• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید انصاف + قربانی انصاف

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
آصف بھائی نام بگاڑنا درست نہیں؛دلیل تو آپ کو دینی چاہیے شریعت سے؛ہمیں شایستگی سے تردید کرنی چاہیے۔
حافظ صاحب آپ کی پوسٹ کے اوپر میری پوسٹ لگی ہوئی ہے
تھوڑی ہمت کر کے بغور پڑھ لیتے تو آپ کا جواب شاید مختلف ہوتا
اور
راقم سے دلیل کا مطالبہ نہ فرماتے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
لفظ طاغوت کا اطلاق ایک شرعی مسئلہ ہے اس کو نام بگاڑنے کی دلیل بنانا درست نہیں؛واللہ اعلم
حافظ صاحب!
ضروری نہیں کہ جو بات آپ کو سمجھ آرہی ہے وہ مجھے بھی سمجھ میں آ رہی ہو۔
اسی طرح
یہ بھی ضروری نہیں کہ جو بات میری سمجھ میں آرہی ہے وہ آپ کی سمجھ میں بھی آ رہی ہو۔
مزید یہ کہ
جب ایک انسان دوسرے انسان کے سجدہ کرنے کو پسند کرے، اور اُسے اٹھا کر اپنے گلے سے بھی لگائے۔ اس کی کمر تھپتھپائے۔ اس پر راضی ہو۔ اس کو منع نہ کرے
تو
آپ اپنے تئیں شرعی جواز اور قیل و قال ڈھونڈیں۔ یہ تمام چیزیں آپ کو مبارک
مجھے
درس قرآن و حدیث یہی ہے کہ
سجدہ کرنے والا مشرک ہے اور سجدہ کروانے والا طاغوت ہے۔

آپ نے بحث کرنی ہے تو دوسرا تھریڈ منتخب فرما کر مجھے بھی دعوت دے دیجیے وہاں جو دل میں آئے اپنی فہم و بصیرت کے پھول کھلا لیجیے ان کی خوشبو سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے میں بھی غیرت توحید کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
حافظ بھائی کی یہ بہت مناسب بات ہے۔ہمارے پاس شائستگی کی مثالیں موجود ہیں ، مگر نام بگاڑنے سے متعلق دلیل یا جواز ان القاب کو استعمال کرنے والے دیں۔کیونکہ اکثر لوگ مختلف طبقہ فکر کے اکابرین کو ایسے ہی نام بگاڑ کر مخاطب کرتے ہیں۔
دُعا سسٹر
آپ کو جواب لکھ کر مٹا دیا ہے۔
ادھار سہی
موقعہ ملا، تو جواب لے کر حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,233
پوائنٹ
402
حافظ صاحب!
ضروری نہیں کہ جو بات آپ کو سمجھ آرہی ہے وہ مجھے بھی سمجھ میں آ رہی ہو۔
اسی طرح
یہ بھی ضروری نہیں کہ جو بات میری سمجھ میں آرہی ہے وہ آپ کی سمجھ میں بھی آ رہی ہو۔
مزید یہ کہ
جب ایک انسان دوسرے انسان کے سجدہ کرنے کو پسند کرے، اور اُسے اٹھا کر اپنے گلے سے بھی لگائے۔ اس کی کمر تھپتھپائے۔ اس پر راضی ہو۔ اس کو منع نہ کرے
تو
آپ اپنے تئیں شرعی جواز اور قیل و قال ڈھونڈیں۔ یہ تمام چیزیں آپ کو مبارک
مجھے
درس قرآن و حدیث یہی ہے کہ
سجدہ کرنے والا مشرک ہے اور سجدہ کروانے والا طاغوت ہے۔

آپ نے بحث کرنی ہے تو دوسرا تھریڈ منتخب فرما کر مجھے بھی دعوت دے دیجیے وہاں جو دل میں آئے اپنی فہم و بصیرت کے پھول کھلا لیجیے ان کی خوشبو سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے میں بھی غیرت توحید کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔
ویسے آصف بھائی طاغوت کی تعریف کے اعتبار سے تو آپ کی بات ٹھیک ہی لگتی ہے
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
جب ایک انسان دوسرے انسان کے سجدہ کرنے کو پسند کرے، اور اُسے اٹھا کر اپنے گلے سے بھی لگائے۔ اس کی کمر تھپتھپائے۔ اس پر راضی ہو۔ اس کو منع نہ کرے
تو
آپ اپنے تئیں شرعی جواز اور قیل و قال ڈھونڈیں۔ یہ تمام چیزیں آپ کو مبارک
مجھے
درس قرآن و حدیث یہی ہے کہ
سجدہ کرنے والا مشرک ہے اور سجدہ کروانے والا طاغوت ہے۔

آپ نے بحث کرنی ہے تو دوسرا تھریڈ منتخب فرما کر مجھے بھی دعوت دے دیجیے وہاں جو دل میں آئے اپنی فہم و بصیرت کے پھول کھلا لیجیے ان کی خوشبو سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے میں بھی غیرت توحید کے ساتھ حاضر ہو جاؤں گا۔
بات کرنے کا یہ انداز اور وہ بھی علماء سے تو کچھ اچھا نہیں ہے۔۔۔! جب اپنوں کے ساتھ آپ ایسے بات کرتے ہیں تو غیروں کے لئے نام بگاڑنے میں بالاولیٰ کچھ حرج محسوس نہیں کرتے ہوں گے۔ آپ خود اپنے رویہ پر غور کیجئے ۔

راجا صاحب
آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے۔ اسلام ہمیں منع کرتا ہے ان لوگوں کے نام بگاڑنے سے جو اللہ اور رسول اللہ ﷺ پر جان بوجھ کر جھوٹ نہیں باندھتے۔
لیکن
جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے
اس کا نام بگاڑنے سے منع کرنے پر اگر آپ کے پاس کوئی دلیل بین ہے تو میں بھی رجوع کر لیتا ہوں۔
آپ اس بات کی ہی دلیل بتا دیجئے کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، اس کا نام بگاڑنا شریعت میں جائز ہے؟

جبکہ آپ کو بھی تسلیم ہے کہ دیگر لوگوں کے نام بگاڑنا درست فعل نہیں۔
ہمیں تو تعلیمات یہ ہیں کہ مشرکوں کے معبودوں کو بھی برا بھلا نہ کہنا چاہئے۔
اور شرعی تعلیمات سے قطع نظر دعوت کے نکتہ نظر سے اس کی کوئی خاص حکمت آپ کے ذہن میں ہو تو بتا دیجئے گا۔

جب ایک انسان دوسرے انسان کے سجدہ کرنے کو پسند کرے، اور اُسے اٹھا کر اپنے گلے سے بھی لگائے۔ اس کی کمر تھپتھپائے۔ اس پر راضی ہو۔ اس کو منع نہ کرے
چلئے اب یہ بتا دیجئے کہ طاہر القادری نے کب کہا کہ مجھے سجدہ کرو۔ ذرا سا مطالعہ کرنے والا شخص جانتا ہے کہ بریلویوں کے نزدیک بزرگوں کی قدم بوسی جائز ہے۔ اس کی صورت سجدہ جیسی ہو جاتی ہے، جو خود کبیرہ گناہ کہا جا سکتا ہے، اس سے لاکھ اختلافات ہوں، لیکن انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ خود طاہر القادری بھی اور ان کی پارٹی بھی اس کی یہی توجیہہ پیش کرتی ہے اور ان کی مشرک عوام بھی قدم بوسی کی نیت سے ہی سجدہ کی ہئیت اختیار کرتے ہیں۔ نیت کا کچھ اعتبار تو کر لینا چاہئے، جبکہ عرف میں بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہی بات درست ہے۔اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا بریلویوں کے نزدیک بھی حرام ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
جی راجا صاحب
آپ کا بہت شکریہ
دیر آئے درست آئے
سردست یہ بتا دیجیے کہ اگر کوئی ’’اپنا عالم‘‘ سنگسار کرنے والا کام کرے گا تو اُسے شرعی سزا دیتے وقت کیا واقعی اس خیال رکھا جائے گا کہ یہ تو ’’اپنا عالم‘‘ ہے؟؟؟
کوئی چوری کا مرتکب ہوا ہو اور عادل گواہوں نے گواہی بھی ہو تو اُسے شرعی سزا دیتے وقت کیا واقعی اس خیال رکھا جائے گا کہ یہ تو ’’اپنا عالم‘‘ ہے؟؟؟
وغیرہ وغیرہ۔
ذرا غور کیجیے کہ میں اسلام کے حق کی بات کر رہا ہوں۔ اس کی دلیل ڈھونڈھنی ہو تو صادق المصدوق ﷺ کی زبانِ اقدس سے نکلا ہوا یہ جملہ آپ کو سمجھانے کے لئے کافی ہے۔ ولا ينفع ذا الجد منك الجد

ان کنت تقیا۔


آپ اس بات کی ہی دلیل بتا دیجئے کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے، اس کا نام بگاڑنا شریعت میں جائز ہے؟
امید تھی کہ آپ یہی ارشاد فرمائیں گے۔
اُم حماد سسٹر کی بات کا جواب دیتے ہوئے اس تھریڈ کی پوسٹ نمبر 17 آپ پڑھ لیں جس میں دلیل موجود ہے
رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کو مکے کے اندر جتنی تکالیف دی گئیں، کیا کوئی تصور کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ‘‘عمر بن ہشام‘‘ کا نام ‘‘ابوجہل ‘‘ مکہ میں رکھا گیا تھا یا کہ مدینہ میں؟؟؟؟
‘‘عبدالعزیٗ‘‘ ابولہب اور اس کی بیوی کی بربادی کا تذکرہ مدینہ میں ہوا تھا یا کہ مکہ میں؟؟؟؟

جبکہ آپ کو بھی تسلیم ہے کہ دیگر لوگوں کے نام بگاڑنا درست فعل نہیں۔
آپ نے یہ بات سمجھنے میں بھی غلطی کھائی ہے
ایمان والوں کا نام بگاڑنے والے قول و فعل کو بحکم الٰہی میں بھی برا سمجھتا ہوں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

جبکہ آپ نے یہی قاعدہ کلیہ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنے والوں پر بھی فٹ کر کے اپنی فقاہت کا زبردست ثبوت فراہم کیا ہے۔

ہمیں تو تعلیمات یہ ہیں کہ مشرکوں کے معبودوں کو بھی برا بھلا نہ کہنا چاہئے۔
جانتا تھا کہ آپ نے یہی دلیل مجھے ارشاد فرمانی ہے۔ اسی لئے میں نے آپ سے دلیل جاننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
جبکہ
آپ کی یہ دلیل یہاں پر منطبق ہوتی ہی نہیں۔
کیا آپ وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ ظاہر الپادری کے ماننے والے اُس کو معبود سمجھتے ہیں؟
اگر آپ کہتے ہیں واقعی ایسا ہے
پھر تو آپ مجھے منع کیجیے
اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو
آپ ہی اپنی بات پر دوبارہ غور فرمائیں کہ آپ نے دلیل میں پیش کیا کیا ہے؟

دلیل بین کے متعلق میرا سوال ابھی تک آپ پر ادھار ہے۔

اور شرعی تعلیمات سے قطع نظر دعوت کے نکتہ نظر سے اس کی کوئی خاص حکمت آپ کے ذہن میں ہو تو بتا دیجئے گا۔
اس میں بہت سے فوائد ہیں جس سے آپ نابلد ہیں۔ اور یہ تھریڈ اس بحث کا محتمل نہیں۔

چلئے اب یہ بتا دیجئے کہ طاہر القادری نے کب کہا کہ مجھے سجدہ کرو۔
دل کی چاہت جب آواز بن جائے تو الزامی جوابات کا سلسلہ ہی شروع ہوتا ہے۔
یقیناً آپ کے طرز تحریر کے مطابق اس کا ایک جواب یہ ہے کہ
ظاہر الپادری نے اپنے آپ کو سجدہ کرنے سے روکا کب ہے؟ آپ یہ بتا دیجیے۔

