1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فحاشی اور آج کی لڑکی

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏مارچ 24، 2013۔

  1. ‏مارچ 24، 2013 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    فحاشی اور آج کی لڑکی

    انیتا فرید خان
    منگل, 19 مارچ 2013 20:20
    فحاشی ایک ایسی لعنت ہے جو کسی ملک میں اس وقت عام ہو جاتی جب بے حیائی عام ہو جائے، مغربی تہذیب مشرقی تہذیب سے زیادہ مقبول ہوجاتی ہے، لوگو ں میں خاص کر لڑکیوں میں آج کل جہاں دیکھو نہ صرف کراچی میں بلکہ پاکستا ن کے ہر شہر میں تقریباً 90 فیصد لڑکیاں مختلف مغربی ملبوسات میں فحاشی کو عام کرتی نظر آتی ہے، جب کہ باحیثیت مسلمان عورتوں کو ایسے ملبوسات کی اجازت نہیں۔ اسلام نے ہر فیشن کی اجازت دی ہے لیکن ایک حدود کے ساتھ ، لیکن لڑکیان جو فیشن کے نام پر ادھورے کپڑے پہن کر نکل جاتی ہیں اور نمائش کرتی نظر آتی ہیں اور جب کوئی لڑکا بری نظر سے دیکھ لے تو ہنگامہ بھی کھڑا کرتی ہیں، لیکن لڑکیوں کی اپنے جسم کی نمائش اتنی ہو گئی ہے کہ اب لڑکے خود ہی شرم کر جاتے ہیں اور اپنی نظریں نیچے کر لیتے ہیں۔ اگرمعاشرے میں بے حیائی اور اس سے متعلق مختلف جرائم بھی روکنے ہیں تو سب کو مل کے کام کرنا ہوگا۔ خاص کر لڑکیوں کو ، جنہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بھی بازاروں اور دکانوں میں ایسے فحاشی پھیلانے والے ملبوسات پر پابندی لگائے، ایک مسلم معاشرہ کی حکومت ہونے کا فرض ادا کریں۔
    ماخذ
     
  2. ‏مارچ 24، 2013 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر پاکستان کے ہر شہر سے ٩٠ فیصد لڑکیاں ۔۔۔۔۔۔۔ تو اس غلط اندازہ کے مطابق کوئی بھی گھر محفوظ نہیں رہتا، باقی ١٠ فیصد عورتیں آئیں گی اور یہ بھی اندازہ درست نہیں۔

    والسلام
     
  3. ‏مارچ 25، 2013 #3
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    وعلیکم السلام
    برادر کنعان آپ کے نزدیک ہر شہر میں کتنے فیصد لڑکیاں ہونگی ؟
     
  4. ‏مارچ 25، 2013 #4
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    یہ سوال اُصولا تو جن کی تحریر آپ نے پیش کی ہے اُن سے پوچھنا چاہتے تھا۔۔۔
    تاکہ جو اعتراض اٹھایا گیا ہے اس کو بحث برائے بحث کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔۔۔
     
  5. ‏مارچ 25، 2013 #5
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    برادر عزیز حرب بن شداد اس سے پہلے ہی اصول کےخلاف ورزی برادر کنعان کی طرف سے ہوئی ہے۔ کیونکہ جب تحریر میری نہیں تو پھر ایرر بتلاتا درست نہیں۔ اگر ایرر تھا بھی تو جہاں سےتحریر کاپی کی گئی ہے۔ وہاں ہی پیش کرتے۔ اب اگر میرے تحریر پوسٹ کرنے پر ذیل میں ہی برادر کنعان نے ایک چیز کو غلط کہہ دیا ۔ تو پھر اس پر میرا سوال بھی اصول کے خلاف نہیں۔
     
  6. ‏مارچ 25، 2013 #6
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    جزاکم اللہ خیرا۔۔۔
     
