عبد الرشید
رکن ادارہ محدث
- شمولیت
- مارچ 02، 2011
- پیغامات
- 5,495
- ری ایکشن اسکور
- 9,996
- پوائنٹ
- 667
نام کتاب
فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ جلد اول
نام مصنف
محمد عزیر شمس
نام ناشر
دار ابی الطیب، گوجرانوالہ
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے جس طرح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خوب استعمال کیا ۔ اور باطل افکار و خیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل اور مستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب و تاب سے موجود ہیں۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم و فنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن و حدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر و قیمت کا صحیح تعین کیا اور متکلمین، فلاسفہ اور منطقیین کا خوب ردّ کیا ۔ زیر نظر کتاب ’’ فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ‘‘ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے 17 مجموعہ ہائے فتاوی و رسائل (78مجلدات) سے انتخاب ہے۔ انتخاب کا یہ فریضہ معروف محقق اور برصغیر کے نامور عالمِ دین شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے ۔یہ کام انہوں نے شیخ فلاح خالد المطیری اور مولانا عارف عارف جاوید محمدی حفظہما اللہ سے مشاورت و تجویز پر 15؍سال میں مکمل کیا ۔یہ مجموعہ پانچ جلدوں اور تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں ان کے فتاوی کی مجموعی تعداد 754 ہے جو کہ فقہی موضوعات ، شرعی احکام ،عقائد و اعمال اور معاشرے میں منتشر بدعی افکار وغیر اسلامی نظریات کی بیخ کنی جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔اللہ تعالیٰ مرتب و مترجمین اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا)
لنک کتاب جلد اول
لنک کتاب جلد دوم
لنک کتاب جلد سوم
لنک کتاب جلد چہارم
لنک کتاب جلد پنجم
فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ جلد اول
نام مصنف
محمد عزیر شمس
نام ناشر
دار ابی الطیب، گوجرانوالہ
تبصرہ
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے جس طرح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خوب استعمال کیا ۔ اور باطل افکار و خیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل اور مستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب و تاب سے موجود ہیں۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم و فنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن و حدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر و قیمت کا صحیح تعین کیا اور متکلمین، فلاسفہ اور منطقیین کا خوب ردّ کیا ۔ زیر نظر کتاب ’’ فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ‘‘ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے 17 مجموعہ ہائے فتاوی و رسائل (78مجلدات) سے انتخاب ہے۔ انتخاب کا یہ فریضہ معروف محقق اور برصغیر کے نامور عالمِ دین شیخ محمد عزیر شمس رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے ۔یہ کام انہوں نے شیخ فلاح خالد المطیری اور مولانا عارف عارف جاوید محمدی حفظہما اللہ سے مشاورت و تجویز پر 15؍سال میں مکمل کیا ۔یہ مجموعہ پانچ جلدوں اور تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔اس میں ان کے فتاوی کی مجموعی تعداد 754 ہے جو کہ فقہی موضوعات ، شرعی احکام ،عقائد و اعمال اور معاشرے میں منتشر بدعی افکار وغیر اسلامی نظریات کی بیخ کنی جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔اللہ تعالیٰ مرتب و مترجمین اور ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا)
لنک کتاب جلد اول
لنک کتاب جلد دوم
لنک کتاب جلد سوم
لنک کتاب جلد چہارم
لنک کتاب جلد پنجم
Last edited: