• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ حنفی میں نبی کو گالی دینے والےکے جان اور مال کی حفاظت

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,895
پوائنٹ
436
@محمد باقر بھائی ضرور تاویل کریں گے - اب دیکھتے ہیں کہ تاویل قرآن اور صحیح احادیث سے ہوتی ہے یا اہلحدیث کی کتب سے - ابتسامہ
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
کتنے افسوس کی بات ہے۔ ایک ذمی سے عہد کیا کہ تم کفر کرو ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ بس تم جزیہ دے دو۔ اور جب اس نے توہین رسالت کے ذریعے کفر کیا تو اسے قتل کر دیں گے۔
یا ایہا الذین آمنوا اوفو بالعقود کیا کفار کے لیے نازل ہوئی ہے؟
اور حد یہ ہے کہ قتل اس لیے کریں گے کہ دل دوسری جانب مائل ہو رہا ہے۔ ہائے افسوس! دل کے مائل ہونے پر قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دیں گے؟؟؟

دیکھتے ہیں اب جماعت "اہل حدیث" یہاں کیا کیا تاویلات کرتی ہے۔ سب کریں گے لیکن قرآن کے واضح اوفوا بالعقود کو نہیں مانیں گے۔
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,895
پوائنٹ
436
کتنے افسوس کی بات ہے۔ ایک ذمی سے عہد کیا کہ تم کفر کرو ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ بس تم جزیہ دے دو۔ اور جب اس نے توہین رسالت کے ذریعے کفر کیا تو اسے قتل کر دیں گے۔
یا ایہا الذین آمنوا اوفو بالعقود کیا کفار کے لیے نازل ہوئی ہے؟
اور حد یہ ہے کہ قتل اس لیے کریں گے کہ دل دوسری جانب مائل ہو رہا ہے۔ ہائے افسوس! دل کے مائل ہونے پر قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دیں گے؟؟؟

دیکھتے ہیں اب جماعت "اہل حدیث" یہاں کیا کیا تاویلات کرتی ہے۔ سب کریں گے لیکن قرآن کے واضح اوفوا بالعقود کو نہیں مانیں گے۔
کتاب فقہ حنفی شریف حیاتی یا مماتی پتا والوں کی اور جواب اہلحدیث والوں اور وہ بھی کشکول لے کر - ابتسامہ -

دیکھتے ہیں کہ آگے آگے @اشماریہ بھائی کیا کیا تاویلات کرتے ہیں ے اپنی فقہ کا رد کرتے ہیں یا اوپر ان کی اپنی فقہ شریف کی کتاب میں جو لکھا ہوا ہے اس کی کوئی دلیل پیش کرتے ہیں - یا بس ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
کتاب فقہ حنفی شریف حیاتی یا مماتی پتا والوں کی اور جواب اہلحدیث والوں اور وہ بھی کشکول لے کر - ابتسامہ -

دیکھتے ہیں کہ آگے آگے @اشماریہ بھائی کیا کیا تاویلات کرتے ہیں ے اپنی فقہ کا رد کرتے ہیں یا اوپر ان کی اپنی فقہ شریف کی کتاب میں جو لکھا ہوا ہے اس کی کوئی دلیل پیش کرتے ہیں - یا بس ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
افسوس!
قرآن کی آیت کے جواب میں ادھر ادھر کی باتیں مشرکین کی طرح۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
کتنے افسوس کی بات ہے۔ ایک ذمی سے عہد کیا کہ تم کفر کرو ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ بس تم جزیہ دے دو۔ اور جب اس نے توہین رسالت کے ذریعے کفر کیا تو اسے قتل کر دیں گے۔
یا ایہا الذین آمنوا اوفو بالعقود کیا کفار کے لیے نازل ہوئی ہے؟۔
اور کتنی غیرت و شرم کی بات ہے کہ اکابرین کے دفاع میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہوتو فوقیت اکابرین کو دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ایسے لوگوں پر جو شریعت کو کھلونا بنا لیں، جب چاہا جدھر چاہا، اس کا رخ موڑ لیا۔

ایک کفر ، یہ ہے کہ ذمی اپنے بت وغیرہ کی پوجا کرتا رہے، اللہ و رسول کو نہ مانے۔ اپنے گھر کی چار دیواری میں یا فقط اپنی عبادت گاہوں میں جس کو چاہے پوجے۔ ذمی کو اس کی اجازت ہی دی جاتی ہے۔کیونکہ یہ اس کا اپنا مذہب ہے۔ اسلام اس پر زبردستی نہیں کرتا۔

دوسرا کفر، یہ ہے کہ یہی عہد لیا ہوا ذمی مسلمانوں کی عزت سے کھیلے، یا امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے، یہ اس کے اپنے مذہب کے حصار سے باہر اور اسلام پر براہ راست حملہ ہے۔ اگر اس کے باوجود ذمی کے عہد کو برقرار رکھا جائے تو یہ بڑی بے غیرتی ہے اور ایسے شخص کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔

آپ جو آیت پیش کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ذمی کو اس کے اپنے کفریہ عقائد پر قائم رہنے کا جو عہد لیا گیا تھا، اسے آپ اس دوسرے قسم کے کفر پر کیونکر اپلائی کر رہے ہیں؟ یا پھر یہ تسلیم کریں کہ واقعتا حنفیوں نے اپنے دور حکومت میں ذمیوں سے عہد و پیمان لیتے وقت یہ معاہدہ کیا ہوتا تھا کہ تم پیسے دیتے رہو، پھر بے شک مسلمانوں کی عزت سے کھیلو یا ان کے نبی کو برا بھلا کہو (نعوذباللہ)، تمہارا ہمارا ساتھ رہے گا۔ ادھر پیسے نہ دئے تو اُدھر تمہارا ہمارا معاہدہ ختم۔۔۔بہت خوب بھئی بہت خوب۔

اور حد یہ ہے کہ قتل اس لیے کریں گے کہ دل دوسری جانب مائل ہو رہا ہے۔ ہائے افسوس! دل کے مائل ہونے پر قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دیں گے؟؟؟
ارے ارے یہ کیا کہہ دیا بھئی۔ قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دیں گے کا کیا مطلب؟ یہاں مرجوح پر کیوں عمل نہیں کر لیتے ظالمو؟

نبی کی عزت کی بات آئے تو ، اپنی تحقیق کے مخالف کسی اور کی بات مان لینا، قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دینا ہے۔
اور اپنے امام کی عزت کی بات آئے تو، اپنی تحقیق کے مخالف امام کی بات مان لینا، فقط مرجوح پر عمل کرنا ہے، جس کی بالکل اسلام میں اجازت ہے۔
اناللہ وانا الیہ راجعون۔

وہی بات کہ لینے دینے کا پیمانہ الگ ہے۔ نبی کے نام پر غیرت کی باتیں، علمی نہیں ہوتیں۔ اور امام کے نام پر یہی غیرت خون کھولا دیتی ہے۔ عجب محبت ہے!

اور دل کے میلان کا تذکرہ مخالف کے قول پر ہے، جس کے اپنے الگ دلائل ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک جانب قرآن کا حکم اور دوسری جانب دل کی چاہ۔ بلکہ قرآن کے حکم کی ایک توضیح کے بالمقابل ، وہ دوسری توضیح جس کا مخالف قائل ہے اور جس کی جانب دل بھی مائل ہے۔ اس سب کو چھوڑ دینا، جبکہ ایمانی غیرت کا تقاضا بھی یہی ہو، دلائل بھی مخالف ہی کے قوی ہوں، اور تحقیق کے مخالف، مرجوح پر عمل بھی آپ کے نزدیک جائز ہو، پھر کس بنا پر ذمی کو توہین رسالت کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے؟؟

دیکھتے ہیں اب جماعت "اہل حدیث" یہاں کیا کیا تاویلات کرتی ہے۔ سب کریں گے لیکن قرآن کے واضح اوفوا بالعقود کو نہیں مانیں گے۔
تاویلات کی ٹھیکہ داری ہمیشہ سے اہل الرائے کے پاس ہی رہی ہے۔ آپ ہی کو مبارک ہو۔ ہم تو قرآن کے حکم پر آمنا و صدقنا کہتے ہیں۔ ذمی سے توہین رسالت کا عہد کرتے ہی نہیں کہ اسے توڑنے کی نوبت پیش آئے۔ اور قرآن کا حکم کہ :
”اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا ( تکلیف) پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کر دی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب بھی تیار کر دیا ہے۔ “
الاحزاب : 58
اور کچھ آیات کے بعد یہ سزا:

”ان پر ہر جانب سے لعنتیں برسیں گی یہ جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل ہو کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔“ (الاحزاب : 61)

اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا اسوہ کہ ایسے ملعونوں کو جو شان رسالت میں کوئی گستاخی کریں، ان کے سر تن سے جدا کر دئے جائیں۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کہ:

”کون ہے جو کعب بن اشرف یہودی سے نبٹے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ” ایذا“ دی ہے۔“ (بخاری)

سوال یہ ہے کہ ذمی توہین کرے تو کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا نہیں ہے؟
بلکہ علماء تو اس پر متفق ہیں کہ توہین رسالت کرنے والے کی نیت کو بھی نہیں دیکھا جائے گا۔ اور نہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی کہ دوسروں کو اس سے شہ نہ ملے بلکہ عبرت کا نمونہ بنایا جائے گا۔
اور آپ ہیں کہ ایک ایسی ناجائز بات کا دفاع کر رہے ہیں، جس میں کسی مسلمان کی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔

اور اب وہ خاص آیت بھی ملاحظہ فرما لیں جس میں ایسے عہد کا تذکرہ بھی موجود ہے کہ جس کوئی حیثیت نہیں۔۔!

”اور اگر وہ اپنے عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں توہین اور طعن و تشنیع کریں تو کفر کے لیڈروں سے لڑائی کرو، ان کے عہد کی کوئی حیثیت نہیں تاکہ یہ (توہین آمیزیوں سے) باز آ جائیں۔“ (التوبہ: 12)
 
Last edited:

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
یقین نہیں آتا تھا کہ اکابر کے دفاع کیلئے کوئی مسلمان یہاں تک بھی جا سکتا ہے؟!!

لیکن اشماریہ صاحب اور ان کے پیش رووں کو دیکھ کر آگیا ہے!!
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اور کتنی غیرت و شرم کی بات ہے کہ اکابرین کے دفاع میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہوتو فوقیت اکابرین کو دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ایسے لوگوں پر جو شریعت کو کھلونا بنا لیں، جب چاہا جدھر چاہا، اس کا رخ موڑ لیا۔

ایک کفر ، یہ ہے کہ ذمی اپنے بت وغیرہ کی پوجا کرتا رہے، اللہ و رسول کو نہ مانے۔ اپنے گھر کی چار دیواری میں یا فقط اپنی عبادت گاہوں میں جس کو چاہے پوجے۔ ذمی کو اس کی اجازت ہی دی جاتی ہے۔کیونکہ یہ اس کا اپنا مذہب ہے۔ اسلام اس پر زبردستی نہیں کرتا۔

دوسرا کفر، یہ ہے کہ یہی عہد لیا ہوا ذمی مسلمانوں کی عزت سے کھیلے، یا امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے، یہ اس کے اپنے مذہب کے حصار سے باہر اور اسلام پر براہ راست حملہ ہے۔ اگر اس کے باوجود ذمی کے عہد کو برقرار رکھا جائے تو یہ بڑی بے غیرتی ہے اور ایسے شخص کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔

آپ جو آیت پیش کر رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ذمی کو اس کے اپنے کفریہ عقائد پر قائم رہنے کا جو عہد لیا گیا تھا، اسے آپ اس دوسرے قسم کے کفر پر کیونکر اپلائی کر رہے ہیں؟ یا پھر یہ تسلیم کریں کہ واقعتا حنفیوں نے اپنے دور حکومت میں ذمیوں سے عہد و پیمان لیتے وقت یہ معاہدہ کیا ہوتا تھا کہ تم پیسے دیتے رہو، پھر بے شک مسلمانوں کی عزت سے کھیلو یا ان کے نبی کو برا بھلا کہو (نعوذباللہ)، تمہارا ہمارا ساتھ رہے گا۔ ادھر پیسے نہ دئے تو اُدھر تمہارا ہمارا معاہدہ ختم۔۔۔بہت خوب بھئی بہت خوب۔


ارے ارے یہ کیا کہہ دیا بھئی۔ قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دیں گے کا کیا مطلب؟ یہاں مرجوح پر کیوں عمل نہیں کر لیتے ظالمو؟

نبی کی عزت کی بات آئے تو ، اپنی تحقیق کے مخالف کسی اور کی بات مان لینا، قرآن کے حکم کو پیچھے ڈال دینا ہے۔
اور اپنے امام کی عزت کی بات آئے تو، اپنی تحقیق کے مخالف امام کی بات مان لینا، فقط مرجوح پر عمل کرنا ہے، جس کی بالکل اسلام میں اجازت ہے۔
اناللہ وانا الیہ راجعون۔

وہی بات کہ لینے دینے کا پیمانہ الگ ہے۔ نبی کے نام پر غیرت کی باتیں، علمی نہیں ہوتیں۔ اور امام کے نام پر یہی غیرت خون کھولا دیتی ہے۔ عجب محبت ہے!

اور دل کے میلان کا تذکرہ مخالف کے قول پر ہے، جس کے اپنے الگ دلائل ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک جانب قرآن کا حکم اور دوسری جانب دل کی چاہ۔ بلکہ قرآن کے حکم کی ایک توضیح کے بالمقابل ، وہ دوسری توضیح جس کا مخالف قائل ہے اور جس کی جانب دل بھی مائل ہے۔ اس سب کو چھوڑ دینا، جبکہ ایمانی غیرت کا تقاضا بھی یہی ہو، دلائل بھی مخالف ہی کے قوی ہوں، اور تحقیق کے مخالف، مرجوح پر عمل بھی آپ کے نزدیک جائز ہو، پھر کس بنا پر ذمی کو توہین رسالت کے لئے آزاد چھوڑ دیا جائے؟؟


تاویلات کی ٹھیکہ داری ہمیشہ سے اہل الرائے کے پاس ہی رہی ہے۔ آپ ہی کو مبارک ہو۔ ہم تو قرآن کے حکم پر آمنا و صدقنا کہتے ہیں۔ ذمی سے توہین رسالت کا عہد کرتے ہی نہیں کہ اسے توڑنے کی نوبت پیش آئے۔ اور قرآن کا حکم کہ :
”اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا ( تکلیف) پہنچاتے ہیں، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کر دی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب بھی تیار کر دیا ہے۔ “
الاحزاب : 58
اور کچھ آیات کے بعد یہ سزا:

”ان پر ہر جانب سے لعنتیں برسیں گی یہ جہاں ملیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل ہو کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔“ (الاحزاب : 61)

اور پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا اسوہ کہ ایسے ملعونوں کو جو شان رسالت میں کوئی گستاخی کریں، ان کے سر تن سے جدا کر دئے جائیں۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کہ:

”کون ہے جو کعب بن اشرف یہودی سے نبٹے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ” ایذا“ دی ہے۔“ (بخاری)

سوال یہ ہے کہ ذمی توہین کرے تو کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا نہیں ہے؟
بلکہ علماء تو اس پر متفق ہیں کہ توہین رسالت کرنے والے کی نیت کو بھی نہیں دیکھا جائے گا۔ اور نہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی کہ دوسروں کو اس سے شہ نہ ملے بلکہ عبرت کا نمونہ بنایا جائے گا۔
اور آپ ہیں کہ ایک ایسی ناجائز بات کا دفاع کر رہے ہیں، جس میں کسی مسلمان کی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔

اور اب وہ خاص آیت بھی ملاحظہ فرما لیں جس میں ایسے عہد کا تذکرہ بھی موجود ہے کہ جس کوئی حیثیت نہیں۔۔!

”اور اگر وہ اپنے عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمھارے دین میں توہین اور طعن و تشنیع کریں تو کفر کے لیڈروں سے لڑائی کرو، ان کے عہد کی کوئی حیثیت نہیں تاکہ یہ (توہین آمیزیوں سے) باز آ جائیں۔“ (التوبہ: 12)
باقی ساری پوسٹ تو غیر متعلق اور بلا دلیل ہے۔ ظاہر ہے قرآن کی آیت کے مقابلے میں آپ نے بلا دلیل تاویلات باطلہ تو کرنی ہی ہیں کیوں کہ آپ تو "اہل حدیث" ہیں "اہل قرآن" تو نہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ ان سے کفر کے باوجود جان مال کی حفاظت کا معاہدہ ہے اور توہین رسالت کفر ہے لیکن یہاں الٹا چلیں گے۔ خیر آپ تو "اہل حدیث" ہیں۔ دلیل میں وہ آیات بھی پیش کر سکتے ہیں جن میں اللہ کی طرف سے عذاب کا ذکر ہے۔ کہیں آپ نے خود کو خدا تو نہیں سمجھ لیا؟؟
اس بات کا استثنا ثابت کیجیے کہ ذمی کے عہد میں باقی تمام کفر تو موجود ہیں لیکن توہین رسالت کا کفر نہیں۔

