• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقہ حنفی میں نبی کو گالی دینے والےکے جان اور مال کی حفاظت

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,582
پوائنٹ
211
آپ نے ہمارے سوال کا جواب بھی نہیں دیا کہ یہاں اپنی تحقیق کے خلاف مرجوح پر عمل کرنے میں کیا موت پڑتی تھی آپ کو؟ کیا اس لئے کہ یہاں آپ کے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بجائے امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کا سوال تھا؟ آخر کوئی وجہ تو بتائیے نا اس ناانصافی کی؟
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
نبی کریمﷺ پر سب وشتم سے نقضِ عہد ہوجاتا ہے۔ یہی امام ابن کثیر فرما رہے ہیں۔

ایسے بد بخت لوگوں کے عہد کی کوئی اہمیت نہیں:
إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ١٢

نیز یہ بتائیے کہ کیا نبی کریمﷺ پر سب وشتم کرنا دین میں طعن نہیں؟؟! دین اسلام میں طعن وتشنیع سے بھی ذمی کا عہد ختم ہوجاتا ہے:
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ﴿١٢﴾ ۔۔۔ سورة التوبة

دین اسلام پر اس سے بڑا طعن کیا ہو سکتا ہے کہ نبی اسلام کو گالی دی جائے؟! لیکن یہ بات ان لوگوں کیلئے ہے جو نبی کریمﷺ کو یہ حیثیت دیں۔ جن لوگوں کے نزدیک ان اکابرین کی یہ حیثیت ہو کہ ان کا دفاع کرتے کرتے اللہ ورسول کی توہین وگستاخی ہو جائے کوئی فرق نہیں پڑتا بس اکابرین کی ہر الٹی سیدھی بات کا دفاع ہونا چاہئے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک واقعی ہی نبی کریمﷺ کی گستاخی دین اسلام میں طعن نہیں ہے۔ اللہ معاف فرمائیں!


میرے حقیقت بھرے جملے سے فورم پر بحث وتحقیق کی آزادی کو کیا خطرہ لاحق ہوگیا ہے؟؟!
آیت کے پہلے جملہ کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے آپ کی۔
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ
پہلے یہ ہے۔ اس کے بعد تو طعنوا فی دینکم ہو یا نہ ہو دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔


پہلے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا فتویٰ دینے والوں کا دفاع اور اب توہین رسالت کی اجازت پر اکابرین کا دفاع، معلوم نہیں یہ اندھی عقیدت آپ کو کہاں تک لے جائے گی۔ مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:

"دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس (کعب بن اشرف) کو اہل ذمہ سے قرار دیا جائے لیکن اس کی حرکتوں سے ذمہ منتقض ہو گیا، روایات حدیث سے کعب کے قتل کی جو وجوہ، اسباب اور حرکتیں معلوم ہو سکے ہیں، وہ حسن ذیل ہین:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دریدہ رہنی، سب و شتم اور گستاخانہ کلمات کا زبان سے نکالنا۔
مسلمانوں کے خلاف سازش
بدر سے واپس جانے والوں کے پاس جا کر ان کے مرثیے کہنا
لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لئے ابھارنا، اکسانا اور ان کو جنگ پر آمادہ کرنا
ان سے ہمدردی کا اظہار کرنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہجویہ قصیدے کہنا
دعوت کے بہانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کرنا
غدر (دھوکہ دہی) اور نقض عہد
غزلیات اور عشقیہ اشعار میں مسلمان عورتوں کا بطور تشبیب (یعنی حسن کا) تذکرہ کرنا
دین اسلام پر طعن کرنا

ان میں سے ہر ایک واقعہ ایسا ہے جو کہ ذمہ منتقض ہونے کے لئے کافی ہے۔
لنک

اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں:
"تیسری توجیہ یہ بھی ہے کہ وہ ذمہ منتقض ہونے کی دو صورتیں ہیں:
ایک صورت یہ ہے کہ اس نے معاہدے کی شرائط میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کی، تو ذمہ منتقض ہو گیا، اس کے لئے ضروری ہے کہ قانونی کاروائی اور عدالتی کروائی کی جائے ، اس کے بغیر اس کو قتل کرنا جائز نہ ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کوئی گستاخی کرے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں سب و شتم سے کام لے تو وہ شاتم رسول ہوگا۔ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کا ذمہ فورا منتقض ہو جاتا ہے۔

