• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غیر فطری مباشرت

شمولیت
جون 01، 2017
پیغامات
61
ری ایکشن اسکور
9
پوائنٹ
20
عورت سے غیر فطری مباشرت
تحریر : غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
(Anual Sex) گناہ کی بھیانک ترین اوربدبخت صورت ہے۔ اس سے انسان کے قوائے فکری وعملی پرسخت چوٹ لگتی ہے۔اس قبیح فعل کا نتیجہ ذلت وخسران اورتباہی وبربادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے فاعل کو ہمیشہ ذلت ونامرادی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔مغضوب علیہم قوموں کے آثار ِ سیئہ اوراخلاقِ قبیحہ میں سے ایک گناہ ہم جنس پرستی ، عملِ قوم ِ لوط اورعورت سے لواطت ہے۔ فواحش ورذائل کی لسٹ میں اورطبعِ سلیم کی کراہت ونکارت کے لحاظ سے یہ گناہ بدکاری سے بڑھ کر ہے۔کفر کے بعد اس کانمبر آتا ہے۔اس کے نقصانات اوربداثرات معاشرہ پرقتل سے بڑھ کرہیں ۔
اس کا جوازپیش کرنا محض دعویٰ بلادلیل پراصرار ہے،یہ اسلام کی بے لوث اور پاکیزہ تعلیمات پر حملہ ہے ، نیز اسلامی تہذیب وتمدن کی تمام نزاکتوں کوتارتار کردینے کے مترادف ہے۔ یہ دینی وانسانی مصلحت سے عاری ایساجرم ِ عظیم ہے ، جو ایک مسلمان سے ثقاہت وتقویٰ کی دولت چھین لیتا ہے۔یہ میاں بیوی کے خوشگوار تعلقات کو نفرت وعداوت میں بدل دیتا ہے۔رشتہ ازدواج کا تقدس پامال کرتا ہے،انسانی صحت کوروگ لگادیتا ہے اورروحانیت سلب کرلیتا ہے ۔
جب کوئی عورت سے لواطت کرتاہے،اس وقت وہ عقل وفکر کے نزدیک مسلمات کو للکار رہا ہوتا ہے ۔ قرآنِ عزیز اور حدیث شریف کی پاکیزہ تعلیمات سے آشنا مسلمان سے اس بُرے فعل کا ارتکاب مشکل ہی نہیں ، ناممکن بھی ہے ۔
واضح رہے کہ جس قوم میں یہ بے ہودہ اورفحش گناہ پایا گیا، مولائے کریم نے انہیں دنیا ہی میں مرقعِ عبرت اورداستانِ موعظت بنایا ہے ۔یہ انعکاسِ فطرت پرمبنی نازیبا عمل بے راہروی اورآوارہ مزاجی کی ایسی لعین عادت ہے،جو اخلاق باختہ اورفسق وفجور میں غرقاب ، شہوات ولذات میں منہمک ، عصیان ومعاصی کے دلدل میں بری طرح پھنسے ہوئے ، بلکہ دھنسے ہوئے یورپ کے پانچ ملکوں میں قانون کا درجہ حاصل کرچکی ہے اورانسانیت کے لیے باعث ِ ننگ وعار اس قانون پر کوئی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔
تُف ہے ایسی تہذیب پر! مالکم کیف تحکمون !
شریعت ِ اسلامیہ چونکہ پاکیزہ ، صاف ستھرے ، شگفتہ اور بہار آفریں احکامات پر مبنی ہے، لہٰذا وہ انسان کو بہیمی خواہشوں، نفس پرستیوں،اعمالِ شیطانیہ اور افعالِ خبیثہ سے بچاتی ہے۔وہ ہمارے اندر نیکی کا جذبہ اوربُرائی سے اجتناب کی قوت پیدا کرتی ہے۔ وہ ہمیں ہماری خواہشوں اورتمناؤں کو حد اعتدال فراہم کرتی ہے۔ اس لیے شریعت ِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی رذالتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔حتی کہ ایک شخص اپنی حلال اورمنکوحہ بیوی کوبھی پشت سے استعمال نہیں کرسکتا،کیونکہ ایسا کرنا مقصد ِ شریعت کے خلاف ہے اورمحض حیوانی جذبہ کی تسکین ہے ۔
افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ منبر ومحراب پرسکتہ طاری ہے، روزانہ کتنے لوگ اس مذموم فعل کے مرتکب ہوکر اپنادل اور منہ کالاکرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرہ کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے کے لیے مفید افراد پیدا کرنے کے خواہاں ہیں تو انسانوں میں صالحیت اورتقویٰ پیدا کرناہوگا ۔ انسانی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہوکر آگے بڑھنا ہوگااور اس گناہ کے بھیانک نتائج سے انسانوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔ یہ لعین عادت فاعل ومفعول میں سوزاک ، جریان ، جسم میں سوزش ، نیز مفعول کے لیے لیکوریا اوربواسیر کا سبب ہے۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
بندہ ہرگز ہرگز اس کا قائل نہیں ہے لیکن علمی پیاس بجھانے کے لیے کسی روایت، کسی آیت کی درخواست کرتا ہے۔
 
شمولیت
جون 01، 2017
پیغامات
61
ری ایکشن اسکور
9
پوائنٹ
20
محترم بھائی سے گزارش کہ دلائل اور جگہوں پہ موجود ہیں، یہ تو بس ایک لمحہ فکریہ تھا یا دل کی آواز جو پیش کر دی گئی
 
Top