• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت آج بھی جلتی ہے

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,508
پوائنٹ
604
عورت آج بھی جلتی ہے
دورِ جاہلیت میں لڑکی کے پیدا ہونے کو بہت بُرا تصور کیا جاتا تھا اور اسی وجہ سے لڑکی کوپیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھاپھر اسلام آنے کے بعد عورت کو مکمل وقار اور رتبہ دیا گیالیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں لوگ پڑھ لکھ کربھی جاہلیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔پہلے وقتوں میں جس طرح عورت کو ذلیل ورسوا کیا جاتا تھا آج بھی عورت کے پیدا ہونے پر ناشکری اور غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو جہیز نہ لانے پر جلایا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو اولاد نہ ہونے پر لعن طعن کیا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو معمولی باتوں پر مارا پیٹا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو جھوٹی غیرت کے نام قتل کیا جاتا ہے۔
آج بھی عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو حوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو منحوس کہہ کر ٹھکرایا جاتا ہے۔
آج بھی عورت کو غلطی کرنے پر گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔
آج بھی عورت کو سسرال والوں کے ستم سہنے پڑتے ہیں۔
میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ عورت کل بھی جلتی تھی عورت آج بھی جلتی ہے۔ میں حیران ہوں ایسے مردوں کی سوچ پر جو عورتوں کو صرف اپنے بستر پر دیکھنا چاہتے ہیںلیکن اسی عورت کو باعزت طریقے سے اپنے پاس رکھنا گوارہ نہیں کرتے ۔ایسے مرد بھول بیٹھے ہیں کہ جس عورت کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے یا انہیں ٹھکرایا جاتا ہے وہ خود بھی کسی عورت کے پیٹ سے نکالے گئے ہیں ۔ مت بھولو اسی عورت میں سے اللہ نے تمہیں ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی جیسے عظیم رشتے عطا کیئے ہیں۔جس عورت کو تم آج ذلیل کرتے ہو، اسے زندہ جلاتے ہو ، گالم گلوچ کرتے ہو، حوس کا شکار بناتے ہو،جھوٹی غیرت کے نام پر قتل کرتے ہو، پاؤں کی جوتی سمجھتے ہو یاد رکھ اسی عورت سے تیری نسل کشی بھی ہوتی ہے۔ جس بیٹی کے پیدا ہونے پر تجھے غصہ آتا ہے وہی بیٹی تیرے لیے باعثِ نجات بن سکتی ہے۔جس بیوی پر تُو اتنے ظلم ڈھاتا ہے یہی بیوی تیرے گھر کو سنبھالے ہوئے ہے۔ جس ماں کو تُو دھکے دیتا ہے اسی ماں کے قدموں تلے تیرے رَب نے جنت بھی رکھی ہے۔ عورت کے ساتھ انصاف کرنے کی درجنوں مثالیں ہمیں اپنے پیغمبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ملتی ہیں۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ، أَنْبَأَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ،ٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ".سنن نسائی:حدیث نمبر: 3234
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ساری کی ساری پونجی ہے (برتنے کی چیز ہے) ۱؎ لیکن ساری دنیا میں سب سے بہترین (قیمتی) چیز نیک و صالح عورت ہے“۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الرضاع ۱۷ (۱۴۶۷)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۵ (۱۸۵۵)، (تحفة الأشراف: ۸۸۴۹)، مسند احمد (۲/۱۶۸) (صحیح)وضاحت: ۱؎: یعنی دنیا مطلوب بالذات نہیں ہے، صرف فائدہ اٹھانے کی جگہ ہے، اس لیے اس سے صرف حسب ضرورت فائدہ اٹھایا جائے۔
قال الشيخ الالباني: صحيح
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,430
پوائنٹ
964
واپسی مبارک جناب۔
 
Top