لیں جی، آپ کے اپنے ہی آپ کے خلاف ہو گئے ہیں۔ اب قرآن کی مخالفت کا حکم لگانا ہو تو ان پر بھی لگائیے ذرا۔
آپ تقی صاحب کے مقلد ہیں؟؟؟

اس سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقی صاحب کو اس میں عام مسلک احناف سے اختلاف ہے۔ تو ٹھیک ہے وہ عالم ہیں کر سکتے ہیں اختلاف۔
آپ ذرا یہ پوسٹ دوبارہ پڑھیں اور جو ثابت کرنے کا کہا ہے وہ ثابت کریں:۔


منقول:۔
باقی ساری پوسٹ تو غیر متعلق اور بلا دلیل ہے۔ ظاہر ہے قرآن کی آیت کے مقابلے میں آپ نے بلا دلیل تاویلات باطلہ تو کرنی ہی ہیں کیوں کہ آپ تو "اہل حدیث" ہیں "اہل قرآن" تو نہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ ان سے کفر کے باوجود جان مال کی حفاظت کا معاہدہ ہے اور توہین رسالت کفر ہے لیکن یہاں الٹا چلیں گے۔ خیر آپ تو "اہل حدیث" ہیں۔ دلیل میں وہ آیات بھی پیش کر سکتے ہیں جن میں اللہ کی طرف سے عذاب کا ذکر ہے۔ کہیں آپ نے خود کو خدا تو نہیں سمجھ لیا؟؟
اس بات کا استثنا ثابت کیجیے کہ ذمی کے عہد میں باقی تمام کفر تو موجود ہیں لیکن توہین رسالت کا کفر نہیں۔

جو حدیث آپ نے پیش کی ہے اس میں کعب بن اشرف کا ذمی ہونا ثابت کریں اور یہ بھی کہ ایذا معاہدہ توڑنے والی (یعنی فساد وغیرہ) نہیں تھی۔

جو آیت آپ نے پیش کی ہے اس میں پہلے نکثوا ایمانہم سے معاہدہ توڑنے کا ذکر ہے۔ مجاہد کہتے ہیں:۔
أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ} [التوبة: 12] يَعْنِي: «عَهْدَهُمْ»
تفسیر مجاہد

طبری کہتے ہیں:۔
قال أبو جعفر: يقول تعالى ذكره: فإن نقض هؤلاء المشركون الذين عاهدتموهم من قريش، عهودهم من بعد ما عاقدوكم أن لا يقاتلوكم ولا يظاهروا عليكم أحدا من أعدائكم
تفسیر طبری

جصاص کہتے ہیں:۔
فيه دلالة على أن أهل العهد متى خالفوا شيئا مما عوهدوا عليه وطعنوا في ديننا فقد نقضوا العهد
احکام القرآن

بیضاوی نے تو مطلب ہی یہ بتایا ہے کہ ایمان اور وفاء عہد کی بیعت توڑیں:۔
وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وإن نكثوا ما بايعوا عليه من الإِيمان أو الوفاء بالعهود.
ذمی انہوں نے مراد ہی نہیں لیے۔

ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس مقام سے قتل شاتم رسول پر استدلال کیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے وہ بھی نقض عہد کی تفسیر کرتے ہیں:۔
يقول تعالى: وإن نكث هؤلاء المشركون الذين عاهدتموهم على مدة معينة أيمانهم، أي: عهودهم ومواثيقهم

سیوطی نے در منثور میں ابن عباس رض سے روایت کی ہے:۔
وَأخرج ابْن أبي حَاتِم وَابْن مرْدَوَيْه عَن ابْن عَبَّاس رَضِي الله عَنْهُمَا فِي قَوْله {وَإِن نكثوا أَيْمَانهم من بعد عَهدهم} يَقُول الله لنَبيه صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: وَإِن نكثوا الْعَهْد الَّذِي بَيْنك وَبينهمْ فقاتلوهم انهم أَئِمَّة الْكفْر

