور بلند درجات کا مقابلہ کرسکے‘‘.

[عون المعبود:٤؍ ۲۳۱، مزید دیکھئے: المفھم لما أشکل من تلخیص مسلم للقرطبی: ۲؍٤۲۹]
 
Top