• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فضائلِ اتحاد اوراختلافات کے خطرات

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,101
پوائنٹ
1,155
ترجمہ: شفقت الرحمن​
جناب ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 20 ذو الحجہ 1434 کو" فضائلِ اتحاد اوراختلافات کے خطرات" کے موضوع پر خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے کتاب وسنت پر اتحاد کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتلایا کہ یہی راہِ نجات ہے، پھر انہوں نے کتاب و سنت کی روشنی میں تمام مسلمانوں کو اختلافات کے بھیانک نتائج سے خبردار بھی کیا ۔
پہلا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ، جو حکمت والا اور جاننے والا ہے، توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے، وہ غالب اور جاننے والا ہے، میں اپنے رب کی تعریف اور شکر گزاری کرتے ہوئے اسی کی جانب رجوع اور گناہوں سے معافی چاہتا ہوں، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے،وہ بلند اور صاحبِ عظمت ذات ہے،اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی جناب محمد اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں ، اللہ تعالی نے انہیں ہدایت اور سچے دین کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کردے، چاہے یہ بات مشرکین کو ناگوار گزرے، یا اللہ! اپنے بندے، اور رسول محمد پر درود و سلام بھیج، آپکی آل اور تمام متقی صحابہ کرام پر بھی جوہدایت یافتہ تھے اور صراطِ مستقیم کیلئے راہنما بھی ثابت ہوئے۔
اللہ کی حمد و ثناء اور درود و سلام کے بعد!
اللہ سے ایسے ڈرو جیسے ڈرنے کا حق ہے؛ تمہارا رب ہی ہے جو ڈرنے کے لائق اوربخشنے والا ہے۔
مسلمانو!
امتِ اسلامیہ کو ابتدائی دور میں تمام لوگوں کے حق پر متحد ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے عافیت سے نوازا، انہوں نے حق پر سختی سے عمل کیا، غلبہ حق کیلئے انہوں نے جد وجہد کی، جسکی وجہ سے باطل اور بدعت سے انہیں نفرت تھی، اللہ کے ہاں ناگوار اور مکروہ اشیاء سے انہوں نے اعلانِ جنگ کیا ہوا تھا ، اس لئے کہ وہ لوگ ہمیشہ کی زندگی اچھی بنانا چاہتے تھے، اور انہیں اس فانی دنیا سے کوئی سرو کار نہیں تھا، انہیں معلوم تھا کہ اس دنیا کے پیچھے احمق ہی لگتا ہے، اور اس کو پا کر صرف تباہ حال شخص ہی خوش ہوتا ہے۔
کیا تمہیں گذشتہ لوگوں میں نصیحت آموز باتیں نہیں ملتی؟! انکی کتنی لمبی عمریں تھیں، انہیں دنیا کی ہر نعمت سے نوازا گیا، انہوں نے ہر برائی سے اپنا منہ کالا کیا، پھر اچانک رنگ برنگی دنیا ان سے چھین لی گئی، تو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہی رہ گئے، پھر جب انہوں نے اپنے اعمال پر نگاہ دوڑائی تو انہیں اپنے اعمال انتہائی گھٹیا لگے، دنیا کی ساری زندگی انہوں نے برائیوں میں گزار دی ، تو اللہ تعالی نے انہیں انکے اعمال کا بدلہ دے دیا اور اللہ تعالی کی صفت ہے کہ: وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ [الكهف: 49]
ان نسلوں میں سے بہت کم لوگوں نے اپنے لئے نیکیاں جمع کیں، تو انہوں نے الملک، القدوس اور السلام ذات کے پاس اچھا مقام پایا۔
غور کرنا! اس امت کے آخری حصہ کو کتاب و سنت سے اعراض ، اختلافِ اہداف، اور دنیا کے پیچھے لگنے کی وجہ سے آزمائشوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے اس امت کے پہلے حصے میں عافیت رکھی ہے، جبکہ آخری حصہ کو آزمائشوں سے گزرنا ہوگا، ایک فتنہ بپا ہونے کے بعد مؤمن کہے گا: یہ مجھے ہلاک کردے گا، پھر وہ فتنہ ختم ہوجائے گا، اسکے بعد ایک اور فتنہ کھڑا ہو جائے گا، تو مؤمن کہے گا: کہیں میری ہلاکت اسی میں نہ ہو!، چنانچہ جو چاہتا ہے کہ جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے تو اسے موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اور لوگوں سے ایسے پیش آئے جیسے وہ لوگوں سے پیش آنے کی امید رکھتا ہے)مسلم
سنو! ہمہ قسم کی خواہش پرستی شر ہے، اختلافات اور تفرقہ امت اسلامیہ کو دینی اور دنیاوی ہر اعتبار سے نقصان پہچاتے ہیں، جسکی وجہ سے امت کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، اتحاد و اتفاق باقی نہیں رہتا، انہیں اختلافات کی وجہ سے حقائق پوشیدہ رہ جاتے ہیں، اور سب لوگ ان سے بہرہ ور نہیں ہو پاتے، اسی لئے کبھی باطل کو حق ، اور حق کو باطل سمجھ بیٹھتے ہیں، فتنوں سے بچاؤ کیلئے بہترین حفاظتی حصار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصار ہے، پھر اختلافی مسائل کی گُتھیاں سلجھانے کیلئے اہل علم سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالی نے ہمیں اختلافات اور خواہشات سے خبردار کیا، اور فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور کئی فرقے بن گئے، ان سے آپ کو کچھ سروکار نہیں۔ [الأنعام: 159]، اور ایک جگہ فرمایا: وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ نیز تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور روشن دلائل آجانے کے بعد آپس میں اختلاف کرنے لگے۔ یہی لوگ ہیں جنہیں بہت بڑا عذاب ہوگا [آل عمران: 105]
ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے ہی بتلا دیا کہ میری امت میں فرقے ہونگے، تا کہ ہم ان فرقوں سے بچ کر رہیں، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہودی اور عیسائی اکہتّر یا بہتّر فرقوں میں تقسیم ہوئے ، میری امت تہتّرفرقوں میں تقسیم ہوگی) احمد، ابو داود، ترمذی، اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میری امت میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جنہیں خواہشات ایسے پاگل کر دیں گی جیسے باؤلے کتے کا کاٹا ہوا انسان پاگل ہوجاتا ہے، ہلکہ پن کی یہ بیماری جسم کی ہر رگ اورجوڑ میں داخل ہوجاتی ہے) احمد ، ابو داود، اور حاکم نے اسے روایت کیا ہے۔
حدیث میں مذکور"الکَلَبُ"اس بیماری کو کہتے ہیں جو انسان کو ہلکے کتے کے کاٹنے کی وجہ سے لگ جائے، اس کی وجہ سے انسان موت کا لقمہ بن جاتا ہے، جبکہ حدیث میں مذکور خواہشات بے شمار اور تا تعداد ہیں۔
نتیجہ خیز اختلافِ رائے صرف حق کی بنیاد پر پیدا ہوسکتا ہے، چنانچہ مسلمانوں کیلئے صحیح سمت کی طرف راہنمائی صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی مل سکتی ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا یہ قرآن تو وہ راستہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اور جو لوگ ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں انھیں بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ [الإسراء: 9]
جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بہترین بات ، اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین راہنمائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، جبکہ بد ترین اشیاء میں بدعات شامل ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے) مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔
اس لئے دلوں کو حق ، ہدایت، اخلاص اور سیدھے راستے پر قرآن اور سنت ہی جمع کرسکتے ہیں، اور دلوں میں شر و باطل کے متعلق نفرت حق اور اہل حق سے محبت ہی پیدا کرسکتی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اس امت کے آخری حصہ کی اصلاح اسی طرز پر ممکن ہے جس طرز پر پہلے حصہ کی اصلاح ہوئی تھی، اور جو اعمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دین نہیں تھے وہ آج دین نہیں بن سکتے "
امت اسلامیہ کبھی بھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی، اس دور میں آراء اور خواہشات کی بھر مار ہے، اختلافات بہت زیادہ ہیں، جسکی وجہ سے مسلمانوں پر برے اثرات رونما ہو رہے ہیں، اور انہی اختلافات کی وجہ سے آپس میں تعلقات ختم ہوتے جا رہے ہیں۔
تمام دعوتی عناصر امت اسلامیہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے مطابق اپنا علاج کرنے کی دعوت دیں، اور انہیں مذموم اختلاف سے بچنے کی تلقین بھی کریں، اس عظیم مقصد اور ہدف کو پانےکیلئے قرآن و سنت کو اپنا منشور بنانا ہوگا، ہمیں تفسیر کیلئے بھی متحد ہونا پڑے گا کیونکہ بہت سے اختلافات کا تعلق تفسیر سے ہے۔
اسی لئے اس امت کا پہلا حصہ قرآن و حدیث کے معانی اور مفاہیم میں جب متحد تھا تو انہیں کسی قسم کے اختلاف کا سامنا نہیں تھا ، صرف اس قدر اختلاف موجود تھا جو کہ نفرت کا باعث نہیں بلکہ محبت کا باعث بنتا ہے اور نیک عمل کرنے کی ترغیب دلاتا ہے۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی اور اسکا مفہوم پہچانے کیلئے قرآن مجید کی تفسیر بیان کی، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے: وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ قرآن اس لئے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو واضح طور پر بتا دیں کہ ان کی طرف کیا چیز نازل کی گئی ہے۔ اس لئے کہ وہ اس میں غوروفکر کریں [النحل: 44]
اسی طرح صحابہ کرام نے تابعین کو قرآن کی تفسیر سیکھائی، اور تابعین نے اپنے بعد آنے والوں کو تفسیر پڑھائی۔
عربی زبان ایک ایسا ظرف ہے جو کہ قرآن مجید کی مطابقتِ ضمنی، یا التزامی کی بنیاد پر تفسیر کرتا ہے، اس لئے ایک مسلمان کو چاہئے سلف سے منقول تفاسیر پر چلے نئی تفسیر بیان کرنے کی کوشش مت کرے ، اسی طرح حدیث کی شرح کے متعلق بھی محدثین کرام کے نقشِ قدم پر چلے۔
فرمانِ باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (102) وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اے ایمان والو! اللہ سے ایسے ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہیں آنی چاہیے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو[102] اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھراللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پاسکو۔ [آل عمران: 102، 103]
اللہ تعالی میرے لئے اور آپ سب کیلئے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس سے مستفید ہونیکی توفیق دے، ہمارے لئے سنتِ سید المرسلین اور انکی جانب سے ملنے والی ہدایات کو نفع بخش بنائے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ بزرگ و برتر سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں یقینا وہ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
دوسرا خطبہ:
تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جو بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم کرنے والا ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہی معبودِ برحق ہے، وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں، انتہائی طاقتور اور مضبوط ہے،اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جنہوں نے ہر اچھے اور نیک عمل کی دعوت دی، یا اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد پر ، آپکی آل اور تمام پرہیز گار صحابہ کرام پر درودو سلام اور برکتیں نازل فرما۔
حمدوثناء اور درود و سلام کے بعد!
اللہ تعالی سے ڈرو، اور اسی کی اطاعت کرو، اسی میں بڑی کامیابی اور بلند درجہ مقام ہے۔
اللہ کے بندو!
سنت کی اتباع کرو، بدعات سے بچو، اتباع سنت کرنے والے کو اللہ نے صراطِ مستقیم دیکھا دیا ہے، اور اسے قیامت کے دن جنت میں نیک لوگوں کے ساتھ اکٹھا کریگا، اسی بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پران کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے [التوبة: 100]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، اس لئے تم میرے اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو تھام کر رکھنا، اس پر سختی سے کاربند رہنا، اپنے آپکو نئے طریقہ کار سے بچانا ، اس لئے کہ دین میں ہر نیا طریقہ بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے)ترمذی، اور کہاکہ یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔
اللہ کے بندو!
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56] اور دوسری جانب فرمانِ رسالت ہے: (جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے)
چنانچہ سب سید الاولین و الآخرین امام المرسلین پر درود و سلام پڑھو: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد.
یا اللہ! محمد اور آپکی ازواج مطہرات، اور آل پر قیامت کے دن تک درود و سلام نازل فرما۔
اے اللہ ! تمام صحابہ سے راضی ہو جا ،تما م خلفائے راشدین ہدایت یافتہ ائمہ کرام ، ابو بکر ، عمر، عثمان اور علی اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہوجا، یا اللہ! تمام تابعین سے راضی ہوجا اور ان لوگوں سے بھی جو انکی راہ پر چلیں، اے اللہ !اپنے کرم ، احسان، اور رحمت کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا۔
یا اللہ! ہماری شرح صدر فرما، ہمارے دلوں کی راہنمائی فرمائی، یااللہ! ہمارے معاملات آسان فرما، یا اللہ! ہماری شرح صدر فرما، یااللہ! ہمارے معاملات آسان فرما۔ یا ذالجلال و الاکرام!
