• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرضیت صیام (روزہ) + بیمار کے لئے رخصت + رمضان کے فضائل + روزہ کا مقصد۔ تفسیر السراج۔ پارہ:2

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,004
پوائنٹ
436
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۸۳ۙ
مومنو! تم پرروزہ فرض ہوا ہے۔ جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوا تھا۔ شاید تم پرہیز گار ہوجاؤ۔۱؎(۱۸۳)
فرضیت صیام
۱؎ صیام کے لفظی معنی رکنے اور باز رہنے کے ہیں۔ اصطلاحِ قرآن میں مراد ہے روزہ رکھنا ۔ یعنی ضبط نفس کی بہترین شکل۔ اسلام سے پہلے روزہ رکھنے کا رواج کم وبیش تمام قوموں میں موجود تھا اور سب اس کی تقدیس کے قائل تھے۔ روما والے بھی روزہ رکھتے تھے اور اہل کتاب بھی۔ ہنود کی کتابوں میں بھی برت کا ثبوت ملتا ہے لیکن جس تکمیل کے ساتھ اسلام نے روزہ کا مفہوم پیش کیا ہے وہ پہلی قوموں میں نہیں ملتا۔ پہلے روزہ اور فاقہ میں کوئی فارق شے نہ تھی۔ اسلام نے بتایا کہ روزہ سے مقصود فاقہ نہیں، تزکیہ ٔ نفس ہے ۔

فرضیت صیام کا واقعہ ہجرت سے تقریبا ًدو سال بعد کا ہے اس لیے کہ اس میں ایک طرح کی روحانی ریاضت ہے اور جب تک نفوس میں اس اہم قربانی کے لیے ایک استعداد پیدا نہ ہوجاتی، اس کی تلقین بے موقع تھی۔ان آیات میں اعلان فرضیت ہے اور یہ بتایا ہے کہ روزہ قدیم روایات ودستور کی ایک مکمل صورت ہے۔ کوئی بالکل نئی چیز نہیں، تاکہ مسلمانوں کے دل میں اس کی اہمیت پیدا ہوجائے ۔
روزہ کا فلسفہ
یہ بتایا ہے کہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی روزہ تم میں تقویٰ واصلاح کی محض قوتوں کو پیدا کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے ۔ اسلامی علم الاخلاق میں تقویٰ اور روزہ کی حیثیت ایک ہے ۔ تقویٰ کے معنی تمام ممکن محاسن کا حصول اور تمام برائیوں سے احتراز۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ روزہ اخلاق وروح کی آخری معراج ہے ۔ دیکھیے تو کامل ایک ماہ تک ضبط خواہش کتنا مشکل کام ہے لیکن مسلمان صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے تیار ہوجاتا ہے ۔