جو حدیث آپ نے پیش کی ہے اس میں کعب بن اشرف کا ذمی ہونا ثابت کریں اور یہ بھی کہ ایذا معاہدہ توڑنے والی (یعنی فساد وغیرہ) نہیں تھی۔

جو آیت آپ نے پیش کی ہے اس میں پہلے نکثوا ایمانہم سے معاہدہ توڑنے کا ذکر ہے۔ مجاہد کہتے ہیں:۔
أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ} [التوبة: 12] يَعْنِي: «عَهْدَهُمْ»
تفسیر مجاہد

طبری کہتے ہیں:۔
قال أبو جعفر: يقول تعالى ذكره: فإن نقض هؤلاء المشركون الذين عاهدتموهم من قريش، عهودهم من بعد ما عاقدوكم أن لا يقاتلوكم ولا يظاهروا عليكم أحدا من أعدائكم
تفسیر طبری

جصاص کہتے ہیں:۔
فيه دلالة على أن أهل العهد متى خالفوا شيئا مما عوهدوا عليه وطعنوا في ديننا فقد نقضوا العهد
احکام القرآن

بیضاوی نے تو مطلب ہی یہ بتایا ہے کہ ایمان اور وفاء عہد کی بیعت توڑیں:۔
وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وإن نكثوا ما بايعوا عليه من الإِيمان أو الوفاء بالعهود.
ذمی انہوں نے مراد ہی نہیں لیے۔

ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس مقام سے قتل شاتم رسول پر استدلال کیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے وہ بھی نقض عہد کی تفسیر کرتے ہیں:۔
يقول تعالى: وإن نكث هؤلاء المشركون الذين عاهدتموهم على مدة معينة أيمانهم، أي: عهودهم ومواثيقهم

سیوطی نے در منثور میں ابن عباس رض سے روایت کی ہے:۔
وَأخرج ابْن أبي حَاتِم وَابْن مرْدَوَيْه عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا فِي قَوْله {وَإِن نكثوا أَيْمَانهم من بعد عَهدهم} يَقُول الله لنَبيه صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: وَإِن نكثوا الْعَهْد الَّذِي بَيْنك وَبينهمْ فقاتلوهم انهم أَئِمَّة الْكفْر

ائمۃ الکفر کی تفسیر اکثر نے ابو سفیان، امیہ بن خلف، ابو جہل وغیرہ سے کی ہے۔ یہ لوگ کب ذمی بنے تھے؟؟؟ لہذا ثابت کیجیے کہ یہ آیت ذمیوں کے بارے میں ہی ہے۔
نکث عہد کے بعد ذمی کب ذمی رہتا ہے؟؟ وہ تو حربی ہوجاتا ہے۔ ثابت کیجیے کہ ذمی نقض عہد کے بعد بھی ذمی رہتا ہے تا کہ اگلی بات اس کے ذمی ہونے کی حالت میں لاگو ہو سکے۔

ائمہ احناف کا یہ مسئلہ تب ہے جب ان سے یہ معاہدہ نہ کیا ہو کہ توہین وغیرہ کی صورت میں معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
اس صورت کے بغیر توہین کا استثنا معاہدہ سے ثابت کیجیے اور ثابت تو آپ کریں گے قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے۔ اپنی عقل سے نہیں۔
اوپر آپ نے اپنی عقل لڑانے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس سے صرف صفحہ خراب ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔


یقین نہیں آتا تھا کہ اکابر کے دفاع کیلئے کوئی مسلمان یہاں تک بھی جا سکتا ہے؟!!

لیکن اشماریہ صاحب اور ان کے پیش رووں کو دیکھ کر آگیا ہے!!
اوپر تو آزادانہ بحث و تحقیق کا حامی فورم لکھا ہوا ہے۔ نیچے منتظم اعلی صاحب ہمتیں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟؟؟
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس مقام سے قتل شاتم رسول پر استدلال کیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے وہ بھی نقض عہد کی تفسیر کرتے ہیں:۔
يقول تعالى: وإن نكث هؤلاء المشركون الذين عاهدتموهم على مدة معينة أيمانهم، أي: عهودهم ومواثيقهم
نبی کریمﷺ پر سب وشتم سے نقضِ عہد ہوجاتا ہے۔ یہی امام ابن کثیر فرما رہے ہیں۔

ایسے بد بخت لوگوں کے عہد کی کوئی اہمیت نہیں:
إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ١٢

نیز یہ بتائیے کہ کیا نبی کریمﷺ پر سب وشتم کرنا دین میں طعن نہیں؟؟! دین اسلام میں طعن وتشنیع سے بھی ذمی کا عہد ختم ہوجاتا ہے:
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ﴿١٢﴾ ۔۔۔ سورة التوبة

دین اسلام پر اس سے بڑا طعن کیا ہو سکتا ہے کہ نبی اسلام کو گالی دی جائے؟! لیکن یہ بات ان لوگوں کیلئے ہے جو نبی کریمﷺ کو یہ حیثیت دیں۔ جن لوگوں کے نزدیک ان اکابرین کی یہ حیثیت ہو کہ ان کا دفاع کرتے کرتے اللہ ورسول کی توہین وگستاخی ہو جائے کوئی فرق نہیں پڑتا بس اکابرین کی ہر الٹی سیدھی بات کا دفاع ہونا چاہئے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک واقعی ہی نبی کریمﷺ کی گستاخی دین اسلام میں طعن نہیں ہے۔ اللہ معاف فرمائیں!

اوپر تو آزادانہ بحث و تحقیق کا حامی فورم لکھا ہوا ہے۔ نیچے منتظم اعلی صاحب ہمتیں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں؟؟؟
میرے حقیقت بھرے جملے سے فورم پر بحث وتحقیق کی آزادی کو کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہے؟؟!
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
جو حدیث آپ نے پیش کی ہے اس میں کعب بن اشرف کا ذمی ہونا ثابت کریں اور یہ بھی کہ ایذا معاہدہ توڑنے والی (یعنی فساد وغیرہ) نہیں تھی۔
پہلے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا فتویٰ دینے والوں کا دفاع اور اب توہین رسالت کی اجازت پر اکابرین کا دفاع، معلوم نہیں یہ اندھی عقیدت آپ کو کہاں تک لے جائے گی۔ مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

"دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس (کعب بن اشرف) کو اہل ذمہ سے قرار دیا جائے لیکن اس کی حرکتوں سے ذمہ منتقض ہو گیا، روایات حدیث سے کعب کے قتل کی جو وجوہ، اسباب اور حرکتیں معلوم ہو سکے ہیں، وہ حسن ذیل ہین:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دریدہ رہنی، سب و شتم اور گستاخانہ کلمات کا زبان سے نکالنا۔
مسلمانوں کے خلاف سازش
بدر سے واپس جانے والوں کے پاس جا کر ان کے مرثیے کہنا
لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لئے ابھارنا، اکسانا اور ان کو جنگ پر آمادہ کرنا
ان سے ہمدردی کا اظہار کرنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجویہ قصیدے کہنا
دعوت کے بہانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کرنا
غدر (دھوکہ دہی) اور نقض عہد
غزلیات اور عشقیہ اشعار میں مسلمان عورتوں کا بطور تشبیب (یعنی حسن کا) تذکرہ کرنا
دین اسلام پر طعن کرنا

ان میں سے ہر ایک واقعہ ایسا ہے جو کہ ذمہ منتقض ہونے کے لئے کافی ہے۔
لنک

اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:
"تیسری توجیہ یہ بھی ہے کہ وہ ذمہ منتقض ہونے کی دو صورتیں ہیں:
ایک صورت یہ ہے کہ اس نے معاہدے کی شرائط میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کی، تو ذمہ منتقض ہو گیا، اس کے لئے ضروری ہے کہ قانونی کاروائی اور عدالتی کروائی کی جائے ، اس کے بغیر اس کو قتل کرنا جائز نہ ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کوئی گستاخی کرے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں سب و شتم سے کام لے تو وہ شاتم رسول ہوگا۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کا ذمہ فورا منتقض ہو جاتا ہے۔

لیں جی، آپ کے اپنے ہی آپ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ اب قرآن کی مخالفت کا حکم لگانا ہو تو ان پر بھی لگائیے ذرا۔
 
Top