• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرشتہ کا عائشہ رضی اللہ عنہاکی تصویر اٹھالانا۔

شمولیت
اکتوبر 18، 2012
پیغامات
368
ری ایکشن اسکور
1,003
پوائنٹ
97

اعتراض نمبر22:۔​

مصنف صفحات 60اور61میں لکھتا ہے کہ:
بخاری کی ایک اور جھوٹی روایت جس میں راویان حدیث کی کئی تخریب کاریاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کہ دومربتہ تو مجھے خواب میں دکھائی گئی کوئی ایک مرد ہے جو تجھے ریشمی ٹکڑے میں اٹھالایا ۔۔۔۔۔۔۔اب اس با ت کو بھی رہنے ہی دیجئے کہ کوئی مرد غیر محرم صدیقہ کی تصویر کو کس طرح اٹھالایا ؟ اگر فرشتہ ہوتا تو آپ ﷺ ضرور فرماتے کہ وہ مرد جبریل تھا ؟ اور اس کو بھی رہنے دیجئیے کہ تصویر کشی کرنے والوں پر آپ ﷺ نے لعنت کیوں فرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبی کریم ﷺ کا خواب تو یقینا وحی ہونا تھا پھر آ پ ﷺنے وحی کے اندر اگر کی قید کیوں لگائی ۔
جواب:۔

قارئین کرام نبی کریم ﷺکی احادیث کا استہزا کرنا اور احادیث کے معانی میں خیانت کرنا مصنف کا شیوہ ہے یہاںبھی اس نے من پسند استنباطات کرکے حدیث کو قابل اعتراض ٹہرانے کی کوشش کی ہے ۔ نہ معلوم کہ بوقت اعتراض مصنف باؤلے کتے کے کاٹنے سے باؤلاہوچکا تھا(ناراض نہ ہوں یہ الفاظ مصنف نے صفحہ 59پر محدثین کے حق میں استعمال کیئے ہیں ) یا پھر حدیث دشمنی نے اسے باؤلا کردیا۔
مصنف کا اعتراض کہ کوئی مردغیر محرم صدیقہ کی تصویر کو کس طرح اٹھالایا ۔ آپ ﷺ نے تصویر کشی کرنے والوں پر لعنت کیوں فرمائی اگر اللہ کی طرف سے تھی تو تصویر کشی جائز ہوتی ؟ان تمام باتوں کا اتنا جواب کافی ہے کہ یہ نبی ﷺ کا خواب تھا لیکن بددیانت باؤلا مصنف کی تشفی کے لئے مزید تحریر کئے دیتے ہیں ۔
کوئی مرد غیر محرم صدیقہ کی تصویر ۔۔۔۔۔۔اگر فرشتہ ہوتا تو آپ ﷺ ضرور فرماتے ۔۔۔۔۔الخ
قارئین کرام احادیث ایک دوسرے کی شرح کرتی ہیں اور اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں پانچ مقامات پر ذکر کیا ہے لیکن خائن مصنف نے ایک جگہ سے ٹکڑا نقل کرکے حدیث میں شک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔
صدیقہ رضی اللہ عنہا کی تصویر اٹھالانے والایقینا فرشتہ ہی تھا ۔ملاحظہ کیجئے :صحیح بخاری کتاب النکاح باب النظر الی المرأۃ قبل التزویج رقم الحدیث 5125:۔
''عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت :قال لی رسول اللہ ﷺ ۔ أریتک فی المنام یجی ء بک الملک فی سرقۃ من حریر ،فقال لی :ھذہ امرأتک فکشفت عن وجھک الثوب فاذا أنت فقلت ان یک ھذا من عنداللہ یمضہ ''۔
''عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم مجھے خواب میں دکھلائی گئی تمہیں فرشتہ ریشمی ٹکڑے میں لایا تو اس نے مجھ سے کہا یہ تمہاری بیوی ہے پس میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو تم ہی تھیں تو میں نے کہا : اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ اسے کردے گا ''۔
تو اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ لانے والا فرشتہ ہی تھا لیکن شاید ہڈدھرم مصنف کو اطمینان نہ ہوا ور وہ یہ کہے کہ دوسری روایت میں آدمی (رجل) کا لفظ کیوں آیا ہے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتہ کبھی کبھی بشر کی صورت میں بھی آیا کرتا تھا ۔
جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَأرْسَلْنَا إِلَیْْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیّاً (سورہ مریم 17/19)
''پھر ہم نے اس کے پاس (مریم علیہ السلام )اپنی روح (جبریل علیہ السلام )کو بھیجا پس وہ پورا آدمی بن کر آیا '' مزیددیکھئے صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔۔ الخ
فرشتے نے تصویر کشی نہیں کی تھی بلکہ وہ نبی کریم ﷺ کا خواب تھا اگر مان لیا جائے کہ اس سے مراد تصویر کشی ہے تو کیا خواب میں نظر آنے والی تصویریں بیدار ہونے کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں ۔ہر گز نہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے نہ اس میں نبی ﷺ کو کوئی شک تھا نہ امام بخاری رحمہ اللہ کو اس میں کوئی شک تھا ۔(لیکن خبیث مصنف کو نبی کریم ﷺ کی احادیث کے وحی ہونے میں شک ہے )نبی ﷺ کو خواب کے وحی ہونے میں کوئی شک نہیں تھا ۔ اگر کی قید اس لئے لگائی کہ تردد اس بات میں تھا کہ یہ وحی والا خواب اسی طرح سوفیصدواقع ہوگا جس طرح دیکھا ہے یا اس کی کوئی تعبیر ہے ؟ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور ان خوابوں کی دوقسمیں ہیں :
-1جس طرح خواب دیکھا ہے ہو بہو اسی طرح واقع ہوجائے ۔
-2یا ان خوابوں کی تعبیر ہے ۔
(فتح الباری مذکورہ حدیث کی شرح کے باب میں)
اور انبیاء کے خواب کی تعبیر کی کئی مثالیں ہیں جیساکہ یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ سور ج چاند اور گیارہ ستارے ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں ۔اور اس کی تعبیر طویل عرصہ بعد اس صورت میں سامنے آئی کہ ان کے والدین اور بھائی جب یوسف علیہ السلام کے دربار میں آئے تو سجدے میں گر پڑے ۔
(دیکھئے سورہ یوسف آیات100-99-4)اور اسی طرح نبی کریم ﷺ نے اپنے خواب میں دودھ کی تعبیرعلم سے کیا۔ (دیکھئے صحیح البخاری کتاب التعبیر باب اللبن رقم الحدیث 7006)
الحمد للہ حدیث اعتراض سے پاک ہے ۔
 
Top