1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت کا نماز تراویح میں لقمہ دینے کی شرعی حیثیت-

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عبد الرحمن الكاشفي, ‏مئی 02، 2020۔

  1. ‏مئی 02، 2020 #1
    محمد عبد الرحمن الكاشفي

    محمد عبد الرحمن الكاشفي مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2019
    پیغامات:
    92
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    کیا مقتدی عورت اپنے محرم امام کو نماز میں لقمہ دے سکتی ہے؟

    حررہ محمد عبد الرحمن کاشفی اڑیشوی

    حامدا و مصلیا و مسلما

    صورت مسؤلہ میں غور و فکر کرنے کے ساتھ کتابوں میں تلاش بسیار کے باوجود، دور حاضر پر منطبق ہونے والا کوئی صریح فقہی جزئیہ مجھے نہیں مل سکا.

    موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں احناف کے سلسلہ میں یہ مذکور ہے کہ عورت کا قرآت میں آواز کو مطلقا پست رکھنا ضروری ہے.

    فتح القدير میں لکھا ہے "اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ جہری قرات سے عورت کی نماز فاسد ہو جاتی ہے تو یہ درست ہوتا"

    لو قيل إذا جهرت بالقراءة في الصلاة فسدت كان متجها

    جبکہ احناف کے اصح قول کے مطابق عورت کی آواز عورت نہیں ہے.

    بحر الرائق کی عبارت ملاحظہ فرمائیں.
    صوتها ليس بعورة وإنما يؤدي إلى الفتنة ولعلهن إنما منعن من رفع الصوت بالتسبيح في الصلاة لهذا المعنى، ولا يلزم من حرمة رفع صوتها بحضرة الأجانب أن يكون عورة.

    بحر کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کو تسبیح (کے ساتھ امام کو لقمہ دینے) سے روک دیا جانا انکی آواز کے پردہ ہونے کو مستلزم نہیں ہے.

    احناف کے یہاں عورتوں کا تسبیح کے ذریعہ غیر محرم کی موجودگی میں لقمہ نہ دینا اور اسکی علت حرمت التأدية إلى الفتنة ہے نہ کہ عورۃ صوت المرأة یعنی عورت کی آواز کا پردہ ہونا ہے.

    اس لیے اگر عورت لقمہ دے اور امام اس لقمہ کو قبول کرلے تو نماز باقی رہیگی خواہ مرد اجنبی ہو: ”والمعتمد أنہ فتنة فلا تفسد برفع صوتہا صلاتہا“ (حاشیة الطحطاوي: ۱۹۹)

    چونکہ محرم کی موجودگی میں فتنے کی علت مفقود ہو جاتی ہے. پس صورت مسؤلہ میں عورت کے علاوہ در جماعت یا آس پاس کوئی اور اجنبی مرد مقتدی نہ ہوں ، تو اس عورت کو کچھ بلند آواز سے اپنے محرم امام کو لقمہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ عمل بلا کراہت درست ہے.

    اللہ اعلم بالصواب.

    Sent from my BKL-L09 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں