• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید کی مبارک باد دینا

شمولیت
جنوری 23، 2018
پیغامات
17
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
32
عید کی مبارک باد دینا

vــــــــــــــــــــــــــــــــــوقت,حکم اور طریقہ ٔ کار ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــv

بقلم?عبد السلام بن صلاح الدین مدنی

ان دنوں جملہ اسلامیان ِ عالم مسلسل ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ایامِ عید سے گزر رہے ہیں ,مباربادیوں کا لا متناہی سلسلہ ہے,کیا فیس بک کیا ٹویٹر کیا واٹس ایپ ,اور کیا انسٹگرام و ٹیلی گرام ,ہر ایک میں سلسلہ ٔ تبریک و تہنئت جاری ہے,ایسے میں کچھ طریقہ ٔکار پر پابندی لگا رہے ہیں,کہ صاحب ایسے نہیں لکھنا چاہئے,ویسا نہیں لکھنا چاہئے,کوئی اسے فتنہ بتا رہا ہے کہ صاحب جب واٹس ایپ اور فیس بک آپ کے نام سے ہے تو نام ,کنیت,لقب اور دیگر تفاصیل لکھنے کا شوق کیوں چرا یا ہوا ہے؟,کچھ لوگوں نے عید سے پہلے مبارک باد دینا جائز ہے یا نہیں؟کو موضوعِ سخن بنا رکھا ہے,کچھ دیگر حضراتِ علم و فضل نے الفاظ تہنئت کو مشق ِ قلم بنا یا ہوا ہے,اس سلسلہ میں چند گزارشات لے کر حاضر ِ خدمت ہیں

(۱)ایامِ عید چل رہے ہیں,جو مسرت و خرسندی کے ایام ہیں,اس میں جائز حد تک خوشی منانے کی اجازت اسلامی شریعت کے تعلیمات میں موجود ہے,لہذا اگر کوئی کنیت و لقب کے ساتھ مبارک باد پیش کرتا ہے تو کسی کو اعتراض کا کیا حق حاصل نہیں ہے,چاہے وہ فیس بک کے توسط سے مبارک باد پیش کرے,یا واٹس ایپ کے توسط سے یا دیگر کسی بھی وسائل ِ اعلام اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے ,بعض لوگ اس لئے بھی اپنا نام درج کردیتے ہیں کہ کچھ لوگ وہی پوسٹ اپنے نام سے کرتے ہیں,ایسے میں اگر اپنا نام و لقب و کنیت لکھ بھی دیا جاتا ہے,تو کیا مضائقہ ہوسکتا ہے,سمجھ سے بالا تر ہے؟جب شریعت نے جائز حد تک خوشی منانے کا حق دیا ہے,بلکہ جائز قرار دیا ہے تو منع کرنے کی کوئی وجہ معقول معلوم نہیں ہوتی ہے,اماں عائشہ۔رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ(عید کے دن)میرے پاس تشریف لائے ,اور میرے پاس لڑکیاں بعاث کے گانے گارہی تھیں,چنانچہ آپﷺ بستر پر لیٹ گئے اور اپنے چہرہ کو پھیر لیا,حضرت ابو بکر نے یہ دیکھا تو ڈانٹ پلائی,فرمانے لگے:شیطان کی بانسری نبی ٔ کریمﷺ کے پاس ؟چنانچہ آپﷺ متوجہ ہوئے اور فرمایا:انہیں چھوڑ دو )(بخاری حدیث نمبر۹۰۷,مسلم حدیث نمبر۸۲۹)حافظ ابن حجر ۔رحمہ اللہ ۔فرماتے ہیں :اس حدیث میں ان دونوں کو اس امر کے چھوڑدینے کی علت بیان ہوئی ہے کہ ۔۔۔۔ یہ شرعی خوشی کا دن ہے(فتح الباری ۲/۵۰۲)امام نووی باب قائم فرماتے ہیں:( بَاب الرُّخْصَةِ فِي اللَّعِبِ الَّذِي لَا مَعْصِيَةَ فِيهِ فِي أَيَّامِ الْعِيدِ)نیز حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ عید کے دنوں میں خوشی کا اظہار شعائر ِ دین میں سے ہے (فتح الباری ۲/۵۰۲)