خالص روحانی واصلاحی تدبر سے کھانے پینے کی بے اعتدالیوں اور بے ضابطگیوں پر ایک ناقدانہ نظر اور ان کا مکمل مداوا۔ روزہ دار اور غیر روزہ دار میں ایک محسوس اور بین فرق ہوتا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے ۔'' روزہ دار وہ ہے جو گالی گلوج سے پرہیز کرے اور اگر اسے کوئی مجبور کرے تو کہہ دے کہ میں صائم ہوں۔'' روزہ خالص اللہ کے لیے ہے،اس لیے اللہ فرماتا ہے ۔ الصوم لی وانا اجزی بہ یعنی روزہ دار بھوک پیاس کی تلخیوں کو صرف میرے لیے برداشت کرتا ہے ، اس لیے میں اسے مخصوص اجر سے نوازوں گا۔ یعنی مسلمان گرمیوں کے موسم میں جن کے ہونٹ سوکھ رہے ہوں، پیاس کی شدت بے چین کررہی ہو اور اس طاقت ووسعت میں ہو کہ برفاب کے کوزے منہ سے لگالے مگرخدا سے ڈرتا ہے اور پیاس ہی کو آب سرد سمجھ کرپی جاتا ہے اور کامل ایک ماہ تک اس ریاضت کو جاری رکھتا ہے تاکہ خدا کے لیے بھوک اور پیاس کی سختیوں کو برداشت کیاجاسکے۔ روزہ امیر اورغریب کو ایک ماہ کے لیے ایک سطح پر لے آتا ہے ۔ سب خدا کی راہ میں بھوک اور پیاس کو برداشت کرتے ہیں۔ سحری سے افطاری تک سب بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں۔ گویا روزہ مساوات انسانی کا ایک عظیم مظاہرہ ہے اور خالص تربیت ہے جس سے مقصود سال بھر کی تیاری ہے کہ روزہ دار غریبوں کی بھوک اور پیاس کا خیال رکھے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,004
پوائنٹ
436
اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ۝۰ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَہٗ فِدْيَۃٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ۝۰ۭ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَہُوَخَيْرٌ لَّہٗ۝۰ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۱۸۴
کئی روز ہیں شمار کیے ہوئے ۔پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو یا مسافر۱؎۔ وہ دوسرے دنوں میں شمار کرے اور جنھیں روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، وہ فدیہ دیں ایک فقیر کی خوراک اور جو کوئی شوق سے نیکی کرتا ہے اس کے لیے بہتر ہے اور جو تم روزہ رکھو تو تمھارے لیے اچھا ہے ، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔(۱۸۴)
بیمار کے لیے رخصت
۱؎ جو شخص بیمار ہو اور روزہ رکھنا اس کے لیے مضر ہو یا وہ مسافر ہو، اس کے لیے یہ رعایت رکھی ہے کہ وہ صحت وحضر کے دنوں میں روزہ رکھ لے اور وہ لوگ جو قطعاً روزے نہیں رکھ سکتے وہ ایک آدمی کو کھانا کھلادیں، تاکہ فرض کا احساس باقی رہے اور وہ بہرحال اس نظام صوم میں منسلک رہیں۔ اس رعایت میں حاملہ ومرضعہ عورت بھی داخل ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,004
پوائنٹ
436
شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ فَمَنْ شَہِدَ مِنْكُمُ الشَّہْرَ فَلْيَصُمْہُ۝۰ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ۝۰ۭ يُرِيْدُ اللہُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ۝۰ۡوَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۱۸۵ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۝۰ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۝۰ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّہُمْ يَرْشُدُوْنَ۝۱۸۶
رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا کہ وہ لوگوں کے لیے ہدایت اور راہِ ہدایت کی کھلی دلیلیں اورفرقان(یعنی فرق کرنے کی چیز۔ فیصلہ) ہے ۔ پھرجوکوئی تم میں سے اس مہینے کو پائے چاہیے کہ اس میں روزے رکھے اور جو مریض یا مسافر ہو، اسے دوسرے دنوں میں شمار چاہیے۔خداتم پر آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں ڈالنا چاہتا ہے اور مشکل نہیں ڈالنا چاہتا اور تاکہ تم شمار پوری کرواور اس لیے کہ اس نے تمھیں ہدایت کی ہے، خدا کی بڑائی کرو، تاکہ تم شکر گزار بنو۔۱ ؎ (۱۸۵) جب میرے بندے میری بابت تجھ سے سوال کریں تو کہہ کہ میں نزدیک ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتاہوں۔ چاہیے کہ وہ مجھے مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں ۔ شاید وہ نیک راہ پر آجائیں۔۲؎ (۱۸۶)
رمضان کے فضائل
۱؎ قرآن حکیم جو ساری دنیا کے لیے رحمت وہدایت ہے۔ جس کے تمام مضامین دلائل وبراہین پر مبنی ہیںوہ ایام رمضان ہی میں نازل ہونا شروع ہوا، اس لیے روزوں کی فضیلت اوربڑھ جاتی ہے اور اس میں باریک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ روزہ رکھنے سے قرآن حکیم کے حقائق ومعارف قلب پر زیادہ روشن ہوتے ہیں اور دل کلام الٰہی کے ذوق وشوق سے معمور ہوجاتا ہے، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن حکیم کی تلاوت ان دنوں میں کثرت سے فرماتے اور اس لیے تراویح میں قرآن شریف پڑھاجاتا ہے،تاکہ لوگ سال میں ایک ماہ بالالتزام قرآن پاک سنیں اور اپنی زندگی کو قرآن حکیم کے موافق بنائیں۔

۲؎ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دعا کے لیے یقین دلایا ہے کہ وہ سنی جاتی ہیں۔ سابق رمضان میں اس کو اس لیے ذکر فرمایا، تاکہ معلوم ہو کہ روزہ میں کثرت سے ذکر ودعا کا سلسلہ جاری رہے ۔ فرمایا کہ میں قریب ہوں اجابت وقبولیت کے لحاظ سے۔ تم مجھ پر ایمان واعتماد رکھو۔ پھردیکھو میں کس طور تمہاری التجاؤں کو شرف قبول بخشتاہوں۔
 
Top