• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت کی خصوصیّات

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,003
پوائنٹ
97

بِسْمِ اللّٰھِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمؔ


السلام علیکم ۔
آج ہماری گفتگو کا موضوع عورت ہے جو ایک بہت ہی وسیع اور مشکل موضوع ہے۔ اس کے وسیع اور مشکل ہونے کا اندازہ کرنے کے لئے، ہم بات کو یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ۔۔ بنی ہوئی چیزوں (مصنوعات و مخلوقات)کو اس کا بنانے والا سب سے زیادہ سمجھتا ہے پھر اس کا استعمال کرنے والا۔
جس طرح درخت اللہ کی مخلوق ہے اور اللہ ہی اسے سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے درخت کو انسان کے لئے بنایا ہے لہٰذا انسان درخت کو اپنے استعمال میں لاتا ہے۔ اس کو استعمال کرتے ہوئے اور اسے مزید قابلِ استعمال بنانے کی کوشش کرتے ہوئے، انسان درخت کی کچھ خصوصیات سے واقف ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انسان ، خواہ مرد ہو یا عورت ، اللہ کی مخلوق ہے اور خالق ہونے کے ناطے اللہ تعالٰی ہی اسے سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔
انسان دنیا کی ہر چیز کا استعمال کرنے والا ہے لہٰذا وہ اللہ کی بہت ساری مخلوقات کے متعلق کچھ نہ کچھ جان جاتا ہے مگر جب وہ اپنے آپ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ کام ہوتا ہے۔ یہ کچھ اس طرح ہے جیسے درخت کا خود اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔
اس موضوع کو میں نے وسیع اس لئے کہہ دیا کہ یہ موضوع انسان سے متعلق ہے کہ جو دنیا کی ہر چیز کا استعمال کرنے والا ہےاور دنیا کی تمام چیزوں کے ساتھ اُس کا ردِّ عمل سمجھنے کی کوشش کس قدر وسیع ہو سکتی ہے ، اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اور موضوع کو مشکل اس لئے کہا کہ یہ، کسی مخلوق کا خود اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔
انسان کا دنیا کی دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے دوسرے انسانوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ یہ انسان جنس، قوم، رنگ، نسل و زبان میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ایک طرح کے لوگ دوسری طرح کے لوگوں کو جاننا اور سمجھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ کوشش تخریبی مقاصد کے لئے نہ ہو تو قابلِ ستائش ہے۔
انسانوں کے اختلافات میں جنس کا اختلاف بہت اہمیّت کا حامل ہے کیونکہ ہر مرد کا عورتوں سے اور ہر عورت کا مردوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ لہٰذا مردوں کا عورتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا اور عورتوں کا مردوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا ، تعمیری مقاصد کے لئے ، نہ صرف اچّھا ہے بلکہ ، میں سمجھتا ہوں کہ اچّھی معاشرت کے لئے ضروری بھی ہے۔
آج کا موضوع مردوں کی طرف سے عورتوں کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ موضوع کی وُسعت کی وجہ سے ہم اس کو مزید مختصر کریں گے اور اس کے صرف اس پہلو پر غور کریں گے کہ عورت اپنے فیصلوں میں عقل سے زیادہ جذبات سے کام لیتی ہے۔
یہ بات کہ 'عورت اپنے فیصلوں میں عقل سے زیادہ جذبات سے کام لیتی ہے' ، عورت کی کوئی خامی نہیں بلکہ بہت بڑی ، بہت ہی بڑی خوبی ہے۔
چونکہ مرد اپنے فیصلوں میں جذبات سے زیادہ عقل سے کام لیتے ہیں لہٰذا وہ عورت سمیت اپنے جیسے تمام دوسرے انسانوں میں اسی صفت کی توقع رکھتے ہیں، اسی کو پسند کرتے ہیں اور اسی کو دوسروںمیں تلاش کرتے ہیں۔ پھر جب وہ عورت کے فیصلوں پر غور کرتے ہیں اور وہ فیصلے انہیں عقل سے زیادہ ،جذبات سے مغلوب نظر آتے ہیں تو وہ اسے عورت کی خامی سمجھ لیتے ہیں اور اس کو کمتر گرداننے لگ جاتے ہیں۔ اور کچھ تو حدیث کے یہ الفاظ دہراتےسنےجاتے ہیں کہ 'عورت ناقص العقل ہوتی ہے' جس کا مفہوم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عورت میں عقل رکھی ہی کم گئی ہے۔ حالانکہ جس طرح اپنی فطرت کی وجہ سے وہ کچھ مخصوص دنوں میں نماز نہیں پڑھتی جس سے اُس کے دین میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اُس کے دین میں یہ کمی اُس کی فطرت کی وجہ سے واقع ہوتی ہے نہ کہ اُس کے جسم و جان میں نماز ادا کرنے کی صلاحیت ہی کم ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح وہ اپنی فطرت کی وجہ سے ہی اپنے فیصلوں میں عقل سے زیادہ جذبات سے کام لیتی ہے۔ اس کا یہ مطلب لینا درست نہیں کہ اُس کی عقلی صلاحیت ہی کم ہوتی ہے۔
ان تصوّرات کے ساتھ رہنے والے نہ تو عورت کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں اور نہ اس کے ساتھ اپنے معاملات میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مرد و عورت کو رہنا تو ساتھ ہی ہے مگر مردوں کے ان تصوّرات کے ساتھ عورتیں نا انصافی اور مرد ذہنی کوفت کا شکار رہیں گے۔ مزید اس کا بہت بڑا نقصان یہ بھی ہوگا کہ اس قسم کا تصوّر رکھنے والے لوگ عورت کی اِس بہت بڑی خوبی کا آزادانہ استعمال نہیں ہونے دیں گے لہٰذا معاشرے میں اس سے جو مثبت نتائج پیدا ہو سکتے ہیں ، جو کہ بنیادی اہمیّت کے حامل بھی ہیں، وہ پیدا نہیں ہو سکیں گے۔ اس سے آپ اِس موضوع کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
غور و فکر اور تبادلۂ خیال سے جو بات پتا چل سکی وہ یہی ہے کہ یہ سمجھنا تو تحقیر آمیز ہے کہ عورت کے پاس عقل ہوتی ہی کم ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فیصلے کرتے ہوۓ عقل سے زیادہ جذبات کی تابع ہوتی ہے۔ ۔ وہ کون سے اہم ترین جذبات ہیں اور ان سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں، آیئے، ذیل کی سطور میں، ہم ان باتوں کا جائزہ لیتے ہیں ۔
جذبات کی بات تو سمندر کی طرح وسیع اور گہری ہے ۔ جذبات سے نہ مرد خالی ہیں نہ عورتیں۔ مگر تجزیہ اور غور و فکر کے نتیجہ میں جن جذبات کی نشاندہی ہو سکی ان میں اہم ترین اور قوی ترین جذبات دو ہیں ۔ ایک ہے جذبۂ محبّت اور دوسرا۔ جذبۂ ستائش پسندی۔
آیئے، پہلے 'جذبۂ محبت' پر نظر کرتے ہیں۔
عورت کے اندر محبت کا جذبہ انتہاء تک پہنچا ہؤا ہوتا ہے جس میں اسے انجام تک کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اگر اس کا بچّہ کسی آگ لگے مکان میں ہو تو ایک ماں کو اُس آگ میں کُودنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہی جذبۂ محبت اُس کے اندر مزید ایثار و قربانی کے جذبات پیدا کرتا ہے جو اُسے صبر و برداشت کی انتہاء کو پہنچا دیتے ہیں۔ مثلاً ایک سرد رات میں کسی ماں کا اپنے شیر خوار بچے کو سوکھے میں سُلا کر خود گیلے میں رات کاٹ دینا۔
میرے ایک دوست ہیں انعام الحق۔ یہاں میں ان کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ایک دن انعام بڑی آزمائش کا شکار تھے۔ ایک طرف ان کی والدہ کی طبیعت خراب تھی اور دوسری طرف ان کے چھوٹے بیٹے کی۔ دونوں ہی کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ مگر والدہ کا ڈاکٹر ایک سمت میں تھا تو بیٹے کا ڈاکٹر دوسری سمت۔ دونوں کو ایک ساتھ نہیں لے جایا جا سکتا تھا۔ باپ کی پدری شفقت بیٹے کی طرف مائل تھی تو ماں کے لئے ذمہ داری کا احساس بھی کم نہ تھا۔ ایک بے چینی اور کشمکش کی حالت تھی جسے ان کی والدہ نے محسوس کر لیا ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کا بیٹا اپنے بیٹے کی کیفیت سے غم زدہ ہے۔ اُنہیں اپنے بیٹے کی خوشی اسی میں نظر آئی کہ ان کے بیٹے کا بیٹا ٹھیک ہو جائے یا کم از کم اس ہنگامی کیفیت سے باہر آ جائے۔ اپنے بیٹے کو اس مشکل سے نکالنے کے لئے انہوں نے فوراً فیصلہ کیا اور اپنے بیٹے کو بلا کر اصرار کیا کہ وہ پہلے اپنے بیٹے کو دکھا کر لائے۔ مشکل حل ہو گئی۔ حالانکہ بعد میں دونوں ہی صحت یاب ہو گئے مگر انعام کو ان کی اِس کی آزمائش سے نکالنے میں ان کی والدہ کی قربانی صاف نظر آتی ہے۔
یہ قربانی کا جذبہ، جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں، اِسی جذبۂ محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔ عورت کے جذبۂ محبت کی بہت بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کمزور کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس حمایت میں اُسے اِس بات کی بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ کمزور ظالم ہے یا مظلوم۔غور کیجیئے گا، یہاں اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ وہ معاف کرتی ہے اور بس معاف کرتی ہے، انصاف نہیں کرتی۔
 یہ جذبہ اسے بہترین ماں ہونے کے اعلٰی مقام تک پہنچا دیتا ہے۔
 یہی جذبہ اسے اپنے باپ ، بھائی ، شوہر اور بیٹے کے لئے اُن مشکل حالات کا ساتھی بنا دیتا ہے کہ تا حیات وہ اس کی وفا اور قربانی کو بھلا نہ پائیں۔
 یہی جذبہ مرد کے لئے اس کی طلب کو بڑھا دیتا ہے۔ وہ اپنی ماں کی طرف پلٹتا ہے، اپنی بیوی کی طرف پلٹتا ہے۔ ایک مجرم کے لئے جہاں کوئی اُس کی حمایت میں ایک لفظ کہنے کو آمادہ نہیں ہوتا، اس خاموشی کو ایک ماں ہی توڑتی ہے ، اِس آواز کے ساتھ کہ 'میرا بیٹا بے قصور ہے'، 'میرا بیٹا بے قصور ہے'۔
 تزئین و آرائش کی دلدادہ یہ عورت تمام تر زیبائش کے شوق کے باوجود ، تنگی کی حالت میں ، اپنے شوہر کو اپنا زیور پیش کر دیتی ہے۔
 ایک باپ جب اپنے بیٹوں کی نااہلی کی وجہ سے جب مشکل حالات سے دو چار ہوتا ہے، یہ ایک بیٹی ہوتی ہے جو اُسے یوں دلاسہ دیتی ہے 'بابا، میں آپ کی بیٹی نہیں بیٹا ہوں'۔