مجھے تو حیرانگی اس بات پر ہے کہ
ایک طرف آپ یہ مان رہے ہیں کہ ظاہر الپادری کو سجدہ ہورہا ہے۔ اور دوسری طرف آپ اس کے متعلق لکھی گئی ہلکی سی بات کو بھی برداشت نہیں کر رہے بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ نادانستہ طور پر اُس کی وکالت فرما رہے ہیں۔

ذرا سا مطالعہ کرنے والا شخص جانتا ہے کہ بریلویوں کے نزدیک بزرگوں کی قدم بوسی جائز ہے۔
بریلویوں کی بات تو بعد میں کریں گے پہلے تو آپ یہ بتائیے کہ آپ کے نزدیک بھی جائز ہے کہ نہیں۔ ؟؟؟

اس کی صورت سجدہ جیسی ہو جاتی ہے
مطلب یہ کہ آپ کو اقرار ہے انکار نہیں۔
تھوڑا اور کھل کر لکھ دیجیے۔ مہربانی ہو گی۔
جو خود کبیرہ گناہ کہا جا سکتا ہے
یہاں آپ نے ایک ہی فقرے میں اپنی بات کی نفی کر دی ہے یا کہ اثبات ہی کر رہے ہیں
کہ مذکورہ کیفیت
سجدہ نہیں
اس سے لاکھ اختلافات ہوں، لیکن انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
بہت خوبصورت ترجمانی کی جناب نے۔ اگر انصاف یہی ہے تو پھر دنیا میں کوئی بھی غیراللہ کو سجدہ کرنے والا مشرک نہیں ہو سکتا۔
واقعی میری بات ثابت ہورہی ہے کہ
آپ کہہ سکتے ہیں کہ انصاف کے دعویدار ہی انصاف کی قربانی کر رہے ہیں
خود طاہر القادری بھی اور ان کی پارٹی بھی اس کی یہی توجیہہ پیش کرتی ہے اور ان کی مشرک عوام بھی قدم بوسی کی نیت سے ہی سجدہ کی ہئیت اختیار کرتے ہیں۔
لیجیے آپ نے خود ہی ظاہر الپادری، اس کی پارٹی اور اس کی عوام کو مشرک لکھ دیا ہے۔
اس پر اب میرے کسی تبصرے کی ضرورت نہیں رہی۔ الحمد للہ علی ذالک
نیت کا کچھ اعتبار تو کر لینا چاہئے، جبکہ عرف میں بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہی بات درست ہے۔اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا بریلویوں کے نزدیک بھی حرام ہے۔
یہاں پر آپ نے اپنی فقاہت کی غمازی فرما دی ہے
آپ کے نزدیک
اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا صرف حرام ہے
جبکہ
میرے نزدیک
اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا شرک اکبر ہے
سجدہ کرنا والا مشرک ہے
رضامندی سے سجدہ کروانے والا طاغوت ہے

اس کے بعد آپ کی ذات پر فتوی لگانے سے فی الحال گریز کرتا ہوں
اور
گذارش کر دیتا ہوں کہ آپ نے عقیدہ توحید جس جس استاذ سے سیکھا ہے ، آپ کے ساتھ ساتھ انہیں بھی ضرورت ہے سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ جیسے نڈر اور بےباک موحد استاذ کی۔
اس کے بعد
ضرورت ہے
غیرتِ توحید کی بھی۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
یوسف ثانی صاحب!
پوسٹ ناپسند کرنے کا بھی شکریہ
بقول شاعر
لاگ ہو تو ہم سمجھیں لگاؤ
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,006
پوائنٹ
436
کرے گر غیر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھرائے بیٹا خدا کا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں


نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھا۴یں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑہائیں
شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دعائیں

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے


وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں
ہوا جلوہ گر حق زمیں و زماں میں
رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں
وہ بدلا گیا آگے ہندوستاں میں

ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں
(الطاف حسین حالی رحمہ اللہ)​
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
جی راجا صاحب
آپ کا بہت شکریہ
دیر آئے درست آئے
سردست یہ بتا دیجیے کہ اگر کوئی ’’اپنا عالم‘‘ سنگسار کرنے والا کام کرے گا تو اُسے شرعی سزا دیتے وقت کیا واقعی اس خیال رکھا جائے گا کہ یہ تو ’’اپنا عالم‘‘ ہے؟؟؟
کوئی چوری کا مرتکب ہوا ہو اور عادل گواہوں نے گواہی بھی ہو تو اُسے شرعی سزا دیتے وقت کیا واقعی اس خیال رکھا جائے گا کہ یہ تو ’’اپنا عالم‘‘ ہے؟؟؟
وغیرہ وغیرہ۔
ذرا غور کیجیے کہ میں اسلام کے حق کی بات کر رہا ہوں۔ اس کی دلیل ڈھونڈھنی ہو تو صادق المصدوق ﷺ کی زبانِ اقدس سے نکلا ہوا یہ جملہ آپ کو سمجھانے کے لئے کافی ہے۔ ولا ينفع ذا الجد منك الجد

ان کنت تقیا۔
گویا کوئی عالم آپ سے دلیل پوچھ لے تو اس کے لتے لیں گے اور اس کی عزت کا تیا پانچہ کر کے اس کے ہاتھ میں رکھ دیں گے۔ اور آپ کا یہ فعل اسوہ حسنہ سے قبول و منظور شدہ بھی ہوگا۔ خوب!
آپ سے ذرا سے اختلاف کی وجہ سے آپ نے میری عزت تو تار تار کر کے رکھ دی۔ حالانکہ میرا آپ کا توحید میں کوئی اختلاف نہیں، لیکن الزامی جوابات پر بھی آپ نے مجھے مشرکوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ یہ کیسی حکمت ہے، کون سی دانائی ہے اور اسلام کا کون سا وصف ہے؟


رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کو مکے کے اندر جتنی تکالیف دی گئیں، کیا کوئی تصور کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ‘‘عمر بن ہشام‘‘ کا نام ‘‘ابوجہل ‘‘ مکہ میں رکھا گیا تھا یا کہ مدینہ میں؟؟؟؟
‘‘عبدالعزیٗ‘‘ ابولہب اور اس کی بیوی کی بربادی کا تذکرہ مدینہ میں ہوا تھا یا کہ مکہ میں؟؟؟؟
پوری پوسٹ میں فقط یہی دلیل آپ نے ذکر کی ہے۔ تو فرما دیجئے کہ ابو جہل یا عبدالعزیٰ نام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ میں سے کس نے رکھا تھا؟اور یہ نام تھا یا کنیت؟
عرب معاشرے میں لوگ کنیت سے ہی پہچانے جاتے تھے، اگر وہ اسی کنیت سے معروف تھے، تو انہیں معروف سے ہی پکارا جانا تھا۔ ظاہر ہے۔
کیا صحابہ نے یا ان کے بعد تابعین تبع تابعین نے بھی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے مخالفین کے نام بگاڑے تھے؟ یا اس سنت کا پتہ ہی اب چلا ہے؟


آپ نے یہ بات سمجھنے میں بھی غلطی کھائی ہے
ایمان والوں کا نام بگاڑنے والے قول و فعل کو بحکم الٰہی میں بھی برا سمجھتا ہوں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرْ قَومٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

جبکہ آپ نے یہی قاعدہ کلیہ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنے والوں پر بھی فٹ کر کے اپنی فقاہت کا زبردست ثبوت فراہم کیا ہے۔
بھائی مجھے فقاہت کا کوئی دعویٰ نہیں، اخلاص کے ساتھ ایک غلطی کی نشاندہی کا قصوروار ضرور ہوں۔