  7. ‏مارچ 25، 2013 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    محترم اب سوال نہیں میں نے جو لکھا اس پر اپنی مفید رائے سے جواب دیں اگر جواب نہ دے پائے تو پھر میں آپکو حساب کا طریقہ بھی سکھاؤں گا۔ جزاک اللہ خیر

    والسلام
     
  8. ‏مارچ 25، 2013 #8
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    فحاشی بے حیائی سے عام نہیں ہوتی بلکہ فحاشی اور بے حیائی یا بے شرمی معاشرہ کلچر تہذیب سے پھیلتی ہے جس طرح کے کلچرکا اپنایا جائے گا اسی کے اثرات منتقل ہوں گے۔
    90 فیصد
    سو میں سے نوے کم کردیں تو دس بچے گویا سارا تالاب گندہ
    فیشن اور اسلام یہ خود اٹ پٹا سا ہے اور وہ بھی ہر فیشن
    لڑکیوں کو تنہا نہیں نکلنا چاہئے ماں باپ بھائی میں سے کوئی محرم ساتھ ہو یہ ماں باپ کی غلطی ہے ماں باپ ہی اس بگاڑ کے اصل سبب ہیں
     
  9. ‏مارچ 26، 2013 #9
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,377
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    ممنوعہ لباس ٩٠ فیصد استعمال پر غلط فہمی

    السلام علیکم

    [SUP]اس کا جواب مس انیتا کی اصل ایڈورٹزمنٹ پوسٹ پر دے دیا گیا تھا جو بعد میں وہاں کسی نے ہٹا دیا کیونکہ وہ ملبوسات کی ایڈورٹزمنٹ کے لئے تھا شائد۔ اس لئے وہی جواب اب یہاں دے دیتا ہوں۔[/SUP]

    "صرف کراچی میں بلکہ پاکستا ن کے ہر شہر میں تقریباً 90 فیصد لڑکیاں مختلف مغربی ملبوسات میں فحاشی کو عام کرتی نظر آتی ہے"

    لڑکیوں پر ٩٠ فیصد اندازہ کسی بھی طرح درست نظر نہیں آتا شائد یہاں آپکو کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ھے۔ اس پر ١٠ فیصد سیف کو جس بھی اینگل سے دیکھیں تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔

    ہم اس میں سے کراچی کا انتخاب کرتے ہیں جس پر ہر شہر کو سمجھنے میں آسانی ہو گی جس پر ہم ایک مثال سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    پرسنٹیج پر مثال کے طور پر کراچی کی ٹوٹل آبادی ٢ کڑور ھے یہ ١٠٠ فیصد ہو گیا۔
    اب اس ٢ کڑور میں: مرد، عورت اور ان کے ایسٹیمیٹد ٢ بچے کر لیتے ہیں۔
    اسطرح ایوریج: ٥٠ لاکھ مرد، ٥٠ لاکھ عورتیں، ٥٠ لاکھ بیٹے (لڑکے) اور ٥٠ لاکھ بیٹیاں (لڑکیاں)

    یہاں ٥٠ لاکھ عورتیں اور ٥٠ لاکھ لڑکیوں کا مجموعہ ١ کڑور جو ١٠٠ فیصد، جس کا ٩٠ فیصد ٩٠ لاکھ اور ١٠ فیصد ١٠ لاکھ بنے گا۔
    اور اگر ٥٠ لاکھ لڑکیاں تو یہ ١٠٠ فیصد پر، جس کا ٩٠ فیصد ٤٥ لاکھ اور ١٠ فیصد ٥ لاکھ بنے گا۔

    دونوں صورت میں ٥٠ لاکھ گھر بنتے ہیں اس پر کراچی کے ہر ١ گھر چھوڑ کی اگلے ٩ گھروں میں ممنوعہ ملبوسات پہنے جاتے ہیں۔

    مجھے آپکا ٩٠ فیصد ممنوعہ ملبوسات پہننے کا اندازہ کسی بھی طرح درست معلوم نہیں ہوتا۔

    والسلام
     
  10. ‏مارچ 26، 2013 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,988
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    سورة النور 19.
    اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ اور الله جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں