• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غصہ چھوڑو اور برداشت کرنا سیکھو

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
33
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
35
بسم اللہ الرحمن الرحیم


خوشحال زندگی جینے کا راز

غصہ چھوڑو اور برداشت کرنا سیکھو

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم۔امابعد:

برادران اسلام!

اگر ہم سماج ومعاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ معاشرے کا ہرفرد بے چینی و بے قراری میں مبتلا ہے،ہرکس وناکس کی زندگیوں میں خوشیوں سے زیادہ تکلیف اورغم وفکر کے آثار نظر آتے ہیں اورہرکوئی اپنی اس غم وفکر کا سبب کسی اور کو دے رہاہوتا ہے کہ فلاں کی وجہ سے آج میں پریشان ہوں،فلاں کی وجہ سے آج میرے اوپر یہ پریشانی آئی ہے وغیرہ وغیرہ،مگر کوئی یہ نہیں سوچتا ہے کہ آخر اس کی پریشانی غم و فکرکی وجہ صرف دوسرے ہیں ؟ کیا وہ خود اس کا ذمہ دار نہیں ہے؟آج آپ یہ بات اچھی طرح سےجان لیں اور یاد رکھ لیں کہ ہماری ہر غم وفکر اور پریشانی کے پیچھے دوسروں سے زیادہ اس میں ہمارا ہاتھ ہوتا ہے اور اس بےچینی قلق واضطراب کے ذمے دار دوسروں سے زیادہ ہم خود ہوتے ہیں!اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم خود اس کے ذمے دارکیسے بنے تواس سوال کا سب سے آسان جواب یہی ہے کہ ہم نے اپنے نبیﷺ کے اسوہ ونمونےکو اپنی زندگی میں مکمل طورپرنافذ نہیں کیا ہے،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بس دینی معاملات میں آپﷺ کو اسوہ ونمونہ بناناہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپﷺ ہماری پوری زندگی کے لئے اسوہ ونمونہ ہیں،آج ہم نے اپنے نبی ﷺ کی سیرت کو پس پشت ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے ہم ہروقت بےچین ومضطرب رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے دست وگریباں رہتے ہیں ،ذرا اپنے نبیﷺ کے کردار کو یاد کیجئے اور اپنے کردار کا جائزہ لیجئے تب آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم اپنے نبیﷺ کے قول وعمل کی کتنی مخالفت کرتے ہیں،ہم اپنے نبی ﷺ کےبتلائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ تو زندگی گذارتے ہیں اور نہ ہی اپنے معاملات کو سلجھاتے ہیں ،بات بات میں غصے میں آجانا ،چھوٹی بات کو بات کا بتنگڑ بنادینا ،معمولی نوک جھوک کو اپنی ناک کا مسئلہ سمجھ کر آپس میں الجھ جانا،ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت نہ کرنا یہی وہ سب خرابیاں ہیں جس کی وجہ سے آج ہماری زندگی میں چین وسکون نہیں ہے،بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ اگر ہماری آنکھوں کے سامنے میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کی جارہی ہو!اسلامی حدوں کو توڑا جارہا ہو!دین اسلام کا مذاق اڑایا جارہاہوں تو ہم میں سے کسی کو ذرہ برابر بھی غصہ نہیں آتا اور ہم سب سے یہ ساری چیزیں برداشت ہوجاتی ہیں مگر اسی کے برعکس اگر ہمارے مزاج کے خلاف ہمارا کوئی رشتے دار کچھ کہہ دے یا کردے تو ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں،ہماری اولاد اور ہماری بیویاں نماز نہ پڑھیں تو ہمیں ذرہ برابر بھی غصہ نہیں آتا مگر یہی اولاد وبیویاں اگرہماری بات نہ مانے تو ہمیں غصہ آجاتا ہےالغرض دین اسلام کے خلاف ہر کام کو ہم برداشت کرنے تیار ہیں اور اگر تیار نہیں ہیں تو ہم اپنے رشتے داروں ،اپنے والدین ،اپنے بڑے بھائیوں وبہنوں اور اپنے بزرگوں کی باتوں کو برداشت کرنے تیار نہیں ہیں،جب کہ برداشت کرکے عفوودرگذر سے کام لینا اور غصے میں نہ آنا نیک لوگوں کی صفت اور پہچان ہوتی ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ‘‘ اور جو لوگ غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں تو ایسے نیک لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے۔(آل عمران:134)برداشت کرنا ایک ایسی صفت ہے جو اللہ کو پسند بھی ہے جیسا کہ ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے ایک مرتبہ اَشَجْ عبدالقیس سے کہا کہ اے اشج ’’ إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ أَلْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ ‘‘ تیرے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جو اللہ کو بہت پسند ہیں ایک برداشت کرنا اور دوسری سمجھداری۔(مسلم:18،الادب المفرد:585)

میرے دینی واسلامی بھائیو اور بہنو!

