• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید میلاد النبی منانا

شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,017
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
96
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عید میلاد النبی منانا بدعت ہے (دین میں کسی نئی عبادت کا اضافہ کرلینا ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، بدعت کہلاتا ہے اور یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ جیسے: اذان سے پہلے الصلوٰۃ و السلام پڑھنا بدعت ہے کیونکہ رسول اللہ نے ایسا نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن اذان کے بعد درود پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے اس وقت پڑھنا چاہیے)، عید میلاد النبی منانا بھی بدعت ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں 23 مرتبہ یہ دن آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی یہ دن نہیں منایا، اگر یہ دن منانا اچھا عمل یا باعث ثواب ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس دن کو مناتے۔

اسی طرح صحابہ کرام کا زمانہ جو اس امت کے بہترین لوگ ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم سے زیادہ محبت کرنے والے تھے، ان میں سے کسی نے بھی یہ دن نہیں منایا، اسی طرح تابعین اور تبع تابعین کے زمانے تک کسی نے بھی عید میلاد النبی نہیں منائی۔

صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے:
((خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ)). (صحيح البخاري، الشهادات: 2651، صحيح مسلم، فضائل الصحابة رضي الله عنهم: 2533).
’’تم میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ (صحابہ کرام) ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین)،پھر وہ لوگ جو اس کے بھی بعد آئیں گے (تبع تابعین)‘‘۔

اگر عید میلاد النبی منانا باعث ثواب، یا اچھا عمل ہوتا، تو یہ امت کے افضل ترین لوگ ضرور اسے مناتے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کئی صدیوں بعد فاطمی شیعوں نے عید میلاد النبی منانا شروع کی۔ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دین اور عبادت نہیں تھا، کیا وہ فاطمی شیعوں کے منانے سے دین بن جائے گا؟!

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا . (المائدة:3).
’’آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا‘‘۔

اس لیے جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دین تھی، وہی دین اور اسلام ہے، اس میں اضافہ کیا جا سکتا نہ کمی کی جا سکتی ہے۔


والله أعلم بالصواب.
 
Top