جانتا تھا کہ آپ نے یہی دلیل مجھے ارشاد فرمانی ہے۔ اسی لئے میں نے آپ سے دلیل جاننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
جبکہ
آپ کی یہ دلیل یہاں پر منطبق ہوتی ہی نہیں۔
کیا آپ وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ ظاہر الپادری کے ماننے والے اُس کو معبود سمجھتے ہیں؟
اگر آپ کہتے ہیں واقعی ایسا ہے
پھر تو آپ مجھے منع کیجیے
اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو
آپ ہی اپنی بات پر دوبارہ غور فرمائیں کہ آپ نے دلیل میں پیش کیا کیا ہے؟
ارے بھائی، آپ ہی نہیں سمجھے۔ بقول آپ کے طاہر القادری طاغوت ہے کیونکہ لوگ اسے سجدہ کر رہے ہیں اور وہ اس پر خوش ہے۔ تو معبود بنانا یہی ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے؟
اب یا تو وہ اسے سجدہ نہیں کرتے اور نہ وہ معبود ہے۔ تب تو آپ کی یہ بات درست کہ کیونکہ وہ معبود نہیں، لہٰذا اسے برا بھلا کہا جا سکتا ہے۔ اور اس کا نام بگاڑا جا سکتا ہے۔ لیکن جس بنیاد پر آپ نے نام بگاڑنے کی بات کی، وہ بجائے خود غلط محض ہو جاتی ہے۔
اور اگر وہ اسے واقعتا سجدہ ہی کرتے ہیں اور قدم بوسی نہیں کرتے۔ تو یہی معبود بنانا ہوتا ہے، چاہے ان کے معتقدین کچھ ہی سمجھیں۔ اب چونکہ یہ صاحب ان کے معبود ہیں ، تو اب ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے۔

اس میں بہت سے فوائد ہیں جس سے آپ نابلد ہیں۔ اور یہ تھریڈ اس بحث کا محتمل نہیں۔
جی آپ کے اس اندا ز میں مجھ سے اور حافظ صاحب سے گفتگو کی ایک حکمت تو فوری طور پر عیاں ہو چکی ہے کہ کوئی آپ سے بات کرتے ہوئے بھی ڈرے۔ ۔ کہ عزت نفس ہر ایک کو ہی عزیز ہوتی ہے۔


یہاں پر آپ نے اپنی فقاہت کی غمازی فرما دی ہے
آپ کے نزدیک
اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا صرف حرام ہے
جبکہ
میرے نزدیک
اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا شرک اکبر ہے
سجدہ کرنا والا مشرک ہے
رضامندی سے سجدہ کروانے والا طاغوت ہے
میرے بھائی، میں نے کہا تھا کہ بریلویوں کے نزدیک قدم بوسی جائز ہے۔ اور بریلویوں کے نزدیک سجدہ حرام ہے۔ اسے آپ بالیقین مجھ سے منسوب کر کے بہت زیادتی کر رہے ہیں۔ میں نے یہ لکھا تھا:
نیت کا کچھ اعتبار تو کر لینا چاہئے، جبکہ عرف میں بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہی بات درست ہے۔اللہ کے علاوہ دوسروں کو سجدہ کرنا بریلویوں کے نزدیک بھی حرام ہے۔
میرا دعویٰ اب بھی یہی ہے کہ طاہر القادری یا کسی ایک معتبر بریلوی عالم سے یہ ثابت کر دکھائیں کہ ان کے نزدیک کسی بڑے عالم کو سجدہ کیا جا سکتا ہے۔
آخر کو قدم بوسی اور سجدہ میں کوئی فرق ہے بھی یا نہیں۔
دوسروں کو سجدہ کرنا شرک اکبر ہے، تو دوسروں کی قدم بوسی کرنا کیا ہے، اس پر کچھ ارشاد فرما دیجئے۔

اس کے بعد آپ کی ذات پر فتوی لگانے سے فی الحال گریز کرتا ہوں
جزاک اللہ خیرا۔ میں مشکور ہوں۔
 
  • پسند
Reactions: Dua
Top