• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غلامی کے دور میں آزادی

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
333
ری ایکشن اسکور
89
پوائنٹ
53
الحرية في زمن العبودية

غلامی کے دور میں آزادی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مسلمانوں کے جہاد ترک کر دینے کے نتائج میں سے ایک نتیجہ کافروں کا ان کے علاقوں پر حملہ آور ہونا اور ان پر قابض ہو جانا بھی ہے، خواہ یہ بلا واسطہ ہو خواہ اپنے چاکروں کے ذریعے بالواسطہ، اور اس عسکری یلغار کے ساتھ ساتھ خطرناک عقائدی یلغار بھی جاری و ساری ہے، جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے عقیدے میں تبدیلی و تحریف کر کے اسے دین اسلام کے سوا کچھ بھی بنا دینے کی کوشش میں ہیں، یہاں تک کہ ہمارے اپنوں میں سے ہی بہت سارے خواہشات کے پجاری فتنوں کے اس سیلاب میں بہہ گئے،

پس اب ان کے دل نہ کسی بھلائی کو بھلا جانتے ہیں نہ ہی کسی برائی کو برا مانتے ہیں سوائے اس کے کہ جو ان کی خواہشات نے ان کے اندر انڈیل دیا ہے، اب تو وہ ایسا کدال بننے کو تیار کھڑے ہیں کہ جس کے ساتھ اسلام کی بنیاد کو ڈھا دیا جائے، لہذا انہیں حقیقی دنیا، انٹرنیٹ اور اسکرینوں پر با قاعدہ مسلط کر دیا گیا؛ تا کہ وہ اپنا زہر اُگل سکیں، اپنے باطل کی طرف دعوت دیں اور مسلمانوں کو ان کے دین کے متعلق شبہات میں مبتلا کریں، اس سب کے لیے وہ کئی خوبصورت نعرے اور خوش کن آوازے بلند کیے پھرتے ہیں، جن میں سے خطرناک ترین "شخصی آزادی" ہے!

اس مزعومہ "آزادی" کے نام پر ہر کافر و فاجر کو جرات دی جاتی ہے کہ وہ اللہ تبارک و تعالی کے متعلق بکواس کرے اور اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور یوم قیامت کے متعلق زبان کھول سکے، یوں انہوں نے دین کے اصول میں سے نہ کوئی اصل چھوڑی، اور نہ اس کی فروع میں سے کوئی فرع چھوڑی، کہ جس کے متعلق انہوں نے مسلمانوں کے عقیدے میں فساد نہ مچایا ہو اور ان کے شبہات نے وہاں گند نہ ڈالا ہو،

پس اس آزادی کے دعویداروں اور پرچاریوں کے نزدیک مسلمان کے اپنے دین سے مرتد ہو جانے میں قطعاً کوئی مسئلہ نہیں کہ وہ تو اپنے عقد میں آزاد ہے! نہ فحش اعمال میں سے کچھ بھی کر گزرنے میں کوئی حرج ہے کہ وہ تو اپنے کرتوتوں میں آزاد ہے ! اگر وہ نماز، روزہ، زکوۃ اور دیگر تمام عبادات چھوڑ دے تب بھی کچھ مضائقہ نہیں جب تک وہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائے!

یہ لوگ جنہیں میڈیا "دانشور" اور چوٹی کے "عالم فاضل" بنا کر پیش کرتا ہے، اگر لوگوں کو کلی طور پر دین سے نہ بھی مرتد کریں، تو ان کی کم سے کم برائی یہ ہے کہ یہ لوگوں کے سامنے اللہ تعالی کی بنائی اس فطرت میں شکوک و شبہات کے در وا کر دیتے ہیں، وہ فطرت کہ جس پر اس نے لوگوں کو تخلیق فرمایا ہے، وہ کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کی فطرت کو شہوات، خواہشات اور نفسانیت کے ملغوبے میں لیٹے اپنے کفری شبہات کے ذریعے، ہدایت اور فضیلت کی بلندیوں سے نیچے دھکیل دیں، اور ان "آزادی یافتہ" زندیقوں کا خطرہ آج گزشتہ تمام زمانوں سے کہیں زیادہ اور شدید تر ہے،

کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے بیچ پوری طرح پھیل چکے ہیں اور اپنے پنجے گاڑ چکے ہیں، اور اس لیے بھی کہ آج ان کو کافر و مرتد حکومتوں کی طرف سے سہولتیں اور مواقع میسر کر دیے گئے ہیں۔

"شخصی آزادی" کا فاسد نظریہ جو شرعاً وعقلا ہر دو لحاظ غلط ہے اور اسلام کے بنیادوں کی ہی مخالفت کرتا ہے، اس کے پھیلاؤ سے سامنے آنے والے عظیم مفاسد میں سے چند ایک یہ ہیں: اس نے کفار کے کفر اور اللہ عز و جل کے حق میں ان کے جرم کو ہلکا کر دیا، اور دین اسلام سے ارتداد کو آسان بنا ڈالا، جب کہ اس کی سزا اللہ سبحانہ کی شریعت میں قتل ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: (من بدّل دينه فاقتلوه) جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر ڈالو۔ [بخاری]

نیز دینی غیرت کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور مسلمانوں کے اندر عقیدہ الولاء والبراء میں بگاڑ پیدا ہو گیا، اور نیکی کا حکم کرنے، اسلام کی طرف بلانے، برائی سے روکنے اور کفر سے ڈرانے والوں کے متعلق مسلمانوں کے کانوں میں یہ آوازیں پڑنے لگ گئیں کہ : "اپنے کام سے کام رکھو!" جبکہ یہ تو دونوں وحیوں (یعنی قرآن و سنت) کی واضح ترین مخالفت ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

(والَّذي نفسي بيدِه لتأمُرُنَّ بالمعروفِ ولتنهَوُنَّ عن المنكرِ أو ليوشِكَنَّ اللهُ أن يبعثَ عليكم عذابًا منه ثمَّ تدعونه فلا يستجيبُ لكم) اس ذاتِ پاک کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہوگا، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تم پر اپنے پاس سے ایسا عذاب بھیج دے کہ تم اللہ سے دعا کرتے رہو اور وہ تمہاری نہ سنے۔ [الترمذی]

نیز "آزادی اولاد" کے نام پر مسلمان گھرانوں کا شیرازہ بکھرنے لگا گیا، جس سے نتیجتاً مسلمان معاشرہ بکھرتا ہے، اس کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے اور ان کے درمیان تفریق پیدا ہو جاتی ہے۔ اور فسق و فجور، شراب، تباہ کن بےحیائیاں اس معاشرے میں پھیل گئیں، جہاں نہ امر بالمعروف گوارا کیا جاتا ہے نہ ہی نہی عن المنکر برداشت ہوتا ہے، اور یہ سب کا سب " شخصی آزادی" نامی زندیقیت کی چھتری تلے چل رہا ہے!

اور دیگر بہت سے کفری نظریات کی طرح، جن کے پرچاری کوشش کرتے ہیں کہ ان کو کسی طور شریعت کا رنگ چڑھا دیں اگرچہ وہ اس کے واضح مخالف اور اس کے اصول سے ٹکراتے ہی ہوں، سو وہ شرعی نصوص کی گردن موڑ تروڑ کر انہیں اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ یوں وہ ان اصولوں کی اپنی اور ان کے آقاؤں کی من مانی کے تابع ہو جائیں؛ لہذا ہمیں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام "شخصی آزادی" کی طرف بلاتا ہے !!