شیطان نے ہم سب کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور ہمیں یہ سکھا رکھا ہے کہ جب تک ہم اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیں گے تب تک سماج ومعاشرے میں ہماری کوئی حیثیت نہیں رہے گی،شیطان نے ہمیں یہ سکھا اور بجھا رکھا ہے کہ جب تک ہم غصیلے مزاج والے نہ بن جائیں تب تک لوگ ہمیں عزت نہیں دیں گے اور نہ ہی ہم سے کوئی ڈرے گا، اور بات بات میں غصے میں آنے کو ہم بہادری سمجھتے ہیں جب کہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ بات بات میں غصے میں آجانا اور برداشت نہ کرنا بیوقوفی اور بزدلی کی دلیل ہے،عرب کے لوگ بھی برداشت نہ کرنے اور غصے میں آنے کو بہادری سمجھتے تھے مگر رہبرِکامل اور محسن انسانیت نے اعلان کیا کہ اے لوگو!سن لو! بہادر وہ نہیں جو اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو ،طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں کسی کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر اور طاقتورانسان ہے وہ ہےجو اپنے غصے کو قابو میں رکھے جیسا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ ‘‘ پہلوان ،طاقتور اور بہادر وہ انسان نہیں ہے جو اکھاڑے یعنی کشتی کے میدان میں کسی کو اٹھا کر پٹخ دے یا پھر کسی کو پچھاڑدے بلکہ اصلی پہلوان اور اصلی طاقتور تو وہ انسان ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔(بخاری:6114،مسلم:2609) اسی طرح سے ایک دوسری روایت کے اندر اس بات کا ذکر موجود ہے کہ آپﷺ کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گذرے جو پہلوانی کررہے تھے،آپﷺ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟ صحابۂ کرامؓ نے جواب دیا کہ اے اللہ نبیﷺ یہ لوگ کشتی کھیل رہے ہیں اور یہ فلاں پہلوان ہے جو ہر ایک کو پچھاڑ دیتا ہے،تب آپﷺ نے فرمایا کہ اے میرے صحابہ’’ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ ‘‘ کیا میں تمہیں ایسا شخص نہ بتاؤں جو اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور وہ شخص وہ آدمی ہے ’’ رَجُلٌ ظَلَمَهُ رَجُلٌ فَكَظَمَ غَيْظَهُ فَغَلَبَهُ وَغَلَبَ شَيَطَانَهُ وَغَلَبَ شَيْطَانَ صَاحِبِهِ ‘‘ جس پر کسی شخص نے زیادتی کی اور اس نے اپنے غصے کو پی لیا،چنانچہ ایسا انسان اس پر غالب آگیا اور اپنے شیطان پر غالب آگیا اور اپنے ساتھی کے شیطان پر بھی غالب آگیا ،گویا کہ غصہ پی جانے والے انسان نے تینوں کو پچھاڑ دیا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:3295)دیکھا اور سنا آپ نے کہ اصلی مردانگی اور بہادری کسے کہتے ہیں ،اصلی مردانگی وہ نہیں ہے جو ہم اور آپ سمجھتے ہیں بلکہ اصلی بہادری تو ہے کہ ہمارے اندر غیظ وغضب اور غصے کو قابو میں رکھنے اور برداشت کرنےکی صلاحیت وقابلیت ہو ،ذرا اپنے کردارکوسامنے رکھ کراپنے نبیﷺ کے عادات واطوار کا بھی جائزہ لیجئے کہ کیا ہمارے نبیﷺ اسی طرح سے غصے میں ہروقت رہا کرتے تھے جس طرح سے ہم او ر آپ ہر وقت غصے میں رہتے ہیں؟ہرگز نہیں ! ہرگز نہیں! ہمارے نبیﷺ تو لوگوں کےسخت رویوں اور تکلیف دہ حرکتوں پر بھی مسکرا دیا کرتے تھے جیسا کہ سیدنا انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں آپﷺ کے ساتھ جارہاتھا اور اس وقت آپﷺ نے ایک ایسی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی جس کے کنارے بہت ہی زیادہ موٹے تھے،اچانک ایک بدوپیچھے سے آیا اور اس نے آپﷺ کی چادر کو پکڑکر اتنا زور سے کھینچا کہ آپﷺ کے گردن پر نشانات پڑگئے اور پھر اس نے کہا کہ اے محمدﷺ!’’ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ ‘‘ تم اپنے صحابہ کو حکم دو کہ مال غنیمت میں سے مجھے بھی کچھ حصہ دیں،بخاری کے الفاظ ہیں ’’ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَضَحِكَ ‘‘ نبیﷺ نے پلٹ کر دیکھا اور پھر مسکرادئے اور مسکراتے ہوئے صحابہ کو حکم دیا کہ چلو اس کو مال دے دو۔(بخاری:3149،مسلم:1057)دیکھا میرے دوستو! کس طرح سے ہمارے نبیﷺ نے ایک بدو انسان کی سختی کو مسکرا کر برداشت کر لیا اسے کہتے ہیں اینٹ کا جواب پھول سے دینا ،یہ ہے ہمارے نبیﷺ کی سنت ،غصے کا جواب غصے سے دینا عقلمندی نہیں بلکہ بیوقوفی اور جہالت ہے، آئیے میں آپ کو نبیﷺ کے برداشت کرنے کی عادت وخوبی پر اور ایک واقعہ سناتا ہوں تاکہ ہماری آنکھیں کھل جائیں اور ہم سب عقل کے ناخن لیں سیدنا انس بن مالکؓ ہی راویٔ حدیث ہیں کہتے ہیں کہ آپﷺ نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ ایک قبرکے پاس بیٹھ کررو رہی ہے تو آپﷺ نے اس خاتون کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے عورت! ’’ اِتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ‘‘ اللہ سے ڈر اور صبرسے کام لے،یہ سن کر اس عورت نے کہا کہ ’’ إِلَيْكَ عَنِّي فَإِنَّكَ لَمْ تُصَبْ بِمُصِيبَتِي ‘‘ چل ہٹ مجھ سے دور ہوجا!مصیبت مجھے پہنچی ہے تجھے نہیں،ذرا غور کیجئے کہ وہ خاتون کسے کہہ رہی ہے اور کتنے سخت لب ولہجے میں جواب دے رہی ہے مگر قربان جائیے اپنے آقا ئے کریم ﷺکے اخلاق وکردار اور رویے پر کہ آپ نے خوشی بخوشی اس کےسخت رویے کو برداشت کرلیا اورآگے بڑھ گئے ،اب کسی نے اس عورت سے کہا کہ تجھے کچھ معلوم بھی ہےجونصیحت کررہے تھے وہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ تو رسول اللہ ﷺ تھے، اس عورت نے کہا کہ میں تو ان کو پہچان ہی نہ سکی، چنانچہ وہ عورت یہ سن کر سیدھے آپﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے رسولﷺ غم وغصے کی وجہ سے میں آپ کو پہچان نہ سکی اس لئے مجھے معاف کردیں ،اب میں آئندہ سے آہ وبکا نہیں کروں گی اور صبرسے کام لوں گی تب آپﷺ نے اس عورت سے فرمایا کہ ’’ الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى ‘‘ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اسی وقت سے کرنا چاہئے۔(بخاری:1283)آپ نے دیکھا میرے دوستو کہ ایک عورت نے کس طرح سے حبیب کائناتﷺ کو سخت لب ولہجے میں مخاطب کیا مگر آپ نے ان کی سختی کو بھی جھیل لیااسے کہتے ہیں برداشت کرنا اور عفوودرگذر سے کام لینا ،اسی کے برعکس اگر کوئی ہمارے مزاج کے خلاف کچھ کہہ دے تو ہم سب فورا آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور غیظ وغضب میں آکراینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ہمارے مسائل سلجھنے کے بجائے اور الجھ جاتے ہیں،یاد رکھ لیں!اگر آپ اپنی زندگی میں خوش رہنا چاہتے ہیں! پرسکون لائف اسٹائل جینا چاہتے ہیں تو پھر اس سنت کوآج سے ہی گلے لگا لیجئے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چھوڑدیجئے اور اینٹ کا جواب پھول سے دینا سیکھ لیجئے! کیونکہ برداشت ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو اپناکر ہم اور آپ خوشحال زندگی گذارسکتے ہیں۔

برادران اسلام!!

اسی غصے کی وجہ سے نہ جانے ہم نے کتنے رشتوں کو پامال کر رکھا ہے،اسی غصے کی وجہ سے نہ جانے کتنے لوگ خود کشی کرتے ہیں،اسی غصے کی وجہ سےکئی لوگ اپنے ہنستے کھیلتے زندگی کو برباد کرلیتے ہیں،اسی غصے کی وجہ سے سماج ومعاشرے میں طلاق و خلع کے واقعات رونما ہوتے ہیں،اسی غصے کی وجہ سے سماج ومعاشرے میں کسی کا قتل کیا جاتا ہے ،اسی غصہ کی وجہ سےجھوٹ وچغلی، بغض وحسد،کینہ کپٹ،گالی گلوچ،ماردھاڑ اور خون خرابہ جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں، الغرض غصہ ایک ایسی بری صفت اور آگ ہے کہ جس کے اندر بھی یہ آجائے وہ خود اس آگ کے اندر جل کر بھسم ہوجاتا ہے،یاد رکھ لو!یہ غصہ دین ودنیا دونوں جگہ کے لئے بہت ہی خطرناک اور نقصاندہ ہے،جہاں اس غصہ کی وجہ سے ایک انسان اپنی آخرت تباہ وبرباد کرلیتا ہے وہیں پر اس غصے کی وجہ سے انسان کی صحت پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے کیونکہ جب ایک انسان غصہ میں آتا ہے تو اس کی دل دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور بلیڈپریشر بھی بڑھ جاتاہے جس کی وجہ سے ایک انسان کو کئی طرح کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑسکتاہے مثلا غصے کی وجہ سے ایک انسان کو ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرناک اور موذی مرض بھی لاحق ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شریعت میں برداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے،رب العزت نے بدسلوکی کا بدلہ حسن سلوک سے اور غصے کا بدلہ نرمی سے دینے کاحکم دیتے ہوئے فرمایا کہ یاد رکھ لو! ’’ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ،وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ‘‘ نیکی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی،برائی کو بھلائی سے دور کرو( اور اگر تم ایسا کروگےتو)پھر وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہوجائے گا جیسے کی دلی دوست،اور ایسا کرنا انہیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبرکرتے ہیں اور ایسا کرنا صرف انہیں کوتوفیق ملتی ہے جو بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔(حم سجدہ:34-35)سن لیں رب کا فرمان کہ غصہ آنے پر برداشت کرنا ،عفوودرگزر سے کام لینا یہ سب کی بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے لئے جگر وکلیجہ چاہئے،آج ہمارے آپسی معاملات اتنے الجھے ہوئے کیوں ہیں؟صرف اور صرف اس وجہ سے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غصے کا جواب غصے سے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہئے ورنہ لوگ ہمیں کمزور سمجھیں گےاور اسی سوچ کی وجہ سے ہم اور آپ نقصان اٹھاتے ہیں اور غصے کا غصے سے ،اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی سوچ ایک شیطانی سوچ ہےاور یہ غصہ بھی تو شیطان کے طرف سے ہی ہوتا ہے اسی لئے آگے رب العزت نے شیطان سے اللہ کی پناہ پکڑنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‘‘ اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ طلب کرو یقینا وہ بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔(حم سجدہ:36)اور آپﷺ نے بھی غصہ آنے پر اسی بات کی تلقین کی جیسا کہ سلیمان بن صُرَدْؓ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے آپﷺ کی موجودگی میں جھگڑا کیا اور ایک شخص دوسرے شخص کو غصے کی حالت میں گالی دے رہاتھا اورغصے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ لال ہورہاتھا ،تب آپﷺ نے فرمایاکہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ فورا دور ہوجائے اور پھر آپ نے ’’ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ‘‘ پڑھا۔(بخاری:6115) پتہ یہ چلا کہ غصہ ایک مذموم شیٔ ہے جس کے اندر سوائے شر ونقصان کے اور کچھ نہیں رکھا ہےیہی وجہ ہے رہبرانسانیت بدرکامل ومنیر اپنے اصحاب کوباربار غصے سے دور رہنے کی تلقین کرتے اور یہی کہتے کہ غصے نہ کیا کرو جیسا کہ ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے نبیﷺ ’’ أَوْصِنِي ‘ ‘ مجھے آپ کوئی نصیحت کردیں تو آپ نے فرمایا کہ ’’ لاَ تَغْضَبْ ‘‘ تو غصہ نہ کیا کر ،وہ آدمی باربار یہی کہتا رہا کہ آپ مجھے نصیحت کریں اور آپﷺ باربار یہی جواب دیتے رہے کہ تو غصہ نہ کر۔(بخاری:6116)

برادران اسلام!

غصہ کی وجہ سے جہاں ایک انسان اپنی دنیا وآخرت تباہ وبرباد کرسکتاہے وہیں پر ایک انسان غصہ نہ کرنے کی وجہ سے جنت کے اندر بھی جا سکتا ہے جیسا کہ سیدنا ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے سوال کیا کہ اےاللہ کے نبیﷺ ’’ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ‘‘ مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے کہ میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں تو آپﷺ نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ لَا تَغْضَبْ وَلَكَ الْجَنَّةُ ‘‘ غصہ نہ کیا کر تمہارے لئے جنت ہے۔(صحیح الجامع للألبانیؒ:7374)میرے دوستو!غصہ نہ کرنے کی وجہ سے ایک انسان جنت میں تو جائے گا ہی لیکن اگر کسی انسان کو غصہ آتا مگر وہ اپنےغصے کو پی جاتا ہے اور اپنے غصے کو برداشت کرلیتا ہے تو ایسے انسان کو رب کی رضا وخوشنودی حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ میدان محشر میں شرف وعزت سے بھی نوازا جائے گاجیسا کہ سیدالاولین والآخرین نےفرمایا کہ ’’ وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَلَوْ شَاءَ أَنْ يُمْضِيَهُ أَمْضَاهُ مَلَأَ اللَّهُ قَلْبَهُ رَجَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‘‘ اور جو شخص اپنے غصے کو روکے گا اللہ تعالی اس کی پردہ پوشی کرے گا اور جوشخص اپنے غصے کو طاقت رکھنے کے باوجود بھی نافذ نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اللہ اس کے دل کو امیدوں اورخوشیوں سے بھردے گا۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:906)سبحان اللہ غصے کو برداشت کرنے کی کیا فضیلت ہے اور مزید طاقت رکھنے کے باوجود غصے کو پورا نہ کرنے والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا کہ جہاں اللہ ان کو خوش کردے گا وہیں پر ایسے لوگوں کو اور ایک انعام واکرام سے نوازا جائے گا جیسا کہ محبوب خدا ﷺ نے فرمایاکہ ’’ مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ ‘‘ جو شخص بھی اپنے غصےکواس وقت پی جائے جب کہ وہ اس کو نافذ کرنے پر قدرت رکھتا ہو تو اللہ ایسے شخص کو کل قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میں بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی حور عین میں سے جسے چاہو اپنے لئے پسند کرلو اور لے لو۔(ابوداؤد:4777،ابن ماجہ:4186)

میرے دوستو!

دیکھا اور سنا آپ نے کہ غصے کو پی جانے کی کتنی بڑی فضیلت ہے اسی لئے آج سے اپنے اوپر غصے کو حرام کرلو ، دنیا میں بھی چین وسکون اور خوشحال زندگی گذاروگے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجاؤگے، برداشت کرناسیکھو اور اگر برداشت کرنا سیکھ جاؤگے اوراینٹ کا جواب پھول سے دوگے تو تمہاری مدد کے لئےاللہ کی نورانی مخلوق بھی تیار ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آپﷺ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ کے نبی اکرم ومکرمﷺ ’’ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي ‘‘ میرے کچھ ایسے رشتے دار ہیں کہ میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتاہوں تو وہ لوگ مجھ سے قطع تعلقی کرتے ہیں اور ’’ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ ‘‘ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں تو وہ لوگ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ’’ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ ‘‘ میں ان کے ساتھ عفو ودرگزر کے ساتھ پیش آتا ہوں تو وہ لوگ میری ساتھ جہالت کے ساتھ پیش آتے ہیں ،یہ سن کر تب آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا قُلْتَ فَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ ‘‘ اگر تمہاری بات صحیح ہے اور معاملہ ویسا ہی ہے جیسے تم کہہ رہے ہو تو سن لوتم اپنے اس اخلاق وکردار کی وجہ سے ایسے ہو گویا کہ تم ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہے ہو اور ہاں یہ بھی یاد رکھو کہ جب تک تم اسی طرح سے اپنا اخلاق پیش کرتے رہوگے تب تک مسلسل ایک فرشتہ تمہاری مدد کرتارہے گا۔(مسلم:2558)برداشت کرنے پر کس طرح سے نورانی مخلوق کی مدد حاصل ہوتی ہے آئیے اس بارے میں ایک اور حدیث کو سنتے ہیں ،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپﷺ کی موجودگی میں کسی وجہ سےحضرت ابوبکر صدیقؓ کو برابھلا کہنا شروع کردیامگر حضرت ابوبکرصدیقؓ بالکل ہی خاموش ہیں اورآپﷺ یہ منظر دیکھ رہے ہیں اور مسکرارہے ہیں، جب وہ شخص اپنی بدکلامی میں حد سے آگے بڑھنے لگا تو حضرت ابوبکرؓ نے اس کی کچھ باتوں کا احسن طریقے سےجواب دینا شروع کردیا ،لیکن جب آپﷺ نے یہ دیکھا کہ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دینا شروع کردیا ہے تو آپ ناراض ہوکر وہاں سے چلتے بنے،جب صدیق اکبرؓ نے ایسا دیکھا تو آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ کے رسولﷺ ’’ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ ‘‘ جب وہ شخص مجھے برابھلا کہہ رہا تھا تو آپ وہاں پر بیٹھے رہے (اور ساتھ میں مسکرا بھی رہے تھے) مگر جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دینا شروع کردیا تو آپ ناراض ہوکر وہاں سے چلتے بنے !ایسا کیوں کیا آپ نے؟؟تب جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ اے ابوبکرؓ سن لو!’’ إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ‘‘ جب وہ شخص تجھے برابھلا کہہ رہا تھا تو اس وقت وہاں ایک فرشتہ موجود تھا جو تمہاری طرف سے اس کو جواب دے رہا تھا لیکن جب تم نے خود ہی جواب دینا شروع کردیا تو اب (فرشتہ وہاں سے ہٹ گیا)اور شیطان وہاں آ گیا،ایسی صورت میں وہاں پرشیطان کی موجودگی میں میرا رکنا محال تھا،پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اے ابوبکرؓسن لو!’’ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ ‘‘ تین باتیں بالکل ہی سچی اور یقینی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ ’’ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا للهِ إِلَّا أَعَزَّ اللهُ بِهَا نَصْرَهُ ‘‘ جس شخص پر بھی ظلم کیا جائے مگر پھر بھی وہ اللہ کی رضا وخوشنودی کے لئے عفو ودرگذر سے کام لے تو اللہ اس کو معزز ومکرم بنادیتا ہے، اوردوسری بات یہ ہے کہ ’’ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللهُ بِهَا كَثْرَةً ‘‘ جو شخص بھی غریبوں اور فقیروں کی مدد کرتا ہے اور دریا دلی دکھاتا ہے تو اللہ تعالی اسے اور زیادہ ہی عطا کرتا ہے، اورتیسری بات یہ ہے کہ ’’ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قِلَّةً ‘‘ جوشخص بھی مال ودولت زیادہ حاصل کرنے کے لئے بھیک مانگنے کا پیشہ اپنا لیتا ہے تو اللہ اس کے مال میں اور کمی کردیتا ہے۔(الصحیحۃ للألبانیؒ:2231، احمد:9624)

برادران اسلام !

دیکھا اور سنا آپ نے کہ عفو ودرگزر اور برداشت کرنے سے کس طرح سے نورانی مخلوق کی مدد حاصل ہوتی ہے اور ساتھ میں اللہ عزتوں سے بھی نوازتا ہے اسی لئے میرے دوستوں !غصہ کرنا چھوڑو اوربرداشت کرنا سیکھوہمیشہ خوشحال زندگی گذاروگے، لوگوں کے محبوب بھی بن جاؤگے اور اللہ بھی تمہیں پسند کرے گا جیسا کہ رب العزت نے اپنے پسندیدہ بندوں کے صفات علیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک محبوب اور جنت میں جانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو’’ وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ ‘‘ کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں۔ (الشوری:37)

اب آخر میں رب العزت سے دعا گو ہوں کہ اے الہ العالمین تو ہم سب کوبرداشت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔آمین یا رب العالمین۔



کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

امام وخطیب مرکزی مسجد اہل حدیث،فتح دروازہ۔آدونی

ناظم جامعہ ام القری للبنین والبنات۔آدونی۔کرنول۔آندھراپردیش
 
Top