شیخ محمد بن صالح العثیمین۔رحمہ اللہ۔ فرماتے ہیں:(اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ دین کی آسانی کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے عید کے دن جائز خوشی کو جائز قرار دیا ہے)(دیکھئے:مجموع فتاوی ابن عثیمین ۱۶/۲۷۶)

(۲)دوسرا مسئلہ الفاظ ِ تہنئت کا ہے ,اس سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ جائز الفاظ کے ذریعے مبارک بادی پیش کی جاسکتی ہے,صحابہ ٔ کرام رضوان اللہ علیہم سے ایسا کرناثابت ہے جیسا کے جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ عید کے دن جب صحابہ ٔ کرام ایک دوسرے سے ملتے تو مبارک بادی پیش فرماتے اور ((تقبل اللہ منا و منك)) کہا کرتے تھے(دیکھئے:فتح الباری ۲/۵۰۲,حافظ ابن حجر نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے)

امام مالک سے ایک بارپوچھا گیا کہ عید کے دن ایک دوسرے کو تقبل اللہ منا و منك,اور غفر اللہ لنا و لك کہنا مکروہ ہے ؟تو آں رحمہ اللہ نے فرمایا:نہیں بالکل مکروہ نہیں ہے (دیکھئے:المنتقی شرح المؤطا:۱/۳۲۲)

شیخ الإسلام ابن تیمیہ ۔رحمہ اللہ۔فرماتے ہیں:(عید کے دن جب کوئی ایک دوسرے سے ملے تو (تقبل اللہ منا و منك) جیسے الفاظ کہنا صحابہ کی ایک جماعت سے ثابت ہے ,امام احمدوغیرہ جیسے امامانِ دین نے اسے جائز قرار دیا ہے ,ہاں امام احمد ۔رحمہ اللہ۔نے اتنا ضرور فرمایا ہے کہ میں شروعات نہیں کرتا ,مگر اگر کوئی پیش رفت کرے تومیں اسے جواب ضرور دیتا ہوں (دیکھئے:مجموع الفتاوی ۲۴/۲۵۳)

معلوم ہوا کہ عید کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے (تقبل اللہ منك) جیسے الفاظ کہے جا سکتے ہیں

جو لوگ اسے غیر مشروع اور ناجائز کہتے ہیں,وہ غلطی پر ہیں,بدعت اور ناجائز نہیں کہا جا سکتا ہے۔

(۳)تیسرا مسئلہ مبارک بادپیش کرنے کے وقت کا ہے کہ عید سے پہلے مبارک باد پیش کیا جا سکتا ہے,یا عید کی نماز کے بعد پیش کی جائے گی ؟

اس سلسلہ میں فقیہ ِ وقت علامہ صالح الفوزان ۔حفظہ اللہ۔ کے ایک فتوی کا ترجمہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے فتوی کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے:

(عیدین کی مباکباد کب دینا درست ہے؟

علامہ صالح فوزان حفظہ اللہ فرماتےہیں:

نمازعیدسے قبل عیدکی مبارکبادی دیناجیساکہ آج بعض لوگ ایک دودن پہلے یاچند گھنٹہ پہلےحتی کہ نماز عیدسے پہلےہی سےدینا شروع کردیتےہیں یہ طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کسی صحابی سے ثابت نہیں ہے، بلکہ نمازعید اداکرلینے کے بعد ہی درست ہے۔

اس لیے مسلمانوں کوچاہیئےکہ سنت کولازم پکڑیں اس سے سنت زندہ ہوگی اور ، بدعت کاخاتمہ ہوگا۔

نبیٔ کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ)"میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاءکی سنت کو لازم پکڑو"

لوگو! اس پیغام کو پھیلاؤ تاکہ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کاعلم حاصل ہو۔از فتاوی الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ ۔(مترجم: سید معراج ربانی میرمحمداسماعیل مدنی۔)

کچھ حضراتِ علم و فضل نے اس فتوی کی نسبت حضرت علامہ فوزان کی طرف غلط قرار دیا ہے , حالانکہ یہ غلط کہنا خود غلط ہے,علامہ موصوف کے آفشیل پیج میں یہ فتوی موجود ہے ,اور علامہ نے جو علت بیان فرمائی ہے,وہ انتہائی معقول ہےاور مناسب بھی ,فرماتے ہیں:(اس امر پر مبارک باد کیوں کر پیش کی جاسکتی ہے ,جو ابھی ہوا ہی نہیں ,ہاں عید کے دن یا عید کے بعد ضرور پیش کیا جائے‘اسلاف ِ کرام عید کے بعد ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کیا کرتے تھے(دیکھئے: https://www.alfawzan.af.org.sa/ar/node/14072)

خاکسار کے نزدیک علامہ موصوف کا یہ فتوی وجیہ بھی ہے,معقول بھی ہے اور اقرب إلی الصواب بھی ہے,لیکن اس باب میں تشدد غیر مناسب ہے,لہذا اگر کوئی عید کے چاند کی اطلاع کے بعد بھی مبارک باد پیش کرتا ہے تو اس کی گنجائش ہے,اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے,جیسا کہ شیخ محمد بن صالح العثیمین۔رحمہ اللہ۔ فرماتے ہیں: (التهنئة بالعيد قد وقعت من بعض الصحابة ـ رضي الله عنهم ـ وعلى فرض أنها لم تقع فإنها الآن من الأمور العادية التي اعتادها الناس، يهنئ بعضهم بعضاً ببلوغ العيد واستكمال الصوم والقيام)( بعض صحابہ سے مبارک باد دینا ثابت ہے,اگر مان لیا جائے کہ ثابت نہ بھی ہو تو یہ عادات میں سے ہے جسے لوگوں نے عادت بنالیا ہے, ایسے موقعے پر انسان عید کے آنے کے مبارک باد ایک دوسرے کو دیتا ہے )(دیکھئے: مجموع فتاوی ابن عثیمین ۱۶/۲۷۶)چنانچہ آپ غور فرمائیں فقیہ عصر علامہ ابن عثیمین نے اسے عادات میں شمار فرمایا ہے۔

مملکت ِ سعودی عرب کے معروف عالم دین اور سعودی فقہ سوسائٹی بورڈکے چیئرمین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعد الخثلان۔حفظہ اللہ۔ نے بھی اسے عادات میں شمار فرمایا ہے,اور اسے جائز قر ار دیا ہے کہ جس طرح ایک انسان جس کی شادی ہونے والی ہوتی ہے,شادی سے ایک دو دن قبل مبارک باد پیش کرنے کا شروع کردیتا ہے,اسی طرح اس کا بھی معاملہ ہے (
)

اسی طرح مملکتِ سعودی عرب کے معروف و مشہور عالم اور مفتی علامہ عبد الرحمن البراک۔حفظہ اللہ۔ نے بھی عید سے پہلے مبارک باد دینے کو جائز قرار دیا ہے ‘فرماتے ہیں: (‏التهنئة بالعيد قبل صلاة العيد، الأمر فيها واسع، فلا ينبغي التشديد في ذلك، والتهنئة عادة حسنة ولا يقال إنها سنة)عید کے موقعے پر عید سے پہلے مبارک باد پیش کرنا ,اس میں گنجائش موجود ہے,اس تعلق سے سختی نہیں ہونی چاہئے ,مبارک باد پیش کرنا عادت ِ حسنہ ہے,اسے سنت نہیں کہا جا سکتا ہے(دیکھئے شیخ کا آفیشیل پیج: https://sh-albarrak.com/article/7526)

معلوم ہوا کہ اس پر بہت زیادہ لے دے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے,اگر کوئی شخص عید کی نماز سے پہلے مبارک باد دیتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے, و اللہ اعلم بالصواب
 

اٹیچمنٹس

Top