ائمۃ الکفر کی تفسیر اکثر نے ابو سفیان، امیہ بن خلف، ابو جہل وغیرہ سے کی ہے۔ یہ لوگ کب ذمی بنے تھے؟؟؟ لہذا ثابت کیجیے کہ یہ آیت ذمیوں کے بارے میں ہی ہے۔
نکث عہد کے بعد ذمی کب ذمی رہتا ہے؟؟ وہ تو حربی ہوجاتا ہے۔ ثابت کیجیے کہ ذمی نقض عہد کے بعد بھی ذمی رہتا ہے تا کہ اگلی بات اس کے ذمی ہونے کی حالت میں لاگو ہو سکے۔

ائمہ احناف کا یہ مسئلہ تب ہے جب ان سے یہ معاہدہ نہ کیا ہو کہ توہین وغیرہ کی صورت میں معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
اس صورت کے بغیر توہین کا استثنا معاہدہ سے ثابت کیجیے اور ثابت تو آپ کریں گے قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس سے۔ اپنی عقل سے نہیں۔
اوپر آپ نے اپنی عقل لڑانے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس سے صرف صفحہ خراب ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
آپ نے ہمارے سوال کا جواب بھی نہیں دیا کہ یہاں اپنی تحقیق کے خلاف مرجوح پر عمل کرنے میں کیا موت پڑتی تھی آپ کو؟ کیا اس لئے کہ یہاں آپ کے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بجائے امام الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کا سوال تھا؟ آخر کوئی وجہ تو بتائیے نا اس ناانصافی کی؟
آپ کا یہ جاہلانہ سوال ایسا ہی ہے (الفاظ آپ کے الفاظ کے جواب میں) جیسے آپ کہیں کہ آپ رات کو ناشتہ اور صبح میں ڈنر کیوں نہیں کرتے۔
جب عمل کا موقع ہوگا تو اس وقت دیکھیں گے (ویسے تقی صاحب کا مضمون آپ نے ہی لگایا ہے۔ خود دیکھ لیں کس پر انہوں نے عمل کیا ہے)۔ ابھی آپ بحث کر رہے ہیں کتاب میں لکھے مسئلہ پر۔ اور اپنی عقل نہیں لڑائیں اب۔ دلیل دیں قرآن۔ حدیث۔ اجماع یا قیاس سے۔
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
نبی کریمﷺ پر سب وشتم سے نقضِ عہد ہوجاتا ہے۔ یہی امام ابن کثیر فرما رہے ہیں۔
ایسے بد بخت لوگوں کے عہد کی کوئی اہمیت نہیں:
إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ١٢
نیز یہ بتائیے کہ کیا نبی کریمﷺ پر سب وشتم کرنا دین میں طعن نہیں؟؟! دین اسلام میں طعن وتشنیع سے بھی ذمی کا عہد ختم ہوجاتا ہے:
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ﴿١٢﴾ ۔۔۔ سورة التوبة
دین اسلام پر اس سے بڑا طعن کیا ہو سکتا ہے کہ نبی اسلام کو گالی دی جائے؟! لیکن یہ بات ان لوگوں کیلئے ہے جو نبی کریمﷺ کو یہ حیثیت دیں۔ جن لوگوں کے نزدیک ان اکابرین کی یہ حیثیت ہو کہ ان کا دفاع کرتے کرتے اللہ ورسول کی توہین وگستاخی ہو جائے کوئی فرق نہیں پڑتا بس اکابرین کی ہر الٹی سیدھی بات کا دفاع ہونا چاہئے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک واقعی ہی نبی کریمﷺ کی گستاخی دین اسلام میں طعن نہیں ہے۔ اللہ معاف فرمائیں!
آیت کے پہلے جملہ کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے آپ کی۔
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ
پہلے یہ ہے۔ اس کے بعد تو طعنوا فی دینکم ہو یا نہ ہو دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔
آپ میری بات نہیں سمجھے۔
اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت کریمہ میں فرمایا کہ جس سے معاہدہ ہوا ہو اگر وہ دو قسم کے کام کریں تو وه کفر کے امام ہیں اور ان کا عہد ٹوٹ جاتا ہے: فقاتلوا أئمة الكفر إنهم لا أيمان لهم یعنی ان دونوں صورتوں میں کسی کے عہد کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

