• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیبت کی مذمت میں بیان کی جانی والی ایک حدیث کی تحق

شمولیت
مئی 31، 2017
پیغامات
21
ری ایکشن اسکور
11
پوائنٹ
36
بسم اللہ الرحمن الرحیم
[FONT=Arial, sans-serif]غیبت کی مذمت میں ایک حدیث کی تحقیق[/FONT]
تحریر : ابو نعمان محمد ارسلان الزبیری
بلا شبہ غیبت گناہ کبیرہ ہے، اس کی حرمت قرآن اور صحیح احادیث میں کئی مقامات پر مذکور ہے، اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے (سورت حجرات : 12)، یہ نحوست اور کئی اخلاقی برائیوں کو جنم دیتی ہے۔
لیکن عوام اور خواص کا ایک طبقہ اس سلسلے میں ایک حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے، ملاحظہ ہو:
سيدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِيَّاكُمْ وَالْغِيبَةَ فَإِنَّ الْغِيبَةَ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ, وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يَزْنِي, ثُمَّ يَتُوبُ فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يَغْفِرَ لَهُ صَاحِبُهُ» ۔
"غیب سے بچ جائیں، کیوں کہ غیبت زنا سے بھی بڑا جرم ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : اللہ کے رسول! بھلا غیب کا جرم زنا سے بڑا کیسے؟ فرمایا : انسان کبھی زنا کر بیٹھتا ہے، تو اللہ سے توبہ کر لیتا ہے، اللہ کریم معاف کر دیتا ہے، جب کہ غیبت کے مرتکب کو تب تک معافی نہیں ملتی، جب تک وہ شخص خود نہ معاف کر دے، جس کی اس نے غیبت کی ہے۔"
(الزهد لهناد : 2/565، ذم الغيبة لابن أبي الدنيا : 26، التوبيخ لأبي الشيخ : 171، شعب الإيمان : 6315، المعجم الأوسط للطبراني : 6590)
تبصرہ :
یہ روایت سخت ضعیف ہے؛
1۔ عباد بن کثیر الثقفی البصری سخت متروک راوی ہے۔ اسے امام بخاری، امام نسائی اور امام عجلی رحمہم اللہ نے متروک اور امام ابن معین، امام ابو حاتم رازی، امام ابو زرعہ رازی، امام دارقطنی اور امام حاکم رحمہم اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

روى أحاديث كاذبة لم يسمعها ۔
"اس نے سنے بغیر جھوٹی احادیث بیان کی ہیں۔"
اس کے بارے ادنی کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں۔
2۔ سعید بن ایاس بصری حسن الحدیث ہونے ساتھ ساتھ مختلط بھی ہیں، یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ عباد بن کثیر الثقفی نے ان سے قبل از اختلاط روایت لی ہے یا بعد از اختلاط ۔
یاد رہے کہ سند میں موجود ابو رجاء عبد اللہ بن واقد خراسانی ہیں، جو کہ ثقہ صدوق ہیں، اسے روح بن مسیب جو ضعیف ہیں، قرار دینا واضح خطا ہے، جیسا کہ امام ابن حبان رحمہ اللہ (المجروحین : 2/168) نے کہا ہے۔ ان پر نقد کرتے ہوئے امام دارقطنی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

أَبُو رَجَاء: عَبْد اللَّهِ بْن وَاقد الْهَرَوِيّ. وروح بْن الْمسيب لَا يحدث عَن الْجريرِي، وَلم يرو عَنهُ أَسْبَاط بْن مُحَمَّد. وروح بْن الْمسيب بَصرِي، يكني أَبَا رَجَاء، يعرف بالكليبي، يحدث عَن ثَابت الْبنانِيّ.
"ابو رجا سے مراد عبد اللہ بن واقد ہروی ہے۔ روح بن مسیب تو جریری سے روایت ہی نہیں کرتا اور نہ ہی اسباط بن محمد اس سے روایت کرتا ہے۔ روح بن مسیب تو بصری ہے، کنیت ابو رجا ہے اور کلبیبی سے معروف ہے۔ ثاب البنانی سے روایت کرتا ہے۔" (التعلیقات الدارقطنی علی المجروحین، ت : 256)
نوٹ :
یہی روایت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ (صحیح ابن حبان : 6316) لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
1۔ اس میں رجل مبہم ہے۔
2۔ عبد اللہ السجزی کون ہے؟ معلوم نہیں!
کئی اور علتیں بھی ہیں۔
پس ثابت ہوا کہ مذکورہ بالا روایت سخت ضعیف ہے۔ یاد رہے کہ غیبت کی مذمت میں صحیح احادیث کو چھوڑ کر ضعاف اور بے بنیاد روایات کو بیان کرنا خدمت اسلام نہیں!
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,573
ری ایکشن اسکور
6,729
پوائنٹ
1,207
اس پوسٹ کو تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات کے زمرے سے یہاں پر منتقل کر دیا گیا ہے.
 
Top