اور پھر وہ اس کے حق میں موٹی موٹی کتابیں لکھ مارتے ہیں اور اجتماعات منعقد کرتے پھرتے ہیں، اور بلاشبہ یہ سب اللہ تعالی پر کھلا جھوٹ اور بہتان ہے، اور اس کے دین میں وہ کچھ کہنا ہے جو اصلا اس میں ہے ہی نہیں۔

اور پھر یہ سب اس حد تک جا پہنچتا ہے کہ ایمان والے نفوس اس سے گھن کھانے لگتے ہیں، بس اللہ تعالی ہی سے مدد کا سوال ہے، اور اس شر کے عام ہونے کی ایک وجہ وہ شبہ بھی ہے جو یہ لوگ مسلمانوں کے درمیان "مذہبی آزادی" کے نام پر پھیلاتے ہیں،

اور اللہ تعالیٰ کے اس قول : {لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ} تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔ [الکافرون] میں تحریف کر ڈالتے ہیں جس میں کفار سے مکمل دوری اور براءت پائی جاتی ہے، اور اسی طرح وہ اس ربانی ارشاد میں بھی تحریف کرتے ہیں: {لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ} دین میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت گمراہی سے چھٹ چکی۔ [البقرہ]،

ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: "أي لا تكرهوا أحدا على الدخول في دين الإسلام فإنه بيِّنٌ واضح جلي دلائله وبراهينه لا يحتاج إلى أن يُكرَه أحد على الدخول فيه، بل من هداه الله للإسلام وشرح صدره ونور بصيرته دخل فيه على بينة، ومن أعمى الله قلبه وختم على سمعه وبصره فإنه لا يفيده الدخول في الدين مكرها مقسورا"

یعنی کسی کو بھی دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ اس کے دلائل و براہین واضح، صاف اور روشن ہیں، جن کے بعد کسی کو زبر دستی اس میں داخل کرنے کی ضرورت نہیں بچتی، بلکہ جسے اللہ ہدایت سے نواز دے، اس کا سینہ کھول دے اور اس کی بصیرت کو چمکا دے تو وہ اپنی سوچ و شعور سے اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور جس کا دل اللہ تعالی اندھا کر دے، اس کی سماعت و بصارت پر مہر لگا دے تو اسے زبر دستی اسلام میں داخل کر دینا بھی اسے فلدہ نہ دے گا۔ [التفسیر]

یا یہ ان اہل کتاب کے متعلق ہے جنہوں نے مسلمانوں کو جزیہ دینا منظور کر لیا تھا، پس ان تفاسیر میں سے کوئی بھی ان "آزادی یافتہ" زنادقہ کے پرچار کردہ نظریے سے میل نہیں کھاتی، بلکہ اس آیت سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے بھی یہ نہ سمجھا کہ لوگوں کی اور ان کے دین کی جان بخشی کر دینی چاہیے ! بلکہ انہوں نے تو یقین (یعنی موت ) آ جانے تک لوگوں سے جنگ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی،

اللہ تعالی کا فرمان ہے: {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} ان سے جنگ کرو، جو اہل کتاب میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے، نہ ہی اللہ اور اس کے رسول کے حرام کردہ کو حرام ٹھہراتے ہیں، نہ دین حق کو دین بناتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔ [التوبہ]

اسلام نے ہمیں اہل کتاب کو اختیار دینے کی آزادی دی ہے اب یا تو وہ اسلام کو چن لیں، یا ذلت کے ساتھ جزیہ کی ادائیگی کو پسند کر لیں، یا پھر ہم ان کی گردنیں کاٹیں گے اور ان کے چیتھڑے بکھیریں گے۔ اسی طرح اسلام نے ہمیں یہ بھی آزادی مرحمت فرمائی ہے کہ ہم اللہ کے دین سے مرتد ہو جانے والے کا سر قلم کر دیں تاکہ وہ دوسروں کے لیے عبرت بن جائے، پس یہ ہے اسلام میں آزادی کا تصور، اکیلے اللہ تعالی کے لیے سراپا بندگی میں ڈھل جانے کے سوا جس کا کوئی مطلب نہیں۔

اسلام میں آزادی کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کی بندگی سے آزاد ہو کر بندوں کے رب کی بندگی میں آ جانا، پس مسلمان اکیلے اللہ کا ہی بندہ ہوتا ہے، اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے، اور اس کے منع کردہ سے رک جاتا ہے، جبکہ آزادی کے یہ پرچاری تو در حقیقت اپنی خواہشات اور اپنے شیاطین کے غلام ہیں، اور اپنی خواہشات اور شہوات کے لیے ان کی یہ غلامی ہی انہیں شخصی آزادی کا راگ الاپنے اور اس کی تعظیم کے گیت گانے پر مجبور کرتی ہے؛

اور اس سب کی وجہ سے مسلمانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ " آزادی" کا چوغہ اوڑھنے والی اس شرکیہ غلامی سے جنگ کریں، جو دراصل ان کے معاشروں کے درمیان بوئے گئے کج روی کے پرانے بیجوں کا نتیجہ ہے، جنہیں دین سے باغی، مشرق و مغرب سے "آزادی پسندی"، "ترقی پسندی" اور "جمہوریت" کے نام پر افکار درآمد کرنے والے "دانشوروں" نے بویا ہے؛ تاکہ یوں وہ ان کے علاقوں پر یلغار کر سکیں اور انہیں اپنی خواہشات نفس کی پرستش میں مبتلا کر دیں، نیز مسلمانوں پر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ان نظریات کے پرچاریوں اور حمایتیوں سے بھی ملت ابراہیمی کے اُسوے کے مطابق، قولا وفعلا برأت کریں اور پھر زبان اور تلوار کی مدد سے جنگ کریں۔

مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ خود کو، اپنے اہل و عیال اور بھائی بندوں کو ان کفریہ راستوں اور نظریوں سے بچائیں، اور یاد رکھیں کہ یہ بھی جہنم کی آگ میں داخلے کا ایک سبب ہے، اللہ اس سے بچائے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ..} اے ایمان والو ! خود کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ [التحریم] ، اور بھر پور کوشش کریں کہ ان کی خواہشات شریعت حنیفہ کی تابع ہو جائیں۔

اسی طرح خصوصاً مجاہدین کو خود پر موجود اللہ تعالی کے عظیم فضل پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے انہیں ایسے وقت میں راہِ نجات کی طرف ہدایت بخشی ہے کہ جب لوگ اپنی شہوات، خواہشات اور اموال کی پرستش میں غرق ہوئے پڑے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

(تَعِس عبدُ الدينار، تعس عبدُ الدرهم، تعِس عبد الخميصة، تعس عبد الخميلة، إن أعطي رضي، وإن لم يعطَ سخط، تعس وانتكس، وإذا شيك فلا انتقش، طوبى لعبدٍ أخذٍ بعنان فرسه في سبيل الله، أشعث رأسه مغبرةٌ قدماه..)

بد بختی ہے اس کے لیے جو دینار کا بندہ بن جائے، بد بختی ہے اس کے لیے جو درہم کا بندہ بن جائے، بد بختی ہے اس کے لیے جو خوش لباسی کا بندہ بن جائے، بد بختی ہے اس کے لیے جو باغات اور کھیتیوں کا بندہ بن جائے، وہ جسے دیا جائے تو خوش رہے، اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائے، وہ بدبخت ہو اور الٹے مونہہ پلٹ جائے، اور اگر اسے کانٹا چبھے تو کبھی نہ نکلے، اور خوشخبری ہے اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے بندے کے لیے، جس کے بال بکھرے ہوئے اور قدم گرد آلود ہوتے ہیں.. [البخاری]


اس حدیث سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جہاد دنیا و آخرت کے فتنوں سے بندے کی نجات کا سبب ہے، اور اس بات کی بھی نشاندہی ہوتی ہے مجاہدین سب لوگوں سے بڑھ کر انسانیت کو مختلف ادیان کے ظلم سے نکال کر اسلام کے عدل میں لانے کے حریص ہوتے ہیں۔ پس تمام تر تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

صحيفة النبأ – العدد 359
السنة الرابعة عشرة - الخميس 10 ربيع الأول 1444 هـ
 
Top