یا اللہ! ہم تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہمارے تمام معاملات کے نتائج بہتر فرما، اور ہمیں دنیا میں رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔
یا اللہ! ہمارے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما، یا اللہ! خلوت و جلوت میں کئے ہوئے سب گناہ معاف فرما، یا اللہ! توں ہمارے گناہوں کو ہم سے زیادہ جانتا ہے، تو ہی آگے کرنے والا ہے ، توں ہی پیچھے کرنے والا ہے ، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
یا اللہ!تمام مسلم فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! تمام مسلم فوت شدگان کی مغفرت فرما، یا اللہ! انکی قبروں کو منور فرما۔
یا اللہ! ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ! اپنے دین، کتاب، سنتِ نبوی کو غالب فرما، یا ذالجلال و الاکرام! یا اللہ! تمام مسلمانوں میں حق پر اتحاد پیدا فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! اپنے دین، کتاب، سنتِ نبوی کو غالب فرما، اور تمام مسلمانوں کو اپنے پسندیدہ منہج پر جمع فرمادے، یا ذالجلال و الاکرام! یا رب العالمین!
یا اللہ! یا ذالجلال و الاکرام! ہم تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کرتے ہیں، بیشک توں ہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا ارحم الراحمین!
یا اللہ! تمام مریضوں کو شفا نصیب فرما، یا اللہ! تمام مریضوں کو شفا نصیب فرما، یا اللہ! تمام مقروض لوگوں کے قرضے چُکا دے، یا اللہ! تمام مریضوں کو شفا نصیب فرما، یا رب العالمین، یا اللہ! ہمارے مریضوں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! جو ہم پر زیادتی کرے اسکے خلاف ہماری مدد فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ! ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق دے، اور ہمیں اپنی نافرمانی سے بچا، بے شک توں ہی نہایت رحم کرنے والا اور مہربان ہے۔
یا اللہ! ہماری مدد فرما، ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، یا اللہ! ہمیں غلبہ عنائت فرما، ہم پر کسی کو مسلط نہ کر، یا اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما، ہمارے خلاف تدبیر نہ ہو، یا رب العالمین!یا اللہ! ہم پر زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔
یا اللہ! ہمیں برے تقدیری فیصلوں سے بچا، یا اللہ! ہمیں برے تقدیری فیصلوں سے بچا، دشمنوں کے پھبتی کسنے سے بچا، بدبختی سے بچا، سخت آزمائشوں سے محفوظ رکھ، یا اللہ! لوگوں کی باتوں سے ہمیں محفوظ فرما، یا رب العالمین!
یا اللہ ہمیں اپنے ممالک میں امن وا مان نصیب فرما، یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔
یا اللہ! خادم الحرمین الشریفین کو تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما،، یا اللہ ! اپنی راہنمائی کے مطابق اسے توفیق دے، یا اللہ !اسکے تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، یا اللہ! اسے صحت عنائت فرما، یا اللہ! ولی عہد کو بھی اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عنائت فرما یا اللہ ! اسے بھی اپنی راہنمائی کے مطابق توفیق دے، یا اللہ !اسکے بھی تمام اعمال اپنی رضا کیلئے قبول فرما، اور اسے بھی صحت سے نواز، بیشک توں ہر چیز پر قادر ہے۔
یا اللہ! یا ذالجلال و الاکرام! ہمیں آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تنہا مت چھوڑ، اور ہمارے سب معاملات درست فرما دے، یا ارحم الراحمین، یا اللہ! ہمیں آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تنہا مت چھوڑ،اور ہمیں لوگوں کے رحم وکرم پر مت چھوڑ، بیشک توں ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ کے بندوں!
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (90) وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو[٩0] اور اگر تم نے اللہ سے کوئی عہد کیا ہو تو اسے پورا کرو۔ اور اپنی قسموں کو پکا کرنے کے بعد مت توڑو۔ جبکہ تم اپنے (قول و قرار) پر اللہ کو ضامن بناچکے ہوجو تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ [النحل: 90، 91]
اللہ عز و جل کا ذکر کرو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اسکی عنایت کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، اللہ ذکر بہت بڑی عبادت ہے ، اور اللہ تعالی تمہارے کاموں کو بخوبی جانتا ہے۔
لنک
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,574
ری ایکشن اسکور
6,733
پوائنٹ
1,207
جزاک اللہ خیرا
بہت خوبصورت قول ھے

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺎﻟﮏ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ: "ﺍﺱ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺼﮧ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻃﺮﺯ ﭘﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﺼﮧ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺁﺝ ﺩﯾﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﮯ "
 
Top