 ایک بھائی کی پڑھائی لکھائی اور معاشی مستقبل کے لئے ، مشکل پڑے تو بہنوں کی ضرورتوں کی قربانی دے دی جاتی ہے۔کتنی بہنیں ہیں جو بھائیوں سے اس کا گِلہ کرتی ہیں؟
میری باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ میں حمایت کرتا ہوں۔
محبت میں غیر محرم کی طرف مائل ہونے کی۔
محبت میں مجرم کی حمایت کی۔
محبت و قربانی کے جذبے سے مجبور ہو کر مرد بننے کی کوشش کی۔
محبت میں صرف اپنا ہی حق جتانے اور دوسروں کے حقوق برداشت نہ کرنے کی۔
ان باتوں کی بَھلا کیسے حمایت کی جا سکتی ہے؟ یہ تو اس جذبۂ محبت کے مفاسد ہیں جن سے عورت کو رُکنا ہی چاہیئے اور اُسے روکا بھی جانا چاہیئے۔ ان مفاسد سے اُس کو صرف ایک ہی قوّت مؤثر طریقہ سے روک سکتی ہے اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ اگر وہ اللہ کی بندی ہے، اگر وہ مؤمنہ ہے، تو اسے اللہ کا حکم ان خرابیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اور بس۔
اِس ضمن میں ایک اور بات یہ ۔۔ کہ کہتے ہیں 'عورت ضد کرتی ہے'۔ ٹھیک کہتے ہیں کہ ضد کرتی ہے۔ لیکن ضد کس سے کی جاتی ہے؟ ضد کرنے کے لئے کوئی بڑا چاہیئے، ضد کرنے کے لئے کوئی اپنا چاہیئے۔ وہ جنہیں بڑا اور اپنا سمجھتی ہے ان ہی سے ضد کرتی ہے۔ لہٰذا اپنے بڑے پن اور اس کی اپنائیت کا لحاظ کیجئے۔ اس کی توقّعات کو جائز حد تک ضرور پورا کیجئے۔ نا جائز میں بھی اسے محبت سے سمجھایئے۔ جھڑکیئے نہیں۔ اختیار و اقتدار کا بے جا فائدہ نہ اٹھایئے۔ یاد رکھیئے، کلّی اختیار کسی اور کے پاس ہے!
اسی کے بر عکس ، یعنی محبت کی جو ہم نے بات کی اس کے بر عکس عداوت میں بھی عورت انتہاء کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے، یہاں بھی اسے انجام کی پرواہ نہیں ہوتی۔ ضروری ہے کہ ہمارا سلوک اُس کے ساتھ اس طرح کا ہو کہ اس کا جذبۂ محبت بیدار رہے اور جذبۂ عداوت تا حیات سوتا ہی رہے۔
میں یہاں پر خبردار کرنے کی زبان میں کہتا ہوں کہ:
خبردار! اسے عقل سے فیصلے کرنے والی بنانے کی کوشش نہ کرنا۔
 خبردار! اسے انصاف کرنے والی بنانے کی کوشش نہ کرنا۔ اور؛
 خبردار! اس کے جذبۂ عداوت کو بیدار نہ کرنا۔
ہمیں وہ جذباتی ہی چاہیئے، ہمیں وہ معاف کرنے والی ہی چاہیئے اور ہمیں وہ محبت کرنے والی ہی چاہیئے۔ کیونکہ اسی حالت میں وہ اپنی فطرت پر ہے اور اسی فطرت کے ساتھ وہ ہمارے لئے ایک ایسی نعمت ہے جو خزاں میں بھی بَہار کی خوشبو اور فرحت لئے ہوئے ہے۔
اب آئیے! ہم عورت کے دوسرے اہم جذبہ، جذبۂ ستائش پسندی پر بات کرتے ہیں۔
عورت خود کو اچھا دیکھنا اور سننا چاہتی ہے جس کی وجہ سے وہ خود نمائی کی شوقین ہوتی ہے۔ یہ جذبہ اس کے اندر آرائش و زیبائش کا شوق پیدا کرتا ہے۔ کون ہے جو عورت کو خوبصورت نہیں دیکھنا چاہتا؟ بلکہ اگر یہ جذبہ نہ ہو تو عقل سے آپ عورت کو سمجھاتے ہی رہ جائیں گے کہ اسے آرائش و زیبائش اختیار کرنی چاہیئے مگر الحمد للٰہ ! اللہ تعالٰی نے مرد کی پسند کا لحاظ کرتے ہؤےعورت کے اندر یہ جذبہ فطرتاً ودیعت فرما دیا ہے۔
حد سے زیادہ خود نمائی پر اُتر آنا جو اسے خواہش پرستی کی طرف لے جاتا ہے، برا ہے۔ اِس خواہش پرستی میں وہ دوسروں کی حرص کرنے لگتی ہے ۔ اور جب وہ سب جو وہ چاہتی ہے ، میسّر نہ آ سکے تو اپنے شوہر کی نا شکری پر اُتر آتی ہے؛ وہ لوگ جن کے پاس زیادہ ہو ان کے خلاف دل میں حسد اور زبان پر غیبت سجا لیتی ہے۔۔ یہ سب غلط ہے، قبول ہے۔ لیکن آپ اُس کے آرائش کے شوق کو یکسر دبانے کی کوشش نہ کریں۔ وہ تو اپنی تعریف سننا چاہتی ہے۔ یہاں تک کہ جھوٹی تعریف سے بھی بہل جاتی ہے۔ مثلاً اُس کے بنائے ہؤے کھانے کی تعریف۔
اُس کے بنائے ہوئے کھانے کی تعریف کرنے میں بھی کچھ لوگ کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ عورت کی بے شمار کوششیں ہوتی ہیں کہ کھانا اچھا بنے۔ وہ کبھی یہ نہیں چاہتی کہ بہت خراب سا کھانا بنا دے۔ کتنی کوششیں ہوتی ہیں کہ۔۔ کیا کتنا ڈالوں، کتنا پکاوٗں، کب کیا ڈالوں، کس طرح سجاوٗں ، کیسے پیش کروں؟۔ یہ سب کچھ ہونے کے بعد جب کھانا آئے اور اُس میں کوئی ایک چیز کم یا زیادہ ہو تو ہمیں صرف وہ ایک کمی یا بیشی ہی نظر آئے اور وہ بے شمار کام جوبالکل درست کئے گئے ہیں ، وہ نظر نہ آئیں ۔۔ یہ تو انصاف کی بات نہیں۔ بلکہ یوں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جب کھانا ہر طرح اچھا بن جائے تو صاحب فرماتے ہیں ۔ دیکھا، آج میں گوشت کتنا اچھا لایا تھا یا مٹر کتنے عمدہ تھے! یعنی کسی بھی طرح اِس اعتراف سے بچنا کہ 'بیگم، کمال کر دیا! دل خوش کر دیا!' جبکہ ان مختصر جملوں کے انتظار میں اس کی نظریں ہمارے چہرے پر جمی ہوتی ہیں کہ ایک لقمہ لینے کے بعد صاحب جھوٹے منہ ہی یہ کہہ دیں کہ کھانا لذیذ بنا ہے۔
جب وہ ہماری خوشی اور پسند کا لحاظ کرتے ہوئے کھانا تیار کرتی ہے، ہمارے مہمانوں تک کے لئے خوشی سے تیاریاں کرتی ہے، پھر ہم ان کوششوں کا اعتراف بھی نہ کریں تو یہ ہماری طرف سے عورت کی ناشکری کے مترادف ہے۔ہمیں ضرور اس کی تعریف کرنی چاہیئے، اس کا شکرگزار ہونا چاہیئے۔ پھر یہ تعریف کوئی بےجا چیز بھی نہیں۔
اب میں اپنی بات کے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہوں ۔۔ ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ عورت نازک ہے اور خوبصورت اور قیمتی چیزیں نازک بھی ہوتی ہیں اور ان کا نازک اور قیمتی ہونا ان کی حفاظت کو ضروری بنا دیتا ہے لہٰذا آپ کو ان کا قوّام مقرّر کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ خوبصورت اور قیمتی چیز آپ کو میسّر آ گئی ہے تو اس کی حفاظت کا حق ادا کیجیئے۔ دیکھنا! یہ شیشہ آپ کی بے قدری کی وجہ سے ٹوٹ نہ جائے؛ پھر شیشے کے وجود کا جو ہوگا سو ہوگا مگر آپ کے پاؤں بھی رنگِ لہو سے سرخ نظر آئیں گے۔
لہٰذا بات کو حنا کے رنگ کی سرخی سے لہو کے رنگ کی سرخی تک پہنچنے سے روکیئے، اپنی ذمہ داری کا احساس کیجیئے، اپنے ما تحتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈر جایئے۔ آج ہی عورتوں کے معاملے میں اپنے تصوّرات پر نظرِ ثانی کیجیئے اور جہاں تک یہ تصوّرات درست نہیں ہیں، ان کی اصلاح کیجیئے۔بات ختم ہوئی۔ اللہ تعالٰی اصلاح کے اس کام میں ہم سب کی مدد فرمائے! آمین، یا ربَّ العالمین!
السّلام علیکم ۔
محمد طارق انصاری

۲۵ نومبر۲۰۱۲
 
Top