اگر وہ خود معاہدہ توڑ دیں:
آپ کا کہنا ہے کہ نكثوا أيمانهم سے مراد: ان کا عہد توڑنا مراد ہے۔ میرا بھی یہی کہنا ہے۔ بس میں یہ اضافہ کر رہا ہوں کہ اس کی ایک شکل توہین رسالت بھی ہے، کہ گویا ایسا شخص خود ہی اپنا عہد توڑ رہا ہے۔ یہی بات امام ابن کثیر نے واضح فرمائی ہے، جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

دین اسلام میں طعن کریں:
اس پر آپ غور ہی نہیں فرما رہے۔ دین اسلام میں صرف طعن کرنے بھی کسی معاہَد کے عہد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اگر بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے کہ نبی کریمﷺ پر سب وشتم نكثوا أيمانهم کے تحت نہیں آتا، تب بھی یہ ’طعن فی الدین‘ میں آجائے گا۔ کوئی دین اسلام میں طعن کرے تب بھی کسی کے عہد کے پابند نہیں رہتے۔ اور نبی کریمﷺ پر سب وشتم سے بڑھ کر دینِ اسلام میں طعن کیا ہو سکتا ہے؟؟!

إنهم لا أيمان لهم کا تعلق نكثوا أيمانهم من بعد عهدهم سے بھی ہے اور طعنوا في دينكم سے بھی۔
 

ضدی

رکن
شمولیت
اگست 23، 2013
پیغامات
291
ری ایکشن اسکور
275
پوائنٹ
76
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو۔

تو اس آیت میں یہ بات کہاں بیان کی گئی ہے کہ جس سے مراد اور من مانی تاویل فقہ حنفی نے کرڈالی؟۔ کچھ دنوں پہلے ایک وڈیونظر سے گذری جس میں مولانا طارق جمیل صاحب کہہ رہے ہیں کہ صحابہ کرام کو کافر کہہ دینے سے آدمی کافر نہیں ہوتا یہ میں نے اپنے اکابر کی کتابوں میں پڑھا ہے۔ اب آئیں ان کے اکابرین کی نسبت کا جائزہ لیتے ہیں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں!۔
معتزلہ سب سے پہلے لوگ تھے جنہوں نے قیاس اور عقل کو قرآن وحدیث پر ترجیح دی تھی اور جو آیت یا حدیث بھی ان کے خود ساختہ عقیدے کے خلاف ہوتی اس کی تاویل کرڈالتے یا پھر براہ راست انکار کردیتے (آثار امام شافعی)۔

اور یہ ہی معتزلہ والا رنگ چابکدستی سے اصول فقہ میں سمودیا گیا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ان اصولوں پر تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مبسوط سرخی ہدایہ وغیرہ میں جو جدل ومناقشات اور مباحثات پائے جاتے ہیں حنفی فقہ کی اصل بنیادیں ہیں حالانکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ سب اصول معتزلہ کی اختراع اور ایجاد ہیں (حجۃ اللہ)۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اصول حنفیت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
حنفی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کے مذہب کو معتزلہ، کرامیہ، اور کلابیہ کے اصولوں کے ساتھ گڈمڈ اور خلط ملط کردیتے ہیں اور یہ کام اہل تشیع اور رافضیوں کی جنس سے ہے (منہاج السنۃ جلد ٣)۔

اصول فقہ اور حنفیت کے متعلق مولانا عبدالحئی لکھنوی کی تحقیق۔
پس کتنے ہی حنفی فقہاء اور علماء ہیں جو فروع میں حنفی ہیں اور اعتقادی طور پر معتزلی ہیں جیسا کہ علامہ قدوری کا شارح نجم الدین زاہدی اور ایسے ہی عبدالجبار اور ابوہاشم جبائی وغیرہم مسلکا حنفی تھے اور اعتقادی معتزلہ تھے اور اس طرح بہت سے علماء فروع میں حنفی تھے اور عقیدہ میں شیعہ، معتزلہ اور مرجیہ تھے۔ (الرفع والتکمیل صفحہ ٣٨٦)۔

فرقہ مرجیہ کے عقائد!۔
یہ فرقہ خوارج کی ضد میں نکلا تھا ان لوگوں کا قول یہ ہے کہ مومن کو گناہ سے مطلقا کوئی ضرر نہیں پہنچے گا جس طرح کافر کو اطاعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا یہ عقیدہ عراق کے شہر بصرہ میں سب سے پہلے حسان بن بلال مزنی نے اختیار کیا تھا کچھ لوگ اس رقے کے بانی ابوسلت سمان کو بتاتے ہیں جو ١٥٢ھ میں فوت ہوا۔

مذکورہ بالاتصریحات اور تشریحات سے واضح ہوگیا کہ اصول فقہ حنفیہ اصل میں بہت سے مذہب کے اصولوں کا معجون ومرکب ہے اور یہ ہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن وحدیث کا زیادہ رد ان ہی اصولوں کی وجہ سے ہے کیونکہ اکثر اصول معتزلہ اور دیگر مذاہت باطلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

فتدبر!۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
آپ میری بات نہیں سمجھے۔
اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت کریمہ میں فرمایا کہ جس سے معاہدہ ہوا ہو اگر وہ دو قسم کے کام کریں تو وه کفر کے امام ہیں اور ان کا عہد ٹوٹ جاتا ہے: فقاتلوا أئمة الكفر إنهم لا أيمان لهم یعنی ان دونوں صورتوں میں کسی کے عہد کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔

اگر وہ خود معاہدہ توڑ دیں:
آپ کا کہنا ہے کہ نكثوا أيمانهم سے مراد: ان کا عہد توڑنا مراد ہے۔ میرا بھی یہی کہنا ہے۔ بس میں یہ اضافہ کر رہا ہوں کہ اس کی ایک شکل توہین رسالت بھی ہے، کہ گویا ایسا شخص خود ہی اپنا عہد توڑ رہا ہے۔ یہی بات امام ابن کثیر نے واضح فرمائی ہے، جس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

دین اسلام میں طعن کریں:
اس پر آپ غور ہی نہیں فرما رہے۔ دین اسلام میں صرف طعن کرنے بھی کسی معاہَد کے عہد کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اگر بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے کہ نبی کریمﷺ پر سب وشتم نكثوا أيمانهم کے تحت نہیں آتا، تب بھی یہ ’طعن فی الدین‘ میں آجائے گا۔ کوئی دین اسلام میں طعن کرے تب بھی کسی کے عہد کے پابند نہیں رہتے۔ اور نبی کریمﷺ پر سب وشتم سے بڑھ کر دینِ اسلام میں طعن کیا ہو سکتا ہے؟؟!

إنهم لا أيمان لهم کا تعلق نكثوا أيمانهم من بعد عهدهم سے بھی ہے اور طعنوا في دينكم سے بھی۔
پہلی بات تو یہ کہ طعنوا فی دینکم میں نبی ﷺ کو سب کرنا شامل ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص اللہ پاک کو گالی دے تو کیا یہ بھی طعنوا فی دینکم کے تحت داخل ہوگا؟
دین اسلام میں طعن کا مطلب کیا ہے؟ میری یہ رائے ہے کہ ایسا کام کرنا جس سے عامۃ المسلمین یا اسلام کو نقصان پہنچے۔ جب کہ یہ فعل جو وہ کر رہا ہے، قبیح تو ہے لیکن مسلمانوں یا اسلام کو کوئی حسی نقصان نہیں پہنچتا۔ تو بھلا یہ کیسے داخل ہوگا؟ اور اگر یہ داخل ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ شرک داخل نہیں ہے؟ وہ بھی تو دین میں طعن ہے۔
اس بات کو واضح کرتا ہوں۔
دو قسم کے افعال ہیں:۔
ایک کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے اور ایک کا تعلق دوسروں سے۔ شرک، کفر، اور توہین وغیرہ کا اثر دوسرے پر نہیں پڑتا۔ یعنی حسی اثر۔
مقاتلہ اور انکار عن الجزیہ کا اثر مسلمانوں پر پڑتا ہے۔ تبلیغ دین کا اثر مسلمانوں اور دین اسلام پر پڑتا ہے۔
اب آیت میں ہے طعنوا فی دینکم یعنی تمہارے دین میں طعن کریں۔ یعنی ایسا فعل ہو جس کا اثر دین پر یا اہل دین پر پڑے تب یہ طعنوا فی دینکم ہوگا۔
اگر ایسا نہیں ہے تو ایک ذمی اگر یہ کہتا ہے کہ "دین اسلام سے نصرانیت درست ہے اور اسلام ایک باطل مذہب ہے۔" تو کیا اس کا یہ جملہ طعن نہیں ہے؟ اسی طرح اگر کوئی کہے کہ میں اللہ کو ایک نہیں مانتا، میں اس کے دس معبود مانتا ہوں تو کیا یہ طعن نہیں ہے؟
لفظا تو یہ بھی طعن ہیں لیکن ان پر عہد نہیں ختم ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ طعن تو ہیں لیکن ان کا اثر دوسروں پر نہیں۔ یعنی یہ طعن فی دینکم نہیں۔
فتدبر

دوسری بات ابھی باقی ہے۔ بیٹری ختم ہو گئی ہے لیپ ٹاپ کی۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
دوسری بات یہ کہ آپ اور میں ایک ہی آیت کو دو مختلف طرز سے دیکھ رہے ہیں۔
آپ اس آیت میں نکث ایمان اور طعن فی الدین کو دو باقاعدہ الگ الگ صورتیں بنا رہے ہیں یعنی ان میں سے کوئی ایک بھی صورت ہو تو قاتلوا کا حکم اس پر مرتب ہوگا۔ یعنی اس کو ہم یوں کہیں گے:۔
1: و طعنوا فی دینکم میں واؤ تفسیریہ ہے یعنی یہ بھی نکث ایمان یا نقض عہد کی ایک قسم ہے جس کی یہاں تشریح کی گئی ہے۔
2: و طعنوا فی دینکم میں واؤ بمعنی او ہے بیان انواع کے لیے۔ مطلب یہ ہوگا "اگر اپنی قسمیں توڑدیں یا دین میں طعن کریں۔"

میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہاں واؤ اپنے اصلی معنی میں ہے۔ اب اگر اسے:۔
1: ترتیب پر دال مانیں (جیسا کہ اصولیین کا ایک مسلک ہے) تو مطلب ہوا کہ "پہلے نکث ایمان کریں پھر طعن فی الدین کریں"
2: مطلقا جمع کے لیے مانیں (جیسا کہ اصولیین کا دوسرا مسلک ہے) تو مطلب ہوا کہ "نکث ایمان اور طعن فی الدین دونوں کریں۔"
دونوں صورتوں میں نکث ایمان سب سے پہلے آتا ہے اور نکث ایمان کے بعد تو قاتلوا میں کسی کو انکار نہیں۔

آپ کی پہلی بات کے مفہوم یعنی
1: و طعنوا فی دینکم میں واؤ تفسیریہ ہے یعنی یہ بھی نکث ایمان یا نقض عہد کی ایک قسم ہے جس کی یہاں تشریح کی گئی ہے۔
اس میں مسئلہ یہ ہے کہ مشہور قاعدہ ہے "التاسیس اولی من التاکید" اور یہاں پر تاکید (یعنی ما قبل معنی کا تکرار گرچہ بوضوح) ہے۔ تو اس پر کوئی قرینہ ہونا چاہیے کہ یہاں واؤ تفسیریہ ہے۔

دوسری بات کے مفہوم یعنی
2: و طعنوا فی دینکم میں واؤ بمعنی او ہے بیان انواع کے لیے۔ مطلب یہ ہوگا "اگر اپنی قسمیں توڑدیں یا دین میں طعن کریں۔"
میں خلاف اصل معنی لیا جا رہا ہے اور اس کے لیے تو قرینہ کی موجودگی لازم ہے۔ مجھے تو کوئی قرینہ سمجھ میں نہیں آیا۔ اگر آپ بیان فرما دیں تو۔۔۔۔

اس کے بر خلاف میں معنی اصلی سے استدلال کر رہا ہوں جس کے لیے کسی قرینہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مجھے امید ہے آپ میری اس عرضداشت پر غور فرمائیں گے۔
@انس بھائی۔
 
Top