• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید سے ایک، دو دن قبل فطرانہ دینا

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
135
ری ایکشن اسکور
14
پوائنٹ
28
[عید سے ایک، دو دن قبل فطرانہ دینا]

تحریر : ابو المحبوب سید انور شاہ راشدی

بسم اللہ الرحمن الرحیم


صدقۃ الفطر دینے کے دو طریقے ہیں:

ایک : آدمی ڈائریکٹ عید کے دن نماز سے پہلے مساکین کو دے دے۔
دوسرا : بیت المال میں جمع کرا دے، ایسی صورت میں عید سے ایک دو دن پہلے بیت المال میں جمع کروایا جا سکتا ہے۔ اور پھر یہ اصحاب بیت المال عید کے دن ہی مساکین کو دیں گے۔

بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ صدقہ فطر عید سے ایک دو دن پہلے ہی مسکین کے حوالے کیا جا سکتا ہے، اس کے لیے وہ دلیل کے طور پر ابن عمر کے اثر سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ صدقہ فطر ابن عمر ایک دو دن پہلے کسی مسکین کے حوالے نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ بیت المال میں جمع کراتے تھے، صحیح بخاری میں ہے کہ :

"وکان ابن عمر رضی اللہ عنہما یعطیھاالذیں یقبلونھا۔وکانوایعطون قبل الفطر بیوم اویومین".

کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ صدقہ ان کو دیتے تھے جو قبول کرتے تھے، اور وہ دیتے تھے عید الفطر سے ایک دو دن قبل "۔

ایک نسخہ میں ہے کہ امام بخاری کے یہ الفاظ ہیں : "قال ابو عبداللہ : بنی یعنی کانوابنی نافع ۔قال : بنی نافع کانوایعطون للجمع لاللفقراء".

گویا ابن عمر جن کو صدقہ فطر دیتے تھے، وہ مساکین نہیں بلکہ عاملین صدقہ ہوتے تھے، جو صدقہ فطر کو جمع کرتے تھے، صحیح ابن خزیمہ میں ایوب سے منقول ہے :

"قلت :متی کان ابن عمریعطی؟قال :اذاقعدالعامل۔قلت :متی یقعد العامل؟قال :قبل الفطر بیوم اویومین"،

"کہ میں نے کہا : ابن عمر کب صدقہ فطر دیتے تھے، اس (یعنی نافع نے ) نے کہا: جب عامل لینے بیٹھتا۔ میں نے کہا: عامل کب بیٹھتا تھا؟ اس نے کہا: عید سے ایک دو دن پہلے".


مؤطا امام مالک میں بروایت نافع ہے : ان ابن عمر کان یبعث زکاۃ الفطرالی الذی یجمع عندہ قبل الفطر یومین اور ثلاثۃ". "ابن عمر زکات الفطر عید سے دو، تین دن قبل عامل صدقہ کے پاس بھیجتے تھے".

لہذا جب یہ واضح ہے کہ ابن عمر بذات خود عید سے ایک ، دو دن قبل کسی مسکین کو اپنا صدقہ نہیں دیتے تھے، بلکہ بیت المال کے لیے وہ جمع کرا دیتے تھے، اور پھر بیت المال سے عید کے دین مساکین کو فطرانہ دیا جاتا تھا۔ تو پھر ابن عمر کے اس اثر سے مسکین کو صدقہ فطر دینے کا استدلال کیسے درست ہو سکتا ہے!

اس پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی دال ہے کہ جس میں وہ صدقہ فطر پر بطور محافظ مامور اور مقرر تھے، اور شیطان رات کو آکر چوریاں کرتا تھا"۔

بہرکیف ! عید کے دن ہی صدقہ فطر دیا جائےگا۔ البتہ جمع ضرور پہلے ہو سکتا ہے۔

بیت المال کا ایک فایدہ یہ ہے کہ مسکین کی حالت دیکھ کر اس کی مسکینی کے مطابق مدد کی جا سکتی ہے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ہر گاؤں یا شہر میں یہ سسٹم قائم کیا جائے۔
 
Top